171 total views, 1 views today

ہمارے ایک رشتہ دار اکثر اپنے گھر کے بچوں کے لیے چھٹی کے دِن کھیتوں میں کوئی نہ کوئی کام ڈھونڈ کر اُنہیں کھیتوں میں مصروف کردیتے تھے۔ اُن کے خیال میں چھٹی کے دِن اِدھر اُدھر فارغ گھوم کر بچے لوفر ہوجاتے ہیں اور پڑھائی اور دوسرے ضروری کاموں کے کرنے سے دور ہوجاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے بچوں کو غصے میں کہتے رہتے تھے کہ فلاں کے بچوں سے سیکھو، وہ باقاعدہ کھیتوں میں کام بھی کرتے ہوئے پڑھائی میں بھی اچھے ہیں اور کلاس میں پوزیشن بھی لیتے رہتے ہیں۔ چوں کہ اُن کے گھر کے بچوں پر ہمیشہ غصہ ہوتا رہتا تھا، تو وہ سامنے سے اپنی صفائی یا جواب دینے کے لیے مطلوبہ خود اعتمادی سے محروم تھے۔ حالاں کہ اُن کے بچوں میں اور دوسرے بچوں میں خاطر خواہ فرق تھا۔ جن بچوں کے ساتھ موصوف اپنے بچوں کا موازنہ کر رہے تھے، اُن کو گھر میں خاطر خواہ آزادی حاصل تھی اور کھیتوں میں تھوڑا بہت کام کرنے کے علاوہ وہ آزادی سے کھیل کود، ٹی وی دیکھنے، کہیں آنے جانے، گھر کے بڑوں کے ساتھ آزادانہ گپ شپ سمیت اور ڈھیر ساری آزادیوں کے حامل تھے، جب کہ مطلوبہ شخص کے بچوں کو اوپر بیان کی گئیں چیزوں میں کوئی بھی میسر نہیں تھا۔ اِس کے ساتھ ساتھ اُنہیں گھر سے باہر جہاں بھی دیکھا جاتا تھا، تو اُنہیں غصیلے انداز میں یہ کہہ کر گھر بھگا دیا جاتا تھا کہ گھر جا کر پڑھائی کیوں نہیں کرتے؟ کبھی کبھی تو گالیاں بھی سننے کو ملتی تھیں کہ فُلاں جگہ پر اور فُلاں بندے کے ساتھ کیا کر رہے تھے آپ؟
یہاں جس مسئلے پر میں بات کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اپنے بچوں کا دوسرے بچوں کے ساتھ موازنہ کرنا ٹھیک ہے یا غلط؟ اگر ٹھیک ہے، تو کیسے کرنا چاہیے اور اگر غلط ہے، تو کیوں غلط ہے اور اِس کے کیا نقصانات ہوسکتے ہیں؟
یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ کیوں کہ بچوں کا موازنہ کرنا ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے، اور اکثر دیکھنے کو ملتا ہے کہ والدین یا گھر کے دوسرے بڑے اپنے بچوں کو طعنے دیتے رہتے ہیں کہ فُلاں ایسا ہے، اور آپ ایسے، فُلاں کا بچہ ڈاکٹر بن گیا اور آپ نہیں، فُلاں کے بچے نے بورڈ میں پوزیشن لی، اور آپ نے نہیں، فُلاں کے بچے نے اتنے زیادہ نمبر لیے اور آپ نے نہیں۔ ایسا کرتے وقت ہم یہ نہیں سوچتے کہ اگر بچے نے سامنے سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ فُلاں کا باپ اتنا کماتا ہے اور آپ نہیں، فُلاں کے باپ کے پاس ایسی گاڑی ہے اور آپ کے پاس نہیں، فُلاں اپنے بچوں کو وہاں لے کر گیا تھا اور آپ نہیں وعلیٰ ہذا القیاس، تو ہمارا جواب پھر کیا ہوگا؟ کیا ہمیں شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا؟ کیا ہم اپنے بچے کے سامنے لاجواب نہیں ہوجائیں گے؟
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ والدین اپنے بچوں کا ہمیشہ بھلا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنے بچوں کا دوسرے بچوں کے ساتھ موازنہ کرتے رہتے ہیں، تاکہ بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کی خاطر ان کی حوصلہ افزائی کریں، لیکن اکثر انجانے میں ہم فائدے سے زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ بچوں کا دوسرے بچوں کے ساتھ موازنہ کرنے میں بھی فائدے سے زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے۔
بچوں میں مقابلے کی صلاحیت پیدا کرنا اور انہیں مقابلہ کرنے کا حوصلہ بڑھانا اچھی بات ہے، لیکن خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں ہم فائدے سے زیادہ نقصان میں تو نہیں جا رہے؟
اپنے بچوں کا دوسرے بچوں کے ساتھ موازنہ کرتے وقت کچھ چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے جو کہ ذیل میں دی گئی ہیں:
٭ ہر بچہ منفرد ہوتا ہے اور اُس کی اپنی مخصوص عادات، اطوار، ترجیحات، پسندیدگیاں، ناپسندیدگیاں اور صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنے بچے سے آس پاس رہنے والے یا رشتہ داروں کے بچے کی طرح توقعات نہ رکھی جائیں۔ ممکن ہے کہ آپ کے بچے میں ایسی صلاحیتیں موجود ہوں، جو آپ کی سوچ سے کہیں اچھی ہوں اور وہ کسی اور میں موجود ہی نہ ہوں۔
٭ بچہ کوئی کھلونا نہیں ہے کہ ہم اُنہیں معاشرے میں اپنے مقام اور حیثیت کے بلند کرنے کے لیے استعمال کریں۔ اکثر ایسا کرنے کی خاطر والدین اپنے بچوں کے لیے بڑے بڑے اہداف رکھ دیتے ہیں جن کا حصول بچے کے لیے ممکن نہیں ہوتا، اور نتیجتاً یہ رویہ بچے اور پورے خاندان پر منفی اثرات مرتب کردیتا ہے۔
٭ بچے کو تعلیم دینا والدین کا بچے پر کوئی احسان نہیں جس کے بدلے والدین اپنے بچے سے معاشرے میں اچھی حیثیت یا کسی اور چیز کی توقع رکھیں، بلکہ بچے کو تعلیم دینا والدین کا حق ہے۔ اس کے بدلے میں بچے سے کوئی چیز مانگنا سراسر غلط ہے۔ اس لیے بچوں پر احسان نہیں جتانا چاہیے اور نہ اُن سے تعلیم کے بدلے میں غیر ضروری توقعات ہی رکھنی چاہئیں۔
اس طرح اپنے بچے کا دوسرے بچوں کے ساتھ موازنہ کرنے کے ڈھیر سارے نقصانات ہیں جن میں سے کچھ درجِ ذیل ہیں:
٭ موازنہ کرنے سے بچوں میں خود اعتمادی اور حوصلہ کم ہوجاتا ہے۔ بچہ سوچتا ہے کہ چوں کہ مَیں فُلاں کے بچوں کی طرح کارکردگی نہیں دکھاسکتا، اس لیے میں کسی کام کا نہیں ہوں۔ حالاں کہ ہر بچے میں کوئی نہ کوئی صلاحیت ضرور ہوتی ہے، لیکن ایسے حالات میں اُس کی صلاحیتیں دب جاتی ہیں اور عین ممکن ہے کہ وہ حقیقت میں کسی کام کا نہ رہے۔
٭ موازنہ کرنے کی وجہ سے ممکن ہے کہ بچہ دباؤ اور تناؤ میں آجائے اور سوچے کہ اُسے دوسرے بچوں کی طرح کارکردگی دکھانے اور اُن کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ کام کرنا چاہیے۔ ایسی حالت میں ممکن ہے کہ بچے پر جسمانی اور ذہنی دباؤ آجائے اور وہ فائدے کے مقابلے میں نقصان کا سبب بن جائے۔
٭ موازنہ کرنے اور بچے کا مطلوبہ نتیجہ نہ دینے کی صورت میں یہ بھی ممکن ہے کہ والدین کا اپنے بچے سے اعتماد اور توقعات اُٹھ جائیں۔ توقعات اُٹھ جانے کی صورت میں اکثر والدین کا رویہ اور بھی منفی ہوجاتا ہے اور اکثر طعنے دینا شروع کردیتے ہیں جو کہ بچے کے لیے اور بھی زہریلا عمل ہے۔
٭ موازنہ کرنے سے یہ بھی ممکن ہے کہ بچہ دیگر بچوں سے نفرت کرنا اور دور رہنا شروع کر دے۔ یہ بھی ایک خطرناک عمل ہے جو بچے کے ذہن، نفسیات اور شخصیت پر برا اثر ڈال سکتا ہے۔
٭ موازنہ کرنے کی صورت میں ممکن ہے کہ بچہ موازنہ کرنے والے بڑوں اور دوسرے بچوں سے دور ہونا شروع ہوجائے۔ دوسرے بچوں اور بڑوں سے دور ہونا بھی ایک خطرناک عمل ہے۔ کیوں کہ بچوں کی تربیت کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ دوسرے بچوں اور بڑوں اور خاص کر اپنے والدین کے ساتھ وقت گزاریں۔
درجِ بالا بحث کو مدنظر رکھتے ہوئے والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کا دوسرے بچوں کے ساتھ موازنہ کیے بغیر اُن کے لیے اُن کی ترجیحات، قابلیت، پسندیدگیوں وغیرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقت پسندانہ اہداف رکھیں اور اگر ممکن ہو، تو بچوں سے پوچھ کر اُن کے لیے اہداف رکھے جائیں۔ کیونکہ اہداف رکھنے، حاصل کرنے اور پھر اُن کے تناظر میں زندگی بچوں نے گزارنی ہے، نہ کہ والدین نے۔ ہمیں اپنے بچوں کو سکھانا چاہیے کہ ان میں میں کسی کمی یا کمزوری کا ہونا بالکل عام بات ہے اور تمام انسانوں کمزوریوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ایسی تربیت کرکے ہی ہمارے بچے اچھی شخصیت کے حامل ہو کر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے گھر، اور ملک و قوم کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے