156 total views, 1 views today

ہمارے ہاں عموماً ہر وقت کسی نہ کسی موضوع پر بات چلتی رہتی ہے۔ کبھی پی ٹی ایم کی شکل میں بنیادی انسانی حقوق پر بات ہوتی ہے، تو کبھی طلبہ مارچ کی شکل میں طلبہ کو درپیش مسائل پر، کبھی خواتین سے جڑے مسائل پر، تو کبھی سماجی کارکنوں کی سوشل میڈیائی مہم جوئی کی شکل میں میڈیا کی آزادی پر۔ مختصر یہ کہ ہر مسئلے پر کسی نہ کسی حد تک ضرور بات ہوتی رہتی ہے اور کبھی کبھار یہ موضوعات اس حد تک شدت اختیار کرلیتے ہیں کہ اسے قومی بحث قرار دے کر مین سٹریم میڈیا پر دکھایا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی مختلف موضوعات پر بات ہوتی ہے، اس کے ساتھ ہمارے ہاں مجموعی طور پر دو قسم کی آرا سامنے آتی ہیں۔ کوئی بنیادی انسانی حقوق کے حق میں بات کرتا دکھائی دیتا ہے، تو کوئی اس سے نالاں ہوکر اس کی خلاف رائے قائم کرلیتا ہے۔ اسی طرح کوئی خواتین کے حقوق جائز قرار دے کر ان کے حق میں کھڑا ہوکر دکھائی دے گا، تو کوئی خواتین کی مارچ کو حیا، پردہ اور عجیب و غریب قسم کی کہانیوں سے جوڑ کر اس کے خلاف بات کرتا سنائی دے گا۔ قصہ مختصر، کوئی اس کے حق میں بات کرتا نظر آئے گا، تو کوئی اس کے خلاف بات کرتا سنائی دے گا۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کیا کبھی کسی نے اس بات پر بھی غور وفکر کیا ہے کہ جس چیز کے بارے میں ہم رائے قائم کر رہے ہیں، کیا وہ ہماری اپنی رائے ہے بھی یا نہیں؟ کیا ہم پوری عقل کے ساتھ کسی موضوع پراپنی رائے قائم کر رہے ہیں، یا کسی اور کی رائے کی تشریح کر رہے ہیں؟ کیا کبھی کسی نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ جس چیز کی ہم نفی کر رہے ہیں، کیا وہ مسائل معاشرہ میں واقعی موجود نہیں، یا فقط رٹے رٹائے جوابات سے اس کی مخالفت کرتے ہیں؟
یہ چند اہم اور بنیادی سوالات ہیں جن کے جوابات میں معاشرے کے مسائل کا حل موجود ہے۔ خیر، یہ تو تھی سوچنے سمجھنے کی باتیں۔ اس سے ہمیں کیا غرض؟ ہم نے تو سیکھنا کچھ نہیں۔ ایک طرف ان موضوعات میں جہاں معاشرے کے تقریباً زیادہ تر مسائل کا حل موجود ہے، تو وہاں دوسری طرف ہمیں ریاست کا بیانیہ ہمیشہ عجیب و غریب نظر آتا ہے۔ یعنی بھلا عوام مختلف سوچیں سمجھیں، لیکن ریاست نے ہمیشہ ایک ہی بیانیہ کے گرد گھومنا ہے۔
آئیں، اس روش کا قریب سے کچھ جائزہ لیتے ہیں۔ ریاست نے ہمیشہ اس قسم کی آوازوں کی مخالفت کی ہے اور صرف یہاں تک نہیں روکا ہے، بلکہ ان آوازوں کو خاموش کرنے کی بھی ہر ممکن کوشش کی ہے اور اب بھی کر رہی ہے۔ ان آوازوں کو دبانے کے لیے انتہائی منظم انداز میں متضاد آرا تیار کی جاتی ہیں، اوراُنہیں عوام میں پھیلانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ کبھی ان آوازوں کو ’’قومی سلامتی‘‘ کے لیے خطرہ سمجھ کر رد کیا جاتا ہے، تو کبھی ریاست کو ان آوازوں میں ’’دوسرے ملک کا جاسوس‘‘ نظر آجاتا ہے۔ کبھی ان آوازوں کے پیچھے کچھ غیر معمولی حرکت نظر آجاتی ہے جو فقط ریاست ہی محسوس کرتی ہے۔ خیر، ریاست کچھ بھی کرے، ہمارا اس سے کیا لینا دینا؟ ہم نے تو فقط ریاستی بیانیے کو آگے پھیلانا ہے اور سیکھنا تو ہم نے ویسے بھی کچھ نہیں۔
اس ضمن میں اگر کوئی اٹھتا ہے اور ریاست کے اس 70 سال سے چلتے آئے بیانیے کی مخالفت کرتا ہے، تو اسے راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ کبھی اُسے مختلف قسم کے لیبل سے نوازا جاتا ہے، تو کبھی دوسرے ملک کا ایجنٹ قرار دے کر اس کا قصہ تمام کر دیا جاتا ہے۔
ریاست کے چلانے والوں کو کب یہ بات سمجھ آئے گی کہ آواز دبانے سے دب نہیں جایا کرتی بلکہ اور بھی طاقت کے ساتھ گونج اٹھ کر مذمت بن جاتی ہے۔ اس ستم ظریفی میں جہاں ہم عوام کم علمی کی وجہ سے ناسمجھ ہیں، تو دوسری طرف اس صورتِ حال میں ریاست چلانے والے بھی کچھ سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ سلسلہ روزِ اول سے ایسا ہی چلتا آیا ہے۔ اب آگے میرے خیال میں کچھ سیکھنے کا وقت ہوا چاہتا ہے، تو کیا ہم کچھ سیکھنا چاہیں گے، یا پھر……!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے