25 total views, 1 views today

انسانی کرونا وائرس کی شناخت سب سے پہلے 1960ء کے آخر میں ہوئی۔ وقت کے ساتھ ہی کورونا کی فیملی میں اضافہ ہوتا گیا۔ انسان میں پایا جانے والا کرونا وائرس ’’الفا‘‘ اور ’’بیٹا‘‘ اسی دورانیے میں دریافت ہوئے۔ وائرس کی اس فیملی کا نام ’’کرونا‘‘ اس کی کراؤن یعنی سر کے تاج جیسی شکل کی وجہ سے رکھا گیا۔
سال 2002ء کے آخر میں اس فیملی کی مزید ایک قسم ’’سارس کرونا وائرس‘‘ کے نام سے بھی سامنے آئی۔ یہ وائرس چین کے جنوبی حصے سے شروع ہوکر 26 مزید ممالک میں پھیلا، جس کے باعث 8000 کیس رپورٹ ہوئے۔ دنیا بھر کے ویرولوجسٹ کا ماننا ہے کہ کرونا دراصل جانوروں میں پایا جانے والا وائرس ہے، جو انسانوں میں منتقل ہوکر کر ایک وبا کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا وائرس یعنی ’’کویڈنائن ٹین‘‘ کورونا کی وہ قسم ہے، جس کی شناخت دسمبر2019ء سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ جدید میڈیسن اور مائیکروبیالوجی کے جریدوں میں شائع ہونے والے مقالوں کے مطابق کورونا وائرس 2003ء میں پھیلنے والے سارس وائرس کے ساتھ تقریبا 96 فیصد مشابہت رکھتا ہے۔اس کے علاوہ نوٹینگم یونیورسٹی کے ویرولوجسٹ پروفیسرجونتھن بول کے مطابق اگر یہ وائرس بالکل نیا ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا اور اس نے بھی وبا کی شکل اختیار کرلی۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اگر اسی حساب سے یہ وبا پھیلی، تو اس وائرس سے دنیا کی 80 فیصد انسانیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ایک حالیہ تحقیق میں محققین نے 500 سے 15000سال عمر کے 33 وائرسوں کی نشان دہی کی ہے۔ ان میں سے 28ایسے ہیں جن سے نہ صرف سائنسی دنیا ناواقف ہے، بلکہ جدید دورکے جینیٹک ڈیٹا بیس میں بھی ان کا ریکارڈ موجود نہیں۔ ان وائرسزکو سطحِ زمین کے نیچے جمے برف میں پایا گیا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ وبا کے پھیلنے میں آب و ہوا کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔
’’کویڈ نائن ٹین‘‘ کے وبائی مرض کے ختم ہونے کے بعد ترقیاتی ممالک چاہیں گے کہ ریکارڈ مدت میں اپنی معیشت کو واپس بحال کرسکیں، جس کی وجہ سے ان ممالک کی فیکٹریاں اپنی پوری صلاحیت سے جاری رکھی جائیں گی۔ اس طرح زہریلی گیسوں کے اخرج میں اضافہ ہوگا۔ مذکورہ زہریلی گیسیں آب و ہوا کی تبدیلی میں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس واقعہ کے بعد نہ صرف عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ ہوگا، بلکہ برف میں جمے وائرس پگھل کر پوری دنیا میں بہت آسانی سے پھیل جائیں گے۔ اب اس کا اندازہ کسی کو بھی نہیں کہ مذکورہ وائرس کتنے مقدار میں موجود ہیں، اور ان کا انسانی صحت پر کیا اثر ہو سکتا ہے، واللہ اعلم! بقولِ منیر نیازی
اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
مَیں ایک دریا کے پار اُترا تو مَیں نے دیکھا
…………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے