99 total views, 1 views today

کسی مقصد کے حصول کے لیے اپنی قابلیت پر بھروسا کر نے کو خو د اعتمادی کہتے ہیں۔ یہ وہ خوبی ہے جو انسان کو مشکل اور نامساعد حالات میں کامیابی سے ہم کنا ر کر دیتی ہے۔انسانی جبلت پر غور کر نے کے بعد پتا چلتا ہے کہ بعض افرا د میں یہ خوبی قدرتی طور پر ہوتی ہے۔
بعض افراد کو مناسب ما حول اور حوصلہ افزائی ملنے کے بعد خود اعتمادی میں اضافے کا احساس ہوتا ہے، اور بعض افر اد تو صر ف اس خوش خیا لی میں زندگی بسر کرتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن ان کی خود اعتمادی میں اضافے کی یہ خواہش ضرور پوری ہوگی۔
قارئین کرام! مثالی معاشرہ اس وقت تشکیل پا تا ہے، جب ’’افرادِ معاشرہ‘‘ اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار بہترین انداز میں کرنے کا ہنر رکھتے ہوں۔ انہیں کسی چیز یا کام کے بارے میں فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ انہیں اپنے شعبوں میں کا م کرتے وقت قلبی سکون حاصل ہو۔ عام مشاہدہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہما رے معاشرے میں پیشہ ور افراد اپنے اپنے شعبوں میں ’’مِس فٹ‘‘ ہوتے ہیں۔ ان افراد میں خو د اعتمادی کی کمی نظر آتی ہے اور قلبی طور پر سکون سے عاری نظر آتے ہیں۔ یوں مذکورہ لوگ خود بھی بے چینی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں اور ’’افرادِمعاشرہ‘‘ بھی ان کی نا انصافیوں کا شکا ر ہوجاتے ہیں۔ حقیقتِ حال یہ ہے کہ’’افرادِ معاشرہ‘‘ کو منا سب ماحول نہیں ملتا جس کی وجہ سے وہ محرومی کا شکار ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لو گ اپنے اپنے کام سے انصاف نہیں کرتے۔
بچوں کی تعلیم و تربیت میں والدین اوراساتذۂ کرام کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہم یہ کردار بطریقِ احسن ادا نہیں کر پاتے اور خمیا زہ بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ والدین کی حیثیت سے بچوں کو جو توجہ چاہیے ہوتی ہے، وہ ہم کماحقہ نہیں دیتے۔ یعنی ان کی پسند و ناپسند کا خیال نہیں رکھتے۔ کسی چیز کے بارے میں اُن کی رائے کو اہمیت نہیں دیتے۔ بچوں کی شرارت کرنے پر فوراً سزا دینے کا حکم صادر کرتے ہیں۔ حالاں کہ اپنے بچپن میں ہم بھی شرارتوں سے بھرپور زندگی گزار کر جوان ہوتے ہیں۔ بچوں کو اُن کے برے فعل پر سزا دینے والے والدین اگر اپنے بچوں کو سمجھانے کی کوشش کریں، تو بچے نہ صرف اُس برے فعل سے باز رہیں گے، بلکہ آئندہ کے لیے محتاط بھی ہو جاتے ہیں، لیکن بصد افسوس ہم یہ زحمت گوارا نہیں کرتے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے یا تو ضدی بن جاتے ہیں، یا اتنے سہم جا تے ہیں کہ اُن کی شخصیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ مناسب راہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے بچے محدود ہو کر رہ جاتے ہیں اور کسی کام کے بارے میں قوتِ فیصلہ سے عاری نظر آتے ہیں۔ ایسے بچے، بڑے ہو کر سہاروں پر زندگی گزارتے ہیں۔ خطرہ مو ل لینے سے کتراتے ہیں اور لکیر کے فقیر بن کر زندگی گزارتے ہیں۔ ہمیشہ دوسروں کی عینک سے چیزوں کو دیکھتے ہیں۔
اگر سوچا جائے، تو تعلیم و تربیت کے اس عمل میں غلطی بچوں کی نہیں ہوتی۔ وہ تو خود دوسروں کی راہنمائی کے محتاج ہوتے ہیں۔ اُن کی مثال تو بید کی وہ لچک دار چھڑی ہوتی ہے، جسے ہر طرف مو ڑا جا سکتا ہے۔ بشرط یہ کہ بچوں کی مرضی شاملِ حال ہو۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم بچوں کو اُن کے ارمانوں کے برخلاف اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے مو ڑنے کی کوشش کر تے ہیں۔ نتیجتاً بچوں کی شخصیت متاثر ہو جاتی ہے۔بقول ِ شاعر
یہ جبر بھی دیکھاہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
اس کے برعکس جن بچوں کو مناسب توجہ دی جاتی ہے۔ اُن کی پسند و ناپسندکا خیال رکھا جاتا ہے، یا کم از کم ان کی اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے، تو وہ نسبتاًزیادہ متحرک ہوتے ہیں۔ وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیتے ہیں۔ ایسے بچے والدین کے لیے باعث ِفخر بن جاتے ہیں۔ عملی زندگی میں ایسے بچے اپنے فرائض سے اچھی طرح عہدہ برآ ہوتے ہیں۔
بچوں کی شخصیت سازی میں اساتذۂ کرام کا کردار نہایت اہم ہے۔ بچوں کی نفسیات سے پوری طرح آگاہی حاصل کرنا اساتذۂ کرام کے لیے از حد ضر وری ہے۔ یہ بہت حساس معاملہ ہے۔ کیوں کہ ہر طالب علم انفرادی صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے۔ جب تک استادبچوں کی نفسیات کو نہیں سمجھے گا، وہ تدریسی مقاصد میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے گا۔ استاد کے لیے سب سے اہم کا م طلبہ کو دوستانہ ماحول مہیا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ تاکہ بچے بلا خوف وخطراپنے مسائل کے بارے میں معلومات فراہم کرسکیں۔ اگردوستی کا رشتہ قائم نہیں ہوگا، تو بچے اپنے مسائل بتانے میں جھجھک محسوس کریں گے، اور یوں بچے مسائل کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ استاد کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ بچوں کی فطری صلاحیتوں سے واقفیت رکھتا ہو۔ بچے بنیادی طور پر تین طرح کے ہوتے ہیں :۔
٭ بصری۔
٭ حسی۔
٭ سمعی۔
جب تک استا د بچوں کی ان صلاحیتوں سے آگاہ نہیں ہوگا، وہ تدریسی مقاصد حاصل نہیں کرسکے گا۔ نیز استاد کو چاہیے کہ وہ اپنی شخصیت کا عملی نمونہ پیش کرے، تاکہ بچوں کو عملی طور پر اچھا انسان بننے میں آسانی ہو۔
بچوں کی کردار سازی میں اداروں کے کردار سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ جن اداروں میں بچوں کی کردار سازی میں اخلاص سے کام لیا جا تا ہے،وہ بچوں کی شخصیت سے صاف ظاہر ہوتاہے۔ بعض اداروں میں بچوں کو وہ توجہ نہیں دی جا تی جو ان کی کردار سازی کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ اداروں کا مقصد پیسے کاحصول نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ’’افرادِ معاشرہ‘‘ کی اصلاح کو فوقیت دینی چاہیے۔کیوں کہ جو کام صرف اپنے فائدے کے لیے کیا جا تاہے، وہ دیر پا بھی نہیں ہوتااور اس میں بر کت بھی نہیں ہوتی۔سب کی بھلائی کی سوچ، دنیا اور آخرت دونوں کی کا میابی کا سبب بنتی ہے، معاشرے کو خیر پہنچاتی ہے اور قوم باوقار بن جاتی ہے۔
اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ بچوں کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو، تو اس کے لیے ضر وری ہے کہ ہم اُن پر اعتماد کریں۔ اُن کی رائے کی قدر کریں۔ عملی زندگی میں ان کی ترجیحا ت کو اہمیت دیں۔ اُن کی صلاحیتوں کو جاننے کی کوشش کریں۔ اُن کی پسند و ناپسند کا خیال رکھیں۔ اُن کو اُن کی صلاحیتوں کے مطابق مواقع فراہم کریں۔ اگر ایسا کیا گیا، تو یقینا بچوں کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا۔ وہ عملی زندگی میں مطمئن ہوں گے۔ معاشرے کا مفید شہری بن کر زندگی گزاریں گے۔ اپنے اپنے شعبوں میں اپنے کا م سے انصاف کر سکیں گے اور ذہنی طور پر پُر سکو ن ہو ں گے۔
جو بھی ہے صورتِ حالات کہو چپ نہ رہو
رات اگرہے تو اسے رات کہو چپ نہ رہو
گھیر لایا ہے ہمیں کو ن اندھیروں میں حفیظؔ
آؤ کہنے کی ہے جو بات کہو چپ نہ رہو
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے