160 total views, 2 views today

ماہرینِ عمرانیات کا کہنا ہے کہ تربیت آدھی ترقی اور فلاحی معاشرے کے قیام کی اساس ہے،جب بھی کسی معاشرے کو ترقی یافتہ، مہذب اور فلاحی معاشرے میں بدلنے کی کوشش کی جائے گی، تو سب سے پہلے اٹھایا جانے والا قدم ’’تربیت‘‘ ہی قرار پائے گا۔ کیوں کہ تربیت نہ فقط ترقی کی اساس بلکہ اس کی محافظ، دوام اور تسلسل کا باعث بھی ہوتی ہے ۔ تاریخِ انسانی میں ایسی کسی معاشرتی ترقی و فلاح کی مثال نہیں ملتی جس کی بنیاد تربیت پرنہ رکھی گئی ہو۔ فرد ہو، خاندان یا معاشرہ، تربیت کی آبیاری سے سیراب ہو کر ہی ترقی کی منازل طے کی جاتی ہیں۔ قومی تربیت کی بنیادی ذمہ داری تربیت کے ’’خطوط‘‘ وضع کرنے کی وجہ سے حکومت پر عائد ہوتی ہے، لیکن اس میں کاوشیں اور کردار تمام معاشرتی و ریاستی اسٹیک ہولڈرز کا ہوتا ہے۔ ریاستی و معاشرتی ستون فرد کی قومی خطوط پر تربیت کرتے ہیں، اورقومی بنیادوں پر تربیت یافتہ معاشرہ ملت کو تشکیل دیتا ہے،جس کے بعد قوم مروجہ نظامِ حکومت کی روشنی میں خود میں سے ہی اپنے نمائندے منتخب کرتی ہے، جو ان کی فلاح و بہبود کے کارہائے نمایاں سرانجام دیتے ہیں۔ یوں ایک معاشرہ فلاحی و ترقی یافتہ معاشرے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ تربیت کا یہ عملی مظاہرہ ہم نے تحریک پاکستان کے عرصہ میں بھی دیکھا ہے۔ تصورِ پاکستان کے خالق حضرتِ اقبالؒ نے برصغیر کے باسیوں کو دوقومی نظریہ دیا۔ بابائے قوم اور ان کی ٹیم نے ان نظریات پر عوام کی تربیت کی، اور بہت ہی مختصر عرصہ میں نہ صرف برصغیر میں مسلمان بطورِ قوم ابھر کے سامنے آئے، بلکہ اسلامی ریاست کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر ہوا، مگر بدقسمتی سے یہاں جب بھی کوئی برسراقتدار آیا، تو اس نے معیشت کی تو بات کی، لیکن قومی تربیت کے امور کو درخوراعتنا نہ سمجھا۔ جانے کیوں انہوں نے اس حقیقت کا ادراک نہیں کیا کہ غیر تربیت یافتہ معاشرہ معاشی ترقی کے باوجود انسانی اقدار سے عاری اور غیر مہذب معاشرہ ہی کہلاتا جاتا ہے، جہاں امکانی طو ر پر ددلت کی ریل پیل تو نظر آسکتی ہے، مگر انسان ڈھونڈے سے نہیں ملتا ہے،جس کا نتیجہ معاشرتی بگاڑ، امن واستحکام پر منفی اثرات مرتب کرنے، امیر غریب کا فرق بڑھانے،معاشرے میں جرائم کی شرح میں اضافہ، سماجی ترقی کی بجائے تنزلی، گراوٹ اور تباہی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
قیامِ پاکستان سے اب تک کی ملکی تاریخ پر نظر ڈالنے سے آشکار ہوتا ہے کہ بانیِ پاکستان کی رحلت کے بعد ملت کی تربیت کا یہ عمل جمود کا شکار ہو گیا۔ بتدریج پاکستانیت کی جگہ صوبائیت، لسانیت اور مسلکیت نے لے لی۔ قومی مفادات کی آڑ میں شخصی مفادات پروان چڑھنے لگے اداروں کی جگہ افراد کو مضبوط کرنے پر مسلسل کام ہوا۔ قومی ادارے کمزور جبکہ ذاتی کاروبار دن دُگنی رات چگنی ترقی کرتے چلے گئے۔ ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار ہوتی نظر آئی۔ سرمایہ کاری کی جگہ سرمایہ داری نے معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ پاکستانیت کی بنیاد پر ہونے والی قومی تربیت کا یہ عمل بدقسمتی سے اگلی نسل کو منتقل نہیں ہو پایا۔ تحریکِ پاکستان کی نسل کہ جس پر محمد علی جناحؒ نے محنت کی تھی، کی جگہ ایک قومی امور کے حوالے سے ایک غیر تربیت یافتہ نسل نے لے لی۔ سیاسی تربیت پھر بھی کسی حد تک ہوئی، مگرمجموعی طور پر اخلاقی اقدار روبہ زوال رہیں۔ ایمان داری کی بجائے بددیانتی اور کرپشن نے لے لی۔ ’’حصولِ رزق عین حلال عبادت‘‘ کو دولت اور جنس کی ذخیرہ اندوزی سے بدل دیا گیا۔ امیر اور غریب کا فرق مٹنے کی بجائے ہر نئے دن کے ساتھ بڑھتا چلا گیا۔اخلاقی و انسانی شرم و حیا کی جگہ ہوس، خیر کی جگہ شر، انسانیت کی جگہ درندگی، محنت کی جگہ سستی و کاہلی، اخلاص کی جگہ منافقت اور معاشرہ فریبی بلکہ خود فریبی نے لے لی۔ نتیجتاً ہم پاکستانی سے زیادہ سندھی، بلوچی، پنجابی اور پختون بنتے چلے گئے۔ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک کے باسی مسلمان کہلوانے کی بجائے شیعہ سنی کہلوانے میں فخر محسوس کرنے لگے۔ ملکی اداروں کی ترقی ثانوی جب کہ ذاتی کاروبار کی وسعت اولین ترجیح میں بدلتی گئی۔ سیاست پر ملوکیت کی قلعی نے رہی کسر نکال دی، جس طبقے نے قائداعظمؒ کے بعد اقتدار پر قبضہ کیا، آج بھی وہ مافیا کی شکل اختیار کر چکا ہے اور یہ مافیاز کتنے مضبوط اور طاقتور ہوتے ہیں اور انہوں نے اپنی جڑیں کتنی مضبوط کر لی ہیں، جس کا ملک اور معاشرے کو کتنا بڑا نقصان ہوا ہے؟ اس کا اندازہ آپ کو اپنے مختصر عرصۂ حکومت میں ہو چکا ہو گا۔
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ریاست تو کیا چند افراد پر مشتمل ایک گھرانا بھی اس وقت تک ترقی و تہذیب کے زیور سے آراستہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تمام خاندانی اکائیاں باہم مربوط ہو کر خاندانی مسائل و مشکلات سے نبرد آزما نہیں ہوتیں۔ ماضی شاہد ہے کہ برسرِاقتدار طبقے نے اپنی ناکامیوں کااعتراف کرنے کی بجائے اس کا ملبہ مبینہ طور پر ادارہ جاتی چپقلش کو قرار دیا۔ ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ اختیارات کی کھینچا تانی ٹھہرائی گئی۔ اس کے برعکس آپ کو غیر منطقی و کسی حد تک غیر حقیقی مشکلات کا سامنا نہیں ہے۔ اس وقت نہ تو حکومت کی باگ ڈور ایسے فرد کے ہاتھ میں ہے کہ جس کا کوئی ذاتی ایجنڈا ہو، یا جسے اپنی اگلی نسل کو اقتدار منتقل کرکے سیاست کو ملوکیت میں بدلنے کی فکر لاحق ہو، نہ عسکری قیادت کو جمہوریت پر تحفظات ہیں، اور نہ ہی عدالت عظمیٰ ہر حکومتی فیصلے پر سوموٹو کا استعمال کر رہی ہے۔ تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں ہم نے دیکھا ہے کہ حکومتی بیانیہ اندرونی و بیرونی حالات کے تناظر میں جب بھی جو آیا ہے، اس کے پیچھے ادارے کھڑے نظر آئے ہیں۔ اسی طرح اگر اداروں نے کوئی سٹینڈ لیا، تو حکومت کی اسے مکمل پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلوں میں پارلیمان کو بالا دست تسلیم کرتے ہوئے افتخار چوہدری کے برعکس ایگزیکٹو کے اختیارات میں دخل اندازی سے احتراز کیا ہے۔ ملکی تاریخ میں دنیا کو پہلی بار یہ پیغام گیا ہے کہ ریاست کے تمام ستون ایک پیج پر ہیں اور ان میں قومی سوچ ہی قدر مشترک اور مشترکہ بیانیہ ہے۔
اس طرح کا مثالی ماحول آپ کے کسی پیش رو کو یا تو ملا نہیں، یا پھر ملا تو اس نے اس ماحول سے قومی بنیادوں پر استفادہ کی کوشش نہیں کی۔ کرکٹ کے میدان سے لے کر کینسر کے ہاسپٹلز تک، سیاسی جدوجہدکے آغاز سے وزارت عظمیٰ کی کرسی تک، آپ نے جس جہد مسلسل سے کام لیا ہے، ملک کی سیاسی، سماجی، اخلاقی، معاشی حالت بدلنے کے لیے ویسی ہی محنت، لگن اور خلوص کی ضرورت ہے۔ صوبائیت، لسانیت، مسلکیت کو پاکستانیت سے بدلنے کے لیے ریاستی سطح پر اقدام کرنے کی اہمیت آج ماضی سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے، جس کے لیے تعلیمی نصاب سے لے کر مسجد سے دیے جانے والے پیغام تک کو ’’قومیایہ‘‘جانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مقامی معاشرے کو ’’مدنی معاشرہ‘‘ کے خطوط پر استوار کرنے کے لیے اخوت، بھائی چارہ، احساس، انصاف اور انسانی اقدار کو پروان چڑھانے کے لیے ریاست کو فرد دوست پالیسی اوراس کے خدوخال پر عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ آج نہ صرف سیاست پر ملوکیت کا قبضہ ہے بلکہ انسانی بنیادوں پر سیاست اپنی شرافت و ایمان داری ایسے خصائل سے سے محروم ہو چکی ہے، بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں نے سیاست کو فخر کی بجائے ننگ میں بدل دیا ہے۔ پاکستانی سماج سے انسانی اقدار ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ قانون سازی کے ساتھ ساتھ قانون پر عمل داری کی تربیت اور رجحان کو پروان چڑھائے بغیر دو نہیں ایک پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، جس کے لیے حکومت کو معاشرتی اسٹیک ہولڈرز کی خدمات لینا ہوں گی۔
ملکی معیشت کی زبوں حالی بلاشبہ تحریک انصاف کی اولین ترجیح ہے۔ بمشکل حکومتی بیانیہ کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اب معیشت درست سمت میں گامزن ہو چکی ہے۔ اب ہم کسی حد تک ’’اجارہ داری‘‘ سے ’’ادارہ سازی‘‘ کے سفرپر سوئے منزل گامزن ہیں، مگر جس طرف آپ کی توجہ لانی مقصود ہے، وہ معاشرتی تربیت ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرتی اور قومی امور میں اتفاق نہ سہی اتحاد ہی پیدا کر لیتے ہیں، ہماری مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں قومی امور نظم و ضبط کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں، مسلک سے زیادہ مذہبِ اسلام اور صوبائیت و لسانیت سے زیادہ پاکستانیت قومی خمیر میں شامل ہو جاتی ہے، جزئیات میں اپنے اپنے مؤقف پر رہتے ہوئے ایک قومی طرزِ زندگی اپنانے اور مشترکہ بیانیہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، محکم نہ سہی یہ یقین ہی عوام میں نفوذ کر جائے کہ ہماری قیادت بھلے سیاسی ہو یا عسکری، عدالت ہو یا بیورو کریسی، عوام کے مفاد کوکمپرومائز نہیں کرے گی، تو بائیس کروڑ کی آبادی ’’عوام‘‘ نہیں ایک ’’قوم‘‘،معاشرہ اخلاقی گراوٹ کا شکار نہیں بلکہ ’’ترقی پسند و فلاحی معاشرہ‘‘، ادارے تنزلی کا شکار یا سبسڈی کے محتاج نہیں مضبوط اور منافع بخش بن سکتے ہیں، اور ایسا تبھی ممکن ہے کہ ہم میں سے ہر ایک قومی ملکیت کو قومی سطح پر ’’اونرشپ‘‘ دے۔ سرکاری مال کی بجائے قومی ملکیت کا تصور اجاگر ہو۔ فقط حکومت نہیں ملت کا ہر فرد اپنی بساط میں قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔ کیوں کہ اقوام سازی میں افرادکاکلیدی کردار ہوتا ہے، اور فرد کو اقبالؒ قومی مقدر کا ستارہ قرار دیتے ہیں۔ جب افراد کا یہ مجموعہ ملت کا روپ دھار لیتا ہے، تو پھر وہاں ریاستی بیانیے پر حکومت کو اپنے ہی عوام کے آگے پالیسیوں پر وضاحتیں دینے کی نوبت نہیں آتی۔ کیوں کہ ملت وجود میں جب آتی ہے۔ جب عوام اور امرا میں اعتماد اور یقین اوجِ کمال پر ہوتا ہے، تو اس ملک کو ریاستِ مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بنانے کا خواب پورا کیا جا سکتا ہے اور اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے تربیت کا مرکزی کردار ہے۔ کیوں کہ ’’تربیت آدھی ترقی ہے!‘‘
…………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔






تبصرہ کیجئے