62 total views, 3 views today

ایک روسی افسانہ نگار کازاکوف کی ایک کہانی یاد آرہی ہے، جس کا ایک کردار عجیب مافوق الفطرت قوت کا مالک ہے۔ وہ جس کسی سے ملتا ہے، اس کے چہرے میں اسے اس کی گزشتہ کئی پشتوں تک کے لوگ نظر آتے ہیں۔ ایک ہی نظر میں اس کے چہرے کے پیچھے لوگوں کی ایک طویل قطار اسے نظر آتی ہے۔ اسے فوراً پتا چل جاتا ہے کہ اس شخص کی رگوں میں دوڑنے والا خون کن ندی نالوں سے آیا ہے۔ اس کے آبا و اجداد میں کس کس قبیل کے لوگ شامل رہے ہیں۔ ان میں کتنے قاتل تھے۔ کتنے چور تھے۔ کتنے عالم فاضل تھے۔ کتنے نرے جاہل تھے۔ کتنے فرزانے تھے۔ کتنے پاجی اور دیوانے تھے۔ کتنے شریف اور نواب زادے تھے…… یہ تو صرف ایک افسانوی کردار کی بات ہے، لیکن اگر یہ طاقت حقیقتاً کسی کو مل جائے کہ وہ مخاطب کے آباؤ اجداد کی کئی پشتوں کی خفیہ تاریخ لمحوں میں پڑھ لے، تو لوگوں سے اس کے تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی؟ وہ کتنی اہم اور دل چسپ ترین کتابیں لکھ سکے گا، ان لوگوں کے بارے میں جو طاقت، دولت، شہرت اور شرافت کے ایوانوں پر قابض ہیں۔ جن کی خواہش ہے کہ لوگ ان کے منھ سے گالیاں کھا کے خوشیوں کے شادیانے بجائیں، وہ جن جوتوں سے انھیں ٹھڈے لگائیں، وہ گرنے کے بعد سنبھل کر ان جوتوں کو پلکوں سے لگائیں اور ان زخموں کو فخر سے اپنے جاننے والوں کو دکھائیں…… “دیکھو صاحب نے آج مجھے گالی دی۔ اپنے منھ سے, اور پھر مجھے ایک ٹھوکر ماری۔ ہاں، کسی اور کو نہیں بلکہ مجھے۔ دیکھو، میں کتنا خوش نصیب ہوں کہ اس توجہ اور اپنائیت کا مستحق ٹھہرا۔” اور ان لوگوں کے بارے میں بھی وہ دلوں کو ہلا دینے والی کہانیاں لکھ سکے گا۔ جن کے آباؤ اجداد اقتدار و اختیار کے برق رفتار گھوڑوں پر سوار تھے۔ لیکن بے مہر زمانہ سے وہ آج خود کسی لنگڑے لولے گدھے پر سوار ہونے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے۔ وہ صرف پیدل ہیں اور دوسرے پیدل چلنے والوں کی دھکم پیل میں اِدھر اُدھر رُل رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نہ تو انھیں خود اس بات کا پوری طرح سے احساس ہے کہ وہ کن بلندیوں سے گرے ہیں اور نہ ان کے آس پاس کے لوگوں کو پتا ہی ہے کہ وہ کن کو اس طرح سے روند رہے ہیں۔ وہ جن کے احترام میں سانسیں خود بہ خود رُک جایا کرتی تھیں۔ وہ جن کی ایک جھلک پانے کے لیے آنکھیں پتھرا جاتی تھیں۔ وہ جن کی طاقت و دبدبہ سے جنگلی درندے تک لرزہ بر اندام ہوجاتے تھے۔ ہاں، ان کے بارے میں بھی سوچو، تو اس مصنف کی کتابیں کتنی بڑی مقدار میں  چھاپنی پڑتیں۔ پبلشروں میں کیا مقابلہ ہوتا۔ اسے کیا کیا پیشکش ہوتیں۔ لیکن پبلشر بھی تو اس کی ان آنکھوں سے محفوظ نہ ہوتے جو پتا نہیں کہاں کہاں تک اور کس کس طرح ان کے ماضی کا پوسٹ مارٹم کرنے پر بھی قادر ہوتیں۔ ایک عجیب صورت حال ہوتی۔ ایک حشر کا سا منظر برپا ہوجاتا۔ لوگ اس کے سامنے آنے سے کتراتے۔ سیاست دان اسے اپنے جلسوں اور جلوسوں میں شامل کرنے سے انکار کردیتے۔ دکان دار اس سے کسی قسم کا کوئی معاملہ کرنے کے لیے ہر گز تیار نہ ہوتے۔ وہ فلمی ایکٹروں اور کھلاڑیوں کی طرح راتوں رات شہرت کے بامِ عروج تک پہنچ جاتا۔ رپورٹر اور فوٹوگرافر اس کی طرف دوڑ پڑتے اور پھر اس کا سامنا کرنے سے ڈر جاتے۔ مبادا وہ ان کے ماضی سے بھی کسی مخدوش چال چلن کے کردار کو نکال لے۔ لڑکیاں اس کا آٹو گراف لینے کے لیے بے تاب بھی ہوتیں، اور اس کے سامنے آنے سے خوف زدہ بھی۔ نہ جانے خاندانی زندگی کے کون سے سیاہ ترین گوشے سے پردہ ہٹ جائے، اور قریباً قریباً طے پانے والے رشتہ کو خطرہ لاحق ہوجائے۔ لوگ چاہتے ہوئے بھی اسے اپنی فرزندی میں لینے پر تیار نہ ہوتے۔ اس کی آنکھوں سے ہر کوئی خائف ہوتا۔ جانے کس میں کیا دیکھ لیں۔
پھر اس کے خلاف سازشیں شروع ہوجاتیں۔ کوئی بھی اپنے شجرۂ نسب کو صحیح صحیح جاننے کے لیے یقیناً تیار نہ ہوتا۔ کچھ لوگ اپنی عادت سے مجبور ہوکر اسے اپنے مخالفین کو زیر کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے۔ اسے قسما قسم رشوتیں دینے کی کوشش کی جاتی اور جب وہ دیکھ لیتے کہ ان تلوں میں تیل نہیں، تو اسے راستے سے ہٹانے کی تدبیریں شروع ہوجاتیں۔ دیر سے اثر کرنے والا کوئی زہر کھلا دیا جائے، کسی مہلک نشہ کی لت ڈالی جائے یا ڈائریکٹ میتھڈ (Direct Method) سے کام لیا جائے۔ سیسے کی ایک چھوٹی سی گولی مضبوط سے مضبوط دماغ کو لمحوں میں بکھیرنے کے لیے کافی ہے یا اسے کسی جھوٹے الزام میں اندر کردیا جائے، نہ تو اس کو کوئی ضمانت کرنے والا ملے گا اور نہ کوئی وکیل ہی اس کا مقدمہ لڑے گا۔ ہر کسی کو اپنی عزت عزیز ہے۔ کون اس کی حمایت کرکے باپ دادا کی ناراضگی کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہوگا۔
کتنے خوش قسمت ہیں کہ “کازاکوف” کا یہ کردار صرف افسانوی دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔ ہماری دنیا ایسے کسی حقیقی خطرے سے فی الحال بالکل محفوظ ہے۔ اس لیے ہم جو کر رہے ہیں، دھڑلے سے کرتے رہیں۔ کہیں بھی کوئی ایسا فرد موجود نہیں جو ماضی کے تہہ خانوں میں سرچ لائٹ لگا دے اور دنیا پر سب کچھ کھول دے۔
لیکن کبھی کبھی حکم رانوں، سیاست دانوں، قانون دانوں، صنعت کاروں، اداکاروں، ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کی ہٹ دھرمی اور بے حیائی کی حد تک بدتمیزی سے تنگ آکر میرا دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے۔ اے کاش! “کازاکوف” کا یہ کردار واقعی موجود ہوتا اور ان سب غباروں سے ہوا نکال دیتا۔ اے کاش، ایسا ہوتا!

…………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے