81 total views, 1 views today

سوات میں سپورٹس کمپلیکس موجود ہے نہ آرٹ گیلری۔ شعرا اور فنکاروں کی سرگرمیوں کے لیے کوئی سرکاری عمارت سرے سے موجود ہی نہیں۔ روایتی کھیل اور سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والا آرٹ ختم ہو رہا ہے۔ آرٹ گیلری سے مقامی فنکاروں کو روزگار کے مواقع مل سکتے ہیں۔ کسی بھی قوم کی پہچان اس کے کلچر اور آرٹ سے ہوتی ہے مگر یہاں اس طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ روایتی آرٹ اور کھیلوں کو زندہ رکھنا گویا ایک تاریخ کو محفوظ کرنا ہے۔ خیبر پختون خوا میں فلم انڈسٹری تباہ ہے، سنیما بند ہو رہے ہیں، ہماری آنے والی نسلیں صرف تاریخ کے صفحات میں آرٹ فلموں کا ذکر پڑھیں گے۔
فنون لطیفہ کے دو اہم حصے ہیں جن میں فائن آرٹ اور پرفارمنگ آرٹ شامل ہے۔ کسی بھی قوم کی ثقافت کے آئینہ دار یہی دو شعبے ہوتے ہیں۔  وِژول آرٹ میں فنکار برش اور رنگوں کے ساتھ کھیلتا ہے اور اپنے فن کا مظاہرہ تصویروں کے ذریعے کرتا ہے، جب کہ پرفامنس آرٹ میں فنکار لفظوں اور حرکات کے ساتھ اپنے احساسات کا مظاہرہ کرتا ہے۔ پختون ثقافت میں دونوں شعبوں کو اہمیت حاصل ہے اور دونوں میدانوں میں کئی نامور فنکاروں نے پختون ثقافت کی ترجمانی بین الاقوامی سطح پر کی ہے۔ اگر غنی خان کے فن پارے دیکھے جائیں، تو گمان ہوتاہے گویا وہ ان فن پاروں کے ذریعے پوری ایک نسل کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اس طرح اگر پشتو فلمیں، ڈرامے اور شاعری سنی جائے، تو ان میں  ماضی کی کئی رسموں اور رواجوں کی عکاسی نظر آتی ہے۔ پختون معاشرے میں آرٹ اور فن کو ہمیشہ ان سے محبت کرنے والوں نے ذاتی طور پر زندہ رکھا ہے۔  لوگوں نے بھی ان فنکاروں کی عزت افزائی کی ہے، مگر سرکاری سطح پر اس فن کو کبھی بھی پزیرائی نہ مل سکی۔ فنکار کسی بھی شعبے کو پروان چڑھانے کے لیے کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ مقامی سطح پر اس فن کو فروغ دینے کے لیے کوئی اکیڈمی ہے اور نہ ہی باضابطہ درسگاہ، ان میں بہت سارے نامور فنکاروں نے شوقیہ یا ورثے میں ملے ہوئے فن کو جاری رکھا ہے۔
سوات میں سواستو آرٹ ایند کلچر ایسوسی ایشن کے صدر عثمان اولسیار جوکہ مقامی سطح پر آرٹ اور پینٹنگ کی حوصلہ افزائی کرتے چلے آ رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ پشتون ثقافت میں ہم کو کئی ادوار کا آرٹ ملتا ہے جن میں گندھارا سے لے کر اسلامی آرٹ تک ایک طویل سلسلہ ہے۔ اس کے لیے ہمارا کوئی ادارہ مختلف اوقات میں سیمینار  یا نمائش کا اہتمام کرتا ہے لیکن ہم نے کوشش کی ہے کہ آرٹ سکول بھی قائم کیا جائے، جس میں نامور فنکار اس بارے میں اپنے طلبہ کو لیکچر دیں۔ عثمان اولسیار نے مزید کہا کہ حکومتی ادارے اس معاملے میں بعض لوگوں کی مالی معاونت کرتے ہیں، مگر اس میں اقربا پروری اور غیر مستحق لوگوں کو زیادہ نوازا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 1994ء میں موسیقی کا ایک سکول بھی قائم کیا تھا۔ پشتون ثقافت میں حجروں اور دیروں میں موسیقی کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ سوات میں دہشت گردی کے دوران میں اس عمل کو بہت نقصان پہنچا ہے، بہرحال سوات اور سیدوشریف میں یہ سلسلے اب بھی جاری ہیں۔ دس سال قبل خیبر پختون خوا میں کلچر ڈائریکٹوریٹ بن گیا تھا جس کا مقصد آرٹ کو فروغ دینا تھا، مگر بدقسمتی سے ابھی تک اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ ہمارے پاس پورے صوبے میں صرف پشاور میں نشترہال موجود ہے باقی کسی بھی ضلع میں ثقافتی سرگرمیوں کے لیے کوئی مخصوص جگہ موجود نہیں۔ کلچر ڈائریکٹوریٹ نے بعض فنکاروں اور ادیبوں کو مخصوص معاوضہ دیا مگر میرے خیال میں اس سے نقصان ہو رہا ہے۔ کیوں کہ اس سے فنکاروں میں شوق سے کام کرنے کی بجائے رقم بنانے کی فکر لگی رہے گی، جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہوگی اور وہ فن کے بجائے کمرشل ازم کی طرف جائیں گے۔  اگر حکومت اس کے بجائے ان فنکاروں کی کارکردگی بڑھانے کے لئے رقم لگائے، تو اس سے فن کو فروغ ملے گا۔ پھر بھی ہم سمجھتے ہیں کہ کلچر ڈائریکٹوریٹ ایک مثبت کام کر رہی ہے اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

عثمان اولسیار کی پشتو کے نامور گلوکار ہمایون کے ساتھ ایک یادگاری تصویر۔

سوات میں عرصہ تین عشروں سے ڈراموں میں اداکار، ڈائریکٹر اور ڈرامہ نگار کے طور پر کام کرنے والے گلزار عابد کا کہنا ہے کہ میں نے تین سو سے زائد سی ڈی اور ٹی وی ڈرامے بنائے ہیں۔ اس کے ساتھ کئی فلموں کی ڈائریکشن کی ہے۔ گلزار کا کہنا ہے کہ ڈراما اور گیت پختون کلچر اور روایات کا آئینہ دار ہوتا ہے، مگر یہاں پر ماحول اس طرح بن گیا ہے کہ کوئی بھی کیمرہ اٹھا کر ڈراما بناتا ہے۔ ان میں زیادہ تر شوقین لوگ ہیں جو کہ پنجاب سے لڑکیاں لاتے ہیں۔ تاہم ڈرامے کے لیے باضابطہ ہوم ورک نہیں کیا جاتا، جو ڈائریکٹر ہے، وہ اپنی روزی روٹی کی فکر میں ہوتا ہے۔ ڈراما بن جاتا ہے اس کا فنکار کو کوئی مالی فائدہ نہیں ہوتا۔ نہ حکومت کی طرف سے کوئی پابندی ہے۔ نہ حکومت ان پروڈیوسروں، فنکاروں کی مددکرتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل سی ڈی ڈرامے فروخت ہوتے تھے جن سے کچھ نہ کچھ آمدنی ہوجاتی تھی، مگر اب تو حال یہ ہے کہ جوں ہی ڈراما یا فلم ریلز کی جاتی ہے، تو اس دن یوٹیوب اور یو ایس بی پر وائرل ہوجاتی ہے۔ جس کی ادائیگی فلم ساز یا ڈراما بنانے والے کو نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے معیاری کیا غیرمعیاری ڈرامے بھی بننا بند ہوگئے ہیں۔ اس کے لیے باقاعدہ قانون بھی موجود ہے، مگر اس پر کسی قسم کا عمل درآمد نہیں ہوتا۔ آج کل بہت تجربہ کار اور مانے ہوئے فنکار، ڈراما نگار، پروڈیوسر، کیمرہ میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کئی فنکاروں نے فن چھوڑ کر دوسرا کاروبار شروع کیا ہے۔ بہت سارے فن کار مجبوری کی حالت میں کسی نہ کسی سے مانگنے پر گزارا کر رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ اس طرح جاری رہا، تو میرا خیال ہے کہ پشتو ڈراما اور فلم ختم ہونے کے قریب ہے۔ ہمارے آنے والی نسل صرف پرانی پشتو کی بلیک اینڈ وائٹ فلمیں اور ڈرامے دیکھنے پر مجبور ہوں گے۔ یہی نسل پنجاب، انڈیا اور ہالی ووڈ کی فلمیں دیکھے گی۔

گلزار عابد کی فائل فوٹو۔

گلزار عابد کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض لوگ پرانی فلموں کو یاد کرتے ہیں۔ اب ان سے بہترین فلمیں بنائی جاسکتی ہیں، کیوں کہ اب ٹیکنالوجی آچکی ہے۔ ساونڈز بہترین ہیں، تعلیم یافتہ لوگ اس شعبے میں موجود ہیں۔
گلزار عابد کے پی کلچر ڈیپارٹمنٹ پر بھی تنقید کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ امداد دینے والی کمیٹی میں وہ لوگ موجود ہیں جن کو اپنے ہمسایوں کے بارے میں بھی معلومات نہیں۔ وہ فنکاروں کی درست ترجمانی کس طرح کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پسند کے چند لوگوں کی مالی معاونت کی ہے، لیکن جن لوگوں نے فن کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی ہیں، وہ اتنے مایوس ہیں کہ خودکُشی کرنے کو ترجیح  دینے کا سوچ رہے ہیں۔ کیوں کہ حکومت کی طرف سے کسی بھی قسم کی معاونت نہیں۔ ان کے مطابق پشتو فلموں اور ڈراموں کے فروغ کے لیے کاپی رائٹ کے قوانین پر عمل کو یقینی بنایا جائے۔ کیوں کہ ہر جگہ پر یو ایس بی بھرنے کی دکانیں کھلی ہیں۔ پچاس روپے کے عوض دس جی بی ڈیٹا منتقل کیا جاتا ہے، جن میں ہزاروں کی تعداد میں گانے، فلمیں، ڈرامے سمو سکتے ہیں۔ یہ کام حکومت کا ہے نہ کہ ذاتی طور پر کسی شخص کا کام ہے۔




عبدالستار کی فائل فوٹو۔

سوات سیدوشریف سے تعلق رکھنے والے اٹھائیس سالہ عبدالستار جوکہ بچپن ہی سے پینٹنگ اور روایتی آرٹ سے منسلک ہے، کا کہنا ہے کہ میں نے سیکڑوں آرٹس کی نمائشیں کی ہیں۔ کئی سال تک بے روزگار رہا، اب ایک پرائیویٹ ادارے میں ڈرائنگ ماسٹر کی خدمات ادا کرنے پر مجبور ہوں۔ اس شعبے کی طرف حکومت کی کوئی توجہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے کے لوگوں میں آرٹ کے ساتھ بہت دلچسپی ہے۔ خواتین بھی گھروں میں روایتی آرٹ کا کام کرتی ہیں، مگر مواقع نہ ہونے کی وجہ سے اس شعبے میں کوئی نہیں آتا۔ کیوں کہ سوات میں آرٹ سکول یا ادارہ موجود نہیں۔ سوات اور ملاکنڈ یونیورسٹی میں کوئی کلچر ڈیپارٹمنٹ موجود نہیں۔ آرٹ میں چودہ مضامین ہیں جن میں ٹیکسٹائل ڈیزائیننگ، کیلیگرافی، اینٹیریئر ڈیزائیننگ، گرافکس وغیرہ شامل ہیں، جن میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی تک پڑھا جاسکتا ہے، مگر ادارے موجود نہیں۔ اس طرح سوات کے مختلف اداروں میں آرٹ ڈیزائنر کی آسامیاں نکل آتی ہیں جن میں این ٹی ایس کے دوران میں بیالوجی اور فزکس کے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے ایک سکیم کے ذریعے آرٹسٹوں کو ماہانہ وظیفہ دینے کا اعلان کیا تھا، مگر سوات میں کسی بھی ہاتھ سے پینٹنگ اور خطاطی کرنے والے آرٹسٹ کو کوئی وظیفہ نہیں دیا گیا۔ سوات میں آرٹ گیلری بنانے کی شدید ضرورت ہے، تاکہ آرٹسٹ اس میں اپنے فن پارے نمائش اور فروخت کے لیے رکھ سکیں۔ اس طرح مقامی آرٹ جوکہ ہماری خواتین ہاتھوں سے بناتی ہیں، ان کی ترویج کے لیے خواتین کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی، تو سوات جیسے علاقے سے روایتی آرٹ ختم ہوجائے گا جس سے ایک تاریخ ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
خیبر پختون خوا کے کلچر ڈیپارٹمنٹ سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق انہوں نے سوات میں 2015ء تا 2018ء چار سالوں میں آرٹ اور پینٹنگ کے چوبیس پروگرام منعقد کیے ہیں۔ اس طرح ان کے مطابق سالانہ دس ملین روپے آرٹ اینڈ پینٹنگ کے لیے مختص کیے گئے ہیں جس سے خیبر پختون خوا کے مختلف اضلاع میں تقریبات منعقد کی گئی ہیں۔ ان تقریبات میں آرٹ اور پینٹنگ کے مقابلے کروائے گئے ہیں۔ اس طرح محفلِ موسیقی کے پروگرام بھی منعقد کیے جاچکے ہیں، جن میں فنکاروں کو حوصلہ افزئی کے طور پر نقد رقومات اور انعامات دیے گئے ہیں۔

شمع نعمت کی فائل فوٹو۔

خیبر پختون خوا کے کلچر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر شمع نعمت سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق وزارت کلچر کے زیرِ اہتمام پشاور یونیورسٹی کے ایک بورڈ کے ذریعے جن میں ادیب، شاعر، فنکار شامل تھے، ایک کمیٹی نے صوبہ بھر کے فنکاروں، شاعروں، ادیبوں اور مقامی آرٹسٹوں کی امداد کی ہے اور ان کو ماہانہ تیس سے چالیس ہزار روپے پچھلے سال ادا کیے ہیں۔ اس میں کلچر ڈیپارٹمنٹ کا کوئی بھی اہلکار شامل نہیں تھا۔ کمیٹی پر تنقید کے بعد تحقیق بھی کی گئی ہے، اور اس بورڈ نے تحریری جواب بھی دیا ہے کہ یہ رقم مستحق لوگوں کو ادا کر دی گئی ہے۔ اس طرح ان فنکاروں اور ادیبوں کے لیے کلچر ڈیپارٹمٹ اپنے طور پر مختلف سرگرمیاں کرتی ہے۔ حال ہی میں سات کروڑ روپے کی لاگت سے مقامی فنکاروں کے لیے نمائش کیے جاچکے ہیں۔ مقامی آرٹسٹوں کے لیے پشاور میں ایک گیلری بھی بنانے کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔ اس طرح مقامی روایتی کھیلوں کے فروغ کے لیے ان کھیلوں کو باقاعدہ سالانہ کھیلوں کی تقریبات میں شامل کیا جاچکا ہے جس کے لیے مالی تعاون کلچر ڈیپارٹمنٹ فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کلچر ڈیپارٹمنٹ کو آرٹ اور مقامی کھیلوں اور فنکاروں کے مسائل کا علم ہے اور اپنی طرف سے ان کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے