267 total views, 1 views today

میانمار، جس کو برما کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کم و بیش پانچ کروڑ ساٹھ لاکھ نفوس پر مشتمل ملک ہے، جہاں اکثریتی آبادی بدھ مت کے پیروکاروں کی ہے۔ ان کی اکثریت نواسی فیصد ہے جبکہ چار فیصد عیسائی اور چار فیصد مسلم آبادی کے ساتھ ایک فیصد ہندو اور باقی دو فیصد کا تعلق دوسرے مذاہب سے ہے۔ سات صوبوں پر مشتمل اس ملک کے بیشتر صوبوں سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی صوبہ ’’راکھین‘‘ (راخین) میں ہے۔ روہنگی زبان بولنے کی وجہ سے ان لوگوں کو روہنگیا مسلم کہا جاتا ہے۔ روہنگی زبان برما کی سب زبانوں سے مختلف ہے۔ روہنگیا مسلمانوں پر آئے روز وحشی بدھوؤں کے پُرتشدد واقعات سے بھری رونگٹے کھڑے کر دینے والی فوٹیج اور ویڈیوز دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ظلم اور بربریت کا یہ بازار آج سے نہیں بلکہ صدیاں پہلے سے سرگرم ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے، تو برما میں مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ 1150ء میں(شوارتھا) نامی برما حکمران کے دور سے ملتا ہے، جب عرب تاجر، تجارت کے حصول کی خاطر یہاں آکر آباد ہوئے۔

برما میں مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ 1150ء میں(شوارتھا) نامی برما حکمران کے دور سے ملتا ہے، جب عرب تاجر، تجارت کے حصول کی خاطر یہاں آکر آباد ہوئے

برما میں مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ 1150ء میں(شوارتھا) نامی برما حکمران کے دور سے ملتا ہے، جب عرب تاجر، تجارت کے حصول کی خاطر یہاں آکر آباد ہوئے

مسلمانوں پر مذہبی پابندی اور تشدد کا سلسلہ 1549ء میں اس وقت شروع ہوا جب گوتم بدھا کے پیروکاروں نے جانوروں کی قربانی پر مذہبی عقائد کی آڑ میں پابندی عائد کردی۔ حتیٰ کہ عیدالاضحی کے موقع پر بھی۔ اس کے خلاف جس نے بھی آواز بلند کی اس کی آواز بڑی بے رحمی کے ساتھ دبا دی گئی۔ بس یہیں سے اس خونی دور کا آغاز ہوتا ہے، جس کے بعد مسلم کش فسادات کی شروعا ت ہوئیں۔ 1742ء میں برما کے بادشاہ ’’بودھا پایہ‘‘ نے پورے علاقے کے مسلم علما کو سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا۔ جو انکار کرتا اسے قتل یا سنگیں نتائج بھگتنا پڑتے۔

مسلمانوں پر مذہبی پابندی اور تشدد کا سلسلہ 1549ء میں اس وقت شروع ہوا جب گوتم بدھا کے پیروکاروں نے جانوروں کی قربانی پر مذہبی عقائد کی آڑ میں پابندی عائد کردی۔

مسلمانوں پر مذہبی پابندی اور تشدد کا سلسلہ 1549ء میں اس وقت شروع ہوا جب گوتم بدھا کے پیروکاروں نے جانوروں کی قربانی پر مذہبی عقائد کی آڑ میں پابندی عائد کردی۔

برطانیہ سے آزادی کے بعد 1962ء میں فوج نے اقتدار سنبھالتے ہی مسلمانوں پر برما کی زمین تنگ کرنے کا فیصلہ کیا، تو سب سے پہلے ان کو باغی قرار دے دیا گیا۔ ان کے خلاف وقفہ وقفہ سے فوجی آپریشن کئے گئے جو 1982ء تک جاری رہے۔ اس آپریشن میں کم وبپیش ایک لاکھ کے قریب مسلمانوں کا بڑا بیدردی سے قتل عام کیا گیا۔ بیس لاکھ کے قریب لوگ اپنی جان بچانے کیلئے مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ 1982ء میں فوج نے میانمار کے مسلمانوں کو ملکی شہریت دینے سے انکار کردیا، تو ساتھ میں مسلمانوں کو مسلم اکثریتی علاقوں سے باہر جانے پر پابندی بھی لگا دی۔ سولہ مارچ 1997ء میں برما کے مسلمانوں کو زندہ پکڑ کر آگ کی بھٹیوں میں جھونک دیا گیا اور کئی عورتوں کی عصمتیں لوٹی گئیں۔ پندرہ مئی سے بارہ جولائی 2002ء تک بدھ بھکشوؤں نے مسلمانوں پر دن دیہاڑے صوبے راکھین کے شہر مندالے پر ہلہ بول دیا اور تقریباً چار سو گھراور گیارہ مساجد سمیت ہزاروں کی تعداد میں مذہبی کتابوں کو نذر آتش کردیا۔ اس واقعے میں تقریباً دو سو افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے ۔




برطانیہ سے آزادی کے بعد 1962ء میں فوج نے اقتدار سنبھالتے ہی مسلمانوں پر برما کی زمین تنگ کرنے کا فیصلہ کیا، تو سب سے پہلے ان کو باغی قرار دے دیا گیا۔ ان کے خلاف وقفہ وقفہ سے فوجی آپریشن کئے گئے جو 1982ء تک جاری رہے۔

برطانیہ سے آزادی کے بعد 1962ء میں فوج نے اقتدار سنبھالتے ہی مسلمانوں پر برما کی زمین تنگ کرنے کا فیصلہ کیا، تو سب سے پہلے ان کو باغی قرار دے دیا گیا۔ ان کے خلاف وقفہ وقفہ سے فوجی آپریشن کئے گئے جو 1982ء تک جاری رہے۔

2010ء اور 2011ء میں جب آمریت کا طویل سورج غروب ہوا اور میانمار کی فضاؤں میں نام نہاد جمہوریت کی کرنیں پھوٹیں، تو مسلمانوں کو بھی امید کی جھلک دکھائی دی اور اپنے انسانی بنیادی حقوق اور شہریت کیلئے آواز بلند کی، مگر اس آواز کو بڑی سختی سے دبا دیا گیا۔ میانمار کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مسلمان غیرقانونی طریقے سے میانمار میں داخل ہوئے، اس لئے انہیں یہاں کا شہری ہرگز نہیں مانا جا سکتا۔ یوں ایک طرح سے یہ برادری عرصۂ دراز سے بے وطنی کا شکار ہے۔ مئی 2012ء میں ایک بار پھر روہنگیا مسلمانوں پر اس وقت آفت ٹوٹ پڑی جب ایک بودھ لڑکی نے اسلام قبول کیا۔ بدھوؤں کو یہ بات نا گوار گزری۔ نومسلم لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر بے رحمی سے قتل کر کے پھینک دیا گیا اور بے شمار مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی، تو ساتھ میں پوری بستی کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔
تین جون 2012ء میں ایک اور دل دہلانے والا واقعہ اس وقت پیش آیا جب دس علما عمرہ ادائیگی کے بعد واپس اپنے گھروں کو آرہے تھے۔ انہیں گاڑی سے اتار کر بڑی بیدردی سے قتل کردیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے ایک رکن سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں ہیومن رائٹس واچ اور میڈیا نے مسلمانوں کے بے رحمانہ قتلِ عام پر واویلا مچایا لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور حکومت کی جانب سے یہ الزامات سختی سے مسترد کردیئے گئے ۔ اس کے بعد میانمار کے صدر کا بیان جاری ہوا جس میں ان کا کہنا تھا کہ مسلم کش فسادات روکنے کا ایک ہی حل ہے، یا تو مسلمان ملک بدر ہوجائیں یا مہاجرین کیمپوں میں سکونت اختیار کرلیں۔ یہ بیان روہنگیا برادری کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔ حتی کہ میانمار کی نوبل انعام یافتہ رہنما ’’آنگ سان سوچی‘‘ بھی ان مظالم پر خاموش نظر آتی ہیں۔

میانمار کے صدر کا بیان جاری ہوا جس میں ان کا کہنا تھا کہ مسلم کش فسادات روکنے کا ایک ہی حل ہے، یا تو مسلمان ملک بدر ہوجائیں یا مہاجرین کیمپوں میں سکونت اختیار کرلیں۔ یہ بیان روہنگیا برادری کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔ حتی کہ میانمار کی نوبل انعام یافتہ رہنما ’’آنگ سان سوچی‘‘ بھی ان مظالم پر خاموش نظر آتی ہیں۔

میانمار کے صدر کا بیان جاری ہوا جس میں ان کا کہنا تھا کہ مسلم کش فسادات روکنے کا ایک ہی حل ہے، یا تو مسلمان ملک بدر ہوجائیں یا مہاجرین کیمپوں میں سکونت اختیار کرلیں۔ یہ بیان روہنگیا برادری کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔ حتی کہ میانمار کی نوبل انعام یافتہ رہنما ’’آنگ سان سوچی‘‘ بھی ان مظالم پر خاموش نظر آتی ہیں۔

2013ء میں برما کی حکومت نے مسلم نسل کشی کی مزید ترتیب پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا اور اس اقدام کی رو سے مسلمانوں پر ایک سے زائد بچہ پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ ظلم کی یہ داستان رُکی نہیں بلکہ اب بھی اس سے مزید بھیانک رُخ اختیار کرچکی ہے ۔ مسلمانوں کے خون کے پیاسے برما کے بدھوؤں کے وحشی پن میں مزید جنون آگیا ہے جس کی وجہ سے روہنگیا مسلمان اپنی جان بچانے کے لئے دربدر بھٹک رہے ہیں۔ کوئی بھارت اور سری لنکا سے پناہ کی بھیک مانگنے پر مجبور ہے، تو کوئی تھائی لینڈ، انڈونیشا، ملائیشیا اور بنگلہ دیش سے لیکن کسی کو یہ پروا نہیں کہ پناہ کی بھیک مانگنے والے انسان بھی ہیں۔ بنگلہ دیش نے تو ظلم کی تمام حدیں پار کر دیں۔ اپنے مظلوم بھائیوں کی دادرسی اور ہمدردی کے بجائے ان کا استقبال گولیوں کی بوچھاڑ سے کیا۔ کوئی مارا گیا، تو کوئی زخمی حالت میں جان بچا کر بھاگ نکلا۔ پھرایسے میں غیرمسلموں سے رحم کی کیا توقع جب اپنے بھی بیگانوں جیسا سلوک کریں۔
آج مالدیپ کے علاوہ باقی مسلم ممالک جن کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی بھرمار ہے، تو کچھ معاشی طورپر دنیا میں اپنی دھاک بٹھا چکے ہیں، مذمتی قرادادوں اور چیخنے چلانے سے بہتر ہوگا کہ یہ ممالک عملی اقدام اٹھائیں۔ آخر کب تک یہ ظلم و جبر کا بازار گرم رہے گا۔ آخر کب تک یہ معصوم انسان تڑپ تڑپ کے مرتے رہیں گے۔ میرا سوال ان انسانی حقوق کی تنظیموں سے ہے جو رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن کیا انسان صرف غیر مسلم ہے؟ میرا سوال ان روشن خیال طبقوں سے بھی ہے جو آبپارہ چوک میں موم بتیاں بڑے شوق سے جلاتے ہیں، تو کیا آج وہ موم بتیاں ختم ہوگئیں یا ان کی روشن خیالی کا دیا بجھ گیا؟ روہنگیا کے مسلمانوں کی مجموعی تعداد اس وقت گیارہ لاکھ کے قریب ہے۔ اگر ہم ان کو ہر مسلم ملک کے حساب سے تقسیم بھی کر دیں، تو ہر مسلم ملک کے حصے میں بائیس ہزار سے کم لوگ آئیں گے۔

روہنگیا کے مسلمانوں کی مجموعی تعداد اس وقت گیارہ لاکھ کے قریب ہے۔ اگر ہم ان کو ہر مسلم ملک کے حساب سے تقسیم بھی کر دیں، تو ہر مسلم ملک کے حصے میں بائیس ہزار سے کم لوگ آئیں گے۔

روہنگیا کے مسلمانوں کی مجموعی تعداد اس وقت گیارہ لاکھ کے قریب ہے۔ اگر ہم ان کو ہر مسلم ملک کے حساب سے تقسیم بھی کر دیں، تو ہر مسلم ملک کے حصے میں بائیس ہزار سے کم لوگ آئیں گے۔

لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سب کے سب خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ کیونکہ خون جو کسی اور کا بہہ رہا ہے۔ ہمیں کیا آگ تو ان کے ہاں لگی ہے، ہمارا گھر تو محفوظ ہے۔ بھلا میں کیوں اوروں کے کاموں میں ٹانگ اڑاؤں، وہ جانیں اور ان کا کام۔




تبصرہ کیجئے