289 total views, 2 views today

وفاقی کابینہ نے اپنے تئیں ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے سوشل میڈیا کمپنیز کے لیے قواعد و ضوابط کا ایک مسودہ بنام ’’شہریوں کا تحفظ‘‘ تیار کرکے منظور بھی کروالیا ہے، جس سے اُن کی دانست میں یہ جن بوتل میں بند ہوجائے گا۔ ایک قومی سطح کے کو آر ڈی نیٹر اور دوسرے متعلقہ سٹاف کو اس سلسلے میں مقرر کیا جائے گا۔ قانون کے مطابق ساشل میڈیا کمپنیز خصوصاً فیس بک، یوٹیوب، لِنکڈ ان، واٹس ایپ اور ٹویٹر کو تین ماہ کے اندر اندر پاکستان میں اپنا ایک آفس کھولنا ہوگا، جو کہ براہِ راست قومی کو آر ڈی نیٹر کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔ علاوہ ازیں ان کمپنیز کو اپنا ایک ڈیٹا سینٹر بھی پاکستان میں کھولنا ہوگا، جس سے کہ ان کے مطابق شہریوں کے حوالے سے معلومات کو غیر مطلوبہ جگہوں پر استعمال نہ کیا جاسکے۔ قانون کے مطابق کسی بھی شہری کی طرف سے ’’ملکی اداروں‘‘ کے حوالے سے یا دیگر قابلِ اعتراض مواد کی اشاعت کی صورت میں نہ صرف وہ متعلقہ شخص قابل سزا او رجرمانہ ہوگا بلکہ اگر متعلقہ سوشل میڈیائی پلیٹ فارم نے تعاون نہ کیا، تو اس پہ بھی جرمانہ لگایا جائے گا، یا اس کی سروسز معطل کی جائیں گی۔ بادی النظر میں یہ اقدام یا تو عجلت بھرے انداز سے لیا گیا، ایک ناعاقبت اندیش مہم جوئی کی ایک کوشش ہے یا حکومت کا سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کا ایک بہانہ ہے۔ ان صورتوں میں اس کا مستقبل سبکی اور یوٹرن کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔
قارئین کرام، ٹیکنالوجی کی ترقی کے اس جدید دور میں آزایِ اظہارِ رائے اور انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم تنظیمیں اور افراد عالمی طور پر بہت کچھ کررہے ہیں، اور یہ ایک ایسا حساس مضمون ہے کہ جہاں ایک طرف آزادیِ اظہارِ رائے کی حفاظت کرنی ہوتی ہے جب کہ دوسری طرف بنیادی انسانی حقوق کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ اس سے نسبتاً کم ترقی یافتہ دور میں یہی قضیہ تفتیشی صحافت کے حوالے سے بھی اٹھا تھا، جس میں بہرحال بوجوہ، ترجیح آزادیِ اظہارِ رائے اور معلومات کی فراہمی کو دی گئی تھی۔ امریکی سینیٹ میں اس کی باقاعدہ ایک کمیٹی ہے جس میں متعدد مرتبہ فیس بک کے چیف ایگزیکٹیو مارک زوکربرگ کو طلب کیا گیا ہے اور معلومات کی پرائیویسی، انتخابات میں اس کا استعمال، نفرت انگیز مواد اور آزادیِ اظہارِ رائے کے تضاد کو رفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن بہرحال ان کمپنیز نے ابھی تک حکومتی براہِ راست مداخلت اور کنٹرول کی مزاحمت کی ہے۔
بھارت، جو کہ چالیس کروڑ یوزرز کے ساتھ فیس بک کے ایک حصہ یعنی واٹس ایپ کے صارفین کا ایک اہم حصہ بنتا ہے، نے پچھلے دنوں اسی قسم کی قانون سازی صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کے حوالے سے کی جس کو مذکورہ کمپنی نے قبول نہ کیا اور بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ چائینہ جیسے بڑے ملک نے حتی المقدور کوشش کی کہ فیس بک، واٹس ایپ اور یوٹیوب کو ریگولیٹ کرسکے، لیکن ان کمپنیز نے کاروباری فائدے ہونے کے باوجود اپنی پالیسی کو جاری رکھا ہوا ہے اور چائینیز، پراکسیز کے ذریعے ان ایپس کو استعمال کررہے ہیں۔ ہمارے یہاں بھی متنازعہ ویڈیو کی بنیاد پر یوٹیوب پر دوسال کے لیے پابندی لگائی گئی تھی، جسے بعد ازاں یک طرفہ طور پر ’’کھسیانی بلی‘‘ کی طرح واپس لیا گیا۔
اس عمل کا ایک پہلو سوشل میڈیا سے وابستہ بہت سارے افراد کا روزگار اور ذریعۂ آمدن بھی ہے۔ مشرق وسطیٰ، چائینہ اور اپنے ملک میں دیگر روزگار کے مواقع گنوا کر اور حکومت کی طرف سے کاروباری ماحول کو پراگندہ کرنے کے بعد تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے یہ پلیٹ فارم ایک بہت بڑا آمدن کا ذریعہ بننے کی طرف گامزن ہے۔ اس سیکٹر سے وابستہ آمدن بلامبالغہ اربوں روپوں میں ہے، جس میں سے اکثریت کا تعلق لوئر مڈل اور لوئر کلاس سے ہے ۔ اس پابندی سے ان تمام لوگوں کے کاروبار اور آمدن پر زد پڑنے کا امکان ہے۔
قانون سازی ایک سنجیدہ اور عمیق سوچ سمجھ کے بعد کیا جانے والا بہت حد تک ایک معروضی کام ہے، نہ کہ ردعمل میں کسی فرد یا ادارے کے مزعومہ انا کو طفل تسلی دینے کا عمل۔ عالمی طور پر بہت سارے ریسرچ ادارے اور یونیورسٹیاں اس حوالے سے سنجیدہ کام کررہی ہیں۔ یونیورسٹیوں میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی اور ٹیکنالوجی مینجمنٹ کے حوالے سے باقاعدہ شعبہ جات قائم کیے جاچکے ہیں جو کہ تندہی کے ساتھ حفظِ ما تقدم کے طور پر اس قسم کے مسائل کو ایڈریس کررہے ہیں۔ رینڈ کارپوریشن جیسے ادارے بھی اس عمل میں کود چکے ہیں جب کہ کارنیل یونیورسٹی کی طرح بہت ساری یونیورسٹیاں سرکاری پالیسی ساز اداروں کے لیے باقاعدہ دو سالہ فیلو شپ کا انعقاد کررہی ہیں۔ تاکہ پالیسی سازی کے اس عمل کو خوب سمجھ کر اور اس کے عواقب اور تناظرات کو سامنے رکھ کر بہترین اور نتیجہ خیز قواعد و ضوابط تشکیل دیے جائیں، جب کہ اس کے برعکس ہم صرف ایک دوسرے کے مصنوعی اور قابل مذمت مفادات کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے اس قسم کے نامعقول اور مضحکہ خیز اقدامات سے ٹیکس پیرز کے پیسوں کی بنیاد پر اتھارٹی کے مزے لوٹنے کا دورانیہ بڑھانے کا سامان کررہے ہیں، جس کا لازمی نتیجہ ملکی ابتر صورتحال کا مزید ابتر ہونا اور ظلم و جبر کے لیے راستے کھولنا ہی ہوگا۔ یوں ففتھ جنریشن وار کا راگ الاپنے والے اس ملک کو مزید ابتری اور کھائی میں لے جانے کا باعث بنیں گے۔
………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے