حکمران جماعت ’’تحریکِ انصاف‘‘ کے علاوہ باقی زیادہ تر سیاسی جماعتیں وسط مدتی انتخابات کا مطالبہ بڑے زور و شور سے کر رہی ہیں۔ گویا ان کے خیال میں انتخابات ہی تمام مسائل کا حل ہیں۔ اگر پاکستان میں انتخابات کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے، تو سب سے اولین انتخابات 1962ء کے ایوبی مارشل لائی دستور کے تحت منعقد کیے گئے۔ ان انتخابات کے لیے بیسک ڈیموکریسی کے عنوان کے تحت 80 ہزار بی ڈی ممبران پورے ملک سے منتخب کیے گئے۔ پھر مذکورہ بی ڈی ممبرز کو صدارتی انتخاب کے لیے انتخابی ادارہ قرار دیا گیا۔ اس انتخاب میں ایوب خان کے مقابلے کے لیے کوئی امیدوار دستیاب نہیں تھا۔ مجبوراً متحدہ حزبِ اختلاف کو مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ایوب خان کا مقابلہ کرنے کے لیے راضی کیا گیا۔ یہ صدارتی انتخاب ایوب خان نے جیت لیا، لیکن حزبِ اختلاف سمیت پورے ملک نے بچشم سر دیکھا کہ 80 ہزار ممبران کو زور زبردستی اور لالچ کے ذریعے ایوب خان کی حمایت کے لیے مجبور کیا گیا۔ سب سے پہلے تو یہ دھاندلی کی گئی کہ بالغ رائے دہی کو چھوڑ کر بنیادی جمہوریت کے نام سے پورے ملک سے صرف 80 ہزار ممبران کو انتخابی ادارہ قرار دے دیا گیا۔ مذکورہ ممبران بھی جس انداز سے منتخب کیے گئے، وہ انتخابات کے نام پر ایک مضحکہ خیز مذاق کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ ان انتخابات کو نہ بین الاقوامی اداروں نے تسلیم کیا اور نہ ملک کے عوام اور متحدہ حزبِ اختلاف نے۔
اس کے بعد 1970ء کے انتخابات جنرل یحییٰ کے مارشل لا کے دوران میں منعقد کیے گئے۔ ان انتخابات میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عوام کو اپنی رائے دینے کا اختیار دیا گیا۔ ان انتخابات کے لیے یحییٰ خانی حکومت نے جو ضابطۂ اخلاق مقرر کیا۔ اس کو دو بڑی جماعتوں عوامی لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے کوئی حیثیت اور وقعت نہیں دی اور عملاً اس کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے اپنے امیدوار کے مقابلے میں کسی کو کھڑا ہی نہیں ہونے دیا۔ اس طرح کی دھاندلی اور زور زبردستی اگرچہ پیپلز پارٹی نے تو نہیں کی، لیکن بہرحال ضابطے، طریقے اور قواعد و ضوابط کے لحاظ سے مغربی پاکستان میں بھی یہ کوئی صاف شفاف انتخابات نہیں تھے، لیکن ان انتخابات کا جو نتیجہ نکلا، وہ مملکتِ خدادا د پاکستان کے دولخت ہو کر پاکستان اور بنگلہ دیش کی صورت میں نکلا۔ دونوں پارٹیز نے ایسا ماحول بنایا کہ مشرقی پاکستان میں پیپلز پارٹی نے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا اور مغربی پاکستان میں عوامی لیگ نے کوئی امیدوار نامزد نہیں کیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے ’’اِدھر ہم، اُدھر تم‘‘ کا نعرہ لگا کر عملا ًملک کو تقسیم کرنے کا آغاز کیا۔ عوامی لیگ نے تیئس سالہ محرومیوں اور غربت و ناداری کا ملبہ مغربی پاکستانی انتظامیہ پر ڈال کر پروپیگنڈے کا ایک طوفان کھڑا کیا۔ آخرِکار ہمارے دیرینہ دشمن بھارت کی عملی مدد و تعاون سے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل کیا۔ ان سازشوں، ریشہ دوانیوں اور اقتدار و اختیار کے حصول کے لیے کی گئیں چالبازیوں میں کون کون لوگ، طبقات اور ادارے ملوث تھے؟ یہ ایک لمبی اور تفصیلی داستان ہے، اور اس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔
بھٹو مرحوم نے اپنی چھے سالہ حکومت کی تکمیل سے پہلے اپنی مقبولیت کے زعم میں مقرر مدت سے پہلے 1977ء کے انتخابات منعقد کرائے اور دو تہائی اکثریت کے حصول کے لیے اتنی دھاندلی، زور زبردستی اور انتظامیہ کا ایسا بے تحاشا استعمال کیا کہ پورے انتخابات ہی دھاندلی زدہ قرار پاکر مسترد کر دیے گئے۔ تمام حزبِ اختلاف نے متحد ہو کر اس کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کے نام سے تحریک چلائی۔ شروع میں بھٹو صاحب نے اس کو کوئی اہمیت نہیں دی اور نظر انداز کرنے کا رویہ اختیار کیا، لیکن جب تحریک کی عوامی قوت نے رنگ دکھانا شروع کیا، تو بھٹو صاحب بھی متحدہ حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لئے تیار ہوگئے۔ مذاکرات چلتے رہے، اور بھٹو صاحب بھی ہر قسم کے تاخیری حربے استعمال کرتے رہے۔ کبھی مذاکرات چھوڑ کر بیرونی دورے پر نکل جاتے۔ کبھی سعودی سفیر ریاض الخطیب کے ذریعے مصالحانہ کردار ادا کرنے اور سودے بازی کرنے کی کوشش کی جاتی۔ کئی شہروں میں فوج کے ذریعے امن و امان کو کنٹرول کرنے کے دوران میں اموات ہوئیں، لیکن آخری دور میں بھٹو صاحب حزبِ اختلاف کے ساتھ دوبارہ انتخابات کرانے کے فیصلے پر متفق ہوگئے۔ اس دوران میں اتنی دیر ہو چکی تھی کہ فوج نے مداخلت کرکے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے اور پھر جنرل ضیا ء الحق کا گیارہ سالہ مارشل لائی دور شروع ہوا۔
جنرل ضیاء الحق صاحب کے دورِ حکومت میں بھی غیر جماعتی انتخابات ہوئے۔ اسمبلیاں تشکیل پائیں۔ 1973ء کے دستور میں ترمیمات اور کتر بیونت کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ جنرل ضیاء الحق کی حادثاتی شہادت کے بعد پھر کئی مرتبہ انتخابات ہوئے۔ تین مرتبہ نواز شریف دو مرتبہ بے نظیر اور ایک دفعہ زرداری کی سرکردگی میں پیپلز پارٹی کی حکومتیں بنتی رہیں۔ کرپشن اور بیڈ گورننس کے الزامات کے تحت برطرف ہوتی رہیں اور یہ سلسلہ 2018ء میں فوج کی زیر ِنگرانی انتخابات کے نتیجے میں عمران خان کی تحریک انصاف کی لولی لنگڑی حکومت بننے پر منتج ہوا۔ ان انتخابات میں فوج پر عمران خان کو جتوانے کے لیے مختلف پر اسرار اور پوشیدہ طریقے اختیار کرنے کا الزام لگایا گیااور انتخابات کے فوراً بعد حزب اختلاف کی جماعتوں نے ان انتخابات کو صاف شفاف تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
مطلب اور حقیقت یہ ہے کہ اس پورے دور میں جتنے بھی انتخابات ہوئے۔ وہ سب کے سب غیر شفاف قرار دے کر مسترد کیے گئے اور نتائج بھی ملک و قوم کے لیے حد درجہ نقصان دِہ، تکلیف دِہ اور خطر ناک ثابت ہوئے۔ اگر ہم ان انتخابات کے طریقِ کار، اصول و ضوابط اور عملی انداز پر ذرا گہرائی میں جا کر سوچیں، تو ایک تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہم نے اپنا پورا سیاسی اور انتخابی نظام برطانوی پارلیمانی نظام کے تحت مقرر کیا ہے۔ مذکورہ نظام اپنے اندر بے پناہ خرابیاں ، نقائص اور پیچیدگیاں رکھتا ہے۔ سب سے پہلے تو آپ الیکشن کمیشن کی تشکیل کو دیکھیے، جو ایک چیئرمین اور چار ممبران پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کو وزیر اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کی مشاورت سے تشکیل دینے کا پابند کیا گیا ہے۔ اول تو حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان موجود رسہ کشی اور معمول سے ہٹ کر انتہائی بغض و عداوت پر مشتمل ماحول کی وجہ سے چیئر مین اور ارکان کے تقرر پر اتفاقِ رائے مشکل سے ہوتا ہے، لیکن ہر دو عناصر کے درمیان اگر حالات سازگار بھی ہوں، تو پھر دونوں اپنے مفاد کے تحت ایسے ڈھیلے ڈھالے عمر رسیدہ اور قوتِ فیصلہ سے محروم ریٹائرڈ ججوں کا انتخاب کرتے ہیں، جن کی نگرانی میں ہر قسم کی دھاندلی کے لیے میدان ہم وار ہو۔ ریٹائرڈ جسٹس فخرالدین جی ابراہیم کی تقرری اس کی واضح مثال ہے۔ اس کے علاوہ ہر دو فریقوں کے صوبائی نمائندے اس کمیشن کے ممبران ہوتے ہیں، جو اپنی حمایت کردہ پارٹی کے لیے ہمدردی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ عموماً عدلیہ سے متعلق افراد و اشخاص قانونی ماہر تو ہوتے ہیں، لیکن انتظامی امور کا ان کا تجربہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے وہ انتخابات کے لیے پاک، صاف اور شفاف انتظامات کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ انتخابی امیدواروں کے لیے جو کوالیفکیشن اور شرائط مقرر ہیں، ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا، یا ان کو سرسری طور پر لے کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بعد میں ہارنے والے امیدوار جیتنے والوں پر جعلی ڈگریوں اور نا دہندگی اور دیگر مختلف قسم کے الزامات کے تحت تحقیقاتی ٹربیونل میں کیس دائر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں بنیادی آئینی دفعات باسٹھ تریسٹھ کا تو کھلے طور پر مذاق اُڑا کر ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
ایک اور خرابی جو اس برطانوی پارلیمانی نظام کی بنیادی نقائص میں سے ہے، وہ یہ ہے کہ اس نظام میں اکثریتی ووٹ کو نمائندگی نہیں ملتی۔ ڈیڑھ لاکھ کے صوبائی حلقے کے دس امیدواروں میں جب پول شدہ 70 ، 75 ہزار ووٹ تقسیم ہوتے ہیں۔ اس میں اگر ایک امیدوار نے دس بارہ ہزار ووٹ لیے، تو باقی ووٹ نو امیدواروں میں تقسیم ہو کر دس بارہ ہزار ووٹوں کو نمائندگی ملتی ہے۔ باقی ووٹ نمائندگی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس نظامِ انتخاب میں اخلاقیات، دیانت، امانت اوراحساسِ ذمہ داری کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ نتیجے میں معاشرے کے وہ افراد اختیار و اقتدار کی کرسیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جو دینی، اخلاقی اور روحانی طور پر دیوالیہ پن کا نمونہ ہوتے ہیں۔ انہیں کے ہاتھوں قومی وسائل کا ضیاع اور کرپشن کے نت نئے سکینڈل سامنے آتے ہیں۔
اس نظامِ انتخاب میں جو افراد عوامی نمائندگی کے اعلیٰ اداروں پارلیمنٹ، سینٹ، مرکزی اور صوبائی کابینہ میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کو عوامی مسائل، قانون سازی اور دیگر قومی امور سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ بس اپنے مفادات، مراعات، ذاتی نمود و نمائش اور آسائشات سے مطلب ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ میں سنجیدہ ماحول میں قانون سازی اور ملک کو درپیش مسائل پر غورو فکر کی جگہ ایک دوسرے کے خلاف ناشائستہ زبان کا استعمال اور اشتعال انگیز تقریروں سے نفرت و کدورت میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ آپ اگر برطانوی پارلیمانی نظام سے ہٹ کر دنیا کے دیگر جمہوری ملکوں کے طریق ِانتخاب کا مطالعہ کریں، تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ہر ملک نے آزادانہ طور پر اپنے ملکی، سیاسی، معاشرتی اور تمدنی حالات کے مطابق اپنے لیے ایک نظامِ نمائندگی تشکیل دیا ہے۔ امریکہ کا صدارتی نظام ہو یا فرانس اور ایران کا جس میں صدر براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتا ہے۔ اسی طرح دیگر یورپی جمہوری ممالک میں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات ہوتے ہیں۔اس نظام کی خوبی یہ ہے کہ ایک تو ووٹ پارٹی کو پڑنے کی وجہ سے تمام ووٹوں کو نمائندگی ملتی ہے۔ دوسری بات پارٹی سربراہ کو پارٹی ممبران کی نامزدگی کی وجہ سے پارٹی پر ہولڈ ہوتا ہے۔ ممبران کی خرید و فروخت اور پارٹی بدلنے کے واقعات کا سدباب ہوتا ہے۔
اگر ہم ذرا غور کریں، تو بنیادی طور پر نظام میں افراد کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ سارا انحصار فرد پر ہوتا ہے۔ اگر فرد دیانت دار، امانت دار، احساسِ ذمہ داری اور اپنے فرائض کا شعور رکھتا ہے، تو وہ نظام کی بھی اصلاح کرتا ہے اور قیادت و رہنمائی کے تمام امور بھی کماحقہ بہترین طریقے سے انجا م دیتا ہے۔ اس سلسلے میں حضور نبی کریمؐ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ آپ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کو آئندہ قیادت کے لیے تیار فرمایا اور مختلف اشارات اور اقدامات کے ذریعے حضرت ابوبکرؓ کو مستقبل کا قائد و رہنما مقرر فرمایا۔ پھر جب سقیفہ بنی ساعدہ میں خلافت کا مسئلہ سامنے آیا، تو آپ دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ جو حضرت ابوبکر صدیقؓ سے افتادِ طبع اور مزاجاً بھی مختلف تھے، وہ اس اختلاف طبع کے باوجود حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کرتے ہیں ا ور ان کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔یہی حضرت ابوبکر صدیقؓ مرض الموت میں حضرت عمر فاروقؓ کو اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر فرماتے ہیں۔ نہ کوئی اختلاف کرتا ہے اور نہ کوئی چوں و چرا۔ جب شکایت کی جاتی ہے کہ آپ نے ہمیں ایک سخت مزاج اور درشت طبیعت رکھنے والے کے سپرد کیا، تو ابوبکر صدیق ؓ جواب دیتے ہیں کہ جب عمر پر خلافت کا بارِ گراں پڑے گا، تو اس کی طبیعت کی سختی اور درشتی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ پھر دنیا اور تاریخ نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا فیصلہ کتنا درست، احسن اور مسلم امہ کے حق میں کتنا دوررس اور بہترین نتائج کا حامل ثابت ہوا۔ اسی طرح حضرت عمر فاروقؓ نے خلیفہ کے تقرر کے لیے کبار صحابہ پر مشتمل کمیٹی بنائی اور ان کو اختیار دیا کہ اپنے میں سے بہترین کو خلیفہ منتخب کریں۔ ان حضرات نے بہت غور و فکر، صاحب الرائے اور تمام چیدہ چیدہ افراد سے مشوروں کے بعد حضرت عثمانؓ کے حق میں فیصلہ کیا۔ اس تاریخ میں آپ دیکھتے ہیں کہ افراد ہی مسائل و مشکلات حل کرتے ہیں اور افراد ہی انہیں پیدا کرتے ہیں۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔