353 total views, 1 views today

ہوا کچھ یوں کہ ایک عیسائی نوجوان طالب علم کی ایک غلطی نے اس کی جان لے لی۔ غلطی تو خیر سب سے ہوتی ہے، لیکن چوں کہ نوجوان کی یہ غلطی ایک بہت بڑی غلطی کے زمرے میں آتی ہے، لہٰذا مرنا اس کا مقدر ٹھہرا۔
شاید میں نے ایک عیسائی کی موت جیسی ’’معمولی سی بات‘‘ کو کافی بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہو، مگر حقیقت یہی ہے کہ ایک عیسائی نے اُس گلاس میں پانی پیا تھا جس میں مسلمان پیتے ہیں، تو یہ تو بہت بڑی غلطی ہوئی ناں۔ جہاں لوگ رنگ، نسل، ذات پات، زبان اور علاقہ کا فرق دیکھ کر ایک دوسرے کو مارنے کو دوڑتے ہوں، وہاں پنجاب کے علاقے وہاڑی میں ’’مسلمان سکول‘‘ میں نیا نیا داخلہ لینے والے ایک عیسائی طالب علم ’’شیرون‘‘ کے مذہب کا فرق ہونے کے باوجود ’’مسلمان گلاس‘‘ میں پانی پی کر اپنی پیاس بجھانا تا ایک سنگین غلطی ہے۔

جہاں لوگ رنگ، نسل، ذات پات، زبان اور علاقہ کا فرق دیکھ کر ایک دوسرے کو مارنے کو دوڑتے ہوں، وہاں پنجاب کے علاقے وہاڑی میں ’’مسلمان سکول‘‘ میں نیا نیا داخلہ لینے والے ایک عیسائی طالب علم ’’شیرون‘‘ کے مذہب کا فرق ہونے کے باوجود ’’مسلمان گلاس‘‘ میں پانی پی کر اپنی پیاس بجھانا تا ایک سنگین غلطی ہے۔

جہاں لوگ رنگ، نسل، ذات پات، زبان اور علاقہ کا فرق دیکھ کر ایک دوسرے کو مارنے کو دوڑتے ہوں، وہاں پنجاب کے علاقے وہاڑی میں ’’مسلمان سکول‘‘ میں نیا نیا داخلہ لینے والے ایک عیسائی طالب علم ’’شیرون‘‘ کے مذہب کا فرق ہونے کے باوجود ’’مسلمان گلاس‘‘ میں پانی پی کر اپنی پیاس بجھانا تا ایک سنگین غلطی ہے۔

اس کی جماعت کے مسلمان دوستوں نے جب دیکھا کہ ایک عیسائی نے ہمارے پینے کے گلاس میں پانی پی لیا، تو وہ اس بات پر جھگڑنے لگے۔ بہرحال یہ بات تو طے ہے کہ شیرون کے ہم جماعت، مشال کے ہم جماعتوں سے بہتر ثابت ہوئے۔ مشال کو تو پتا نہیں کن کن طریقوں سے مارا گیا ہوگا، لیکن شیرون کے ہم جماعتوں نے اس پر صرف لاتوں اور گھونسوں کی بوچھاڑ ہی کی تھی۔ شیرون کو بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔ اب بھلا چند لاتوں اور گھونسوں سے کوئی مرتا ہے؟ مشال کی مثال لیجئے، جسے لاتوں، گھونسوں، تھپڑوں،نوک دار اوزار اور پتا نہیں کس کس طریقے سے مارا گیا۔ مشال کو بہ آوازِ بلند کلمہ پڑھنے کے بعد بھی شہید کیا گیا مگر شیرون بے چارہ توکلمہ سے بھی محروم تھا۔ شائد شیرون کو لاتوں اور گھونسوں نے نہیں بلکہ ُاس اچانک پیدا ہونے والی صورتحال کے خوف نے مار دیا تھا۔ کمسن شیرون، جس کی ابھی عمر ہی کیا تھی، بھلا سترہ سال بھی کوئی عمر ہوتی ہے!




مشال خان کو لاتوں، گھونسوں، تھپڑوں،نوکدار اوزار اور پتا نہیں کس کس طریقے سے مارا گیا۔ مشال کو بہ آوازِ بلند کلمہ پڑھنے کے بعد بھی شہید کیا گیا مگر شیرون بے چارہ توکلمہ سے بھی محروم تھا۔ شائد شیرون کو لاتوں اور گھونسوں نے نہیں بلکہ ُاس اچانک پیدا ہونے والی صورتحال کے خوف نے مار دیا تھا۔

شیرون کی ماں کے مطابق انہوں نے اپنے بیٹے کو دوستوں کے ساتھ زیادہ گھل ملنے سے منع کیا تھا۔ مگر کون سے دوست اور کیسا گھلنا ملنا؟ اسے تو صرف پیاس ہی لگی تھی۔ اب بھلاپیاس بجھانے پر بھی کبھی پابندی لگی ہے؟ دراصل شیرون کی ماں سے ایک بھول ہوئی تھی۔ انہیں نصیحت اور ہدایت کی بجائے اپنے بیٹے کو ایک ’’عدد عیسائی‘‘ گلاس خرید کر، گلاس سمیت سکول بھیجنا چاہئے تھا۔ نہ وہ اُس گلاس میں پیتا اور نہ یوں بے وقت مارا جاتا۔
شیرون کو مارنے والے طلبہ کے حوالہ سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کون ہیں یہ لوگ اور کہاں سے آتے ہیں؟ اگر ان کا تعلق اسلامی جمہوریہ پاکستان سے ہے اور مسلمان بھی ہیں، تو انہوں نے اسلامیات کے مضمون میں اسلام کے بارے میں کچھ نہ کچھ تو پڑھا ہی ہوگا۔ وہ اسلام کہ جس میں مسلمانوں کو نہیں بلکہ تمام انسانوں کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے۔ انہوں نے قرآن کی متعدد آیات پر بھی غور کیا ہوگا، جس میں مسلمان نہیں بلکہ تمام انسانوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ آپؐ کی سیرت بھی پڑھی ہوگی کہ آپؐ غیر مسلموں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کیا کرتے تھے؟ اگر انہوں نے غور نہیں بھی کیا، تو اس قدر نفرت کہاں سے آئی؟ اس سے تو یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں۔ ہمارے ’’استادِ محترم‘‘ طلبہ کو سمجھاتے کم ہیں اور نفرت کرنے پر زیادہ اکساتے ہیں۔

اس قدر نفرت کہاں سے آئی؟ اس سے تو یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں۔ ہمارے ’’استادِ محترم‘‘ طلبہ کو سمجھاتے کم ہیں اور نفرت کرنے پر زیادہ اکساتے ہیں۔

شیرون کے واقعہ میں تو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ بعض اساتذہ کو پتا تھا کہ کلاس میں ایک سترہ سالہ معصوم عیسائی کو مارا جا رہا ہے، لیکن ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی، جیسے کہ وہ پہلے سے شیرون کا ضائع ہونا چاہتے تھے۔ مشال کا واقعہ بھی کسی پارک، ہوٹل یا بازار میں رونما نہیں ہوا تھا۔ اسے بھی علم کے مرکز کے بیچوں بیچ مارا گیا تھا۔ تعلیمی ادارے جہاں ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی اور خیر خواہی کی تعلیم دی جاتی ہے، اب ان میں نفرت اور جلاؤ گھیراؤ کی تعلیم دی جانے لگی ہے۔ جہاں سے ہم ذہین اذہان پیدا کرنے اور انہیں معاشرے کی ترقی میں کردار ادا کرنے کی آس لگائے بیٹھے ہیں، وہاں اب’’ مرو اور مارو‘‘ کی سوچ رکھنے والے شدت پسند پیدا ہونے لگے ہیں۔ یہ پڑھے لکھے شدت پسند ایک طرح سے معاشرے میں دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ اکثر طلبہ ’’شخصیت پرستی‘‘ کا شکار ہیں۔ اس طرح اکثر اپنے پسندیدہ استاد کی باتوں اور ہدایات کو حرفِ آخر سمجھ کر اس پر بند آنکھوں سے یقین اور عمل کرتے ہیں، جبکہ باقی ماندہ رنگ، نسل، علاقہ، زبان، ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر تفریق کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیا ہمارے تعلیمی ادارے واقعی تعلیمی ادارے ہیں یا پھر دہشت گردی اور انتہا پسندی کی نرسریاں ہیں؟

اکثر طلبہ ’’شخصیت پرستی‘‘ کا شکار ہیں۔ اس طرح اکثر اپنے پسندیدہ استاد کی باتوں اور ہدایات کو حرفِ آخر سمجھ کر اس پر بند آنکھوں سے یقین اور عمل کرتے ہیں، جبکہ باقی ماندہ رنگ، نسل، علاقہ، زبان، ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر تفریق کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیا ہمارے تعلیمی ادارے واقعی تعلیمی ادارے ہیں یا پھر دہشت گردی اور انتہا پسندی کی نرسریاں ہیں؟

اکثر طلبہ ’’شخصیت پرستی‘‘ کا شکار ہیں۔ اس طرح اکثر اپنے پسندیدہ استاد کی باتوں اور ہدایات کو حرفِ آخر سمجھ کر اس پر بند آنکھوں سے یقین اور عمل کرتے ہیں، جبکہ باقی ماندہ رنگ، نسل، علاقہ، زبان، ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر تفریق کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیا ہمارے تعلیمی ادارے واقعی تعلیمی ادارے ہیں یا پھر دہشت گردی اور انتہا پسندی کی نرسریاں ہیں؟

ہمیں اپنے ملک کو ان عناصر سے بچاکر رکھنا ہوگا۔ جناح صاحب نے بڑی کوششوں سے ہمیں یہ ملک آزاد کرکے دلایا تھا۔ تقسیم سے پہلے بہت برے حالات تھے۔ برصغیر میں اقلیتوں یعنی مسلمانوں کے ساتھ بہت برا ہو رہا تھا۔ ہندو اکثریت، مذہب کی بنیاد پر اقلیتوں کا قتلِ عام کرتی۔ اسلئے ایک ایسے ملک کی ضرورت تھی جہاں اقلیت ا ور اکثریت کا کوئی تصور نہ ہو۔ ایک ایسا ملک جہاں برصغیر کی طرز پر اقلیتوں کے ساتھ ظلم نہ ہو۔ ایک ایسا ملک جس کے سکول میں ہندوؤں کے ہاتھوں کسی مسلمان کا جگر گوشہ’’ہندو گلاس‘‘ میں پانی پینے پر قتل نہ ہو۔ اللہ جناح صاحب کا بھلا کرے، آخرِکار ہمیں ایک آزاد ملک مل ہی گیا۔ اپنوں کے علاوہ ہمیں اب کسی دوسرے مذہب کا کوئی بھی مائی کا لعل ہاتھ تک نہیں لگاسکتا۔ اب ہماری بدمعاشی کے دن آگئے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم اپنے سے کمزور پر ہی دھاوا بولتے ہیں۔ اپنے سے زیادہ طاقتور کے معاملہ میں ’’صبر و استقامت ‘‘کا درس یاد آجاتا ہے۔
میں یہاں وقت ضائع کرنے کی بجائے پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کو مفت کا ایک مشورہ دینا چاہوں گا۔ اگر آپ غیر مسلم ہیں اور آپ کو پیاس بھی لگتی ہے، تو براہِ کرم اپنے لئے اپنے اپنے مذہب کا مخصوص گلاس خرید لیں۔ شیرون کی ماں کو اگر مستقبل قریب میں کسی ایسے سانحہ سے بچنا ہے، تو انہیں ایک عدد ’’عیسائی گلاس‘‘ فوری طور پر خرید لینا چاہئے۔ افسوس سے احتیاط بہتر ہے۔




تبصرہ کیجئے