408 total views, 1 views today

ایک اسکول کے ہیڈ ماسٹر کہتے ہیں کہ مَیں نے اسکول کے باہر لکھوا دیا کہ ’’اسکول کی دیواروں پر لکھائی کرنا منع ہے!‘‘ ایک دن جب میں اسکول پہنچا، تو دیکھا کہ کسی نے اسکول کی بیرونی دیواروں کو انتہائی بے دردی سے سپرے پینٹ کے ساتھ خرافات لکھ کر اور گندے نقش و نگار بنا کر خراب کر ڈالا تھا۔ مجھے بہت افسوس ہوا اور مَیں نے سکول جا کر کچھ سٹاف کے ذمہ کام لگایا کہ اس حرکت کرنے والے کا پتا چلایا جائے۔ حاضر و غائب کا ریکارڈ دیکھنے اور چند بچوں سے پوچھ گچھ کے بعد ہمیں اسکول کے ایک لڑکے کے بارے میں پتا چل گیا جس نے یہ حرکت کی تھی۔ مَیں نے اس لڑکے کے والد کو فون کرکے کہاکہ مَیں آپ سے ملنا چاہوں گا۔ اس لیے کل آپ اسکول تشریف لے آئیں۔ دوسرے دن جب لڑکے کا باپ آیا، تو مَیں نے سارا قصہ اس کے گوش گزار کر ڈالا۔ باپ نے اپنا بیٹا بلوانے کا کہا، بیٹے کے آنے کے بعد اس نے دھیمے لہجے میں اس سے بات کی۔ لڑکے نے اعتراف کیا، تو باپ نے وہیں بیٹھے بیٹھے ایک رنگساز کو فون کرکے بلایا، دیواروں کو پہلے جیسا رنگ کرنے کی بات کی، مجھ سے اپنے بیٹے کے رویے کی معافی مانگی اور اور اجازت لے کر رخصت ہوا۔ جاتے وقت اپنے بیٹے کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور دھیمی سی آواز میں اسے کہا: ’’بیٹے، آپ اگر میرا سر اونچا نہیں کرسکتے، تو کم از کم کوئی ایسا کام بھی نہ کریں، جس سے مجھے شرمندہ ہونا پڑے۔‘‘
ہیڈ ماسٹر صاحب کے بقول، اتنا کہتے ہوئے بچے کا باپ رخصت لے کر چلا گیا۔ مَیں نے دیکھا کہ لڑکے نے اپنا منھ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا تھا۔ اس سے واضح تھا کہ وہ رہا ہے۔ مجھے حیرت ہو رہی تھی کہ لڑکے کے باپ نے کیا زبردست طریقہ اپنایا۔ اس کی چھوٹی سی بات نے جو کام کر دکھایا تھا، ویسا نتیجہ تو مار پیٹ اور غصے سے کبھی حاصل نہ ہوپاتا۔ مَیں نے لڑکے کے تاثرات جاننے کے لیے اس سے پوچھا: ’’بیٹے، تیرا باپ بہت شفیق اور محترم انسان ہے۔ اس نے تیری کوئی خاص سرزنش بھی نہیں کی، پھر تجھے کس بات پر رونا آ رہا ہے؟ لڑکے نے کہا: ’’سر، اسی بات پہ تو رونا آ رہا ہے کہ کاش، میرا والد مجھ پر غصہ ہوتا، مجھے مارتا اور سزا دیتا مگر ایسی بات نہ کہتا۔‘‘
بقولِ ہیڈماسٹر صاحب، لڑکے نے مجھ سے معذرت کی اور اجازت لے کر چلا گیا۔
قارئین، یہ بچہ اگر ہمارے معاشرے کے کسی عام ذہنیت رکھنے والے شخص کا بیٹا ہوتا، تو ضرور وہ سکول کے دفتر میں اپنے بچے پر برس پڑتا اور اُسے مارنا شروع کردیتا۔ کیوں کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کو سمجھانے کا رواج بہت کم ہے، اور ہم پہلے سے بچوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں۔ حالاں کہ وہ سب کچھ نہیں جانتے۔ البتہ سب کچھ جاننا ضرور چاہتے ہیں۔
یہاں پر یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اگر یہ بچہ ہمارے معاشرے کے ایک عام اُستاد کا شاگرد ہوتا، تو اُسے وہی سزا دے کر معاملہ تو ختم کردیا ہوتا لیکن بچے سمیت ہم اور آپ کو اتنا بڑا سبق نہ ملتا، لیکن مطلوبہ سکول کے ہیڈ ماسٹر نے دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچے کو سزا دینے کے بجائے اُس کے والد کو خبر کردی اور اُس کے والد نے اُس سے زیادہ دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بچے سمیت ہم سب کو ایک زبردست سبق سکھا دیا۔
اگر ہم کسی بھی غلطی یا شیطانی کی وجہ سے اپنے بچے پر برس پڑتے ہیں، یا اُسے مارنا شروع کردیتے ہیں، تو اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ کل بچہ وہی کام دوبارہ نہ کرے گا۔ کیوں کہ اُس سے بچے کو کوئی اندازہ نہیں ہوتا کہ مطلوبہ کام کیوں نہیں کرنا چاہیے، اور اُس کے کرنے سے کیا نقصان ہوسکتا ہے! البتہ اگر ہم بچے کو آرام سے سمجھائیں کہ جو کام اُس سے سرزد ہوا وہ نہیں کرنا چاہیے تھا، اور اُس کے کرنے کے یہ نقصانات اور نہ کرنے کے یہ فوائد ہوسکتے ہیں، تو ممکن ہے کہ بچہ مستقبل میں وہ کام نہ کرے۔ کسی بھی غلطی یا شیطانی حرکت کے بعد اگر بچے پر غصہ کیا جائے، یا اُسے جسمانی سزا دی جائے، تو بچہ سمجھ جاتا ہے کہ اُس کی شیطانی کی بس یہی چھوٹی سی سزا ہے، اور وہ سزا اُس کے لیے ایک معمولی سی چیز بن جاتی ہے۔ وہ اُس کا عادی بن سکتا ہے اور مستقبل میں وہی کام اور دوسرے کام کرنے میں کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتا۔ کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اُسے کیا مسئلہ ہوسکتا ہے؟ وہی سزا ملے گی اور وہ اُس کے لیے اب کوئی معنی نہیں رکھتی، اور وہ اُس کا عادی بن جاتا ہے۔
ہمارے ہاں ایک عام رویہ یہ بھی ہے کہ اگر بچہ کوئی غلطی یا شیطانی کردیتا ہے، تو سب لوگوں کے سامنے اُس پر غصہ کیا جاتا ہے اور اکثر مار پیٹ بھی لوگوں کے سامنے ہی ہوجاتی ہے۔ غصے اور سزا کے نقصانات اور اثرات اپنی جگہ لیکن لوگوں کے سامنے ایسا کرنے سے اثرات اور نقصانات اور بھی خطرناک ہوجاتے ہیں۔ اس لیے اِس کام سے قطعاً پرہیز کرنا چاہیے۔ غصہ اور مار پیٹ تو دور کی بات، نفسیات کے ماہرین کے مطابق دوسروں کے سامنے اپنے بچوں کو سمجھانا بھی نہیں چاہیے، بلکہ آرام سے گھر میں یا کسی دوسری جگہ جہاں کوئی اور نہ ہو۔ بچے کو سمجھانا چاہیے کہ فلاں کام ایسے نہیں بلکہ ایسے کرنا چاہیے، کیوں کہ اُس سے فلاں نقصان کا اندیشہ ہے۔
غصے اور مار پیٹ سے بچے کے نفسیات، ذہن اور شخصیت پر بہت بُرا اثر ہوتا ہے، اور وہی اثرات پھر عمر بھر تک بھی رہ سکتے ہیں۔ لوگوں کے سامنے غصے اور مار پیٹ کے اثرات تو اُس سے بھی خطرناک ہوسکتے ہیں۔ جب لوگوں کے سامنے بچے کو شرمندگی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ آئندہ لوگوں کے سامنے آنے سے کتراتا ہے، جس سے اُس کی سماجی زندگی اور نشو و نما پر خطرناک اثر پڑ سکتا ہے۔ لوگوں کے سامنے ڈانٹ کھانے یا سزا کھانے کے بعد بچہ آئندہ لوگوں کے سامنے بات کرنے کوئی کام کرنے میں جھجک محسوس کرے گا، اور اُس کی خود اعتمادی بڑھنے کے بجائے کم ہوجائے گی۔ لوگوں کے سامنے ڈانٹ اور سزا کے بعد بچہ والدین سے بھی بے زار ہوسکتا ہے، اور یہ بچے کے لیے ایک خطرناک صورتحال ہوگی، جو اُس کی پرورش اور اُس کی شخصیت پر خراب اثرات چھوڑ سکتی ہے۔ لوگوں کے سامنے ڈانٹ اور سزا کے بعد بچہ سیکھ جاتا ہے کہ دوسروں کو لوگوں کے سامنے ڈانٹنا ایک اچھا عمل ہے، اور مستقبل میں وہ خود بھی یہ کام کرے گا، اور یہ خطرناک سلسلہ ایسا چلتا رہے گا۔
اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنے بچے کی کسی غلطی پر خود کو قابو نہیں کرسکتا اور اُسے غصہ کرنا پڑتا ہے۔ بچے سے پہلے اُس شخص کو اپنے غصے کے بارے میں کچھ کرنا پڑے گا۔ اُس کے بعد بچے کے کسی کام یا عادت کے بارے میں دیکھا جائے گا۔ کیوں کہ ایک غصہ خود اپنے لیے اور پھر دوسروں کے لیے ایک خطرناک عمل ہے۔ ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ کہیں باہر جانے سے پہلے بچے کو آرام سے سمجھائے کہ فلاں جگہ پر ایسے کام کرنے ہیں، اور ایسے کام کرنے سے پرہیز کرنا ہے۔ اس طریقے سے بچے کے ذہن میں کچھ نہ کچھ تصور ہوگا، اور ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے ایک بات ضرور سوچے کہ میرا کام ٹھیک نتائج دے گا یا غلط؟
درجِ بالا بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر ہم بچے کی کسی عادت یا حرکت کو بدلنا چاہتے ہیں، تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ بچے کو پیار و محبت سے اکیلے میں سمجھایا جائے، نہ کہ سب کے سامنے یا غصہ سے یا پھر گالم گلوچ سے۔ کیوں کہ مار کے بجائے پیار ہی وہی طریقہ ہے جس سے وہ ایک اچھی شخصیت کا حامل ہو کر ایک کامیاب شخص بن سکتا ہے اور اپنے خاندان، معاشرہ اور ملک کی خوشحالی اور ترقی میں مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔

……………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے