118 total views, 1 views today

امریکہ میں ہمارے ’’فیلوشپ‘‘ کا اختتام قریب ہونے لگا، تو سب ساتھیوں کو امریکہ سے وطن واپسی کا احساس ہونے لگا۔ پروگرام کا آخری ایونٹ یعنی ’’ڈی بریفنگ ‘‘اور اختتامی سیشن آئی سی ایف جے کے آفس میں تھا، جس میں تمام ساتھیوں نے اپنی اپنی کار گزاری پیش کرنا تھی۔ اختتامی ایونٹ میں آئی سی ایف جے کی جانب سے زینب امام، لوری، تبیتا اور ادارہ کے وائس پریزیڈنٹ پٹرک بٹلر شامل تھے۔ آخری روز تمام فیلوز نے امریکی سوسائٹی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آخر میں پٹرک بٹلر نے تمام فیلوز کو فیلو شپ تکمیل کی اسناد دیں اور گروپ فوٹو بنانے کے بعد ہم نے رخصت لی۔
واپسی میں دو دن باقی تھے۔ اس لیے ہمارے پاس امریکہ میں گھومنے کے لیے دو دن فری تھے، جس کے لیے تمام ساتھیوں نے مختلف جگہوں کی سیر کا پروگرام بنایا، جن میں زیادہ تر نیویارک جا رہے تھے۔ مَیں جب سے امریکہ آیا تھا اور میرے دوست احباب کو پتا چلا تھا، تو وہ باقاعدہ طور پر مجھ سے رابطے میں تھے۔ ان میں ایک وقار بھی تھے، جو مینگورہ لنڈیکس میں زاہد خان اور مراد خان کے بھائی ہیں جن کے ساتھ میری پرانی دوستی ہے۔ وہ ملنے کے خواہش مند تھے۔
وقار خان فیلا ڈیلفیا میں مقیم ہیں جو پنسلوینیا سٹیٹ کا اہم شہر ہے۔ فیلا ڈیلفیا کو امریکہ میں فیلی بھی کہتے ہیں۔ فیلی واشنگٹن ڈی سی اور نیویار ک کے درمیان میں آتا ہے۔ اس لیے مَیں نے پروگرام بنایا کہ پہلے وقار خان کے پاس جا کر فیلی دیکھ لوں گا اور وہاں رات گزار کر نیویارک چلا جاؤں گا۔ چوں کہ ٹرین کا ٹکٹ انتہائی مہنگا تھا، اس لیے بس کے ذریعے روانہ ہوا۔ تقریباً چار گھنٹے کا فاصلہ طے کرنے کے بعد میں وہاں پہنچا، تو وقار خان بس سٹاپ پر میرا انتظار کررہا تھا۔ پہلے تو وہ مجھے ایک پاکستانی ریسٹورنٹ لے گیا، جہاں کافی عرصہ بعد انہوں نے مجھے پاکستانی کھانا کھلایا۔ اس کے بعد شہر دکھانے لے گیا۔ یہ شہر امریکہ کے بڑے شہروں میں ایک ہے، اور اسے تاریخی حیثیت بھی حاصل ہے۔ اس شہر کو امریکی انقلاب میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ کیوں کہ یہاں امریکہ کی بنیاد رکھنے والے بانی اراکین مسلسل ملاقاتیں کرتے تھے، جنہوں نے 1776ء میں ’’سیکنڈ کانٹی نینٹل کانگرس‘‘ کے موقع پر اعلانِ آزادی پر سائن کیا اور یوں 1787ء کو ’’فیلاڈیلفیاکنونشن‘‘ میں دوسرے آئین کو سائن کیا گیا۔ امریکہ کی انقلابی جنگ کے حوالے سے بھی یہاں کئی اہم واقعات اور ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ امریکی انقلاب کے دوران میں عارضی طور پر یہ شہر امریکہ کی دارالحکومت بھی رہا۔ فیلاڈیلفیا، یونیورسٹیوں اور کالجز کے لیے بھی مشہور ہے جہاں پوری دنیا سے طلبہ علم حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ اس میں کئی مشہور یادگاریں بھی ہیں۔ مثلاً لیبرٹی بل سنٹر، سلوسٹر سٹیلون راکی کا مجسمہ، امریکی انقلاب کے نامعلوم سپاہیوں کی یادگار، جان آ ف آرک کا مجسمہ، واشنگٹن یادگار، یادگارِ شیکسپیئر اور پنسلوینیا سٹیٹ ہاؤس کی عمارت قابل ذکر ہیں۔ وقار خان کی خصوصی توجہ اور وقت سے مَیں نے یہ تمام یادگاریں دیکھ لیں اور ساتھ سا تھ ان کی تصویر کشی بھی کی۔ اس موقع پر وقار خان کے ساتھ میں نے ایک دن اور رات گزاری۔ اس کے بعد مَیں نے نیویارک کا ارادہ کیا، تو انہوں نے اصرار کیا کہ کچھ دن اور گزارے جائیں، مگر ایسا ممکن نہیں تھا۔ کیوں کہ صرف دو دن باقی تھے اور مجھے نیویارک شہر دیکھنے کے بعد واپس واشنگٹن ڈی سی بھی جانا تھا۔ وقار خان میری موجودگی سے بہت خوش نظر آ رہا تھا۔ اُسے دیارِ غیر میں اپنے ہی علاقے اور مٹی کا باسی ملا تھا، جو اُس سے بہت کچھ شیئر کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے اس مختصر ملاقات میں سیاست، معیشت اور تمدن کے بارے میں بہت کچھ کہا۔ اس لیے جب وہ میرے ساتھ بس اسٹینڈ آئے، تو ان کے اس کے چہرے سے افسردگی نمایاں تھی۔ مَیں بس میں بیٹھ گیا اور وقار خان واپس چلاگیا۔ یوں بس نیویارک کی طرف روانہ ہوگئی۔

فیلا ڈلفیا میں وقار خان کے ساتھ لی جانے والی ایک یادگار تصویر۔

جب مَیں نیو یارک پہنچا، تو مجھے یہ شہر امریکہ کے باقی شہروں سے کافی الگ لگا۔ یہاں انسانوں کی اتنی بھیڑ تھی کہ پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں تھی۔ بس اسٹینڈ سے مجھے ٹائم اسکوائر جانا تھا۔ اس لیے مَیں میٹرو ٹرین سے مذکورہ جگہ کے لیے روانہ ہوا۔ کچھ ہی دیر بعد میں ٹائم اسکوائر کے اسٹاپ پر اُترا۔ ویسے تو نیویارک کے بازاروں میں بھیڑ ہوا کرتی ہے، مگر ٹائم سکوائر میں یہ مختلف ہوتی ہے۔ یہ صورتحال بالکل شہد کی مکھیوں کے جھتے کی طرح ہوتی ہے۔ ہر لمحہ ایک دوسرے سے چپکے ہوئے اور بھنبھناتے ہوئے انسان۔ مَیں نے ایک جگہ اتنے زیادہ لوگ پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ یہاں بڑے برینڈز کے بے شمار ’’آوٹ لٹ‘‘ ہیں جب کہ ہر طرف اونچے اونچے پلازوں پر ’’بل بورڈز‘‘ اور دیو قامت ’’ایل سی ڈی سکرین‘‘ لگے ہوئے ہیں جن پر ہر وقت گانے بجانے اور مختلف کمپنیوں کے اشتہارات چل رہے ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت میں دنیا کی سب سے ماڈرن جگہ ہے جہاں شخصی آزادی پر بھر پور عمل بھی کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ مَیں نے یہاں ایسے نوجوان بھی دیکھے جنہوں نے چہروں اور جسموں کو مختلف رنگوں سے سجایا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ مکمل طور پر بے لباس خواتین بھی اپنے جسم پر مختلف پینٹنگز بنا کر گھومتی پھرتی نظر آئیں۔ یہاں مختلف ایونٹ بھی ہوتے ہیں۔ من چلوں کی تفریح کے لیے یہ ایک ’’آئیڈیل‘‘ جگہ ہے۔




نیویارک کا ٹائم اسکوائر جہاں سکرین پر مختلف اشتہارات چلتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ (فوٹو: فضل خالق)

مَیں ٹائم اسکوائر میں کچھ دیر تک گھوما پھرا اور پھر وہاں سے نکل آیا۔ قریب ہی ایک پارک تھا جس کے وسط میں سبز گھاس کا ٹکڑا بچھا ہوا تھا، جب کہ دونوں اطراف پر میز اور کرسیوں کی قِطاریں لگی ہوئی تھیں۔ گھاس کے دالان میں بڑی تعداد میں لوگ بیٹھے تھے۔ کوئی چائے پی رہا تھا، تو کوئی کافی نوشِ جاں فرما رہا تھا۔ یہاں گروپ میں بھی لوگ بیٹھے تھے اور جوڑے بھی تھے، جو خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ مَیں نے پارک میں چہل قدمی کی، تو دیکھا کہ دونوں اطراف میں کتابوں کی الماریاں لگی ہوئی تھیں، جہاں سے لوگ کتابیں اٹھا کر ساتھ ہی کرسیوں پر بیٹھ کر مطالعہ کر رہے تھے۔ مجھے یہ منظر بہت اچھا لگا اور سوچا کہ اس مصروف ترین اور بھرے بازار میں جہاں تل دھرنے کو جگہ نہیں، وہاں پارک میں کھلے آسمان تلے کتابوں کی الماریاں لگی ہوئی تھیں۔ کتابیں مفت میں دستیاب تھیں۔ یہ گویا کھلے آسمان تلے ایک لائبریری تھی۔

کھلے آسمان تلے لگی لائبریری جہاں چائے اور کافی کے ساتھ کتاب بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ (فوٹو: فضل خالق)

میرا دھیان سوات میں ’’بائی پاس‘‘ نامی جگہ کی طرف گیا جہاں چندسالوں میں ریسٹورنٹس کی بھر مار لگ گئی ہے۔ جہاں ایک سے ایک اچھا کھانا ملتا ہے، اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہر ریسٹورنٹ کھانے والوں سے بھرا ہوتا ہے، مگر بد قسمتی سے اب تک بائی پاس پر ایک بھی دکان کتابوں کی نہ بن سکی۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ ہم صرف کھانے پینے اور شور مچانے والے لوگ ہیں، نہ کہ پڑھنے اور مطالعہ کرنے والے۔یہی وجہ ہے کہ ہم روز بروز زوال کی عمیق ترین گھاٹی میں گرتے جا رہے ہیں، اور اہلِ مغرب ترقی کی مناز ل طے کرتے جا ر ہے ہیں۔ مَیں نے بھی کتابوں کی الماریوں میں مختلف کتب پر نظر ڈالی اور نیویارک کے اس جم غفیر میں اس پُرسکون پارک میں کتابوں کی الماریوں کے قریب بیٹھے لوگوں پر نظر ڈالی اور بالآخر دل میں حسرت لیے آگے چلا۔
ویسے تو یہاں دیکھنے کے لیے کافی چیزیں ہیں، مگر مَیں نے چند ہی عمارتوں اور یونیورسٹیوں کا دورہ کیا، اور کھانا کھانے کے بعد رات کو واپس بس اسٹینڈ آیا، جہاں میں واشنگٹن ڈی سی کی بس میں بیٹھ گیا اور صبح کے قریب واشنگٹن پہنچا۔ جہاں سیدھا اپنے ہوٹل جاکر سو گیا۔ پھر صبح دیر سے اٹھا اور کھانا کھا کر اپنا سامان پیک کرنے لگا۔ کیوں کہ ایک روز بعد یعنی 29 جولائی بروزِ اتوار ہماری واپسی تھی۔ دن کو ہم واشنگٹن ڈی سے کی مختلف جگہوں میں گھومے پھرے، شاپنگ کی۔ میڈم تساؤ میوزیم گئے اور رات کو واپس ہوٹل گئے۔ صبح سب اپنے اپنے سامان کے ساتھ نیچے آئے، چیک آؤٹ کیا اور ائرپورٹ کے لیے بس میں بیٹھ گئے، جہاں برٹش ائرویز سے ہماری پرواز دوحہ قطر کے لیے تھی۔ جب دوحہ پہنچے، تو وہاں سے سب فیلوز کی پروازیں الگ الگ تھیں۔ کراچی اور بلوچستا ن والوں کی فلائٹ کراچی، کے پی والوں کی پشاور وعلیٰ ہذاالقیاس۔ اس لیے ہم نے ایک دوسرے سے رخصت لی اور اپنے متعلقہ پروازوں کے ٹرمینل کی طرف چلے گئے۔

………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے