125 total views, 1 views today

گذشتہ دنوں چیف آف آرمی اسٹاف کی مدتِ ملازمت میں توسیع پر جو ہنگامہ برپا ہوا، اس سے ملک کی جگ ہنسائی خوب ہوئی۔ شکرہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے اسے خوش اسلوبی سے حل کردیا، ورنہ نجانے آج کیا منظرنامہ ہوتا۔ پاکستان کے شہری اس طرح کے ہنگاموں کے عادی ہیں، لیکن دنیا یہ تماشا دیکھ کرگھبراجاتی ہے۔ وزیراعظم لیاقت علی خان چار برس دوماہ تک وزیراعظم رہے۔ ان کی شہادت کے بعد سات برسوں میں چھے وزرائے اعظم تبدیل ہوئے۔ جنر ل محمد ایوب خان نے اقتدارپر شب خون مارا اور دس برس تک بلا شرکتِ غیرے حکمرانی کا ڈنکا بجایا۔
نوے کی دہائی میں بھی پیپلز پارٹی بمقابلہ مسلم لیگ اقتدار پر قابض ہونے کا کھیل جاری رہا۔ فرق صرف اتنا پڑا کہ اس دوران میں سیاست پر اہلِ ثروت نے قبضہ جمالیا۔ سینٹ اور قومی اسمبلی کے الیکشن لڑنے کی بنیادی شرط مالی حیثیت ٹھہری، نہ کہ سیاسی اور سماجی خدمات یا جماعت کے لیے خدمات۔ سیاسی جماعتیں بتدریج ختم ہوتی گئیں، اور چند خاندان ان پر قابض ہوگئے۔ کوئی جمہوریت کا علمبردار بن گیا، تو کوئی اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارا، لیکن یہ سب ایک ہی سکے کے دو رُخ تھے۔ بدقسمتی سے حکمرانوں، سیاسی جماعتوں اور ملکی اداروں کے مابین مفاہمت اور یکجہتی کے بجائے باہمی بے اعتمادی اور چپقلش نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کیں۔ چناں چہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوسکا، نہ قرار ہی آسکا۔حکومت اور ادارے ساری توانائی ایک دوسرے کو گرانے اور کمزور کرنے میں صرف کرتے رہے ۔
ایسا لگتا ہے کہ عدم استحکام ملک کے ڈی این اے میں شامل ہوچکا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو قومی اداروں کا تعاون حاصل ہوا، تو ریاست نے سکون کی ایک کروٹ لی۔ درپیش داخلی اور خارجی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی۔ ٹیکس نیٹ میں قابلِ قدر اضافہ کیا گیا۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں پائی جانے والی سرد مہری اگرچہ گرمجوشی میں نہ بدل سکی، لیکن کم ازکم کشیدگی اورتناؤتمام ہوا۔
حکومتِ پاکستان نے افغانستان میں برسوں سے متحارب طالبان اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات کرانے میں کردار ادا کیا۔ مغربی ممالک نے پاکستان کے افغانستان میں کردار کو سراہا، اور اس کے جائز مفادات کو بھی تسلیم کیا۔ ’’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس‘‘ کی پاکستان کے سر پر لٹکتی تلوار سے نجات کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے۔ داخلی سطح پر شدت پسند گروہوں کو لگام دی گئی۔ یہ وزیراعظم عمران خان ہی تھے، جنہوں نے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی منتظر تنظیمات کو پیغام دیا کہ ایسے اقدامات کشمیر کاز اور پاکستان کے مفادات کے مغائر ہیں۔ اس بیان کا خیر مقدم دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں کیا گیا۔ کیوں کہ دنیاکا پاکستان سے بنیادی مطالبہ ہی یہ تھا کہ وہ شدت پسند تنظیموں پر قابو پائے ۔
جیشِ محمد اور لشکرِ طیبہ کے نام سے ملک میں اب کوئی قابل ذکر سرگرمی نظر نہیں آتی۔ ان کے لیڈر جو کل تک سرِشام ٹی وی چینلوں پر دندناتے تھے، اب پس منظر میں جاچکے ہیں۔ کراچی جو فرقہ پرستوں اور لسانی گروہوں کا مرکز تھا، اب امن کا گہوراہ تو نہیں، لیکن کم ازکم بھوت بنگلہ کا منظر بھی پیش نہیں کرتا۔ الطاف حسین کی فرسٹریشن کا یہ عالم ہے کہ وہ بھارت میں سیاسی پناہ لینے پر تلے ہوئے ہیں۔ خس کم جہاں پاک۔ فرقہ پرست گروہ جو ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرتے تھے، اب خاموش ہی نہیں بلکہ اتحاد بین المسلمین کا درس دیتے ہیں۔
مدارس کی سینئر لیڈرشپ کے ساتھ مسلسل مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے انہیں ضمانت دی کہ مدارس کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہیں کی جائے گی، لیکن انہیں اپنے نصاب میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ ریاضی، انگریزی اور سائنس جیسے مضامین کو بھی نصاب کا حصہ بنانا ہوگا، تاکہ مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ معاشرے میں زیادہ وسیع اور سرگرم کردار ادا کرسکیں۔ جنگیں مسائل اور تنازعات کا حل نہیں، بلکہ قوموں کو ایسی دلدل میں پھنسا دیتی ہیں جن سے عشروں تک باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ بھارت کی موجودہ حکومت اپنی پالیسیوں کی بدولت اپنے ملک کو ٹائی ٹینک پر سوار کراچکی ہے جس کا انجام نوشتہ دیوار ہے۔
پاکستان کی طرف سے کشمیر پر سیاسی اور سفارتی کوششوں پر انحصار کے ثمرات اب سامنے آنا شروع ہوچکے ہیں۔ دنیا کے ہر دارالحکومت میں کشمیر اب موضوعِ بحث ہے۔ کل ہی کی بات ہے کہ سویڈن کی حکومت نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عائد تمام پابندیاں اٹھائے اور کشمیریوں کی شرکت سے مسئلہ حل کرے۔ چین کے ساتھ تعلقات میں وسعت آئی ہے۔ چین اب انسانی وسائل کی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود کے منصوبو ں میں بھی سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ ہے، جو براہِ راست عام لوگوں کی زندگی میں سدھار لانے کے لیے ضروری ہے۔
حکومت اور اداروں کے ایک صفحے پر ہونے کے جو ثمرات رفتہ رفتہ متشکل ہورہے ہیں، وہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو گوارا نہیں۔ گذشتہ تیس برسوں میں انہوں نے برسرِ اقتدار آکر مگر مچھ کے ٹسوئے بہائے اور بہانہ کیا کہ ان کے پاس آلہ دین کا چراغ نہیں کہ راتوں رات مسائل حل کرسکیں۔
سندھ میں پیپلز پارٹی اب مسلسل تیرہ برسوں سے حکمران ہے، لیکن ڈھاک کے وہی تین پات۔ حکومت کراچی کا کچرا تک صاف نہیں کراسکی۔ ایڈز جیسی مہلک بیماری نے سندھ کے اندر ڈیرے جمالیے ہیں۔ آج بھی تھر میں بچے بھوک اور افلاس سے جاں بحق ہوتے ہیں۔ شہباز شریف کے پیرس لاہور میں سانس لینا محال ہے ۔ کوئی بھی ملک ہو یا معاشرہ جو دیمک زدہ ہو، جو اندر سے کھوکھلا ہوچکا ہے۔ اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا جوئے شیر لانے کے متراف ہے۔
پاکستان کا وجود کھوکھلا کردیا گیا۔ عالم یہ ہے کہ عظیم الشان ملک جو ایٹمی قوت بھی ہے، دنیا سے بھیک مانگ کر گزارا کرتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں نہ کہ ایک دوسرے کو ناکام کرنے کے درپے۔ حزبِ اختلاف کو لہو گرم رکھنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ چاہیے۔ وہ باز آنے والی نہیں، لیکن شہریوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ اگر آج نوازشریف یا بلاول بھٹو بھی اقتدار پر فائز ہوجائیں، تو وہ دودھ و شہد کی نہریں نہیں بہا سکیں گے، بلکہ حالات مزیددگرگوں ہوجائیں گے۔

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے