153 total views, 1 views today

جو لڑکے فیس بک پر ایک بدگو خاتون کے مقابلے میں اس سے بھی زیادہ ایک بدگو حضرت کی طرف داری کر رہے ہیں، اور جواباً گالیاں، نعرے اور الزامات لگا رہے ہیں، ان سے گذارش ہے کہ کل سے اپنے والد صاحب سے اپنی بہنوں کے لیے جائیداد میں حصے کے لیے عین شریعت اور پاکستانی قانون کے مطابق بات کریں۔ الزامات اور دعوؤں سے آگے بھی بڑھیں۔
ان سے یہ بھی گذارش ہے کہ روزانہ کھانے کے وقت پلیٹیں دیکھیں کہ آیا خواتین گوشت کی وہی بوٹیاں کھاتی ہیں جو مرد کھاتے ہیں؟ ان کو وہی کھانا ملتا ہے جو مرد کھاتے ہیں؟ بیٹی کی پیدائش کے وقت گھر میں وہی خوشی منائی جاتی ہے جو بیٹے کی پیدائش کے وقت ہوتی ہے؟ بیٹی کی موت پر لوگ اسی طرح غمزدہ ہوتے ہیں جیسے کہ کسی بیٹے کی موت پر؟ ماں، بہن اُسی طرح گھر کے کسی فیصلے میں مشورہ دیتی ہے جیسے کہ والد یا بھائی دیتا ہے؟ لڑکیوں کے سکولز جاتے وقت راستوں پر لڑکے کھڑے ہوتے ہیں یا لڑکیاں؟ لڑکیوں پر آوازے لڑکے کستے ہیں یا لڑکیاں؟ لڑکی سے محبت پر فخر لونڈا کرتا ہے یا لڑکی بھی کر سکتی ہے؟ لڑکی جب راہ چلتی ہو، تو لڑکے کی نظریں جھکتی ہیں، یا لڑکی کی؟ خواتین کی مارکیٹوں میں لڑکے کیا کرتے ہیں؟ کیاگھر میں لڑکی اسی طرح موسیقی سن سکتی ہے جیسا کہ صاحب بہادر لڑکا؟ شاعر لڑکے زیادہ ہیں، یا لڑکیاں؟ خواتین نے اگر شاعری کی ہے، تو اس میں دکھ، درد، بے بسی کیوں زیادہ ہوتی ہے جب کہ لڑکوں کی شاعری میں زلف، ہونٹ، گال، بال، جسم کے خط وخال زیادہ ہوتے ہیں؟ جو خواتین گانوں میں ناچتی ہیں یا ان کو نچایا جاتا ہے، اس سے مرد زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں یا خواتین؟ چکلے کس نے بنائے ہیں؟ بادشاہوں نے، امیروں نے؟ چکلوں میں خواتین اپنی مرضی سے جسم فروشی کرتی ہیں یا ان سے ایسا کوئی مرد کرواتا ہے ؟
بقولِ سحر لدھیانوی
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا
تلتی ہے کہیں دیناروں میں بکتی ہے کہیں بازاروں میں
ننگی نچوائی جاتی ہے عیاشوں کے درباروں میں
یہ وہ بے عزت چیز ہے جو بٹ جاتی ہے عزت داروں میں
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
مردوں کیلئے ہر ظلم روا عورت کیلئے رونا بھی خطا
مردوں کیلئے ہر عیش کا حق عورت کیلئے جینا بھی سزا
مردوں کیلئے لاکھوں سیجیں، عورت کیلئے بس ایک چتا
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
جن سینوں نے ان کو دودھ دیا ان سینوں کا بیوپار کیا
جس کوکھ میں ان کا جسم ڈھلا اس کوکھ کا کاروبار کیا
جس تن سے اُگے کونپل بن کر اس تن کو ذلیل و خوار کیا
سنسار کی ہر اک بے شرمی غربت کی گود میں پلتی ہے
چکلوں ہی میں آ کر رکتی ہے فاقوں سے جو راہ نکلتی ہے
مردوں کی ہوس ہے جو اکثر عورت کے پاپ میں ڈھلتی ہے
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
عورت سنسار کی قسمت ہے پھر بھی تقدیر کی ہیٹی ہے
اوتار پیمبر جنتی ہے پھر بھی شیطان کی بیٹی ہے
یہ وہ بد قسمت ماں ہے جو بیٹوں کی سیج پہ لیٹی ہے
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
تلخ حقائق کا سامنا کرنا ہوگا۔ جو دین نے ان کوحق دیا ہے، اس پر عام طور پر کس قدر بات ہوتی ہے؟ ہم اپنے دین کے اخلاقی، سماجی، معاشی پہلوؤں سے کیوں کتراتے ہیں؟ اور اسے صرف اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟ ہم اپنے کلچر کو دین کیوں سمجھ بیٹھے ہیں؟ ہم اپنی قبیح رسومات کو دین کا غلاف پہنا کر کیوں زندہ رکھتے ہیں؟ ہم اندر سے کیوں بدل نہیں جاتے؟ مسئلہ کیا ہے! یہاں دین اور دنیا کو کیوں الگ کیا گیا ہے؟ ان سوالات اور تضادات پر کبھی سوچا ہے؟ سوچیے!
محض گالی نکالنے سے، کسی کو کافر، لبرل، آوارہ، بدکردار، بد چلن، انتہا پسند، دہشت گرد، قرار دینے سے معاملات بگڑ جاتے ہیں، حل نہیں ہوتے ۔
چاہے کتنی بھی گالیاں نکالو، کسی تہذیب کو فرق نہیں پڑے گا کہ ہم اسی تہذیب کی دی ہوئی چیزوں کو استعمال کرکے یہ گالیاں نکالتے ہیں۔ مغربی بالادستی سے مجھے چڑ ہی نہیں دکھ بھی ہے۔ اس کی علمی و معاشی بالادستی سے مجھے تکلیف ہے۔ مجھے اپنی کمزوریوں پر اس سے زیادہ دکھ ہے ۔
مغرب کی تہذیب میں اگر لوگوں میں نچلی سطح پر کچھ شہری اقدار موجود ہیں، تو بیشتر حکومتی سطح پر کوئی اصول یا اخلاق کارفرما نہیں، بلکہ مفاد کارفرما ہے۔ ہمارے ہاں نہ شہری تعلیم عام ہوئی، نہ کوئی علم ہی پنپ سکا اور نہ کوئی ڈھنگ کے حکمران کبھی آئے۔ ہم کوئی نظریہ، کوئی نظام دنیا کو نمونہ بنا کر نہیں دے سکے۔ اسلامی تہذیب کے علمبردار کسی ایک معاشی یا سیاسی نظام پر متفق نہ ہوسکے۔ دین ہی کے نام پر مغرب کی کاسہ لیسی کی۔ ہمیشہ کسی بڑی جنگ کی صورت میں ان کی گود میں جاکر بیٹھ گئے۔ کب اپنا کوئی نظریہ یا نظام دنیا کو پیش کرسکے !
جی چاہتا ہے کہ اسلامی تہذیب و الٰہیات کا طالب علم؍ عالم بنوں، مگر کیا فائدہ! جو پہلے سے بنے ہیں، وہ تو اسی مغرب میں یا کہیں اور پناہ لیے ہوئے ہیں!
مولانا مودودی پر کتاب ’’فتنۂ مودودی‘‘ کس نے لکھی؟ مولانا آزاد کو ’’ہندو دوست‘‘ کس نے کہا؟ ڈاکٹر فضل رحمان کو ملک بدر کس نے کیا؟ سردار ضیاء الدین کیوں مغرب سدھار گیا؟ ڈاکٹر رمضان کیوں اپنے ملک نہیں جاسکتا؟ جاوید غامدی کو کس نے بھگایا؟ مولانا امین اصلاحی کو کس نے ڈرایا؟ ہم آدم خور بنے ہیں، جو ایک دوسرے کو کھا جاتے ہیں۔
مجھے خوب گالیاں دو، خوب الزامات لگاؤ، خوب لعن طعن کرو، ’’این جی اُو، این جی اُو‘‘ کرکے نفرتیں پھیلانے کی کوشش کرو، خوب نفرت کرو مجھ سے۔ کوئی بات نہیں۔ میں جھیل سکتا ہوں، مگر اللہ کے لیے خود پر رحم کرو۔ اس نئی دنیا کا مقابلہ علم و عقل سے کرو۔ میں تو نفرتیں جھیلتا آیا ہوں۔ اب بھی جھیل سکتا ہوں۔ مجھے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ موت سے بھی کوئی خاص ڈر نہیں۔ جبر پر بولتا رہوں گا۔ مَیں کوشش کرتا ہوں کہ علمی دنیا میں مغربی فکر و نظام کو چیلنج کرسکوں۔ ہاں! میری اوقات ہی کیا! بس کوشش کرتے ہیں۔ ان کی تہذیب سے اگر ہمیں محض نفرت ہی ہے، تو سب سے پہلا کام اس بلاگ کو پڑھ کر اپنا موبائل توڑ دیں ۔ یہ آلہ ان کا ہے ۔ اس کے بعد اس تہذہب سے جڑی ہوئی اور چیزوں کو چھوڑنا ہوگا۔ کیوں کہ خیالات ان مادی چیزوں کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔
ویسے آپ کو بتاتا چلوں کہ بائیں بازو کے کئی سر پھرے ایسا پہلے سے کر رہے ہیں یعنی مغربی کمپنیوں کی چیزیں استعمال نہیں کرتے۔
…………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے