371 total views, 1 views today

ہم غالباً تیسری کلاس میں تھے کہ ہمارے سکول میں ایک شخص آیا اور اساتذہ سے کہا کہ میں طلبہ کے ساتھ ایک موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ موصوف باری باری ایک ایک کلاس میں جا کر اپنا لیکچر دیا کرتا۔ ہماری کلاس کی باری آخر میں آئی، اور چھٹی سے پہلے آخری کلاس میں ہمیں اُن کو سننے کا موقعہ ملا۔ موصوف نے جو باتیں کیں، وہ ہمارے لیے انتہائی عجیب تھیں۔ کیوں کہ وہ ہماری عمر کے حساب سے بھی عجیب تھیں اور کسی بڑی عمر کے شخص کے منھ سے ایسی باتیں سننا تو اور بھی عجیب تھا۔ یہ سب ہمارے لیے عجیب اس لیے تھا کہ ہم پہلی مرتبہ کسی سے جنس، جنسی زیادتی وغیرہ جیسے موضوعات کے حوالہ سے سن رہے تھے جس کو ہم مجموعی طور پر ’’جنسی تعلیم‘‘ کہہ سکتے ہیں۔
ظاہر ہے ہمیں موصوف کی باتوں سے ڈھیر ساری نئی باتیں، سوچنے کا مواد اور زاویے ملے لیکن عمر کے حساب سے زیادہ تر بچوں نے اکثر باتوں کا مذاق اُڑانا شروع کیا، اور اکثر اُس شخص کے مخصوص مکالموں کو مذاق کے طور استعمال کرتے دیکھے گئے۔
اُس موقعہ پر موصوف نے بچوں کو بڑے صاف الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ کون کون سے الفاظ جنسی ہراسانی اور زیادتی کے زمرے میں آتے ہیں، کون آپ کو کہاں کہاں چھو سکتا ہے، جو کہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ کوئی آپ کو کس کس چیز کے بہانے لے جا کر زیادتی کا نشانہ بناسکتا ہے۔ نیز جنسی زیادتی کے شکار ہونے کے نقصانات کیا ہیں؟ خطرے کی صورت میں آپ کو کیا کیا کرنا چاہیے وعلیٰ ہذاالقیاس۔
اُس وقت میرے لیے ذکر شدہ ساری باتیں نئی تھیں۔ اس لیے میں نے بہت کچھ سیکھا، لیکن سالوں بعد مجھے اندازہ ہوا کہ وہ شخص کتنا باخبر اور بہادر تھا، جس نے اُس دور میں اتنے سنجیدہ موضوع پر ہمارے معاشرے میں بولنے کی جرأت کی۔ جتنا مجھے جنسی تعلیم کی اہمیت اور اس پر بات کرنے کی اہمیت کا اندازہ ہوا، اتنا ہی میرے دِل میں اُس شخص کی عزت بڑھتی رہی۔ کیوں کہ آج کل یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے لوگوں کو بھی اِس موضوع کی حساسیت کا اندازہ نہیں، مگر سوات کے پہاڑوں میں رہنے والا وہ شخص اتنا باخبر اور بہادر تھا کہ اُس نے اتنے اہم کام کا بیڑا اُٹھایا تھا، اور مذکورہ کام کے لیے گاؤں گاؤں پھرتا تھا۔
قارئین، پہلے تو یہاں جنس اور جنسی عمل جیسے ضروری موضوع پر کسی کے ساتھ سنجیدہ بات ہوتی نہیں، اور اگر ہوتی بھی ہے، تو بچوں کی موجودگی کی وجہ سے جنسی عمل اور دوسری چیزوں کو متبادل ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مذکورہ عمل کے لیے لفظ ہی ’’سیکس‘‘، ’’جنسی عمل‘‘ یا ’’مباشرت‘‘ ہے، تو اسے کوئی کس طرح ’’کتاب‘‘، ’’آئس کریم‘‘ یا ’’چاکلیٹ‘‘ کہہ سکتا ہے؟ دوسری بات ہر انسان اسی عمل کے نتیجے میں ہی اس دنیا میں آیا ہے، اور ہر جوڑا جو بعد از والدین کہلاتا ہے، اس عمل سے گزرنے کے بعد ہی بچہ دنیا میں لاتاہے۔ پھر یہ عمل اس قدر برا کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟
چوں کہ ہمارا معاشرہ بنیادی طور پر ’’پدرسری معاشرہ‘‘ ہے اور یہاں عمومی طور پر عورت، جنس، جنسی مسائل وغیرہ جیسے موضوعات پر کھل کر بات نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اکثر لوگ ایسے موضوعات کے بارے میں بنیادی تعلیم حاصل کیے بغیر بڑے ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کے اکثر بچے انجانے میں جنسی زیادتی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ اُنہیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ اُن کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے؟
اکیسویں صدی میں قدم رکھنے کے باوجود ہمارے معاشرے میں آج بھی جنس نامی چیز کے متعلق کھلے طور پر بات کرنا معیوب خیال کیا جاتا ہے۔ چوں کہ ہمارے یہاں خاندانی نظام آج بھی تقریباً اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ رائج ہے۔ لہٰذا گھر کے بڑے بوڑھے لفظ ’’جنس‘‘ یا ’’سیکس‘‘ کے سننے پر برہم دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ہم جنس اور جنسی تعلیم کے موضوع کے بارے میں اتنا خطرناک رویہ نہ رکھتے، تو آج ہونے والے زیادہ تر واقعات روکنے میں کامیاب ہوتے۔
ایک غیر سرکاری ادارے ’’ساحل‘‘ کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں سال 2018 ء کے دوران میں روزانہ تقریباً 10 بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوئے ہیں۔ روزانہ 10 بچوں کے ساتھ زیادتی ہونا بذاتِ خود ایک پریشان ہونی والی بات ہے، لیکن اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ کیوں کہ ایسے معاملات کو ہمارے معاشرے میں چھپایا جاتا ہے۔ کیوں کہ متاثرہ شخص کو معاشرے میں بری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ حالاں کہ وہ خود زیادتی کا شکار ہوا ہے۔ یہ اور بھی بدقسمتی کی بات ہے کہ کسی کے ظلم کا شکار ہونے والا شخص اور بھی ظلم کا شکار ہو رہا ہے، اور وہ اپنے اوپر ہونے والا ظلم بھی بیان نہیں کرسکتا۔
قارئین، جنسی تعلیم کا مطلب آسان الفاظ میں وہی ہے جو زیر نظر تحریر کی تمہید میں ذکر شدہ شخص نے ہمیں سمجھایا۔ ہونا یہ چاہیے کہ مذکورہ معلومات والدین اپنے بچوں کو سمجھائیں۔ تاہم ہمارے ہاں چوں کہ اکثربڑوں کی رائے کے مطابق ایسی معلومات بچوں کو دے کر ان کا ذہن جنسی عمل کی طرف لگانے والی بات ہے، اور اُن میں اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ جب شادی ہو جائے گی، تو ان کو آگاہی ہوجائے گی۔شادی کے بعد آگاہی کے نتائج تو خیر کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، اور ایسے بیشتر معصوم چھپے رستم شادی نہ ہونے اور جوان ہونے کے درمیانی عرصے میں خواتین اور بچے، بچیوں کی زندگی عذاب کر دیتے ہیں، اور ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔
کسی بھی قسم کی ہراسانی اور زیادتی کا بچے کی نفسیات، شخصیت اور مستقبل پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ جنسی زیادتی کے بچے پر نفسیاتی، جذباتی اور جسمانی اثرات پڑ جاتے ہیں، اور اکثر اِن اثرات کا ختم کرانا بھی مشکل کام ہوتا ہے۔
جنسی زیادتی کے اثرات میں زخمی ہونا، خون آنا، چلنے میں مشکل پیش ہونا، ہڈیوں کا ٹوٹنا، حاملہ ہونا، جنسی بیماریوں کا شکار ہونا، مختلف نفسیاتی بیماریوں جیسے کہ ڈپریشن، اینزائٹی اور ’’پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس‘‘ بیماری کا شکار ہونا، خودکُشی کا رجحان پیدا ہونا، غصہ شروع کرنا، لوگوں پر یقین نہ کرنا، شک کرنا، ڈرنا وغیرہ شامل ہے۔
جنسی زیادتی کی شرح زیادہ ہونے اور ایسے خطرناک اثرات کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہیے کہ جنسی تعلیم بچوں کے نصاب کا حصہ ہوتی، اور باقی علوم کی طرح بچے مناسب عمر میں جنس، جنسی مسائل، جنسی بے راہ روی سے بچنے کے طریقے، جنسی زیادتی اور اس کے نقصانات وغیرہ جیسی باتیں سیکھتے اور اس جیسی خطرناک صورتحال سے خود بھی بچتے اور دوسروں کو بھی بچاتے۔ چوں کہ نصاب کے حوالے سے ہمیں اب ڈھیر سارا سفر کرنا باقی ہے، اور جنسی تعلیم کی نصاب میں شمولیت میں بھی ابھی ایک لمبی مسافت طے کرنی ہے،اس لیے والدین کو چاہیے کہ نصاب، ریاستی پالیسیوں اور غیر سرکاری اداروں کا انتظار کیے بغیر اپنے بچوں کو صاف الفاظ میں اُن خطرات کے بارے میں سمجھائیں جن کا سامنا بچے کو کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر بچے کو اِن تمام خطرات کا علم ہو اور وہ ان سے بچنے کی تدابیر بھی سمجھتا ہوم تو کافی حد تک ممکن ہے کہ وہ خود کو بھی جنسی ہراساں اور زیادتی کا شکار ہونے سے بچائے اور دوسرے بچوں کی بھی اس حوالہ سے خاطر خواہ مدد کرے،اور معاشرے میں موجود جنسی درندوں کی بھی نشاندہی کرے۔
قارئین، مختلف قسم کی اذیتوں اور خاص کر جنسی زیادتی سے بچ کر ہی کوئی شخص ایک اچھی تعلیمی اور فنی مہارت کا حامل ہو کر اپنے خاندان، معاشرے اور ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرسکتا ہے ۔
گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں قرآن پڑھانے والا ایک قاری نما شخص بچے کو سبق پڑھانے کے دوران میں قابل اعتراض حرکتوں سے اپنی جنسی تسکین حاصل کرتے دکھائی دیتا ہے۔ ویڈیو پر لوگوں کا بہت خطرناک ردِ عمل آیا، جس کے نتیجے میں مطلوبہ شخص گرفتار بھی ہوا۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر قرآن پڑھانے والا ایک قاری نما شخص اتنی گھناؤنی حرکت کر سکتا ہے، تو سکول کا اُستاد، محلے کا دکان دار، پڑوسی اور حتیٰ کہ رشتہ دار کیا کیا نہیں کرسکتے؟
ایک امریکی ادارے کی تحقیق کے مطابق امریکہ میں ہونے والے بچوں کی زیادتی کے واقعات میں صرف 10 فیصد لوگ اجنبی ہوتے ہیں۔ باقی 90 فیصد کسی نہ کسی طریقے سے بچے اور بچے کے خاندان کے جاننے والے ہوتے ہیں۔ اب اگر امریکہ جیسے ملک میں ایسے واقعات میں ملوث لوگوں میں 90 فیصد جاننے والے ہوتے ہیں، تو ہمارے ہاں اس سے بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔ کیوں کہ یہاں مشترکہ خاندانی نظام بھی کافی حد تک موجود ہے اور جنسی تسکین کے دوسرے ذرائع بھی کم ہیں۔
قارئین، سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سڑک پار کرانا، چولہے سے بچنا وغیرہ جیسی چیزیں تو سکھاتے ہیں، لیکن ہم اُنہیں یہ نہیں سکھاتے کہ جنسی ہراسانی اور زیادتی سے کیسے بچا جائے؟ بات اِس حد تک تشویش ناک ہے کہ ہمارے بچے جانتے بھی نہیں کہ جنسی ہراسانی اور زیادتی ہوتی کیا ہے؟ جنسی ہراسانی اور زیادتی کے واقعوں کی سنجیدگی اور اِس کی زیادتی کو دیکھ کر اِس بات کی اشد ضرورت ہے کہ والدین اور بڑے بہن بھائی اپنے بچوں کو اِن کے تمام رموز اور خطرات سے آگاہ کریں اور اُن کو اُن تدابیر سے آگاہ کریں جن کو اپنا کر وہ خود کو ایسے واقعات سے بچا سکتے ہیں۔
ذیل میں ایسے کچھ طریقے بیان کیے گئے ہیں جو بچوں کو سکھانے چاہئیں، جن سے بچے ایسے واقعات سے بچ سکتے ہیں۔
٭ والدین کو چاہیے کہ وہ وہ بچے کے ساتھ بچے کی عمر اور علم کے مطابق جنس، جنسی تعلیم، جنسی ہراسانی اور جنسی زیادتی کے موضوع پر گفتگو کرکے اُن کے ذہن میں موجود اِن چیزوں کے بارے میں پہلے سے موجود تصور معلوم کریں۔
٭ جب بچے کے ساتھ بات کرکے اُن کی پہلے سے موجود معلومات حاصل کی جائیں، تو والدین کو چاہیے کہ اگر بچے کے ذہن میں کچھ معلومات ہوں، جو بنیادی طور غلط ہوں، تو پہلے اُن کو درست کریں۔ کیوں کہ غلط معلومات مسائل کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہاں یہ بات کہنا ضرورت ہے کہ کوئی بھی بات کرتے وقت بچے کی عمر اور ذہنیت کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ کیوں کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے، اور غیر متعلقہ معلومات بھی مسائل کا باعث بن سکتی ہیں۔
٭ جنسی تعلیم کے متعلق بات کرتے ہوئے بچے کو سب سے پہلے یہ سمجھانا چاہیے کہ ایسے موضوعات پر صرف اپنے گھر کے مخصوص لوگوں جیسے ماں، باپ، بہن یا بھائی سے بات کرنی چاہیے اور اپنوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کوئی شرم محسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے اور اِس پر بات کرنا ضروری ہے۔ بچے کو سمجھانا چاہیے کہ کھل کر اِس موضوع پر بات کرے اور اُس کے ذہن میں جو شکوک و شبہات ہوں تو اُسے ظاہر کرے اور اگر سوالات ہوں، تو وہ ضرور پوچھے۔
٭ جنسی تعلیم پر گفتگو کرتے وقت اکثر انسانی اعضا کے لیے متبادل نام استعمال کیے جاتے ہیں، جو نقصان دہ بات ہے۔ اس لیے اگر ممکن ہو، تو اعضائے مخصوصہ کے لیے اُن کے اصل نام استعمال کریں۔ اِس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ صحیح طرح بات کو سمجھ جاتا ہے، اور یہ عمل بات کرنے کی جھجک بھی ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
٭ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو اعضائے مخصوصہ سمیت جسم کے تمام اعضا کے بارے میں ناموں سمیت تفصیل سے سمجھایا جائے کہ فلاں اعضا کا نام، کام اور کام کا وقت کیا ہے؟ اِس سے بچوں کے بہت سارے شکوک دور ہوجاتے ہیں۔
٭ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو تفصیل سے سمجھائے کہ گھر کے مخصوص لوگوں کے علاوہ کوئی بھی شخص اُسے اکیلے میں کسی جگہ چھو نہیں سکتا، اور گھر والوں کے سامنے بھی ہر جگہ اُسے نہیں چھوا جاسکتا۔
٭ بچے کو یہ بھی سمجھانا چاہیے کہ وہ گھر کے مخصوص لوگوں کے علاوہ ہر کسی کو نہ چھوے اور اعضائے مخصوصہ کو تو بالکل بھی نہیں۔
٭ بچوں کو یہ بھی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ کسی کو بھی اُن کی اعضائے مخصوصہ کی تصویر لینے کی اجازت نہیں۔
٭ بچے کو سمجھانا چاہیے کہ ہر کسی کے ساتھ ملتے وقت گلے لگنے اور بوسہ دینے کی ضرورت نہیں اور غیر متعلقہ افراد کے ساتھ کسی اپنے کی غیرموجودگی میں ملتے وقت صرف ہاتھ ملانے پر اکتفا کریں۔
٭ بچے کو یہ بھی سمجھانا چاہیے کہ ممکن ہے کہ کسی کو چھونا یا کسی اور کا آپ کو چھونا شائد آپ کو اچھا لگے، اور آپ کو اس سے بظاہر کوئی تکلیف نہ ہو، لیکن پھر بھی یہ غلط اور خطرناک ہے۔ اس عمل کی قطعاً اجازت نہیں۔
٭ بچوں کو کچھ ایسے طریقے سکھانے چاہئیں جو وہ کسی بھی جنسی ہراسانی کے خطرے کے موقعہ پر استعمال کرکے خود کو خطرے سے باہر نکالے، جیسے کہ بھاگنا، چیخنا، اپنے والدین یا بھائی بہن کا نام پکارنا، آس پاس موجود کسی شخص کو پکارنا، سب کو بتانے کی دھمکی دینا وغیرہ۔
٭ بچوں کو کچھ ایسے خفیہ کوڈ سمجھانے چاہئیں جو استعمال کرکے وہ یہ اشارہ دے سکے کہ اس کی ساتھ کچھ غلط ہو رہا ہے۔ خفیہ کوڈ کسی قسم کا بھی ہوسکتا ہے جیسے کہ کوئی مخصوص آواز، کوئی مخصوص لفظ، نعرہ یا جملہ وغیرہ۔ خفیہ کوڈ کے استعمال سے ممکن ہے کہ مطلوبہ شخص کو پتا چلے بغیر دوسروں کو پتا چل جائے اور وہ رنگے ہاتھوں پکڑا جائے۔
٭ بچے کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ اگر اُس کے ساتھ کسی قسم کی بھی ایسی حرکت ہونے جا رہی ہو، تو فوراً گھر والوں کو بتائے۔ بچے کو سمجھایا جائے کہ ایسا کرنے سے اُس کو کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ فائدہ ہوگا۔ اس کا فائدہ والدین کو یہ ہوگا کہ بچہ کوئی بھی واقعہ رپورٹ کرنے میں ڈر اور جھجک محسوس نہیں کرے گا بلکہ سب کچھ بتا سکے گا۔
٭ بچے کو یہ سمجھانا چاہیے کہ یہ تمام اصول تمام لوگوں پر لاگو ہوں گے، اور کوئی بھی اِس سے مستثنا نہیں، خواں وہ دکان دار ہو، اُستاد ہو، کوئی دینی تعلیم دینے والا ہو، کوئی رشتہ دار ہو یا اور کوئی شخص۔
٭ بچے کو یہ تمام چیزیں سمجھاتے وقت یہ بھی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اِن تمام باتوں کی اہمیت، ضرورت، اِس کے پیچھے فلسفہ، فائدہ اور عمل نہ کرنے کے نقصانات کیا ہوسکتے ہیں؟ کیوں کہ کم عمری اور تجسس کی وجہ سے بچہ سوچ رہا ہوگا کہ اُس کو اتنا کچھ کیوں کہا جا رہا ہے؟
قارئین، درجِ بالا باتیں اپنے بچوں کو سکھا کر ہی والدین اُن کو جنسی درندوں سے بچا کر اُن کی زندگی خراب ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ خوشگوار بچپن گزار کر ہی ایک بچہ بڑا ہو کر خاندان کی خوشحالی اور معاشرے اور ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔

……………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے