123 total views, 1 views today

انگریزی زبان کے مؤقر نشریاتی ادارہ ’’ایکسپریس ٹریبون‘‘ کی سٹوری پڑھی جو پاکستان کے اولین کرونا وائرس کے شفا پانے والے مریض ’’عادل رحمان‘‘ کے متعلق تھی، تو دفعتاًمجھے 2007ء کا اپنا ایک دوست یاد آگیا جو پھیپھڑوں کے سرطان (Lungs Cancer) میں مبتلا ہوگیا تھا۔ اپنے دوست کی کہانی تحریر کرنے سے پہلے تھوڑا ’’بِلیف سسٹم‘‘ (Belief System) کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ ساتھ ایک کتابی کہانی بھی تحریر کروں گا۔ یہ تو مجھے ٹھیک طرح سے یاد نہیں کہ کون سی کتاب میں کہانی پڑھی تھی، مگر بار بار طلبہ اور دوستوں کے ساتھ تذکرہ کرتے ہوئے اب یہ ذہن پر اَن مٹ نقش چھوڑ چکی ہے۔
تو قارئینِ کرام! مَیں مانتا ہوں کہ قدرت نے ہمیں ’’بِلیف سسٹم‘‘ سے نواز کر گویا ہم پر ایک احسان کیا ہے، مگر جہاں تک میری اُٹھک بیٹھک ہے، میرے حلقۂ احباب میں دو فیصد لوگ بھی اس حوالہ سے آگاہ نہیں۔ آسان الفاظ میں ’’بِلیف سسٹم‘‘ وہ ’’یقین‘‘ہے جو آپ کو اعصابی طور پر اتنا مضبوط بناتا ہے کہ پھر آپ کینسر جیسی بڑی بیماری کو بھی شکستِ فاش دینے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ سرِ دست کتاب والی کہانی ملاحظہ ہو۔
’’کہتے ہیں کہ پڑوسی ملک ہندوستان میں کسی ڈاکٹر کے پاس ایک ایسا مریض لایا گیا، جو تقریباً حالتِ نزع میں تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے مریض کا بغور جائزہ لیا۔ اس کی ہسٹری چیک کی۔ جہاں جہاں سے ٹیسٹ کرائے گئے تھے اور جو جو دوا تجویز کی گئی تھی، ہر شے کا جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر صاحب اولاً خلاؤں میں گھورنے لگے، ثانیاً مریض کے ساتھ آئے ہوئے رشتہ داروں سے کہنے لگے کہ میرے پاس ایک ایسی دوا ہے، جو مردہ کو بھی زندہ کرنے کی طاقت رکھتی ہے، آپ کے لائے ہوئے مریض کی تو پھربھی سانسیں بحال ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ دوا کو بلاناغہ لینا پڑے گا۔ ڈاکٹر صاحب باتوں کے دوران میں کنکھیوں سے مریض کے چہرے کے تاثرات بھی نوٹ کرتے رہے۔ دورانِ گفتگو ڈاکٹر صاحب نے مریض کے چہرے پر زندگی کی رمق محسوس کی۔ انہوں نے جیسے ہی الماری سے دوا نکالی، نحیف و نزار مریض نے لرزتا ہوا ہاتھ بڑھایا اور دوا کی شیشی تھام کر احتیاطاً سینے سے لگائی۔ کہتے ہیں کہ کوئی بیس پچیس دن بعد وہی مریض شفا پا کر ڈاکٹر صاحب کے کلینک آیا، اس سے بغل گیر ہوا اور چھوٹتے ہی کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ دنیا کے سب سے بڑے معالج ہیں اور جو دوا آپ نے دی تھی، اس کے اثر کو دیکھتے ہوئے اس بات کا یقین ہوجاتا ہے کہ واقعی امریکہ سپر پاؤر ہے۔ یہ سنتے ہی ڈاکٹر صاحب کے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ دوڑتی ہے اور وہ اپنے سابقہ مریض (کرشن) کو تشریف رکھنے کا کہتے ہیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب عجیب طریقے سے اسے گویا ہوتے ہیں کہ ’’اگر آپ کو بُرا نہ لگے، تو ایک بات کہوں؟‘‘ اجازت ملتے ہی دوبارہ گویا ہوتے ہیں: ’’کرشن، مَیں دنیا کا سب سے بڑا ڈاکٹر ہوں اور نہ وہ دوا امریکہ کی بنائی ہوئی یا برآمد شدہ ہے۔ دراصل مَیں نے جب تمہاری ہسٹری پڑھی، سابقہ ٹیسٹ چیک کیے، تو مجھے عجیب سا لگا کہ تمہیں سرے سے کوئی بیماری نہیں تھی۔ بس ہر ڈاکٹر نے اپنے حساب سے دوا تجویز کی اور فیس کھری کی۔ میرے مطابق آپ کا ’’بِلیف سسٹم‘‘ غیر مؤثر ہوگیا تھا۔ مَیں نے اُس روز تمہارے من میں امید کی جوت جگانے کی کوشش کی، تو ریسپانس اچھا ملا۔ تمہارے دماغ میں میری گھڑی ہوئی کہانی بیٹھ گئی کہ ملنے والی دوا ’’سپر پاؤر امریکہ‘‘ کی بنائی ہوئی ہے، جو ’’مردے‘‘ کو بھی ’’زندہ‘‘ کرسکتی ہے۔ نتیجتاً دو جملوں کے عوض تمہارا بِلیف سسٹم مؤثر ہوگیا۔ روزانہ جب تم دوا کی شیشی اٹھاتے، تمہیں ایک ہی بازگشت سنائی دیتی، ’’یہ دوا امریکہ کی بنائی ہوئی ہے، یہ مردے کو بھی زندہ کرسکتی ہے۔‘‘ حالاں کہ دوا کی اُس شیشی میں اور کچھ نہیں بس عام پانی میں تھوڑا سا ہلدی پاؤڈر ملایا گیا تھا جس کے تین چار قطرے تم روزانہ ایک گلاس پانی میں پیا کرتے تھے۔‘‘ ڈاکٹر صاحب جب اپنی بات ختم کرچکے، تو کرشن اُٹھا اور ڈاکٹر صاحب سے ایک بار پھر بغل گیر ہوتے ہوئے رقت آمیز لہجہ میں بولا، ڈاکٹر صاحب! امریکہ سپر پاؤر ہو یا نہ ہو، مگر آپ بے شک دنیا کے سب سے بڑے ڈاکٹر ہیں۔ ‘‘
قارئینِ کرام! اب آتے ہیں اس کہانی کی طرف جو آج سے تیرہ چودہ سال قبل میرے آنکھوں دیکھے حال پر مبنی ہے۔ غالباً یہ 2006-07ء کی بات ہے کہ میرا ایک دوست پھیپھڑوں کے سرطان (Lungs Cancer) میں مبتلا ہوا۔ ہم دونوں جگری تھے، اس لیے مَیں اس کے ساتھ شوکت خانم کینسر میموریل ہسپتال لاہور ہو آیا۔ جس روز متعلقہ ڈاکٹر کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ پہلے دس منٹ مجھے لہو کے گھونٹ پینا پڑے۔ وہ کیوں؟ دورانِ ملاقات ہونے والی گفتگو سے ’’کیوں‘‘ کا جواب مل جائے گا:
’’ڈاکٹرپوچھتے ہیں، آپ دونوں میں سے مریض کون ہے؟ میرا دوست جواباً کہتا ہے: ’’جی، وہ بدنصیب میں ہوں!‘‘ اور اس کے ساتھ ہی شدتِ غم سے اُس کی آنسوؤں کی لڑیاں جاری ہوجاتی ہیں۔ مجھے بھی دوست ہونے کے ناتے ساتھ دینا پڑتا ہے۔ اسی دوران میں میری نظر ڈاکٹر صاحب پر پڑتی ہے، جو نارمل انداز میں کبھی میری اور کبھی میرے مریض دوست کی طرف دیکھتے ہیں۔ جب ہم دونوں روتے روتے اپنا بوجھ ہلکا کردیتے ہیں، تو ڈاکٹر صاحب عجیب انداز سے پوچھتے ہیں: ’’کیوں بھئی، اور رونا ہے؟‘‘ مَیں اس غیر متوقع سوال پر حیران سا رہ جاتا ہوں، مگر میرا دوست نفی میں سر ہلاتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب اُسے ایک ٹشو پیپر تھماتے ہوئے بڑا جان دار جملہ کہتے ہیں، جو آج تک مجھے حرف بہ حرف یاد ہے: ’’دیکھو بھئی، اگر تم جینا چاہو، تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں نہیں مار سکتی۔ اور اگر جینا نہ چاہو، تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں زندہ نہیں رکھ سکتی۔ آگے تمہاری مرضی، جیو یا پھر……!‘‘ ابھی ڈاکٹر صاحب کی بات پوری بھی نہیں ہوتی کہ دوست پُرجوش انداز میں اُٹھ کرانہیں مخاطب کرتا ہے: ’’ڈاکٹر صاحب، مَیں جینا چاہتا ہوں!‘‘ جواباً میرے دوست کی پیٹھ تھپکاتے ہوئے بولتے ہیں: ’’اب تمہیں دنیا کی کوئی طاقت نہیں مار سکتی!‘‘
قارئینِ کرام! بخدا، آج میرا وہ دوست نہ صرف صحت مند ہے بلکہ ایک اچھے تعلیمی ادارے کا مالک بھی ہے اور شادی کے بعد ایک چھوٹے سے خاندان کا کفیل بھی ہے۔ وہ مانتا ہے کہ اگر اس روز ڈاکٹر صاحب نے اس کی ہمت نہ بندھائی ہوتی، تو آج وہ منوں مٹی تلے دب کر حرفِ غلط کی طرح مٹ چکا ہوتا۔
قارئینِ کرام! ایکسپریس ٹریبون کی سٹوری اور اس کے بعد بیان کی جانے والی دو کہانیوں کا مقصد کچھ اور نہیں، بس جینے کی ترغیب دینا ہے۔ غالباً یونان کا فلسفہ ہے کہ بیماری سب سے پہلے دماغ میں جگہ پاتی ہے، اس کے بعد پورے وجود میں پھیلتی ہے۔ کرونا وائرس کا بھی یہی حال ہے۔ ہم نے اسے اپنے ذہن پر اتنا سوار کیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔ بھلے ہی کوئی مجھ سے اتفاق نہ کرے مگر مَیں یہ کہتے ہوئے حق بجانب ہوں کہ ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں دوا (ویکسین) پہلے تیار کی جاتی ہے اور اس کے لیے بیماری (وائرس) بعد میں تخلیق کی جاتی ہے۔
جاتے جاتے بس اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ خود پر یقین کیجیے۔ اپنے ’’بِلیف سسٹم‘‘ کو مؤثر بنانے کی کوشش کیجیے۔ کرونا وائرس سے مت ڈرئیے۔ بس احتیاط برتیے۔ اس وقت احتیاط ہی زندگی ہے۔ ایک دوسرے کی اچھی خبروں سے حوصلہ افزائی کیجیے۔ بُری خبروں کو مت پھیلائیں، اس وقت فیس بُک لایکس اور یُوٹیوب سبسکرایبرز بڑھانے سے بدرجہا بہتر ہے کہ ذمہ داری سے کام لیا جائے۔ خدانخواستہ اگر پھر بھی آپ کرونا سے متاثر ہوتے ہیں، تو یہ جملہ مت بھولیے: ’’اگر آپ جینا چاہیں، تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو نہیں مار سکتی۔‘‘
برحق ہے موت اگر، تو برحق حیات بھی
یوں جیتے جی تو موت کی ہیبت سے مرنہ جا
………………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے