192 total views, 1 views today

ہم ’’مابہ دولت صاحب‘‘ اِس وقت سوات موٹر وے پر کاٹلنگ انٹر چینج سے گزرتے ہوئے شرق سے غرب کی جانب رواں دواں، آپ کی توجہ کے طالب ہیں۔ مینگورہ شہرسے کوئی ڈیڑھ گھنٹے کا سفرطے کرکے پہنچے ہیں یہاں۔ گویا کہ مینگورہ کوبائی پاس کرتے ہوئے، جی ٹی روڈ پر واقع بستیوں بلوگرام، اوڈیگرام، نجی گرام، مانیار، غالیگے اور بریکوٹ کو بائے بائے کہتے ہوئے، لنڈاکی چیک پوسٹ پر پولیس کی متلاشی نگاہوں سے پہلو تہی کرتے ہوئے، چکدرہ چوک کی باقاعدہ کلاس لے کر بائیں مڑتے ہوئے، ملاکنڈ ٹنل کے ’’آر سے پار‘‘نکلتے ہوئے، کوئی چار پانچ کلو میٹر طویل اُترائی اُترتے ہوئے اور وَرتیر وپلئی کے مالٹوں کے باغات کے نظارے کرتے ہوئے، بھینی بھینی خوشبوئیں سونگھتے ہوئے جیسے ہی اِس انٹرچینج پر کار چڑھتی ہے، توآگے یوں فراٹے بھرتی ہے، یوں فراٹے بھرتی ہے، گویا یہ گاڑی نہیں، کوئی اُڑن کٹھولا سا ہوا میں اُڑ رہا ہے۔ اندرونی صورتِ حال یہ ہے کہ ساتھی افضل شاہ باچا گاڑی بھگا رہے ہیں، اور ہم ان کے ساتھ والی نشست پر براجماں آڈیو پلیئر پر اُن کی چوائس کے گانے بجانے کا اہتمام کر رہے ہیں۔ مدھم موسیقی کانوں سمیت رَگ و روح میں رس گھولنا شروع کرتی ہے، توایسے میں بھاری بھر کم شاہ جی کا سوا سو کلوگرام جسمانی انفراسٹرکچر، فرطِ سرور میں والہانہ بنگڑا ڈالنے کا ارتکاب کرنے کو پَر تولتے محسوس ہوتا ہے، لیکن ڈرائیونگ میں بندھے ہاتھ پیر، ظاہر ہے یہ ’’خواہشِ بامراد‘‘ پورا کرنے میں رُکاوٹ بنتے ہیں۔ اِس رکاوٹ کے دباؤ کو ریلیکس کرنے کے واسطے وہ اپنے گول گول دیدوں کو موسیقی کے ساتھ دھمال ڈالنے کی دعوت ِتبلیغ دیتے ہیں ، مع دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے سٹیرنگ کو ڈھول باجا سمجھ کربجاتے ہیں۔ اُسی ہاتھ سے اُسی سٹیرنگ کوضرورت کے مطابق بڑے مہارت سے دائیں بائیں گھماتے ہیں، جوشِ جنون کی اِس اشتراکی کیفیت میں ایک پاؤں کو ہلکا پھلکا پابہ رقصاں کرتے ہیں اور دوسرے سے ایکسی لی ریٹر کا کچومر نکالتے ہیں۔ شاہ جی کا یہ عمل ہمیں بھی ہچکولے کھانے کو راغب کرتا ہے۔ اسد اللہ خان غالبؔ مرحوم کے زندہ وتابندہ شعر کے ساتھ تھوڑی سی ’’آؤٹ پٹانگ‘‘ کرنے کی اجازت ہے ؟
ہوا ہے ’’شاہ جی‘‘ کا مصاحب پھرے ہے اِتراتا
وگرنہ شہر میں ’’زاہدؔ‘‘کی آبرو کیا ہے
قطعہ کلامی معاف، جب کہ سوات کے باسیوں نے اپنی جنتِ ارضی میں امن و بد امنی کی لیپاپوتی ہوتی دیکھی، اور گھمبیر ناٹک کے بعد یہاں کی خوشیوں اور رنگینیوں کو خون کی ندیوں میں بہتے دیکھا، پھر اتنی آزادی تو بنتی ہے کہ وہاں کی سرحدات سے بخیروعافیت نکلتے ہوئے اور کچھ نہیں تو کوئی بھنگڑادھمال ڈالی جائے، رقص وسرود کا ماحول بنایا جائے۔ہاں، تو گاڑی کے اندر کی صورتِ حال سے نکل کرموٹر وے کی دونوں جانب دیکھیں۔ یہ دُنیا بڑی کھلی ڈھلی اور بڑی آزاد آزاد سی لگنے لگتی ہے۔خزاں زدہ اکتوبر کے وسط کا یہ صاف وشفاف پہلا پہر گرد و نواح کے مختلف رنگوں کی یگانگت سے ایک خماری ماحول کا سماں باندھتا ہے۔ جابہ جا مکئی، باجرے، گنے اور سبزیوں کی کھڑی فصلوں کے متنوع سلسلے ہیں، کہیں کچے پکے کہیں لال پیلے، کہیں سوکھے کہیں سر سبز۔ چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں کوئی سبزے کی چادر میں ملبوس کوئی عریاں والف ننگی۔ سفیدے کے اُونچے درخت غرور کے سر نیچے کیے ہوئے آنے جانے والوں کی پہرہ داری اور پردہ داری کریں ۔ سورج کی مرجھائی ہوئی معصوم کرنوں کی ہلکی ہلکی تپش اور مخمور ہوائیں بہ حسن و خوبی اپنے فرائض کی ادائیگی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے ماحول کو چار چاند لگائیں۔ اِن جنت نظیر وادیوں کا ذرہ ذرہ، ٹکڑا ٹکڑا، کونہ کونہ، چرند و پرند، سب خدا کی خدائی کے مظاہر ہیں۔
بے حجابی ایسی کہ ہر ذرے میں جلوہ آشکار
اور حجاب ایسا کہ صورت آج تک دیکھا ہی نہیں
ایسے درونی و بیرونی صورتِ حال میں وادئی کاٹلنگ کے ذکر ِ خیر کا حق بنتا ہے، تاکہ یہاں کے گُڑ گنڈیری اور کباب کے ساتھ نمک حلالی تو ہو۔ استدعا ہے کہ جو بھی لوگ یہاں سے گزریں، وہ یہاں کی گھانیوں کے بنے ہوئے گُڑ اور بھینس کے خالص دودھ کی چائے پینے کے لطف سے کہیں محروم نہ رہ جائیں۔ رس بھری گنڈیریوں کو چوسے اور ذائقے سے بھرپورمالٹوں کو چکھے بغیر نہ نکل جائیں، اور ہڈی کی نلی کے ساتھ تُرشاوہ کباب کے ذائقے سے بہرہ مند ہوئے بغیر رہ نہ جائیں! یاد رہے، اِس دُنیا میں کسی نے دوبارہ نہیں آنا۔
بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
یہ علاقہ موٹر وے سے اب منسلک ہوا ہے، تو دنیا کے ساتھ متعارف ہو رہا ہے۔ ماضی میں یہ جی ٹی روڈ سے بڑا دور دراز کسی کونے کھدرے میں واقع تھا، تو اس کا کوئی نام لیوا نہ تھا۔ موٹر وے نے ایک طرف اس کا سینہ چھیر کر گھائل کیا، سماجی و معاشی بندھن جوڑے توڑے، کاشت کاری کے روایتی نظام کو بگاڑکر رکھ دیا، پُرسکون ماحول کا ستیاناس کیا اور اِس سب کے بدلے میں اِسے ایک نام اور مقام دیا۔ یہ ضلع مردان کی سب سے بڑی تحصیل ہے، جو کوہِ ملاکنڈ کے سایے تلے پل بڑھ رہی ہے۔ وادئی بونیر کے ماربلز کے ذخیرے اپنے علاقائی بارڈر سے بغاوت کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے ہوئے ہیں۔ وادئی سوات بھی حقِ ہمسائیگی کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے ماحولیاتی فیوض و برکات یہاں پر بکھیر رہی ہے۔ کئی بستیاں بالخصوص بابوزئی اور سنگاؤ کے پہاڑی سلسلے قدرتی وسائل سے اَٹے پڑے ہیں۔ یہ علاقے مارخور کی رہائش گاہ ہیں۔ مشہور شکار گاہ ’’کشمیر سمَست‘‘ یہاں پر واقع ہے۔ ریاست تو اندھی بھی ہے اور کانی بھی، لیکن بتانے میں کیا حرج،یہاں ٹورازم کے امکانات بے تحاشا ہیں، لیکن پانی کی فراہمی کا مسئلہ بڑا گھمبیر ہے۔ گویا یہ ہمارے صوبے کا ’’تھر چولستان‘‘ ہے۔ بنانے کو تو ٹیوب ویل اور بارانی ڈیم بھی بنائے جا سکتے ہیں، لیکن چھوڑیں جی! یہ ہم کس فضول سی موضوع پر بات کرنے لگ پڑے ہیں۔
کاٹلنگ اور ملاکنڈ ایجنسی کے تاریخی شہر ’’درگئی‘‘ نے دونوں علاقوں کو قریب کر دیا ہے۔ سوات میں پھیلی ہوئی بد امنی کو رول بیک کرنے کی کوششوں کے دوران میں فوجیوں نے یہاں ایک وسیع و عریض بین الاقوامی لیول کا سرچ کاریڈور قائم کیا، جہاں پر اتنی تعداد میں سرچ کاؤنٹرز بنائے، جتنے پوری دُنیا میں کسی ملک نے دوسرے ملک کی سرحد پر بھی نہیں بنائے ہوں گے۔ تلاش کی اِس سسٹم ایٹک راہداری میں مسافروں کی ادویات، عطریات اور لیپ ٹاپس وغیرہ کو علاحدہ رکھ کراُلٹنا پلٹنا، ٹٹولنا اور سونگھنا ، دیگر سامان کو چیکنگ مشینوں کے مختلف مراحل سے گزارنا، شناختی کارڈز کی اصلیت کو چیک کرنے کے لیے تحقیق کاری کے کاریڈور میں پیش کرنا، بڑی معصومیت کے جلو میں اپنے رُخِ زیباکا سپاہی کی نظرِ نازیبا کو زیارت کروانے دینا، کسی کسی کو تفصیلی معائنہ گاہ میں اُتارنا، روکنا اور گزر و درگزر کرتے رہنا، یہی کام ہوتا تھا اِس ’’سرچ آپریشن کاریڈور‘‘ کے میدانِ کارِزار میں آنے جانے والوں کی جانچ پڑٹال کے دوران میں۔ خدا کا شکر ہے، راستے کی تبدیلی کی وجہ سے اِس ’’فٹیک‘‘ سے اب چھٹکارا مل گیا ہے۔ یہاں پر واقع بڑے بڑے ریسٹورنٹس راستوں کی تبدیلی کی وجہ سے اب سُنسان بننے والے ہیں۔ یاد آیا، بجلی گھر تو یہاں پر تین ہیں، لیکن گئے گزرے ’’کافر گوروں‘‘ کا قائم کردہ بجلی گھر ایک نامی گرامی بستی ’’جبنڑ‘‘ میں واقع ہے۔ دریائے سوات کا پانی بٹ خیلہ کے امان درہ سے ایک ٹنل کے ذریعے ہوتا ہوا یہاں پہنچتا ہے۔ بجلی کے پاؤر ہاؤس کے علاوہ زمینوں کی آبپاشی کے لیے قائم کیا گیا ایک نہر ی نظام یہاں سے شروعات کرتا ہوا آگے پھیلتا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد زمین داراور کاشت کار خاندانوں کے وارے نیارے ہیں، کافروں کے اس منصوبے کی وجہ سے ۔
’’پتہ بہ ئے د جبنڑ نہ لگی!‘‘ پشتو کی یہ کہاوت تب سے بڑی معروف ہوئی، جب گوروں کے دور ِ ناپرساں میں دریائے سوات کا پانی بٹ خیلہ سے ایک ٹنل کے ذریعے اِس بستی تک پہنچانے کا منصوبہ شروع ہوا، تو علاقے کے لوگ کہتے کہ یہ گورے کتنے دیوانے ہیں! اِن کے دماغ میں بھوسا بھرا ہوا ہے۔ ملاکنڈ کی پہاڑی میں سُرنگ نکالنا اور اُس میں دریا کا پانی گزارنا مشکل ہی نہیں، ایک ناممکن کام ہے، تاہم کام اپنی رفتار سے جاری رہا۔ گوروں کے ساتھ کام کرنے والے مزدور کام کے بعدجب گھروں کو لوٹتے، تو راستے میں لوگ مذاق مذاق میں پوچھتے کہ سُرنگ کوکہاں تک پہنچایا گیا؟ مزدور بھی گوروں کی بے وقوفی پر فلک شگاف قہقہہ مارتے ہوئے جواب دیتے کہ اِس کاپتا توجبنڑ پہنچ کر چلے گا۔ ایسے میں جب ایک عرصہ کے بعد تین کلو میٹر دور کے دیہات میں یہ ٹنل پانی کے آبشار سمیت نازل ہوا، تب ہمارے عاقل و بالغ پختون دونوں کانوں کو ہاتھ لگا کر فرماتے کہ ’’یہ گورے تو بڑے کافرکے بچے ہیں، کیا معجزہ بپا کردیا انہوں نے۔‘‘ یہ کہاوت کسی انہونی کے ہونے یا نہ ہونے کے تناظر میں آج بھی مستعمل ہے، لیکن ہمارے ساتھی شاہ جی کے مطابق اس کے اصل بیک گراؤنڈ سے اکثر لوگ ناواقف ہیں۔ درگئی میں طرح طرح کی فصلیں اُگائی جاتی ہیں، لیکن یہاں کے ٹماٹر، کوالٹی میں سوات کے بعد پاکستان بھر میں مشہور ہیں۔
ورتیر اورپلئی کے دیہاتوں کا مالٹا بھی قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی منڈی میں اپنی پہچان رکھتا ہے۔ لوگوں کی کثیر تعداد کادانہ پانی کاشتکاری نظام سے منسلک ہے، جو دریائے سوات کے پانی کی فراہمی کے مرہونِ منت ہے۔ بیرونی ممالک میں بھی کافی لوگ محنت مزدوری کرکے اور کمر ٹیڑھی کرکے اپنے ’’لواحقین‘‘ پر ریالوں اور دیناروں کی بارش برساتے رہتے ہیں، اور خود جب دُنیا سے کوچ کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں، تو چارپائی پر دراز ہونے کے لیے اپنے وطن میں پھر سے وارد ہوجاتے ہیں۔ ’’وسلام کاٹلنگ!‘‘
بدلتے رستوں کے اِس بتنگڑ میں آگے کہاں جانا ہے؟ بس جہاں سکون کا سانس لینے کو چند لمحات ملیں، اور دانے دانے پر لکھے ہوئے ناموں کی فہرست میں کہیں اپنااسمِ گرامی بھی کھاؤ پیو پارٹی میں لکھا ہواملے۔ سیدھی سی بات ہے کہ جہاں قیام و طعام ملے، بلاتردّد فری، فراوانی اور تسلسل کے ساتھ ملے، اور ظاہر ہے آؤ بھگت اور سرمن کو مفت میں کوئی مفتیانی بھی ملے، تو بات بن جائے۔ ’’بے شک، دیر ہے اندھیر نہیں۔‘‘
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن میں اُسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
رُکے تو گردشیں اس کاطواف کرتی ہیں
چلے تو اُس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
اب اُس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں

…………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے