325 total views, 1 views today

شادی کی تقریب میں ایک صاحب اپنے جاننے والے آدمی کے پاس جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں، ’’کیا آپ نے مجھے پہچانا؟‘‘ انہوں نے غور سے دیکھا اور کہا، ’’ہاں آپ میرے پرائمری سکول کے شاگرد ہیں۔ کیا کر رہے ہیں آج کل؟‘‘ شاگرد نے جواب دیا کہ ’’مَیں بھی آپ کی طرح اُستاد ہوں اور اُستاد بننے کی یہ خواہش مجھ میں آپ ہی کی وجہ سے پیدا ہوئی۔‘‘ اُستاد نے پوچھا: ’’وہ کیسے؟‘‘ شاگرد نے جواب دیا، ’’آپ کو یاد ہے کہ ایک بار کلاس کے ایک لڑکے کی بہت خوبصورت گھڑی چوری ہو گئی تھی اور وہ گھڑی مَیں نے چرائی تھی۔ آپ نے پوری کلاس کو کہا تھا کہ جس نے بھی گھڑی چرائی ہے واپس کر دے۔ مَیں گھڑی واپس کرنا چاہتا تھا، لیکن شرمندگی سے بچنے کے لیے یہ جرأت نہ کرسکا۔ آپ نے پوری کلاس کو دیوار کی طرف منھ کرکے، آنکھیں بند کر کے کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ سب کی جیبوں کی تلاشی لی اور میری جیب سے گھڑی نکال کر بھی میرا نام لیے بغیر وہ گھڑی اس کے مالک کو دے دی، اور مجھے کبھی اس عمل پر شرمندہ نہ کیا۔ مَیں نے اسی دن سے استاد بننے کا تہیہ کر لیا تھا۔‘‘ استاد نے جواباً کہا، ’’حیرت کی بات ہے کہ تلاشی کے دوران میں، مَیں نے بھی اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں، اور مجھے بھی آج ہی پتا چلا کہ وہ گھڑی آپ نے چرائی تھی۔‘‘
قارئین، یہ مثال صرف اساتذہ تک محدود نہیں بلکہ ہر چھوٹے بڑے پر لاگوں ہوتی ہے۔ خواہ وہ سکول کا ماحول ہو، گھر کا ماحول ہو یا کسی ادارے کا۔ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ ہر جگہ نصیحتیں کرکے دوسروں کو سمجھانے کی بجائے خود ایک مثال بنے، جس سے دوسرے خود بخود سیکھیں۔ کیوں کہ ہم باقی طریقوں کے مقابلے میں دوسروں کو دیکھ کر زیادہ سیکھتے ہیں۔
نفسیات کے اصولوں اور تحقیقات سے یہ سبق سیکھنے کو ملتا ہے کہ ضروری نہیں کہ بچہ وہ کام کرے جو اُسے کہا گیا ہو، لیکن یہ ضروری ہے کہ بچہ وہ کام کرے، جو اُسے دکھایا گیا ہو۔ نفسیات کی اصطلاح میں اِس کو ’’سماج سے سیکھنے کا عمل‘‘ کہتے ہیں۔اس کی مثال یہ ہے کہ اگر بچہ اپنے والد یا والدہ کو دوسروں کی مدد کرتے ہوئے دیکھے، تو اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ وہ کل دوسروں کی مدد کرے گا۔ بہ نسبت اُس بچے کے جس کو اس کا والد یا والدہ صرف دوسرے لوگوں کی مدد کرنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں، لیکن اس کے سامنے لوگوں کی مدد نہیں کرتے۔ ضروری نہیں کہ بچہ وہ کچھ دیکھ کر سیکھے، جو اُس کو سیکھنے کے لیے کہا گیا ہو، بلکہ بچہ ہر اُس کام کو کرنا سیکھ سکتا ہے جو اُس کے سامنے کیا جاتا ہے۔
سیکھنے کا یہ عمل صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ بچہ دوسرے بچوں، ٹی وی، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور ویڈیو گیمز وغیرہ سے بھی سیکھتا رہتا ہے۔ اکثر اوقات یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ بچے بہترین نقال ہوتے ہیں۔ اس لیے اُنہیں نقل کرنے کے لیے اچھی چیزیں مہیا کرنی چاہئیں۔ اِس بات کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے سامنے اچھے اور مثبت کام کرنے چاہئیں جس کو بچہ نقل کرکے سیکھے، اور کل کو خود وہی کام کرے۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بچہ والدین کے الفاظ اور خوراک کی عادات تک کو بھی نقل کرکے سیکھتا ہے اور پھر استعمال میں لاتا ہے۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لوگ بچوں کو سیگریٹ، نسوار وغیرہ لانے کے لیے دُکان بھیج دیتے ہیں۔ اکثر لوگ بچوں کو دُکان بھیجتے ہوئے نصیحت بھی کر دیتے ہیں کہ بیٹا یہ بُری چیزیں ہیں اور ان سے بچنا چاہیے۔ تجسس کی وجہ سے بچہ سوچتا ہے کہ سیگریٹ میں ایسی کون سی خاص وجہ ہے جو لوگ اِس کو پیتے رہتے ہیں، اور کسی نہ کسی موقعہ پر وہ بھی سیگریٹ پینے کا تجربہ کرتے ہیں۔ بسااوقات عادی بھی بن جاتے ہیں۔
یہاں پر ایک اور ضروری نکتہ یہ ہے کہ انسانی ذہن اُس کام کو کرنے میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے، جس کے کرنے سے اُس کو منع کیا گیا ہو۔ کیوں کہ اِنسانی ذہن اس قسم پابندیوں کو آزادی سلب ہونے کے مترادف سمجھتا ہے، اور اِن قیدوں کو توڑ کر آزادی کی کوشش کرتا ہے۔ بالکل اِسی طرح سیگریٹ نوشی سے منع کرنے کو بچہ قید سمجھ کر قید سے نکلنے کی صورت سمجھ کر بھی پی سکتا ہے۔
قارئین، بچے اپنے والد اور اُستاد کو ایک مثالی شخصیت تصور کرتے ہیں۔ اُن کی ہر چیز اور ہر کام کو ناسمجھی کی بنا پر ٹھیک سمجھ کر خود کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اِسی طرح اچھی اور بُری دونوں عادتیں بڑوں سے چھوٹوں میں منتقل ہوجاتی ہیں، اور بالکل اِسی طرح سیگریٹ نوشی سمیت اچھی اور بُری عادتیں بچوں میں منتقل ہوسکتی ہیں۔
نفسیات کے ماہرین نے بچوں کے سیکھنے کے متعلق کچھ گذارشات والدین کے سامنے رکھی ہیں جو کہ درجِ ذیل ہیں۔
٭ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی جسمانی ساخت یا بچوں کے سامنے کسی اور کی جسمانی ساخت کا مذاق نہ اُڑائیں۔ کیوں کہ ایسا کرنے سے ایک تو بچوں کی خود اعتمادی کم ہوجاتی ہے اور دوسرا وہ دوسروں کا مذاق اُڑانا سیکھ جاتے ہیں جو کہ ایک خطرناک عمل ہے۔
٭ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے سامنے دوسروں لوگوں کی بُرائیاں کرنے سے اجتناب کریں۔ کیوں کہ اس سے بچے کے ذہن میں مطلوبہ شخص کا غلط تصور بن جاتا ہے، اور وہ دوسروں کی برائیاں کرنا سیکھ جاتا ہے۔ اُسے دوسروں کی برائی کرنا ایک اچھی چیز نظر آنے لگتی ہے۔
٭ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے سامنے کسی اور پر طنز نہ کریں۔ کیوں کہ یا تو بچے طنز کو سمجھ نہیں پائیں گے، اور کوئی دوسرا تصور بنالیں گے۔ اور اگر سمجھ بھی جائیں، تو شائد نقصان کا باعث بن جائے۔
٭ والدین کو چاہیے کہ کبھی اپنے بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے لڑائی نہ کریں۔ کیوں کہ لڑائی سیکھنے کے ساتھ ساتھ یہ عمل بچوں کے ذہن پر انتہائی بُرا اثر کرسکتا ہے، اور یہ بچے کے مجموعی نفسیات کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
٭ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے سامنے موبائل اور دوسری الیکٹرانک مصنوعات کا استعمال کم سے کم کریں۔ کیوں کہ والدین کو دیکھ کر ہی بچے یہ چیزیں استعمال کرنا شروع کرتے ہیں اور پھر بات خطرناک حد تک چلی جاتی ہے، جس سے بچوں کی ذہنی صحت اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر پڑ جاتا ہے۔
٭ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے سامنے غصہ ہونے سے اجتناب کریں۔ کیوں کہ ایک تو بچہ لوگوں کے سامنے غصے کے اظہار کا طریقہ سیکھ لیتا ہے، اور دوسرا اس سے خود بچے ہر بہت برا اثر ہوتا ہے۔ بچہ ڈر کی وجہ سے والدین سے دور بھی ہوسکتا ہے۔
قارئین، مختصراً والدین کو چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو، بچوں کے سامنے منفی رویّوں اور کاموں سے بچنے کی کوشش کریں۔ کیوں کہ ایک تو اِن کاموں کا بچوں کے ذہن، نفسیات اور شخصیت پر بُرا اثر پڑتا ہے، تو دوسری طرف بچہ نہ جانتے ہوئے ایسی بہت ساری چیزیں سیکھ جاتا ہے، جو اُسے نہیں سیکھنی چاہئیں۔ آگے جا کر پھر وہ بچے کے ساتھ معاشرے کے لیے بھی نقصان کا باعث بن جاتی ہیں۔
درجِ بالا بیان کی گئی اُستاد کی مثال اور دوسری باتوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر کسی کو کچھ سکھانا ہو، تو اُسے سمجھانے کی بجائے سماجی طریقے سے سکھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کیوں کہ غصہ ہو کر سکھانے کی کوشش کرنے یا سمجھا کر سکھانے سے کسی کی انا کی تسکین تو ہوسکتی ہے، لیکن سکھانے کا عمل صحیح طور پر ادا نہیں ہوسکتا۔سماجی طور پر سیکھنے کا عمل ہی وہ بات ہے جس سے بندہ بذاتِ خود متاثر ہو کر مثبت مہارت اور عادات و اطوار سیکھا کرتا ہے۔ اور ایک اعلیٰ شخصیت کا حامل ہو کر خاندان، معاشرہ اور ملک کے لیے اپنی خدمات احسن طریقے سے انجام دے سکتا ہے۔

………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے