123 total views, 1 views today

دنیا کی ہیئت ہی گذشتہ چند ہفتوں نے بدل دی۔ عالمِ انسانیت پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ رنگ و نسل، امیر غریب کی تمیز باقی نہ رہی۔ گھروں میں لوگ محصور ہوگئے اور شہر سنسان۔ گویا کہ قیامت سے پہلے قیامت برپا ہوچکی ہے۔ تین چار ہفتوں کی تنہائی نے انسانوں کو اپنے طرزِ فکر اور رویوں پر ازسرِ نو غور کا موقع بھی دیا۔
آخر ایسا کیا ہوا کہ بنی نوع انسان پر ایک عالمگیر افتاد آن پڑی؟ ایک ایسی افتاد جس کے سامنے طبی ماہرین ہی نہیں جدید سائنس کے عقبری بھی ہاتھ باندھے بے بسی کی تصویر بن چکے ہیں۔ امریکہ سے ایک دوست جو طب کے شعبے میں بڑا مقام رکھتے ہیں، نے اطلاع کی کہ تمام ترمالی اور انسانی وسائل کے باجود بھی امریکہ اس وبا پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔حتیٰ کہ ہسپتال ضروری آلات اور دواؤں کی شدید کمیابی کا شکار ہیں۔
انسانوں کو قدرت نے ایک اور موقع دیا کہ وہ مادی پیمانوں اور گروہی مفادات سے اوپر اٹھ کر پورے عالم کی بھلائی کی فکر کریں۔ یہ حقیقت آشکار ہوچکی ہے کہ انسانیت کو ایک معمولی چیلنج کا سامنا ہے، جس کا مقابلہ غیر معمولی فراست، جرأت اور مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہوسکتاہے۔ کوئی ملک اکیلا اس آفتِ خداوندی پر قابو نہیں پاسکتا۔ یہ وبا عالمگیر ہے اور سرحدوں کا پاس نہیں کرتی۔ دنیا کا کوئی جزیزہ بھی اگر اس سے متاثر ہوگا، تو پورا عالم خودبخود اس کی لپیٹ میں آجائے گا۔
یہ تلخ حقیقت جاننے کے باوجود بعض لیڈروں کے دل ابھی تک نہیں پگھلے۔ وہ ’’کرونا‘‘ پر بھی سیاست چمکا رہے ہیں۔ وہ وہی نعرے اور دعوی لگا رہے ہیں جو ہجومی سیاست کا طرۂ امتیاز ہیں۔ سستی گفتگو اور احتجاج سے خام ذہنوں لبھانے کی کوششیں جا رہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کہتے ہیں کہ ’’تنازعات کو بھول جائیں اور ساری دنیا مل کر کرونا وائرس کے خلاف لڑے۔‘‘
اس چھوٹے سے وائرس نے انسانیت کی بقا داؤ پر لگادی ہے۔
عالمی سیاست کے کھلاڑیوں کے دل و دماغ پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی دہائی کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ہمارے مغربی سرحدی پڑوسی اور بھائی، ایرانی ایک کرب و بلا میں مبتلا ہیں۔ عالمی بھائی چارہ جس کا بہت چرچا تھا، ایرانیوں کی مدد کو نہ آیا۔ کرونا نے ایرانیوں کو بے پناہ مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔
معیشت ان کی پہلے ہی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے لرز رہی تھی۔ کرونا کی یلغار نے اب اس کی کمر توڑ دی۔ ایران جو کل تک تہذیب، علم اور خوشحالی کا محور تھا رفتہ رفتہ افلاس کی کھائی میں گرتا جا رہا ہے۔ عالمی برادری اس کا ہاتھ پکڑنے پر آمادہ نہیں۔ عالم یہ ہے کہ ہزاروں ایرانی شہری اس وبا سے متاثر ہوگئے۔ ہلاکتوں کی تعداد اٹلی اور چین کے بعد سب سے زیادہ ہے اور یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں۔
افسوس، کسی کو ایران سے ہمدردی نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتصادی پابندیاں اٹھانا تو درکنار انہیں نرم کرنے پر بھی آمادہ نہیں۔ وزیرِاعظم عمران خان نے کوشش کی کہ عالمی رائے عامہ اور حکمرانوں کو اس جانب متوجہ کیا جائے، لیکن نقارے خانہ میں توتی کی آواز کون سنتا ہے؟ صدر ٹرمپ کرونا وائرس پر بھی سیاست چمکانے سے باز نہ آئے۔ اسے چینی وائرس قرار دیا۔ احتجاج کی لہر اٹھی، تو ٹرمپ اپنے کہے پر نادم ہونے کے بجائے ڈٹ گئے۔ شکر ہے انہوں نے کرونا کو ایرانی یا مسلمان وائرس قرار نہیں دیا۔
امریکہ میں الیکشن کا معرکہ برپا ہونے والا ہے۔ الیکشن مہم کے لیے صدر ٹرمپ کو قربانی کا کوئی نہ کوئی بکرا چاہیے۔ چین یا ایران۔ کسی ایک کا انتخاب کرنے پر وہ تلے ہوئے ہیں۔
بھارت سے بھی ایسی خبریں آرہی ہیں کہ مسلمانوں کو کرونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ ہسپتالوں میں داخلے میں ان سے امتیاز برتا جاتا ہے۔ تعصب اور نفرت بھرے جملے ان پر اچھالے جاتے ہیں۔ کشمیر سے بھی بری بری خبریں مسلسل آرہی ہیں۔ ابھی تک 35 کے لگ بھگ کرونا کے متاثرین سامنے آچکے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کا شمار دنیا کے ان چند خطوں میں ہوتاہے جہاں فوجوں کا سب سے زیادہ جماؤ ہے۔ لداخ اور کچھ اور علاقوں میں فوجی بھی کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ خدشہ ہے کہ فوجی دستوں کی اس قدر بھاری تعداد کی شہری علاقوں میں موجودگی کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں غیر معمولی اضافے کا باعث نہ بن جائے۔
اندیشہ ہے کہ جیلوں میں محبوس کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد کرونا کا شکار ہوسکتی ہے۔ دہلی اور آگرہ کی جیلوں میں قید کشمیریوں سے لواحقین اور وکلا ملاقات نہیں کرپاتے۔جیلوں کے اندر بھیڑ بہت ہے۔ صحت اور صفائی کابھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ کشمیری جو پہلے ہی لاک ڈاؤں کا شکار تھے، اب مزید مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں۔ سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کو رہا کر دیا گیا جو کہ ایک مثبت قدم ہے۔
یاسین ملک اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم کی صحت مسلسل بگڑ رہی ہے۔ یاسین ملک نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھوک ہڑتال کریں گے۔ یاسین ملک اپنی ہٹ کے پکے ہیں۔ بھوک ہڑتال کرنے سے وہ باز آنے والے نہیں۔ خدشہ ہے کہ اس کشمکش میں زندگی کی بازی وہ نہ ہار جائیں۔ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی، نعیم اختر، شاہ فیصل، سجاد لون اور علی محمد ساگر جیسے بھارت نواز سینئر لیڈر ابھی پابندِ سلاسل ہیں۔
کرونا نے بھارتی حکومت کو ایک موقع دیا ہے کہ سیاست کو پس پشت ڈال کر وہ لمحۂ موجود میں شہریوں کی فلاح و بہبود کا سوچے۔ تنازعات کے پُرامن حل کی طرف پیش رفت کرے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کی سارک ممالک کی ویڈیو کانفرنس کرانا ایک اچھی کوشش ہے، لیکن
بہت دیر کی مہربان آتے آتے
بہرحال کرونا کی وبا نے تمام ممالک بالخصوص ہمسائیوں کو ایک بار پھر موقع دیا ہے کہ تنازعات اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر وہ اپنے شہریوں اور دنیا کے اربوں انسانوں کو محفوظ بنانے کے بارے میں مشترکہ کوششیں کریں۔ کیوں کہ تاریخ میں پہلی بار انسانیت کی بقا کا چیلنج درپیش ہے۔
اِن شاء اللہ، یہ وقت بھی گزرجائے گا لیکن تاریخ میں یہ ضرور رقم ہوگا کہ کس ملک یا لیڈر نے کرۂ ارض کو محفوظ بنانے میں کردار ادا کیا اور کون اپنی انا مفادات کا اسیر رہا؟ حقیقت یہ ہے کہ انتہا پسندی اور انسانوں سے نفرت کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک مرض ہے۔ اس مرض کے شکار افراد اور معاشروں کو احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ ایک دائمی بیماری کا شکار ہیں۔ چناں چہ وہ اس سے چھٹکارا پانے کے بجائے اس پر اتراتے ہیں اور اس دلدل میں مزید دھنس جاتے ہیں۔
………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے