290 total views, 2 views today

عرض کر کرکے لکھاری، دانشور، فیصلہ ساز، اثر انداز ہونے والے بھی تھک گئے کہ قومیں سانحات سے جنم لیتی ہیں۔ اس جنم لینے کو ایسا نہ سمجھیے کہ سانحہ ہوا اور نئی قوم تیار ہو گئی، بلکہ قومیں اپنی پہچان سانحات، حادثات، آفات پڑنے پہ ثابت کرتی ہیں۔ کسی بھی مشکل یا پریشانی پہ قومیں ایسا رویہ اپناتی ہیں کہ دنیا اُن کی مثالیں دینا شروع کر دیتی ہے۔ اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ صرف آسانیاں کسی کا نصیب نہیں ہوسکتیں۔ لہٰذا مشکلات آن پڑیں، تو ان مشکلات سے نمٹنے کا فن کسی بھی قوم کو عظیم قوم میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس کی مثالیں موجود ہیں کہ 65ء کی جنگ میں پاکستانی قوم نے کس طرح یکجان ہو کے افواج کا ساتھ دیا اور دنیا نے دیکھا کہ عددی برتری یا وسائل ’فتح‘ کے درمیان نہ تو رکاوٹ ہو سکتے ہیں نہ ہی وجہ۔ شمالی کوریا، ویتنام، ایران، عراق، جاپان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان میں سے واضح اور روشن مثال جاپانیوں کی ہے کہ مکمل تباہ حالی کے بعد آج دیکھیے جاپان کہاں کھڑا ہے! آپ سوئی تک خریدتے ہیں، تو اس پہ ’’میڈ ان جاپان‘‘ نظر آتے ہی آپ اس کی کوالٹی کے حوالے سے مطمئن ہو جاتے ہیں، یعنی قومیں جب مسائل سے سرخرو ہو کے نکلتی ہیں، تو ان کی شان نرالی ہو جاتی ہے۔
کرونا وائرس نے چین کے شہر ووہان میں پنجے گاڑ لیے۔ پوری دنیا کی نظریں چین پہ جم گئیں۔ وائرس پوری دنیا میں رفتہ رفتہ پھیلنا شروع ہوگیا، لیکن چینیوں نے ثابت کر دیا کہ وہ زندہ قوم کیسے بنے ہیں۔
کچھ اطلاعات آئیں ذخیرہ اندوزی یا مہنگائی کی، تو اس کا سختی سے قلع قمع کیا گیا۔ ہزار بستروں کا ہسپتال اور صرف سات دن میں بن گیا۔ نرسنگ سٹاف مہینوں گھر والوں سے دور ہے۔ ووہان سے دیگر ممالک کے شہریوں کا انخلا شروع ہوگیا، لیکن چینی کوئی کیا ووہان سے نکلا یا آپ نے خبر سنی؟ محدودے چند افراد ہی شائد شہر چھوڑ کے گئے۔ مجموعی طور پر چین کی پوری انتظامیہ، مشینری، وسائل کا رخ ووہان کی جانب ہے اور حکومت وقت نے دو بڑے ہسپتال دنوں میں بنا دیے متاثرہ علاقے میں۔ مریضوں کو بہترین طبی سہولیات دی جا رہی ہیں۔
کرونا وائرس نے دنیا کے چالیس سے زائد ممالک کا رُخ کیا اور ہر ملک نے اس حوالے سے بہتر اقدامات کرنے کی کوشش کی۔ تمام ممالک کے عوام اس ناسور سے نمٹنے میں متحد نظر آئے۔ پاکستان میں یہ وائرس اس خطے کے حوالے سے دیکھیں، تو سب سے آخر میں آیا، اور آخری اطلاعات کے مطابق کراچی اور اسلام آباد میں اس بیماری کا ایک ایک مریض موجود ہے، لیکن یہاں ایک لمحہ ذرا پاکستانی قوم کا مجموعی مزاج و رویہ ملاحظہ کیجیے۔ مثبت اقدامات کے بجائے قومی سطح پر اشیا کی قلت کا واویلا مچنا شروع ہوگیا ہے۔ ایک مخصوص ماسک اس حوالے سے سامنے آیا، تو مارکیٹ میں اس کی قیمت سو گنا سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے۔ حکومتِ وقت کا راگ کہ ’’پریشانی کی کوئی بات نہیں‘‘، اپنی جگہ درست لیکن اس حوالے سے حکومتی امور میں بھی انقلابی فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پروٹوکول کچھ کم کر کے تمام وسائل کا رُخ عوام کی طرف کیوں نہیں موڑا جا سکتا؟ وائرس ہاتھی کے سائز کا تو ہے نہیں کہ کہا جائے کہ ماسک سے بھی مکمل بچاؤ ممکن ہے، لیکن کم از کم حکومت اگر آٹے کے تھیلے سرکاری نرخوں پہ تصاویر کے ساتھ مہیا کرسکتی ہے، تو اسے اس حوالے سے بھی فیصلہ کیوں نہیں اب تک کر لینا چاہیے تھا کہ فلاں فلاں جگہ سے یہ ماسک اس قیمت میں دستیاب ہوں گے۔ کمیٹی والے ریڑھی بانوں کو اٹھاخ پٹاخ کر کے ٹرک بھر لیتے ہیں، تو ایسا کیوں ممکن نہیں کہ پورے ملک میں ہنگامی بنیادوں پہ عملہ تعینات کیا جائے، ہیلپ لائن قائم کی جائے کہ جہاں اور جن سے قیمتوں میں اضافے کی شکایت کی جا سکے۔
قوموں کے پاس اپنا آپ ثابت کرنے کے لیے قدرت کی جانب سے بعض اوقات مواقع میسر آتے ہیں، لیکن ہمیں شائد یہ مواقع بھی منافع کمانے کا ذریعہ محسوس ہوتے ہیں۔
آپ اندازہ لگائیے کہ ابھی پورے ملک میں صرف چند مریض سامنے آئے ہیں، اور پورا ملک ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہو چکا ہے۔ نہ کوئی نظام ہے نہ چیک اینڈ بیلنس کہ ایک ماسک کی قیمت آسمان کو چھونے لگی ہے۔ اللہ نے کرے کسی آفت یا پریشانی کا دورانیہ بڑھنا شروع ہوگیا، تو یہاں تو کھانے کی چیزیں بھی لاکھوں میں ملنا شروع ہو جائیں گی۔ اکثر دعوے سننے کو ملتے کہ ’’مجھے موقع دیا جائے میں ملک کی تقدیر بدل دوں گا۔‘‘، ’’ملک کو ایسے آگے لے جاؤں گا کہ دنیا حیران ہو جائے گی۔‘‘ کبھی کوئی سیاست دان دعوے کرتا ہے تو کبھی کوئی سیٹھ۔ لیکن ہنگامی حالات میں یہ کیا ستو پی کے سو جاتے ہیں؟
آج کوئی سیاست دان، کوئی کاروباری سیٹھ، کوئی فلاحی کام کرنے والا سرخیل کیوں ایسا دعویٰ کرتا نظر نہیں آتا کہ ’’بھئی، مَیں پوری قوم کو یہ ماسک فراہم کروں گا۔‘‘
حکومت طفل تسلیوں کے بجائے صرف ہنگامی حالات میں اپنی رٹ قائم کرنا ہی شروع کر دے، تو عوام اس سے مطمئن ہو جائے گی۔ ہم ایک ایٹمی قوت ہیں، لیکن کیا ایک ایٹمی قوت میں ہر مشکل یا پریشانی میں ایسی ہی ہیجانی کیفیت ہوتی رہے گی؟
اگر ایسا ہے تو کیا فائدہ ایسی طاقت کا!
پاکستان کے باسیو! اے پیارے پاکستانیو! تمہارے پاس تو زندہ قوم بننے کا نادر موقع ہے۔ 65ء کی فتح کا راگ الاپنا اب بس کر دیجیے، بلکہ اپنے آپ کو اس قابل کیجیے کہ ہر مشکل میں 65ء والا جذبہ نظر آئے۔
پاکستانیو! آؤ اپنی روش بدل ڈالو۔ عہد کر لو کہ چاہے کرونا وائرس ہو یا کوئی اور مشکل، ہم ذخیرہ اندوزی خود کریں گے، نہ دوسروں کو کرنے دیں گے۔ ہم ناجائز منافع خود کمائیں گے، نہ دوسروں کو ناجائز منافع خوری کی اجازت دیں گے۔
کان پک گئے سن سن کے کہ ہم نے 65ء کی جنگ میں زیور بیچے۔ ارے پیارے پاکستانیو! اب ایسا کیا ہوگیا کہ کسی مشکل میں زیور بکنے کے بجائے لوٹ مار کا بازار گرم ہو جاتا ہے؟ اب ایسا کیا ہے کہ ہم ہر مشکل کو کمائی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ سیلاب آ جائے تو چیزیں مہنگی۔ زلزلہ آ جائے تو چیزیں مہنگی۔ کوئی آفت ٹوٹ پڑے تو اشیا کی قیمتیں آسمان پہ۔ اب کرونا آیا تو ادویہ اور ضروری سامان کی قیمتیں چڑھتی جا رہی ہیں۔ ہم نہ جانے زندہ قوم کسے کہتے ہیں؟ ہمارے پاس تو ایسے ہزاروں مواقع آتے ہیں لیکن ہم لالچ، ہوس، کینہ، بغض، مفاد، جیسی لعنتوں میں گھرے ہوئے ایسے مواقع اپنے ہاتھوں سے گنوا دیتے ہیں۔ چین کا میڈیا دیکھیے کیسے وہ اپنے مثبت نکات کو دنیا کے سامنے لا رہا ہے، اور ہم مزے مزے سے اُن کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرتے ہوئے لائک ملنے پہ خوشی کے شادیانے بجا رہے ہوتے ہیں، لیکن دوسری جانب منافقت کی انتہا کو چھو رہے ہیں۔
زندہ قومیں خوشی کے لمحوں میں اپنا آپ ثابت نہیں کرتیں، بلکہ مشکلات قوموں کو دنیا میں وقار دیتی ہیں۔ نامساعد حالات میں جب قومیں اخلاقیات، حب الوطنی، خیال، محبت، احساس اپنا چلن بناتی ہیں، تو تاریخ ایسی قوموں کو زندہ شمار کرتی ہے۔
پیارے پاکستانیو! یہ زندہ قوم بننے کا نادر موقع ہے۔ افراتفری پھیلانے کے بجائے ان حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دے کر خود کو زندہ قوموں کی فہرست میں لکھوا لیں۔
پاکستانیو! اس مشکل کی گھڑی میں ضرورت مندوں کی مدد کر کے اپنے آپ کو زندہ قوم ثابت کریں۔ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر کے ثابت کر دیں کہ آج بھی یہ قوم 65ء والی ہی ہے۔ جعلی خبروں سے ملک میں ہنگامیِ حالات پیدا کرنے کے بجائے حقیقت جانتے ہوئے اس وائرس کی لعنت سے نمٹ کر دنیا کو دکھا دیں کہ تم چاہو تو سب کچھ کر سکتے ہو۔ زندہ قوم خود کو ثابت کرنے کا یہ موقع بھی کھو دیا تو پھر……!
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین!
………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے