137 total views, 1 views today

ایک تصور ہے کہ عام لوگوں کی اقتدار میں شرکت، شراکت اور ایوانوں تک رسائی سے ہی عوام کے مسائل کم بلکہ مستقل بنیادوں پر حل ہوں گے۔ یہ ایک انتہائی خوش کُن تصور ہے اور دنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ نہ صرف اس تصور کا حامی ہے، بلکہ اس کے اطلاق کے لیے بہت سارے لوگ ہمہ تن جد و جہد بھی کر رہے ہیں۔ شائد اس جد و جہد کی وجہ ہے کہ ہمارے پڑوسی ملک میں ایک “چائے والا” کارکن سے لیڈر اور پھر حکمران بنا ہے۔ یہ صاحب جہاں جہاں بھی حکومتی کرسی پر بیٹھا، تو وہاں عام لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا۔ مذہبی منافرت پھیلی اور لاکھوں انسانوں سے ان کی آزادی اور شناخت چھین لی گئی۔ ان کے ایک حکم نامے سے لاکھوں متاثرین اور کروڑوں ہم خیال لوگوں کی دل آزاری ہوئی۔ ان کے اس طرزِ عمل سے مذہبی جنونیوں کو شہ ملی اور کچھ شرپسند اساتذہ نے مسجدیں جلانے کے لیے معصوم طلبہ و طالبات کو اُکسایا، جنہوں نے حملے کرکے اپنے ہمسایوں اور صدیوں سے ایک ساتھ رہنے والے لوگوں پر تشدد کیا اور کئی قتل ہوئے۔
مودی جی کے دیگر کارناموں کی وجہ سے ہندوستان کی معیشت میں 2013ء کے بعد پہلی مرتبہ واضح کمی آئی۔ عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو شدید مہنگائی کا سامنا ہے۔ تا دمِ تحریر مقبوضہ اور متنازعہ جموں و کشمیر کے لاکھوں انسان بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ ان پر کیا گزر رہی ہے؟ ایک “چائے والا” کیا جانے!
ٹھیک اسی طرح ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کوئی سیاسی پس منظر رکھنے والا سیاسی لیڈر نہیں، بلکہ ایک کاروباری شخصیت ہے اور کئی ایک حوالوں سے عام لوگوں سے اس کا طویل ناتا رہا ہے۔ برسرِ اقتدار آتے ہی اس نے دنیا میں ایک ہلچل مچا دی۔ دنیا کو درپیش سب سے بڑے مسئلے یعنی “موسمیاتی تبدیلی” کو ڈراما کہا اور اس کو جھٹلانے کے لیے اس نے طرح طرح کی بے سرو پا باتیں کیں۔ جب کہ موسمیاتی تبدیلی نے تو اب کئی ایک غریب ملکوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے جس کے کروڑوں باسی خطروں سے دو چار ہیں۔ مگر ظاہری بات ہے کہ ایک پہلوان کو اکھاڑے ہی  کی تو سوجھا کرتی ہے۔ ٹرمپ صاحب کی ایک تازہ ترین حماقت اماراتِ اسلامی افغانستان جس کو امریکہ تسلیم نہیں کرتا اور لوگ انہیں طالبان کے نام سے جانتے ہیں، کے ساتھ افغانستان میں امن معاہدہ کرنا ہے، جس کے تحت طالبان کو افغانستان میں عام لوگوں کی قتل و غارت گری کی کھلی اجازت دی گئی۔ اس معاہدے کے ثمرات افغانستان کے عوام کو بم دھماکوں کی شکل میں ملنا شروع ہوچکے ہیں۔
قارئین، اب بات کرتے ہیں اپنی مملکتِ خداداد کی، جہاں پر ایک مشہورِ زمانہ کرکٹ کے کھلاڑی کو عنانِ حکومت ملی ہے۔ منصبِ اعلیٰ تک پہنچنے کے لیے مذکورہ کھلاڑی نے کئی نعرے لگائے، اور “نئے پاکستان” کی نوید سنائی۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ نئے پاکستان میں انسانی حقوق، معاشی سرگرمیاں، روزگار، برآمدات اور تعلیم سمیت زندگی کا ہر شعبہ پیچھے جب کہ قرضہ آگے بڑھ رہا ہے۔
“ٹریڈینگ اکنامکس” کے مطابق مذکورہ کھلاڑی کی سربراہی میں قائم تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے پاکستان کے کل بیرونی قرضہ جات تقریباً 80 بلین ڈالرز تھے۔ کھلاڑی صاحب وزیرِ اعظم منتخب ہوئے، تو اپنے وعدوں اور کارکنان کی امنگوں کے بر عکس محض 18 مہینوں میں 31 ارب ڈالرز قرضہ لے کر مجموعی بیرونی قرضے کو 111 بلین ڈالرز تک پہنچا دیا۔ اس کی سربراہی میں کچھ عرصہ پہلے کے پی میں عمومی انسانی حقوق کی معطلی کی مجرمانہ کوشش کی گئی، جس کو عدالت نے ناکام بنایا۔
پشاور پبلک سکول واقعہ کے سند یافتہ قاتل کی جیل سے فرار کا تمغا بھی موجودہ حکومت کے سینے پر سج چکا ہے۔ وفاق نے سنگین غداری کیس میں ملوث ایک فرد کے خلاف فیصلے کو نہ صرف رکوایا، بلکہ یہ اور ان جیسے دوسرے فیصلے دینے والے ججوں کو ابھی تک انتقامی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سیاسی اور ذاتی نوعیت کے مسئلوں پر کچھ مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے، جب کہ دیگر کے خلاف جال تیار کیا جا رہا ہے۔ اب تو لگ یہی رہا ہے کہ مجوزہ ریاستِ مدینہ کی تشکیل کے لیے ہر مخالف آواز کو دبانا ضروری سمجھا گیا ہے۔ میڈیا ہاؤسز کا معاشی قتل کرکے ہزاروں صحافیوں کو بے روزگار کرا دیا گیا ہے۔ اب باری ہے میڈیا ہاؤسز کے مالکان کی۔
کے پی، پنجاب، بلوچستان اور وفاق میں عام لوگ کثرت سے حکومتی بنچوں پر براجمان ہیں اور یہی لوگ عام شہریوں کے حقوق کے خلاف ہر غاصبانہ اور آمرانہ قوانین اور اقدمات کا نہ صرف کھلے دل سے ساتھ دے رہے ہیں بلکہ ان کا دفاع بھی شد و مد سے کر رہے ہیں۔
ان حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے عام لوگوں کی اقتدار میں شرکت، شراکت اور ایوانوں تک رسائی کا تصور اب بدلنا چاہیے۔ ہمیں ایوانوں میں “عام” نہیں “خاص” لوگوں کی ضرورت ہے۔ ان “خاص” لوگوں کی ایک مثال دہلی کے وزیرِاعلیٰ ارویند  کجریوال کی ہے جو زمانۂ شباب سے رشوت خوری، معاشی اور سماجی ناانصافی، صحت اور تعلیم کی سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف تحاریک کو جلا بخشتا چلا آ رہا ہے۔ 2011ء میں اس نے مربوط سیاسی، معاشی تبدیلی اور سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے سول سروسز کو خیرباد کہا، اور عملی طور پر سیاست کے لیے نومبر 2012ء کو “عام آدمی پارٹی” تشکیل دی۔ 2013ء کے دہلی الیکشن میں عام آدمی پارٹی کو 70 میں سے 28 سیٹ ملے۔ ارویند نے دیگر 8 ہم خیال لوگوں کو ملا کر ایک کمزور اور دہلی کے سب سے کم عمر وزیرِ اعلیٰ کا حلف اٹھایا۔ دو مہینے سے بھی کم عرصہ کے بعد ارویند نے اس وقت استعفا دے دیا جب وہ دہلی اسمبلی کے ممبران کی مطلوبہ تعداد کی حمایت نہ ملنے پر مالی بدعنوانی کے خلاف قانون پاس کرنے میں ناکام ہوئے۔ 2015ء کو دوبارہ انتخابات میں “عام آدمی پارٹی” 70 میں سے 67 سیٹ حاصل کرکے ایک مضبوط حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ اس مرتبہ وزیرِ اعلیٰ بنتے ہی آہنی اعصاب کے مالک ارویند کجریوال نے کئی ایک عوامی اہمیت کے حامل منصوبے شروع کرکے کامیابی سے ہمکنار کرائے۔ پانچ سالہ دورِ اقتدار میں دہلی سرکار نے صحت، تعلیم اور سماجی ترقی و تحفظ میں نمایاں کام کیا۔ دہلی حکومت نے وعدے کے مطابق 2018ء کے اختتام پر صوبہ بھر میں 450 محلہ کلینکس قائم کیے، جن میں ہر ایک 10 ہزار سے لے کر 15 ہزار نفوس کو 212 اقسام کے مختلف طبی تجزیے اور 109 اقسام کی ادویہ روزانہ کی بنیادوں پر بلاتعطل مفت فراہم کر رہے ہیں۔ اسی طرح دیگر کے علاوہ دہلی بھر کی خواتین کے لیے مفت سفری سہولیات اور نادار گھرانوں کو مفت بجلی کی ترسیل نے کروڑوں عام لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کیے۔ ان بنیادوں پر ارویند کجریوال 2019ء میں ایک بار پھر وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے ہیں، اور اپنے منصوبوں کو کامیابی سے آگے لے کر جا رہے ہیں۔
قارئین، ہمارے زیادہ تر صوبائی اور وفاقی وزرا جو عام گھرانوں اور خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، برائے نام شرکت، شراکت اور اقتدار کے ایوانوں تک عام لوگوں کی رسائی کا بدترین نمونہ ہیں۔ ملک میں اس روش کو بدلنے اور حقیقی جمہوری نظام کی بہتر نشو و نما، ترقی اور تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ شہری شعوری طور پر بیدار ہوں اور “خاص” و “عام” میں تمیز کرسکیں۔
………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے