35 total views, 1 views today

یاد آیا ایک ’’خفیہ مشن‘‘ پر لاہور کے پڑوسی شہر شیخوپورہ کی طرف بھی مڑنا ہے۔ یہ لازم ہے۔ بڑھاپے کا عارضہ لاحق ہو جائے، تو بندہ ہر بات بھول جاتا ہے۔ اگرچہ ہم کسی صورت نہیں سمجھتے کہ ہم نے بڑھاپے کی حدود وقیود میں قدم رکھے ہیں، یا ہمیں کوئی عارضہ لاحق ہوگیاہے، تاہم ہمارے سمجھنے یا نہ سمجھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارا ذاتی فرمان ہے کہ سچ میٹھا ہوتا ہے نہ کڑوا، یہ بے رنگ بے بو اوربے ذائقہ بھی ہوتاہے، تو اِس لیے اگر ہم بھول بھی جائیں شیخوپورہ کی طرف مڑنا، تو آپ نے ہمیں یاد دلا کر صرف اتنا بتانا ہے کہ جی شیخوپورہ موڑ پہنچنے والا ہے۔ بس یہ سیدھی سادھی بات پلے باندھ لیں۔ جب جانا ٹھہر ہی گیاہے، تو شیخوپورہ کی مفت میں سیر بھی کرلیں گے۔ یہ کیا، موٹر وے پر لگی ہوئی ’’ہورڈنگز‘‘ میں ایک پر بائیں طرف تیر کا نشان ہے اوراُس کے عین نیچے لکھا ہے: ’’آرام گاہ۔‘‘ بڑی حیرت ہوتی ہے، کیوں کہ ہم نے اور پی ایم عمران خان صاحب نے تو قبر کو آخری آرام گاہ اور سکون گاہ کا درجہ دیا ہواتھا۔ یہاں جگہ جگہ آرام گا ہوں کے بورڈز دیکھے، تو بے چینی تو پیدا ہوئی ہی ہوئی، جسم بھرپر کپکپی کی کیفیت بھی طاری ہوگئی۔ کہیں یہاں پر موٹر وے والوں نے وزیر اعظم کے اشارے پرقبریں نہ کھودی ہوں۔ مسافروں کو اُن میں سکون کے مزے لینے ڈمپ کرنے کے لیے خدا ہی سب کا حامی وناصر ہو ۔ شکر ہے آپ کو زحمت نہیں دینی پڑی، وہ شیخوپورہ کے ہرن مینار والے انٹرچینج کا بورڈ نظر آ گیا ہے ۔ یہ بے شک دیکھنے کی جگہ ہے۔ خصوصی طور پر ایسے علاقوں میں جہاں دیکھنے کو کوئی اور چیز نہ ہو۔ اس کے متعلق جوداستانیں دستیاب ہیں، اُن میں کہتے ہیں کہ یہ مغل بادشاہ جہانگیر کی وسیع شکار گاہ تھی۔ وہ اپنے پالتو ہرن جس کو یہ پیار سے ’’ہنس راج‘‘ کہہ کر پکارا کرتا تھا، کے ذریعے صحرائی ہرنوں کا شکار کھیلتاتھا۔ وہ ہرن دُنیاسے رخصت ہوا، تو شاہ کے وفاداروں نے اس شکار گاہ میں اُس کی یاد میں ایک مینار بنایا، اور اُسے ہرن مینار کا نام دیا، جو اَب بھی زمانے کی چیرہ دستیوں سے نمٹ نمٹ کر جرمِ ضعیفی کی سزا بھگت رہا ہے۔ اُس کے سامنے تالاب ہے، بارہ دری ہے اور چبوترے ہیں اور مزید بہت سی جگہیں ہیں دیکھنے کی، لیکن معذرت! ہمیں اور بھی کام کرنے ہیں بھائیو! ویسے باقی جو بھی ہے وہ خدا جانے یا ’’تزکِ جہانگیری‘‘ پڑھنے والے۔ ہم کیوں اس بابت سخت ڈپریشن میں ہیں؟ حالاں کہ وہ ہرن اپنی ہی صنف کا دشمن تھا، غدار ہرن کہیں کا! بہرحال ہے دیکھنے کی جگہ ’’اِسے بار بار دیکھ‘‘ والی بات ہے ، اس میں۔
تھوڑی دیر میں ہم اپنے محبوب شیخوپورہ شہر میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ ایک طرف اپنی ایک پیرنی کی جنم بھومی ہے، تو دوسری طرف ہمارے مرید چوہدری اسماعیل کی بھی جنم بھومی ہے۔ وہ ہماری فرمائش پر کام کاج چھوڑ کر لاہور سے قدم بوسی کے لیے یہاں تشریف لا رہے ہیں۔ مرید ہو، تو ایسا ہو، ورنہ نہ ہو۔ ہماری مرضی ہو، تو اُن کو ’’سردار اسماعیل خان یوسف زئی‘‘ کا خطاب عطا کر دیں۔ ہم جب بھی اُن سے ’’خان‘‘ کا خطاب قبول کرنے کا تقاضا کرتے ہیں، تو گہری سوچ میں ڈوب کر پہلے ٹھنڈی آہ بھرتے ہیں، اور رونی سی صورت بنا لیتے ہیں۔ پھر تھوڑے سے ہنستے ہیں، اور پھر تڑاخ سے قہقہہ مار کرکہتے ہیں کہ ’’یرہ خان جی، اِس اَدھیڑ عمری میں کیا مذہب تبدیل کر وں گا، اور کیا نام! ہم سرداروں کے سردار ہی بھلے۔ ان کی کھوپڑی میں بلڈ پریشر کا تناسب دیگر دیکھی اور اَن دیکھی مواد سے زیادہ لگتاہے۔ ہم نے پنجابیوں میں اتنا بڑا لڑاکا پختون مزاج بندہ اُن کے علاوہ کوئی نہیں دیکھا۔ کیا پتا ہماری 34 سالہ رفاقت کا سایہ نہ پڑا ہو اُن پر۔
شیخوپورہ پر ایک زرعی شہر کی چھاپ زیادہ ہے، بہ نسبت تجارتی شہر کے۔ یہاں کے سیلہ اور باسمتی چاول کی خوشبو ئیں ہر وقت ہرطرف سے ہمارا پیچھا کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں یا سامنے استقبال کرتی ہوئیں۔ چاہے کوئی میدان یا مارکیٹ ہو،گھر یا کھیت ہو۔ ملک بھر میں سپلائی کے علاوہ اِسے برآمد بھی کیا جاتا ہے۔
گاڑی روک کر’’کَنگ روڈ‘‘ کا پتا کرنے کے لیے ایک لڑکے کوآواز دیتے ہیں، تو وہ فوراً قریب آ تا ہے، اور سانس لیے بغیر اشارتاً، کنارتاً اور اندازتاً جس طرح ہمیں سمجھا سکتا ہے، سمجھا لیتا ہے ۔سمجھانے کا وہ نرالا انداز آپ خود ملاحظہ فرمائیں۔
ہم اگر عرض کریں گے، تو شکایت ہوگی
پہلے پہل وہ فرنٹ ویو کا طائرانہ جائزہ لیتا ہے۔ پھر ہماری طرف منھ کرکے بتاتا ہے: ’’سیدھا جانا ہے۔‘‘ پھر وہ کھبے ہاتھ سے سامنے بتی والے چوک کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور کہتا ہے: ’’اُس چوک کو کراس کرنا ہے، آگے گول چوک آئے گا، اُس کو پار کرنا ہے۔ فلائی اُوور کے نیچے سے گزر کر فوری سجے ہاتھ مڑنا ہے، سڑک کنارے لگے جنگلے ختم ہو جائیں، تو ’’کوئیک یُو ٹرن‘‘ لینا ہے، وہی سے کھبے ہاتھ لیں۔ ’’اُوور ہیڈ بریج‘‘ پر ہو لیں اور کرکٹ گراؤنڈ کے ساتھ …… پھر…… پھر وہی پر ہی کسی سے پوچھ لیں کہ کَ’’نگ روڈ‘‘ کہاں پر ہے؟ آئیں ناں! چائے پلائیں آپ لوگوں کو!‘‘اور اس کے ساتھ خدا حافظ کہتا ہے۔
گزشتہ دس بارہ سال میں شیخوپورہ بڑا پھیل بھی گیا ہے، اورسنور بھی گیا ہے۔ لوگوں کا سٹیٹس اَپ گریڈ ہوا ہے۔ اُن کوجوق درجوق سائیکلوں کے جھنڈ سے چھٹکارا ملا ہے۔ اب تو موٹر سائیکلوں اور چنگ چیوں کاچرچا ہے۔ سوات کے ’’پرسیمن‘‘ گلی گلی، محلہ محلہ، کو بہ کو ہتھ ریڑھیوں میں سجے ہوئے ہیں جن کو گول گول کاٹا جاتا ہے، پلیٹوں میں سجایا جاتا ہے، پلیٹوں کو برف کے ایک بلاک کے اوپر رکھ دیا جاتا ہے۔ اس کے اوپر ملتانی نمک چھڑکا جاتا ہے۔ پھر اتنے مزے کے ساتھ کھایا جاتا ہے، جتنے مزے سے ہم آم کھاتے ہیں، دریا میں ٹھنڈے کرنے کے بعد۔ یہاں پر جگہ جگہ ہمارے اور شہریوں کے درمیان پنجابی زبان کا امتحان ہوتا ہے، جسے دیتے ہم ہیں اور پاس ہمارا ساتھی کرتا ہے۔ پرائیویٹ سکولوں کی بھرمار ہے اور خواتین کا صرف یہی کام ہے کہ پڑھیں یا پڑھائیں۔ پرائیویٹ سکول اتنے ہیں کہ جتنا نمک میں آٹا ہوتا ہے۔ بڑے تگ و دو اور پوچھ گچھ کے بعد کَنگ روڈ دریافت کرتے ہیں، آخر۔ یہاں یہ واحد روڈ نہیں کہ جس پر انسان مغلوب اور ٹریفک غالب رہتی ہے، بلکہ پورے شہر کا یہی حال ہے۔ بوائز ڈگری کالج کا گراؤنڈ میلوں میلوں میں پھیلا ہوا ہے۔ ڈاکٹر معافیہ شہزادی یوسف قریشی میموریل ہسپتال کو کراس کرتے ہیں۔ ابنِ اُمّ مکتوب پبلک سکول کے ساتھ ٹرن لیتے ہیں، ڈاکٹر سبیقہ عتیق کے کلینک سے گزرتے ہیں ، تب کمبوہ سٹریٹ کا بورڈ نظر آجاتا ہے۔ یہاں پراپرٹی ڈیلرز کے دفاتر اُگے ہوئے ہیں۔ دوست عین سڑک کے بیچ ہمارے انتظار میں کھڑے ہیں۔ یہاں کے دفاتر جہاں کبھی خرید وفروخت کا ریل پیل ہوا کرتا تھا، اب حقہ کھینچنے اورتاش کھیلنے کے مراکز بن گئے ہیں۔ کاروبار میں شدید مندی ہے۔ بس قوم ویلے بیٹھے مچھر مارتی رہتی ہے اور بیچوں بیچ حکومتی کارندوں کی ماؤں بہنوں کو تونہیں اس کے کارندوں کوگالم گلوچ کے سیشن میں لازمی طور پر یاد کرتی ہے۔ شیخوپورہ کے بے انتہا رش میں دَم گھٹتا ہے۔ دو چار گھنٹے دوستوں کے ساتھ گپیں ہانکتے ہیں، پھر بڑے اہتمام سے بہانے بنا بنا کر تنِ تنہا اپنی خفیہ سرگرمی کی جانب گام زن ہو جاتے ہیں ۔ ڈاکٹر فخر عباس اپنے لیے یہ اشعار فرما گئے ہیں، میرا خیال ہے اِس کا اطلاق ہم پر بھی ہوتا ہے ۔
رانجھا ہوں ہیرنی کی مجھے بھی تلاش ہے
اچھی مشیرنی کی ہمیں بھی تلاش ہے
بن جاؤں جس کے فیض سے میں صدرِ مملکت
ایک ایسی پیرنی کی مجھے بھی تلاش ہے
شام سے پہلے پہلے لاہورموٹر وے پر اپنا کارواں پھرسے رواں ہوتا ہے، کچھ ہی لحظوں میں دریائے راوی کا پُل کراس کرتے ہیں ۔ ماضیِ قریب کا رواں دواں دریائے راوی، انڈیا کی مہربانی کی وجہ سے اب سوکھے ریگستان میں بدل چکا ہے۔ اس کے دامن میں اب آبادیاں ہی آبادیاں ہیں۔ ہزاروں لوگ اس دریا کی دریا دلی سے استفادہ کرتے تھے، اور لاکھوں ایکڑ زمین اس کے پانی سے سیراب ہوتی تھی، وہ راوی اب وہ والاراوی نہیں رہا، بلکہ قصۂ پارینہ ہوگیا ہے۔
لاہور کے عقب سے لاہور میں داخل ہوتے ہیں، اور شوکت خانم ہسپتال سے آگے اللہ ہو چوک پہنچتے ہیں، تو شام کی پرچھائیاں چھائی ہوی ہیں۔ اِس چوک کے ساتھ ہماری یادیں بڑی پرانی ہیں۔ یہاں کے پارکس میں ہم نے بڑی آنکھ مچولیاں کھیلی ہیں۔ یہاں کا گول چوک اس وقت ڈھول باجے والوں کے لپیٹ میں ہے۔ 2014ء میں وہ غبارے فروخت کرنے والی خاتون کی وہی ریڑھی ہٹّی اب بھی اُسی حالت میں اُسی جگہ پرقائم ہے، جہاں پانچ سال پہلے تھی۔ ’’ورلڈ فوڈ ڈے‘‘ کے موقع پر لاہور کو پوسٹروں سے بڑا سجایا گیا ہے، لیکن افسوس یہ دُلہن کی طرح نہیں لگتا۔ پوسٹروں پر لکھا ہے: ’’پاکستان غذائی قلت کے شکار ممالک میں ایک سو اُنیس ویں نمبر پر ہے۔‘‘، ’’صحت مند پنجاب، صحت مند پاکستان کی ضمانت۔‘‘، ’’انرجی ڈرنکس امراضِ قلب کو دعوت دیتی ہیں۔‘‘، ’’گھی نہیں خوردنی تیل استعمال کریں۔‘‘، ’’گھریلو سطح پر سبزیاں اُگائیں‘‘، وغیرہ وغیرہ۔مٹن کڑاہی اور کباب اب لاہور کی بھی مقبول خوراک بن گئے ہیں۔ شنواری کڑاہی کے نام پرجگہ جگہ ریسٹورنٹس موجود ہیں۔ یہاں کے اکثر ریسٹورنٹس دن کو ایسے خاموش ہوتے ہیں جیسے یہ روزے سے ہوں اور رات کو ایسے سرگرم ہوجاتے ہیں جیسے افطاری ہو رہی ہو۔ یہاں کے اخبارات میں خبروں کی جتنی بھرمار ہوتی ہے، اس کی دو چند اشتہارات کی ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ اشتہارات تعلیمی اداروں کے ہوتے ہیں۔ ٹاؤن شپس سکیمیں اور صحت کے معاملے بھی اسی وجہ سے آئے روز بڑھاوا پاتے ہیں۔ باقی اِن میں نامعلوم افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا نہیں بلکہ امن، خوشحالی اور انٹرٹینمنٹ کی باتوں کا ذکر ہوتا ہے۔ یہاں کی سڑکیں کھلی ڈھلی، گرین بلٹ واقعی گرین بلٹ، اور درختوں کے علاوہ پھولوں کے بیڈز ایسے سجائے گئے ہیں کہ بندہ دیکھے اور دیکھتا رہ جائے۔
’’اللہ ہو چوک‘‘ میں اپنے دیرینہ مقام پر ٹھہرتے ہیں، اوراگلے دن دس بجے جب اٹھتے ہیں، تو کیا دیکھتے ہیں کہ اتوار کی چھٹی کی وجہ سے لوگوں کی طرح یہاں کی چوکیں اور سڑکیں بھی سو ئی ہوئی ہیں۔ جیتے جاگتے ’’اللہ ہو چوک‘‘ میں اس وقت ہو کا عالم ہے۔ مع طالع مند خان بعض دیگردوستوں سے ملاقات کا شرف حاصل کرکے نا معلوم منزل کی جانب بڑھتے ہیں، آہستہ آہستہ !
جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم، تجھے یادگار بنا دیا
………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے