131 total views, 1 views today

حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان آئینی معاملات پر محاذ آرائی کو صحت مند رجحان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ویسے بھی موجودہ حکومت و اپوزیشن کے درمیان قومی معاملات پر اتفاق رائے کا شدید فقدان پایا جا رہا ہے۔ تحریکِ انصاف کی اتحادی حکومت کو 15 ماہ ہوچکے ہیں، تاہم قانون سازی کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ حزبِ اقتدار کی سنجیدہ کوششیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حزبِ اختلاف کو سب سے تنقید کا نشانہ بنانے والے وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے گزشتہ دنوں بڑا نپا تلا اور سنجیدہ بیان سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی نظام میں اس وقت ارتعاش ہے، اور یوں لگ رہا ہے کہ ادارے ایک دوسرے کے اختیار کے درپے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے تینوں اداروں کے سربراہان مل بیٹھیں۔ کیوں کہ وزیرِ اعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں۔ ان کے بقول، قومی مکالمہ وقت کی ضرورت ہے اور اس مکالمے میں آنے والے چیف جسٹس گلزار کو بھی شامل کیا جائے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم آپس میں ڈائیلاگ کریں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے ریاست کے چار ستونوں میں تین کا ذکر کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے چوتھے ستون کو نظر انداز کردیا۔ ریاست کے چار ستونوں میں میڈیا، ایک ایسا ستون ہے جوباقی ماندہ اداروں کی کارکردگی سمیت عوام میں آگاہی و شعور دینے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ چوتھے ستون کے ہاتھ پیر باندھنے سے منفی نتائج ہی نکلتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا کے کردار، حدود اور غیر جانب دارانہ پالیسی وضع کی جائے۔ میڈیا ہاؤسز کے درمیان مسابقتی مقابلہ اپنی جگہ، لیکن قومی مفاداتِ عامہ پر چاروں ستونوں کا ایک صفحے پر آنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔
آرمی ایکٹ میں ترمیم و قانون سازی کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر تادمِ تحریر ڈیڈ لاک ہے اور معاملہ ایک بار پھر سپریم کورٹ چلا گیا ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے دائر آئینی درخواست میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر آئینی سقم کی نشان دہی کی ہے۔اس امر سے قطع نظر کہ عدالت عظمیٰ اب چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے آئینی حل کے حوالے سے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے فیصلہ دے گی؟ یہاں پارلیمان پر ایک سوالیہ نشان کھڑا ہوچکا ہے کہ قانون ساز آئینی ادارہ اگر اپنے معاملات حل نہ کرسکتا ہو، اور آئینی بحرانوں کو عدالتوں میں لے کر جاتا رہے، تو عوام یہ ضرور سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ آخر ایسی پارلیمان کا کیا فائدہ؟
دوسری جانب پارلیمانی کمیٹی برائے تعیناتی ججز نے اسلام آباد اور صوبائی ہائیکورٹس میں عدالتی عہدوں پر امیدواروں کی درخواستیں وصول کر نے کے لیے اپنے قواعد میں ترمیم بھی کی ہے۔ نامزد جج صاحبان کو پارلیمانی کمیٹی کو انٹرویو کے لیے بھی بلایا جاسکتا ہے۔ اس پس منظر میں غور کیا جائے کہ اگر یہی صورتحال بعد میں بھی رہی، تو دیگرپارلیمانی کمیٹیاں ایسے ججز کے سامنے اپنے معاملات لے کر جانا شروع ہوجائیں جنہیں انہوں نے خود نامزد کیا ہو، تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ صورتحال کس قدر مضحکہ خیز نظر آتی ہے۔
طرفہ تماشا ہے کہ ایک جانب پارلیمان کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے، تو دوسری طرف پارلیمنٹ کو سپریم ادارہ بنانے کا بھی عندیہ دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے درمیان ایسی کوئی ہم آہنگی نہیں، جسے مثالی قرار دیا جاسکے۔ آرمی ایکٹ کے حوالے سے ہی پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا بیان سامنے آچکا ہے کہ پہلے وزیر اعظم تبدیل ہوگا، پھر ترمیم ہوگی، تو دوسری جانب وفاقی وزرا کا کہنا ہے کہ انہیں کسی دوسری سیاسی جماعت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کے بعد الیکشن کمیشن اراکین اور چیئرمین کی تقرری پر آئینی بحرا ن پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ آئین میں سقم کو پارلیمانی جماعتوں کو دور کرنا چاہیے، لیکن مسئلہ یہاں یہ ہے کہ فریقین ایوانوں کے بجائے عدلیہ کی جانب دیکھتے ہیں اور پھر عدلیہ سے احکامات یا ہدایات لے کر واپس اُسی پارلیمان میں آتے ہیں، جہاں سے عدلیہ گئے تھے۔ آئینی معاملات کو حل کرنا تمام سیاسی جماعتوں کی یکساں ذمہ داری ہے۔ تاہم حزبِ اقتدار کے لیے زیادہ ضروری ہوجاتا ہے کہ ہر صورت میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو بھی ساتھ لے کر چلیں۔ آئینی اداروں میں قانون سازی کے لیے تمام جماعتوں کو ایک صفحے پر رکھنا ضروری ہے، تاکہ اتفاقِ رائے سے آئینی ذمے داری پوری ہو۔ سیاسی مخالفتوں و بیان بازیوں کی وجہ سے پارلیمان کا ماحول مثالی نہیں ہے۔ حزبِ اقتدار ہو یا حز ب اختلاف، ہر دو کی جانب سے قومی مفاداتِ عامہ پر بھی تلخیوں نے عالمی برداری کو اچھا پیغام نہیں دیا۔چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کی بروقت تعیناتی نہ ہونا، حکومت کے لیے اچھا تاثر نہیں دے رہی۔ عدلیہ میں حزبِ اختلاف کا جانا، پارلیمان و حکومت کی ناکامی سمجھی جاسکتی ہے۔ اتفاقِ رائے کا پیدا نہ ہونا فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا نہ ہونے کا واضح اشارہ ہے۔
دوسری طرف وفاقی وزیر شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ ان کو اب بھی امید ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کچھ دن قانونی طور پر موجود ہیں۔ اس لیے اراکین سمیت چیف الیکشن کمشنر پر اتفاق رائے ہوجائے گا۔ اگر ایسا ہوجائے، تو اچھی بات ہوگی۔ تاہم حزبِ اقتدار کے وزرا جس قسم کی بیان بازیاں کررہے ہیں، اس سے سیاسی ماحول بہتر بننے کے بجائے اور بھی کشیدہ ہورہا ہے۔ یہ امر افسوس ناک ہے۔ حکومت کو تمام سیاسی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے مفاد عامہ کے معاملات پر مفاہمت کا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ ترش لہجہ اور غیر سنجیدگی صحت مندانہ سیاسی ماحول کے لیے ساز گار نہیں کہلائی جاسکتی۔ مملکت متواتر آئینی بحرانوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ خاص کر نچلی سطح پر عوام میں مہنگائی اور بے روزگاری سمیت ضروریاتِ زندگی کے ہر معاملے میں شدید بے چینی اور عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔ عوام میں یہ تاثر جڑ ضرور پکڑتا جارہا ہے کہ عوامی نمائندے ان کے دیرینہ مسائل حل کرانے کے بجائے فروعی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔15 ماہ گزرنے کے باوجود عوام کی زبوں حالی پریشاں کن ہے۔ عوام کو ریلیف درکار ہے جس سے ان کے مسائل حل ہونے کی امیدیں پیدا ہوں۔ حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کو عوام حوصلہ افزا قرار نہیں دے رہے۔ ’’فردِ واحد‘‘ کے لیے قانون سازی کیے جانے کے رجحان میں اضافے کی چہ میگوئیاں موجودہ نظام پر عدم اعتماد کو بڑھا رہی ہیں۔ ریاست کے چاروں ستونوں کو عوام کے مفاد کے لیے اجتماعی پالیسی اور قانون سازی کی جانب قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔
عوام نے مستقل مزاجی سے موجودہ حکومت کی سخت ترین پالیسیوں کو برداشت کیا ہے، اور اداروں کو بھرپور موقع فراہم کیاہے، تاکہ پارلیمان اجتماعی مفادات پر یکسو ہوسکے۔ عوامی توقعات پر اُوس پڑنے نہ دیں، کیوں کہ یہ ہم سب کے حق میں بہترنہ ہوگا۔
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں

……………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے