60 total views, 1 views today

ہندوکش پہاڑی سلسلے کی بغل سے نکلے ہوئے ہندو راج پہاڑی کے ایک طرف لواری کے مقام پر سطحِ سمندر سے 10 ہزار 230 فٹ کی بلندی پر گزرتی ہوئی سڑک آپ کو چترال جیسے پُرفضا، پُرسکون اور پُرامن قطعۂ زمین میں پہنچا دیتی ہے۔ ماضیِ قریب تک یہ سڑک سال میں کم و بیش پانچ مہینوں کے لیے شدید برف باری کی وجہ سے بندہوا کرتی تھی، اور اب تک کئی قیمتی جانوں کو خستہ حالی کی وجہ سے نگل چکی ہے۔ بھلا ہو ذوالفقار علی بھٹومرحوم کا جنہوں نے ستمبر 1975ء میں لواری سرنگ کا افتتاح کرکے چترالیوں کو ایک آس دلا دی، جس کے پورا ہونے میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ لگا۔ یہ سرنگ ریل گاڑی کے لیے بنائی جانی تھی، لیکن 1976ء میں اس پر کام روک دیا گیا۔ 2005ء میں بنیادی تبدیلیوں کے ساتھ موجودہ ٹنل پر کام کا دوبارہ آغاز کرکے بلآخر 2018ء میں جا کر اسے گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ منصوبہ مردِ مومن مردِ حق کے ’’اسلام‘‘ والے منصوبے سے قدرے بہتر منصوبہ تھا، کہ چترالیوں کے جیتے جی بغیر خون کی کسی ندی بہانے کے مکمل ہوا۔ سرنگ سے کچھ آگے جا کر سڑک دو حصوں میں بٹ جاتی ہے۔ بائیں طرف سڑک گاؤں ارندو سے ہوتے ہوئے افغانستان کے نواحی علاقوں میں جاتی ہے، جس کی وجہ سے علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کو دوام ملتا ہے۔ یہ پہاڑی علاقہ ہے جس میں کم از کم چار مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں مقامی زبان گواربتی کے علاوہ کھوار، اردو اور پشتو شامل ہیں۔
ارندو ضلع چترال کا سب سے نشیبی علاقہ ہے۔ اس لیے دریائے چترال یہاں سے افغانستان میں داخل ہو کردریائے کنڑ اور واپس پاکستان میں داخل ہو کر ’’لنڈے‘‘ بن جاتا ہے۔ راستے میں ’’عشریت‘‘ گاؤں ہے، جس میں ’’پالولا‘‘ زبان بولی جاتی ہے۔ عشریت سے آگے ’’دورش‘‘ ہے جو کبھی بدخشاں کا حصہ ہوا کرتا تھا اور مہتر چترال کی جائیداد تھا۔ شہزادہ حسام الملک یہاں کے آخری اور طاقتورگورنر تھے، جو 1969ء میں چترال کا پاکستان کے ساتھ ادغام کے نتیجے میں سبک دوش ہوئے۔ ’’دروش‘‘ میں چھوٹے بڑے ہوٹل اور ریسٹورنٹس اور ضروریاتِ زندگی کی ہر چیز دستیاب ہے۔ دروش سے تین چار کلومیٹر کی دوری پر دائیں طرف ایک گھاٹی سے دریائے شیشی نکل کر دریائے چترال سے بغل گیر ہوتا ہے۔ اسی دریا کے ساتھ ساتھ سڑک کے نام پرایک لکیر موجود ہے، اور 55 کلومیٹر دور ’’وادئی شیشیکو‘‘ کے آخر تک جاتی ہے، جو نہ صرف انتہائی تنگ ہے بلکہ جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہے۔وادئی شیشیکو ایک یونین کونسل اور چار ویلج کونسلوں پر محیط علاقہ ہے جس میں مجموعی طور پر 22 ہزار تک لوگ رہ رہے ہیں۔ ’’مدک لشٹ‘‘ اس وادی کی حسین ترین جگہ ہے جس کے آس پاس دشت، جنگل، بے بند، درہ خشک اور متھیوکے گاؤں آباد ہیں۔

مدک لشٹ گاؤں کے ماتھے کا جھومر پہاڑ جن کے اوپر بادلوں کی آنکھ مچولی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔

ویسے تو چترال کا ہر حصہ قدرتی حسن کے لحاظ سے قابلِ رشک ہے، لیکن ’’مدک لشٹ‘‘ کی بات ہی کچھ اور ہے۔ یہ علاقہ دریائے شیشی کے بائیں جانب پہاڑوں کے ڈھلوانوں پر آباد ہے۔ علاقہ نسبتاً کھلا اور انتہائی زرخیز ہے۔ ایک کے بعد ایک گاؤں کی اپنی ہی خوبصورتی ہے۔ ہرے بھرے کھیت، کھیتوں میں موتی جیسے چمکتے پانی کا شور، خالص دیسی خوراک اور صنفی و مذہبی آزادی میسر ہو، تو عمریں طویل کیوں نہ ہوں۔ ’’مدک لشٹ‘‘ میں طویل العمر بزرگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہاں کے سو فیصد بچے سکولوں میں ہیں، اور باقاعدگی سے پڑھتے ہیں۔ کُل آبادی کے 3 فیصد لوگ سنی مسلمان 97 فیصد اسماعیلیوں کے ساتھ انتہائی پُرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ 2014ء میں یہاں کے تمام لوگوں نے مل کر سنی مسلمانوں کی ایک مسجد کو دوبارہ تعمیر کرایا، جو یہاں مذہبی ہم آہنگی کا بہترین مظہر ہے۔ یہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ مہتر چترال نے ان کو افغانستان سے یہاں لا کر آباد کیا تھا۔ کیوں کہ یہاں کے لوگ فنِ اسلحہ سازی کے لیے مشہور تھے۔ یہاں کے سبھی لوگ بہت شائستہ فارسی بولتے ہیں اور کم لوگوں کو کھوار زبان کی سمجھ ہے۔ استادمحمدبقا،قمبری، ازبک، کورگی، غز(غزنی)، آشوری اور قربانی یہاں کے مشہور قبیلے ہیں۔ یہاں مکئی ، گندم،جانوروں کے لیے چارہ، آلو، مٹراور دیگر سبزیاں کثرت سے اُگائی اور کھائی جاتی ہیں۔ ہر گھر میں کوئی نہ کوئی مویشی مثلاً بکری، بھیڑیا گائے وغیرہ موجود ہے۔
’’مدک لشٹ‘‘ کے بالائی حصے میں واقع میدان اور جنگل کسی ’’ڈزنی لینڈ‘‘ سے کم نہیں۔ یہاں دودھ اور دودھ سے بننے والی دیگر خوراکی اشیا کا مزہ دیکھنے سے نہیں کھانے ہی سے لیا جاسکتا ہے، جو کہ پاکستان کے کسی اور کونے میں شائد ہی دستیاب ہوں۔ شدید سردی اور راستوں کی بندش کی وجہ سے لوگ اناج اور میوہ جات خشک کرکے نہ صرف خود سردیوں میں استعمال کرتے ہیں، بلکہ مہمانوں کو بھی پیش کرتے ہیں۔ یہاں کے لوگ 30 مردانہ اور 20 زنانہ تنظیموں کی شکل میں منظم ہیں، اور بحیثیتِ قوم بچوں کی اعلیٰ تعلیم، صحت کی سہولیات کی فراہمی، صاف پانی کی ترسیل اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہمہ تن بغیر کسی امتیاز کے کمر بستہ ہیں۔ 2015ء میں تباہ کن سیلاب نے یہاں کے لوگوں کو مسائل سے دو چار کیا اور وافر مقدار میں زرعی زمین دریا برد ہو گئی۔ علاقے کے لوگ درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافہ کی وجہ سے پریشان ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمارے دریاؤں اور ندیوں میں پانی معمول سے زیادہ آنے لگا ہے، جس کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ وادیوں کے بالائی علاقوں میں برف اور گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ دریائے شیشیکو جسے ’’مدک لشٹ‘‘ میں ’’دریاں کلاں‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے،در اصل 16 چھوٹی بڑی ندیوں کا مجموعہ ہے، جس میں بسا اوقات طغیانی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس سے آس پاس کے لوگوں کے لیے مسائل جنم لیتے ہیں۔ ان ندیوں پر لکڑی اور پتھروں کے پل بنائے گئے ہیں جن کامقامی لوگ خود دیکھ بھال کرتے ہیں۔ معمولی سے معمولی سیلاب بھی مذکورہ پلوں کو سال میں کئی مرتبہ بہا کر لے جاتا ہے۔ مقامی لوگ انہیں پھر سے بحال کر دیتے ہیں، یوں یہ نہ ختم ہونے والا سلسہ تا حال جاری ہے۔




گاؤں مدک لشٹ جب سر پر برف کی سفید چادر اوڑھ لیتا ہے، تو یہ خوبصورتی ناقابلِِ بیاں ہوتی ہے۔

مین چترال سڑک سے ’’مدک لشٹ‘‘ تک 55 کلو میٹر کا راستہ 4 گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔اور اگر بیچ میں کہیں سڑک ٹوٹ جائے، یا لینڈ سلائیڈینگ ہو جائے، تو انتظام ندارد۔ ’’مدک لشٹ‘‘ کی پشت پر اور عین سامنے اونچے پہاڑی سلسلے ہیں۔ان پہاڑوں میں جہاں نایاب نسل کے چرند پرند کے علاوہ ادویائی جڑی بوٹیاں اور جنگلات ہیں، وہاں ان علاقوں کے لیے گلیشیرز اور گلیشیرزکے نیچے جھیلوں کی موجود گی بھی ایک مسلسل اور بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔ جنگلات میں شدید برف باری، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر عوامل کی وجہ سے گرنے والے درخت خاصی تعداد میں جگہ جگہ پڑے ہیں۔
’’مدک لشٹ‘‘ میں ایک پن بجلی کے منصوبہ پر کام جاری ہے جس سے مقامی آبادی کو زراعت کے لیے پانی کم ہونے کا خدشہ ہے۔ کسی بھی قدرتی آفت سے بروقت اور بھرپور انداز میں نمٹنے کے لیے سرکاری سطح پر کوئی انتظام موجود نہیں۔ وادی تک رسائی کا واحد ذریعہ سڑک ہے، جس کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔ بڑھتی ہوئی عالمی حدت اور موسمیاتی تغیر کے اثرات اس جنت نظیر وادی میں واضح ہیں ۔ مقامی لوگوں کو ان خطرات کا کافی حد تک ادراک ہے، مگر علاقے کے محدود وسائل اور درپیش مقامی مسائل کے باعث قدرتی آفات سے نمٹنا ان کے لیے نا ممکن ہے۔ کسی بھی ممکنہ تباہی سے بچنے کے لیے وادی میں پیغام رسانی اور پیشگی اطلاع دینے کے لیے مؤثر اور کلی طور پر فعال نظام ناگزیر ہے۔ لوگوں کو موسمیاتی تبدیلی اور ان کے خطرناک اثرات سے آگاہ رکھنے اور آفات کے وقت درکار مہارتوں و وسائل کی فراہمی کسی بھی ہنگامی حالت میں کار آمد ثابت ہوگی۔ وادی کا چترال اور دیگر علاقوں سے مسلسل زمینی رابطہ یہاں کے مکینوں کے لیے ازحد ضروری ہے۔ لہٰذا سڑک اور پلوں کا مزاحمتی ہونا اشد ضروری ہے۔ زمینی کٹاؤ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر علاقہ میں شجر کاری، چیک ڈیمز کی تعمیر اور بائیوانجینئرنگ کے منصوبوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ تعمیراتی کام میں لکڑی کے استعمال کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ لہٰذا ماحول دوست تعمیراتی مواد متعارف کرا کر قیمتی جنگلوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ ’’مدک لشٹ‘‘ کے میدانوں کو سیاحت کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، یوں مقامی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
…………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے