168 total views, 1 views today

موجودہ دگرگوں صورتحال کے پیشِ نظر اکثریتی لوگ ذہنی تناؤ اور پریشانی کا شکار نظر آتے ہیں۔ اولاد کے ساتھ چوں کہ والدین کا دل جڑا رہتا ہے، لہٰذا ان کے مستقبل اور کامیابی کے حوالے سے تفکر فطری ہوتا ہے، لیکن ان حالات میں یہ پریشانی اور تشویش کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ درمیانے طبقے اور کچھ حد تک نچلے طبقے کے والدین کے لیے اس صورتحال سے نکلنے اور بچے کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے جو لایحۂ عمل سب سے زیادہ جاذب اور قابلِ عمل رہا ہے، وہ تعلیم کے میدان میں بچوں پر سرمایہ کاری اور محنت ہے۔ اکثریتی والدین آنکھوں میں بچوں کے سنہرے مستقبل کے خواب سجائے اور اس ضمن میں اپنے بڑھاپے میں آسودہ حالی کی خواہش لیے ہوئے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے تگ و دو کرتے نظر آتے ہیں۔ پچھلے پندرہ بیس سالوں میں مختلف سطحوں پر حکومتی اعانت اور حوصلہ افزائی بھی ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں بدلنے کا باعث بنی ہے۔ ان میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے اندرون اور بیرونِ ملک سکالر شپ اور وزیراعظم فیس معافی کا پروگرام سرفہرست ہیں۔ علاوہ ازیں مختلف ایکسچینج پروگرامز اور ایم او یوز بھی بہت سو کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔ آئی سی ٹی سکالرشپس کی بنیاد پر ہزاروں بچوں نے غلام اسحاق خان یونیورسٹی، کامسیٹس، نَسٹ اور لَمز سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے، لیکن تبدیلی سرکار کی ’’تعلیم پہ ایمرجنسی‘‘ نافذ ہونے کے بعد یہ پروگرامات بند ہوچکے ہیں۔
تعلیم کے فوائد اور مواقع اور آس پاس کی زندگیوں کی تبدیلی کے دیکھا دیکھی والدین اپنے بچوں کی تعلیم پر ترجیحی بنیادوں پر خرچ کرتے آرہے ہیں،لیکن ان والدین کو صرف یہ پتا ہوتا ہے کہ اگر بچے نے اتنے اتنے نمبر لے لیے، تو اس کا بیڑا پار ہوجائے گا، اور زندگی بدل جائے گی۔ باقی ’’نمبر مقصد نہیں بلکہ ایک اشاریہ ہے بچے کے سیکھنے اور قابلیت کا۔‘‘ عام والدین کو اس بات کا کچھ بھی اندازہ نہیں ہوتا اور نہ ہو ہی سکتا ہے۔
والدین کے ان ارمانو ں کا قتل عمومی طور پر پرائیویٹ تعلیمی ادارے کررہے ہیں کہ اعلیٰ نمبروں کے حصول کا جھانسا دے کر ان والدین سے پیسے بٹور لیے جاتے ہیں اور نقل اور رٹے بازی کے ذریعے اکثر بچے یہ نمبرز حاصل بھی کرلیتے ہیں، لیکن جب مقابلے کے امتحانات میں اصل قابلیت جانچنے کا مرحلہ آتا ہے، تو وہاں معاملہ بالکل اُلٹ پڑ جاتا ہے۔ اس کا عملی ثبوت آپ یوں حاصل کرسکتے ہیں کہ بورڈ کے ٹاپ پوزیشنز کے بچوں کے رزلٹس اگر ان مقابلے کے امتحانات میں ملاحظہ کیے جائیں، تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ جب بورڈ امتحانات کا رزلٹ آتا ہے، تو ہر سکول اور کالج کے فیس بک والز اس قسم کے پوسٹس سے اَٹے پڑے ہوتے ہیں کہ ’’بورڈ انتظامیہ کے ٹیلی فونک رابطے کی بنیاد پر ہمارے اتنے اتنے طالب علموں نے پوزیشنز لیے ہیں۔‘‘ پھر رزلٹ اناؤنس ہونے کے بعد یہی تہنیت دہرائی جاتی ہے لیکن جیسے ہی مقابلے کے امتحان ایٹا (ETEA) کا رزلٹ اناؤنس ہوتا ہے، تو فیس بک اکاؤنٹس کے چراغوں میں روشنی باقی نہیں رہتی۔ اور یوں ڈھیر سارے والدین کی امیدوں پر اُوس پڑجاتی ہے۔
اس سارے عمل کا ایک خطرناک نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ والدین اس پُرپیچ تعلیمی کیرئیر کی راہ کے بجائے اب بچوں کو میٹرک اور ایف ایس سی کے بعد تعلیم ہی سے چھڑا لیتے ہیں، اور کسی کاروبار یا معمولی نوکری پر اکتفا کرلیتے ہیں۔ اس سب کے علی الرغم مواقع اور امکانات کا ایک جہاں ہے جو ہماری کم علمی اور پریشان حالی کی وجہ سے ہم کھو رہے ہیں۔ پوری دنیا میں سکالر شپس اور تعلیمی اعانت کے بے شمار مواقع اور امکانات اپنی بانہیں پھیلائے اہل اور چست درخواست گزاروں کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن رٹا بازی اور نقل کی لت کی وجہ سے طالبعلموں کا خود سے اعتماد اس قدر اُٹھ چکا ہوا ہوتا ہے کہ وہ اس آپشن کو شماروقطار میں بھی نہیں لاتے اور والدین کو اس کا علم نہیں ہوتا کہ وہ بچوں کو آمادہ کرسکیں۔ بلامبالغہ میں درجنوں ایسے طالب علموں کو جانتا ہوں جنہیں ہمارے ملک میں کسی قسم کا تعلیمی اور نوکری کا موقعہ نہ ملنے کے باعث اُن مواقع کی طرف جانا پڑا اور بدیہی طور پر کامیاب ترین کیرئیر کی راہ پر گامزن ہوچکے ہیں۔ ہمارے ایک جونیئر کو پاکستان میں کوئی پی ایچ ڈی میں داخلہ نہیں دے رہاتھا۔ لہٰذا وہ چائینہ میں داخلہ لینے پر مجبور ہوا ۔ وہاں اس کا پروفیسر تند خو تھا، جس کی وجہ سے وہ اور جگہوں پر ہاتھ پیر مارنے لگا اور ہالینڈ کی ایک یونیورسٹی کے ریسرچ پروگرام میں داخلہ لے کر وہاں چلا گیا۔ اب بیک وقت وہ چائینہ سکالر شپ کی بنیاد پر انہی کی اجازت سے ہالینڈ میں ریسرچ بھی کررہا ہے اور ساتھ ساتھ ہالینڈ کی یونیورسٹی نے اس کی صلاحیتوں کو بھانپ کر اپنے پی ایچ ڈی پروگرام میں اعزازی داخلہ بھی دے دیا ہے۔
اسی طرح ہمارا ایک محلے دار جس کا والد اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنانے کے خواب سجائے دنیا سے چلا گیا، نے ایٹا ٹسٹ میں پے در پے ناکامیوں کے بعد اِدھر اُدھر ہاتھ پیر مارنا شروع کیے اور کہیں سے ترکی کے ایک سکالرشپ کا سن کر اس کے لیے تیاری میں جُت گیا۔ آخرِکار اسی سکالرشپ پر ڈاکٹری کی تعلیم ترکی میں مکمل کرلی۔
ان حالات میں اساتذہ اور انتظامیہ، خصوصی طور پر اداروں کے پرنسپل خواتین و حضرات کا یہ فرض بنتا ہے کہ ایسے مواقع اور امکانات کے حوالے سے بچوں کو معلومات بہم پہنچایا کریں۔ ایسے ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد باقاعدگی سے کروایا کریں جن میں اس قسم کے سکالرشپ اور ایکسچینج پروگرامز سے مستفید ہونے والے لوگوں کو بُلا کر طالب علموں کے ساتھ ان کے سیشن کروائے جائیں، تاکہ ہمارے بچے حالات و معیشت کے اس شیطانی چکر سے باہر نکل کر امید اور اعتماد کے ساتھ پہلے سے مہیا مواقع اور امکانات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ کیوں کہ یہی طریقہ ہے مایوسی کے گرداب سے نکلنے کا۔
جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہی سے نکلے گا
وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گا

……………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے