272 total views, 1 views today

جولائی 2017ء میں کراچی میں حلقہ پی ایس 114 کے ضمنی انتخابات کے لیے ایم کیو ایم سمیت کئی ایک سیاسی جماعتیں میدان میں تھیں۔ یہ نشست بعد میں حکمران پیپلز پارٹی نے جیت لی تھی۔ انتخابی مہم کے دوران میں مختلف سیاسی لوگ حسب عادت مختلف دعوے اپنی تقاریر میں کر رہے تھے، لیکن ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان سے منسوب یہ بہت افسوسناک فقرے نشر ہوئے ’’زندہ ہے مہاجر‘‘، ’’ایم کیو ایم کو کمزور نہ سمجھو‘‘، ’’تم تین سال اور اپریشن کرو، تم ایم کیو ایم کو ختم نہیں کرسکتے۔‘‘ (آج ٹی وی مورخہ سات جولائی 2017ء، رات گیارہ بج کر سات منٹ)۔

ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان سے منسوب یہ بہت افسوسناک فقرے نشر ہوئے ’’زندہ ہے مہاجر‘‘، ’’ایم کیو ایم کو کمزور نہ سمجھو‘‘، ’’تم تین سال اور اپریشن کرو، تم ایم کیو ایم کو ختم نہیں کرسکتے۔‘‘ (آج ٹی وی مورخہ سات جولائی 2017ء، رات گیارہ بج کر سات منٹ)

ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان سے منسوب یہ بہت افسوسناک فقرے نشر ہوئے ’’زندہ ہے مہاجر‘‘، ’’ایم کیو ایم کو کمزور نہ سمجھو‘‘، ’’تم تین سال اور اپریشن کرو، تم ایم کیو ایم کو ختم نہیں کرسکتے۔‘‘ (آج ٹی وی مورخہ سات جولائی 2017ء، رات گیارہ بج کر سات منٹ)

گذشتہ صدی کے آخری دو عشروں اور اس صدی میں پاکستان میں بھارتی مہاجرین کے مبینہ کردار کا جب ذکر آتا ہے، تو خوف کی ایک ٹھنڈی لہر بدن میں محسوس ہوتی ہے، جو خونخواری ان نرم خو اور نرم مزاج اور شائستہ لوگوں کی نئی نسل میں بتائی گئی، اس پر یقین نہیں آتا۔ انسانوں میں خود غرضی اور لالچ فطری چیزیں ہیں۔ چوں کہ بھارت سے بھگائے گئے اس ہجوم کو پاکستان میں سیاسی اقتدار اور حکومتی ادارے اچانک ہاتھ آگئے۔ پھر پاکستانی اقوام کی طرف سے ان کو بے خانماں محروم اور مظلوم اور قابل رحم مسلمان بھائیوں کا درجہ ملا، اس لیے نوزائیدہ مملکت میں یہ سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ ملازمتیں ہوں، تجارت ہو یا صنعت، اُن سب پر یہ انبوہ چھا گیا۔ یہ لوگ بھارت کے مختلف علاقوں سے بھگائے گئے تھے۔ ان کا سماجی پس منظر، تہذیب و تمدن حتیٰ کہ لباس اور زبان میں یکسانیت نہیں تھی۔

سیاسی میدان میں پاکستان کے شروع کے گیارہ سال ان لوگوں کی سیاسی اور قوتِ حکمرانی کی نالائقیوں کے بدترین سال تھے، لیکن ان میں دانشمند اور محب پاکستان لوگ بھی کافی تھے، لیکن وہ یکسوئی کے فقدان کی وجہ سے پاکستان میں وہ حالات پیدا نہ کرسکے جو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام پر پیدا کئے تھے کہ قیامِ اسرائیل پر چند عرب ممالک کی افواج نے اُس پر ہلہ بول دیا تھا اور شکست کھا گئے تھے۔ اس لیے کہ اسرائیل کی نوزائیدہ مملکت کی بھاگ ڈور قابل اسرائیلیوں کے ہاتھوں میں تھی جبکہ پاکستان کے حکمران پاکستانی اقوام نہیں بلکہ بھارتی لوگ تھے، جو منقسم ذہن احساسات، عدم تحفظ اور بے اتفاقی کا شکار تھے۔ بھارت نے بھی کشمیر پر فوج کشی کی لیکن یہ پاکستانی پنجاب، پٹھان، ہزارہ وغیرہ کے لوگ تھے جنہوں نے نہ صرف فوج کشی کو روک دیا بلکہ موجودہ شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر کے علاقوں کو بھارت کے شکنجے میں نہ جانے دیا۔ بھارتی مہاجرین میں کئی ایک میدانوں میں اعلیٰ ترین لوگ بھی تھے، جن کو ہم مخلصانہ سلام کرتے ہیں۔ وہ ہمارے محسن تھے۔ اُن کا کردار قابل فخر رہا ہے۔ لیکن جونہی وہ نسل گزر گئی اور موجودہ نسل آگے آگئی، ہم نے اُن میں سے بعض کو قاتلوں، لٹیروں اور مقامی اقوام کے دشمنوں کے روپ میں دیکھا۔ آج بھی بے شمار بھارتی مہاجرین وطن دوست اور وفادار لوگ ہیں۔ وہ ہمارے لیے قابل احترام ہیں، لیکن بہت سارے آستین کے سانپ بھی ان میں موجود ہیں۔
قوم پرستی اچھی بات ہے۔ اپنے جائز حقوق کے لیے پُرامن جدوجہد بھی دورِ حاضر کا پسندیدہ عمل ہے، لیکن دوسری اقوام جو ملک کے اصل لوگ ہوں، اُن سے نفرت کرنا، اپنی افواج اور پولیس سے نفرت کرنا، اُن سے اور پاکستان دوست مہاجرین سے اور پاکستانی اقوام سے لڑنا اور اُن کو قتل کرنا، ملکی املاک اور اداروں کو نقصان پہنچانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ یہ کہنا کہ ’’پاکستان بننے کا عمل غلطی تھا‘‘ یہ ناقابل قبول ہے۔ پاکستان کو اگر یہاں کی اقوام قبول نہ کرتے (تاریخ پڑھئے) تو یہ ملک خلا میں نہیں بن سکتا تھا۔ غلطی پاکستان کی نہیں تھی، اُن لوگوں کی تھی، جنہوں نے اسے اپنی جاگیر سمجھا اور ہر قسم کی جمہوری اختلاف اور حقوق کا انکار کیا۔




یکسوئی کے فقدان کی وجہ سے پاکستان میں وہ حالات پیدا نہ کرسکے جو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام پر پیدا کئے تھے کہ قیامِ اسرائیل پر چند عرب ممالک کی افواج نے اُس پر ہلہ بول دیا تھا اور شکست کھا گئے تھے۔ اس لیے کہ اسرائیل کی نوزائیدہ مملکت کی بھاگ ڈور قابل اسرائیلیوں کے ہاتھوں میں تھی جبکہ پاکستان کے حکمران پاکستانی اقوام نہیں بلکہ بھارتی لوگ تھے، جو منقسم ذہن احساسات، عدم تحفظ اور بے اتفاقی کا شکار تھے۔

یکسوئی کے فقدان کی وجہ سے مہاجر پاکستان میں وہ حالات پیدا نہ کرسکے جو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام پر پیدا کئے تھے کہ قیامِ اسرائیل پر چند عرب ممالک کی افواج نے اُس پر ہلہ بول دیا تھا اور شکست کھا گئے تھے۔ اس لیے کہ اسرائیل کی نوزائیدہ مملکت کی بھاگ ڈور قابل اسرائیلیوں کے ہاتھوں میں تھی جبکہ پاکستان کے حکمران پاکستانی اقوام نہیں بلکہ بھارتی لوگ تھے، جو منقسم ذہن احساسات، عدم تحفظ اور بے اتفاقی کا شکار تھے۔

عامر خان صاحب ایک سمجھ دار آدمی ہیں۔ اُن کا یہ فقرہ کہ ’’مہاجر زندہ ہے‘‘ بہت افسوس ناک اور دل دکھانے والا ہے۔ ہم کہتے ہیں اور اخلاص کے ساتھ کہتے ہیں کہ جس طرح پاکستان اس کی اپنی اقوام یعنی بلوچوں، پٹھانوں، پنجابیوں، سندھیوں اور دوسری مقامی قوموں کا ملک ہے، اس طرح اب یہ بھارت سے نکالے گئے ’’مہاجرین‘‘ کا بھی ملک ہے۔ بھارت سے نکالے گئے مہاجرین کو کہا جاتا ہے کہ وہ مہاجرین نہیں بلکہ پیدائشی پاکستانی ہیں۔ عامر خان صاحب اور اُن کے ساتھیوں کو اپنا خیال اور پالیسیاں تبدیل کرنی چاہئیں۔ آپ لوگ مہاجر نہیں پاکستانی ہیں۔ آپ کی سیاسی اور غیر سیاسی محنتیں اور توانائیاں پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے ہونی چاہئیں۔ بغض، عناد اور نرگسیت بہت ہی خطرناک نتائج پیدا کرتے ہیں۔ چوں کہ بھارت سے آنے والے لوگوں کی اولادیں آج بھی اعلیٰ مقامات پر ہیں، وہ ہم لوگوں سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔ اس لیے وطن عزیز کے اندر مثبت سوچ اور مثبت طرز عمل پیدا کرنا اُن کی پہلی ذمہ داری ہے۔
اگر ایم کیو ایم (متحدہ قومی موومنٹ) میں لفظ ’’قومی‘‘ سے مراد پاکستان کی مقامی اقوام ہو، پھر تو ٹھیک ہے، اس پارٹی کو دوسری اقوام کو بھی اپنے میں شامل کرنا چاہئے۔ اگر اس ’’قومی‘‘ سے مراد بھارتی مہاجرین ہو، تو یہ حقیقتاً ایک غلط اور عناد پر مبنی خیال ہے۔ بھارت سے بھگائے گئے لوگ کسی بھی صورت میں ایک قوم نہیں تھے اور نہ آج ہیں۔ ان کا لباس، ان کے رسوم و رواج حتیٰ کہ ان کی زبان اور نسلی حیثیت ایک قوم کی نہیں ہے، یہ مختلف ہندوستانی نسلوں کا انبوہ ہے۔

بھارت سے بھگائے گئے لوگ کسی بھی صورت میں ایک قوم نہیں تھے اور نہ آج ہیں۔ ان کا لباس، ان کے رسوم و رواج حتیٰ کہ ان کی زبان اور نسلی حیثیت ایک قوم کی نہیں ہے، یہ مختلف ہندوستانی نسلوں کا انبوہ ہے۔

بھارت سے بھگائے گئے لوگ کسی بھی صورت میں ایک قوم نہیں تھے اور نہ آج ہیں۔ ان کا لباس، ان کے رسوم و رواج حتیٰ کہ ان کی زبان اور نسلی حیثیت ایک قوم کی نہیں ہے، یہ مختلف ہندوستانی نسلوں کا انبوہ ہے۔

ٹھنڈے دل سے سوچئے۔ جب آپ بھارت جاہی نہیں سکتے، نہ وہاں آپ کو کوئی قبول کرے گا اور نہ آپ لوگ وہاں اتنے صاحبانِ حیثیت اور صاحبانِ جائیداد تھے اور اگر کچھ تھے بھی، تو آپ کو وہ حیثیت اب ملے گی نہیں۔ یہاں جو کچھ آپ کو ملا ہے، یہ پاکستان ہی کی وجہ سے ہے۔ تو بھائیو! یہ مہاجر والا لفظ اور سوچ چھوڑیئے۔ پاکستانی بنئے۔ پاکستانی اقوام کے بھائی بنئے۔ اپنی قوتیں اور اپنی صلاحیتیں پاکستان کے امن اور ترقی کے لیے استعمال کیجئے۔ مہاجر کب کے فوت ہوچکے ہیں۔ اب آپ لوگ مہاجر نہیں ہیں اور نہ آپ اس لفظ کی تعریف میں آتے ہیں۔ آپ پاکستانی ہیں۔ پاکستانی بنئے۔ اپنے لیے پاکستان کے لئے اور اس کی اقوام کی فلاح کے لیے محنت کریں۔ پاکستان نے آپ کو بہت کچھ دیا ہے۔ بہترین بات ہوگی کہ پاکستان کے جن جن علاقوں میں آپ لوگ آباد ہیں، آپ وہی قومیتیں اختیار کریں۔ جہاں جو زبان بولی جاتی ہے، وہی بولئے۔ وہی رسوم و رواج، وہی ثقافت اپنائے۔ جو غلطیاں ماضی میں ہوچکی ہیں، اُن کو بھول جایئے۔ پیار محبت، احترام حاصل کریں۔ اجنبیت پیدا نہ کریں۔ بھارت سے دُلہنیں لانے اور وہاں دلہنیں بھیجنے کا عمل اب چھوڑ دیں۔

(لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں)




تبصرہ کیجئے