102 total views, 2 views today

دنیا میں جاپانی قوم اپنی ایک الگ شناخت اور پہچان رکھتی ہے۔ جاپان کی جغرافیائی ساخت بھی دنیا سے مختلف، ایک الگ رنگ روپ آب و ہوا، اونچے پہاڑوں اور محدود زرعی رقبے پر مشتمل ہے۔ اسی طرح جاپانی اپنی مزاجی کیفیت، عادات و اطوار اور طرزِ بود و باش میں بھی دنیا سے مختلف ہیں۔ ان کے اپنے مذہبی معتقدات ہیں اور اپنی تہذیب و روایات۔
دوسری جنگ عظیم میں جاپان، جرمنی، اٹلی اور ترکی کا حلیف تھا۔ اس جنگ میں جاپانی سپاہی اور فوج کا جو نیا نرالا اور حیران کردینے والا انداز سامنے آیا، اس نے ساری دنیا کو حیرت زدہ کر دیا کہ دنیا میں ایسی فوج بھی ہو سکتی ہے، جو اپنے بادشاہ کی وفاداری میں اپنے لڑاکا جہازوں کو دشمن کے بحری جہازوں کے چمنیوں سے ٹکرا سکتی ہے اور بہادری کی انتہائی حد تک جا کر جانوں کی پروا کیے بغیر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی، جرمنی اور اٹلی تو شکست کھا کر ڈھیر ہوگئے اور ہتھیار ڈال دیے لیکن جاپان نے شکست ماننے سے انکار کرکے ہتھیا ر ڈالنا گوارا نہیں کیا۔ نتیجے میں امریکہ نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم استعمال کرکے جاپان کو ہتھیا ر ڈالنے پر مجبور کیا۔ فاتح قوتوں نے ترکی اور جرمنی کو تو تقسیم کرکے حصوں میں بانٹ لیا، لیکن جاپان تباہی و بربادی کے باوجود متحد رہا اور ذہنی طور پر شکست خوردگی کے احساس کو قوم میں سرایت کرنے اور پنپنے نہیں دیا۔ اگرچہ شکست کی وجہ سے فاتح قوتوں نے جاپان پر اپنی شرائط لاگو کیں، اور ان کو کئی معاہدات کے تحت اپنی حدود میں رہنے پر مجبور کیا، لیکن اتنی عظیم شکست اور تباہی و بربادی کے باوجود جاپانی قوم اپنے عزم و ہمت کو بروئے کار لا کر ایک بار پھر اُٹھ کھڑی ہوئی اور اپنے قومی نظم و ضبط کے ذریعے دوبارہ دنیا کے منظر پر ایک انتہائی منظم اور ترقی یافتہ قوم کی حیثیت حاصل کی۔ اب جاپان عالمی برادری کا ایک معزز رکن ہے۔ اپنی صنعتی ترقی کے لحاظ سے دنیا کے چند ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہوتا ہے۔ پوری دنیا کو امداد دیتا ہے۔ ’’میڈ ان جاپان‘‘ نے دنیا بھر میں کوالٹی کے پہچان کو شہرت سے ہمکنار کیا ہے۔
قارئین، بطورِ تمہید جاپان کا اتنا طویل ذکر اس تناظر میں کیا ہے کہ ہم بحیثیتِ مسلم امہ ڈیڑھ ارب آبادی رکھتے ہیں۔ جاپان کے مقابلے میں ہمارے پاس دنیا کے قیمتی معدنیات تیل او ر گیس کے بے حساب ذخائر ہیں۔ ہمارے پاس وسیع زرعی رقبے ہیں۔ گھنے جنگلات پر مشتمل اونچے اونچے پہاڑ ہیں۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ تعداد میں نوجوان ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس جاپان کے مقابلے میں ایک نہایت مؤثر، منظم اور مربوط نظریۂ حیات ہے، جو ہمیں دنیا کی تمام قوموں سے ممتاز کرتا ہے۔ ہمارے عقیدے اور نظریے میں اتنی طاقت ہے کہ ہم نے اس نظریے اور عقیدے کے بل بوتے پر نصف سے زیادہ دنیا کو فتح کیا تھا۔ ہمارے پاس ہمارا شان دار ماضی اور درخشاں تاریخ ہے، لیکن ان سب کے باوجو دہم ایک امت نہیں بن سکے۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارے عقیدے اور نظریے کی کمزوری یا خرابی نہیں بلکہ خود ہمارا طرزِ عمل ہے۔ کیوں کہ ہم نے اپنے عقیدے اور نظریے کو چھوڑ کر دوسرے قوموں اور ملکوں کی طرح جغرافیائی، لسانی اور نسلی قومیت کا نظریہ اپنایا۔ جو دوسروں کے لیے ان کے نظریۂ حیات کے مطابق تو درست ہوسکتا ہے۔ لیکن ہمارے آفاقی عالمی نظریۂ حیات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس وجہ سے ان مختلف قومی نظریات نے ہمیں تقسیم در تقسیم کر دیا۔ عرب اور عجم کی تقسیم، رنگوں، زبانوں اور جغرافیائی تقسیم نے ہمیں پارہ پارہ کر دیا۔
دوسری بڑی بیماری ہمیں بحیثیتِ امت یہ لگی کہ تمام امتِ مسلمہ غیروں کی غلام بن گئی اور صدیوں تک غلامی اور زیر دستی کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس دورِ غلامی میں ہمارے دشمنوں نے ہمارے عقیدے اور نظریے کو تبدیل کیا۔ ہمارے معاشرے کو اپنے تہذیبی اور ثقافتی غلبے سے متاثر کیا۔ ہمارے نظامِ تعلیم و تربیت اور نظام قانون سے لے کر ہماری تمام اقدار و روایات کو بزورِ حکومت تبدیل کیا۔ ہم پر اپنا نظا مِ تعلیم مسلط کیا۔ ہم پر اپنی زبان مسلط کی اور ہمارے جسد امت سے وہ تمام نظریاتی محرکات اور اثرات نکال کر ان کی جگہ اپنے خیالات و نظریات اور فلسفے داخل کیے جن کی وجہ سے ہم اب تک بظاہر آزاد لیکن بباطن ان کے غلام اور پیروکار ہیں۔ ا س میں شک نہیں کہ غلامی قوموں کی ہلاکت اور تباہی کے لیے ایک زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ غلامی میں قوموں کی غیر ت و حمیت ختم ہوجاتی ہے۔ قومی اور ملی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد اہمیت اختیار کرتا ہے اور یوں قوم بظاہر تو آزاد ہوتی ہے لیکن ذہنی غلامی کی وجہ سے آقاؤں کے ذہن سے سوچتی ہے۔ ان کی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کی زبان میں گفتگو کرنے پر فخر محسوس کرتی ہے۔ ان کے طور طریقے اختیار کرکے اپنے آپ کو مہذب اور ترقی یافتہ سمجھتی ہے۔ آقاؤں کے غلاموں کو اپنا حکمران منتخب کرتی ہے۔ آقاؤں کے نظام کے تحت اپنا نظامِ حکومت چلاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
نہ خداہی ملا نہ وصال صنم
دین و ایمان بھی گیا۔ عقیدہ و نظریہ بھی بھول گیا۔ اقدار و روایات سے بھی درست بردار ہوگئے اور مادی ترقی کا یہ حال ہے کہ در در بھیک مانگنے کے لیے کشکولِ گدائی لیے دنیا بھر میں خوار و ذلیل ہو رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال جن وجوہات کی بنا پر پیدا ہوتی ہے۔ اس میں بنیادی وجہ غیر ملکی پرانے آقاؤں کے وفادار غلاموں کا وہ طبقہ ہے جو پورے عالم اسلام پر اور خاص کر پاکستانی عوام پر حکمرانوں کی شکل میں مسلط ہے۔ یہی لوگ ہیں، جو عوام کو مختلف طبقوں میں تقسیم کرتے ہیں، تاکہ ان کی حکمرانی قائم رہے۔ یہی حکمران، مسلمانوں میں فرقہ واریت کو فروغ دے رہے ہیں۔ مختلف مکتبہ فکر کے مسلمانوں کو فرقہ واریت کی بنیاد پر آپس میں لڑا رہے ہیں۔ شیعہ سنی تنازعہ ہو ، بریلوی دیوبندی جھگڑا ہو، ہر موقع پر یہ اس پالیسی پر عمل کرتے ہیں کہ لڑاؤ اور حکومت کرو۔ یہ طریقہ بھی انہوں نے اپنے انگریز آقاؤں سے سیکھا ہے۔ انگریزوں نے بھی مسلمانوں کی وحدت کو ختم کرنے کے لیے قادیانی نبوت کا فتنہ کاشت کیا، اور وہ فتنہ اب تک برگ و بار لا کر روز بروز مسلم ملت کے لیے خطر ناک بنتا جا رہا ہے۔ اسی طرح انکارِ حدیث کا فتنہ بھی انگریز آقاؤں کا تحفہ ہے، جس کو موجودہ حکمران فروغ دے رہے ہیں اور یہ فتنہ ان کی آشیر باد سے پھیلتا جا رہا ہے۔ بریلوی دیوبندی جھگڑا بھی حکمرانوں کا پیدا کردہ ہے اور وہ نام نہاد مذہبی عناصر بھی اپنے ذاتی اور مادی مفادات کے لیے اس جھگڑے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح یہ حکمران طبقہ اپنے مادی مفادات کے لیے ذلیل ترین حربے اور چالیں چلتا ہے۔ محض اس کے لیے ان کی حکمرانی بر قرار رہے، لیکن اس طبقے میں نہ نظر کی بصارت ہے، اور نہ قلب کی بصیرت، ورنہ ان کے سامنے ان کے پیشرو حکمرانوں کا عبرتناک انجام سامنے موجود ہے۔ کوئی گئے گزرے زمانے کی تاریخ نہیں بلکہ ان کے سامنے موجودہ 72 سالہ تاریخ میں غلام محمد، سکندر مرزا اور ایوب خان کیا کیا حشر ہوا؟ سکندر مرزا جیسے شاطر اور چالاک ترین سیاست دان اور بیوروکریٹ کو اپنے ملک میں قبر کی زمین تک نصیب نہیں ہوئی۔ ایوب خان کو اپنے کانوں سے ’’ایوب کتا، ہائے ہائے‘‘ کے نعرے سننے پڑے۔ یحییٰ خان جیسا بد نام جرنیل کیسے گمنامی کی موت موا۔ وہ بھٹو جو جھوٹے وعدوں اور دعوؤں کے ذریعے قوم کا نجات دہندہ بن کر ’’فخرِ ایشیا‘‘ کہلایا جس نے چھے سال تک بڑے کروفر سے حکومت کی۔ مخالفین کا ناطقہ بند کیا۔ کئی کو قتل کیا۔ کئی کو دلائی کیمپ میں محبوس رکھا۔ پوری دنیا کے حکمرانوں اور خاص کر مسلم ڈکٹیٹر حکمرانوں سے اس کے ذاتی تعلقات تھے، لیکن خود اپنے ہاتھوں سے رسوا ہوا۔ اپنے مقرر کردہ چیف آف سٹاف کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہو کر قید و بند کا شکار ہوا اور آخرِکار تختۂ دار تک پہنچ کر دنیا سے رخصت ہوا۔پورے بھٹو خاندان کی عبرت انگریز داستان ہمارے سامنے ہے۔ آج نواز شریف اور زرداری بھی اسی عبرتناک انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہی حکمرانی ہے اور یہ اقتدار ہے، جس کو نہ دوام ہے، نہ قرار لیکن اقتدار کے بھوکے حریص سیاست دان ہیں کہ پروانوں کی طرح اقتدار کی اس شمع پر نثار ہو رہے ہیں۔ حکومت اور اقتدار تو صرف اس ذات بے ہمتا کی ہے۔ باقی ہیں سب بتانِ آذری۔
لیکن اس 72 سالہ تاریخ میں ہمیں کوئی ایسا مخلص، ایمان دار ، ملک و قوم کے درد و غم میں شریک ایک بھی ایسا حکمران نہیں ملا، جس نے قوم کو اولاد سمجھ کر باپ کی ذمہ داری محسوس کی ہو۔ کیوں کہ حکمران تو حقیقت میں قوم کا باپ ہوتا ہے اور باپ کے دل میں اپنی اولاد کے لیے جو مخلصانہ جذبات و احساسات ہوتے ہیں۔ وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، لیکن عوام کی محرومی اور مسائل و مشکلات سے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ باپ یعنی حکمران خود غرض بھی ہے ، نالائق و نااہل بھی ہے اور اپنے بچوں کے لیے شقی القلب بھی ہے، لیکن اللہ کے ہاں دیر تو ہے لیکن اندھیر نہیں۔ اللہ کی رسی دراز ہے، لیکن جب وہ پکڑ نے اور سزا دینے پر اتر اآتا ہے، تو پھر اس کی پکڑ بھی سخت ہوتی ہے اور اس سے چھڑانے والا بھی کوئی نہیں۔
…………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے