184 total views, 1 views today

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ معمول کے اجلاس میں بہترین تقریر کرنے اور مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری کے سامنے اُجاگر کرنے کے بعد وزیر اعظم پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کو برطرف کرکے منیر اکرم کو نمائندہ مقرر کیا۔ جس طرح وزیر اعظم کے اکثر فیصلے لوگوں کو حیرت و استعجاب سے دوچار کرتے ہیں، اس فیصلے کے بارے میں بھی تعجب و استعجاب کا تاثرقائم ہوا۔ ملیحہ لودھی اس سے قبل بے نظیر اور نوازشریف دورِحکومت میں پاکستان کی نمائندگی کرتی رہی ہیں اور ان کی کارکردگی دوسرے سفارت کاروں کی طرح کوئی غیر معمولی اور قابلِ اطمینان قرار نہیں دی جاسکتی، لیکن منیر اکرم بھی اس سے قبل پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں اور ایک خاتون کے ساتھ تعلقات کے مشتبہ الزام کے تحت پاکستان کے لیے بد نامی اور شرمساری کا باعث بن چکے ہیں۔ ان کے بارے میں سوشل میڈیا پر قادیانی ہونے کا الزام بھی لگایا جا رہا ہے۔ ایسے میں اس اچانک اور عجلتی فیصلے کا بظاہر کوئی فائدہ سامنے نہیں آرہا۔ البتہ عمران خان کے فیصلوں کے بارے میں ایک اور خراب تاثر پیدا ہونے کا امکان ہے۔ پارلیمانی کمیٹی میں ارکانِ اسمبلی کی شکایات نے عمران خان کو اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے بلا سوچے سمجھے کابینہ میں تبدیلی اور نااہل وزرا کو فارغ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، لیکن اگر اس حقیقت کو پیش نظر رکھا جائے کہ پنجاب اور کے پی کے کے وزرائے اعلیٰ اور کابینہ کے ارکان کا تقرر عمران خان نے خود کیا ہے اور آج تیرہ ماہ بعد بھی عمران خان کی ان تقرریوں کی حکمت و افادیت لوگوں کو سمجھ نہیں آسکی کہ عثمان بزدار جیسے شخص کو جو سیاست کے میدان میں ایک بالک نو آموز کھلاڑی ہے۔ پنجاب جیسے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانا جو پنجاب کابینہ کے منھ زور اور شاطر کھلاڑیوں کے سامنے بالکل ناتجربہ کار اور سیاسی کھیل سے بالکل نا بلد ہے۔ آخر عمران خان کو اس تقرری پر کیسے داد دی جا سکتی ہے؟ اور عثمان بزدار کی نا اہلی سے جو مسائل پیدا ہورہے ہیں، اس کی ذمہ داری سے عمران خان کیسے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
وزیر اعلیٰ محمود خان اور عثمان بزدار کی تقرری سے جو تاثر اُبھرتا ہے، وہ یہ ہے کہ عمران خان دونوں اہم صوبوں کے لیے ایسے چیف منسٹر چاہتے تھے جو ان کی ہدایات اور احکامات کے مطابق کام کریں۔ اور آگے سے کوئی چوں چرا اور مطالبہ نہ کر سکیں۔ بس یہی ایک حکمت سامنے آتی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں وزرائے اعلیٰ کی تیرہ ماہ کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔
اسی طرح صوبائی کابینہ کے ارکان کی تقرری ہے۔ وزیرِ صحت کی کارکردگی کے نتیجے میں صحت کا پورا شعبہ اتنا متاثر ہوا کہ آج پورے صوبے کے ہسپتالوں میں عام لوگوں کے لیے صحت کی سہولیات ختم ہوگئی ہیں۔ ڈاکٹروں کو بے رحمانہ انداز میں بے دردی کے ساتھ مارا پیٹا گیا اور نتیجے میں پورے صوبے کا طبی عملہ ہڑتال پر چلا گیا۔
نظامِ تعلیم کی صورت حال یہ ہے کہ روز نئے نئے منصوبے اور پروگرامات سامنے لائے جا رہے ہیں۔ اساتذہ میں بددلی، مایوسی اور حکمرانوں کے خلاف غم و غصے نے ماحول کو انتہائی خراب اور پراگندہ کر رکھا ہے۔ نئی بھرتیوں کے لیے ٹیسٹنگ ایجنسیوں کی کارکردگی ہر محفل میں زیرِ بحث ہے۔ ایک تو یہ کہ اگر محکمۂ تعلیم اتنا نا اہل، نکما اور صلاحیت سے عاری ہے کہ اپنے محکمے کے لیے بھرتی ٹیسٹ بھی تشکیل نہیں دے سکتا، اور ایجنسیوں کے ذریعے امیدواروں سے لاکھوں روپے فیس کی مدمیں وصول کرکے ٹیسٹ میں کوئی نہ کوئی گھپلا، اور فراڈ سامنے آکر ٹیسٹ منسوخ کر دیا جاتا ہے۔
بلدیاتی امور کی وزارت کی کارکردگی کا یہ حال ہے کہ کل ہی الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت پر الزام لگایاہے کہ صوبائی حکومت بلدیاتی الیکشن سے فرار چاہتی ہے اور تاخیری حربے استعمال کرکے اس الیکشن کو التوا کا شکار بنانا چاہتی ہے۔ حالاں کہ مقررہ دنوں میں بلدیاتی الیکشن ایک دستوری اور آئینی تقاضا ہے۔ وزیرِ زراعت (ماشاء اللہ) مختلف عوامی تقریبات میں عوام کو خوش کن خوشخبریاں ضرور سناتے ہیں، لیکن کسی قسم کی عملی کارکردگی سامنے نہیں آسکی۔
دراصل تمام حکومتی امور و معاملات بیورو کریسی اپنی صواب دید پر اور طریقِ کار کے مطابق چلاتی ہے۔ عوامی نمائندے اپنے پورے دورانیے میں اپنے حلقے کے عوام کو ترقیاتی سکیموں کے ذریعے مطمئن کرنے کے لیے عوام کی غمی شادی میں شرکت کرتے ہیں اور آئندہ الیکشن جیتنے کے لیے جھوٹے بیانات پر وقت گزاری کرتے ہیں۔
صرف تحریک انصاف نہیں بلکہ نواز زرداری پارٹیوں کا بھی یہی حال ہے۔ نہ ان کے پاس اہل، با صلاحیت اور دیانت و امانت، خوفِ خدا اور احساسِ ذمہ داری رکھنے والے افراد ہیں، اور نہ یہ لوگ اس قسم کے افراد کو آگے آنے کا موقعہ ہی دیتے ہیں۔ بس اپنی سیاسی ضرورت اور اسمبلیوں میں عددی اکثریت حاصل کرنے کے لیے جو افراد بھی میسر ہوں، ان سے کام لیا جاتا ہے۔
اگر ہم اس وقت عمراں خان کی کابینہ کا جائزہ لیں، تو اس میں ہمیں وہی پرانے چہرے نظر آتے ہیں جو اس سے پہلے نواز، زرداری اور مشرف دورِ حکومت میں کابینہ کے ارکان ہوا کرتے تھے۔ یہ غلام سرور اعوان، زبیدہ جلال، خسرو بختیار، عمر ایوب، اعجاز شاہ، شاہ محمود قریشی، فردوس عاشق اعوان، حفیظ شیخ غرض کتنے گناؤں جو اس سے پہلے ناکام و نامراد حکومتوں کا حصہ بن کر رہے ہیں۔ یہ ق لیگ کے چوہدری پرویز الٰہی، یہ شیخ رشید وغیرہ آخر ان لوگوں کو کیوں وزارتوں کی ذمہ داریاں سونپی گئیں؟ جن کے بارے میں عمران خان چور، ڈاکو اور لٹیرے کے الفاظ استعمال کرتے تھے۔
بحیثیتِ پارٹی تحریک انصاف کا یہ حال ہے کہ وہ کارکن جو ایک سو چھبیس دن تک ڈی چوک اسلام آباد میں ناچتے گاتے رہے، وہ کہاں گم ہوگئے؟ یہ لو گ تو سوشل میڈیا کے علاوہ معاشرے میں کہیں بھی نظر نہیں آتے۔ پارٹی کا تو مطلب یہ ہے کہ پارٹی ارکان و کارکنان اپنے عوامی نمائندوں کی کارکردگی پر نظر رکھیں۔ انتظامیہ کے ساتھ میل ملاپ کے ذریعے عوامی مسائل حل کرائیں۔ ہمارے تقریبا تمام سیاست دانوں کا یہ انداز ہے کہ ان کو عوامی ووٹ کے حصول کے لیے مہمات اور کیمپین چلانے کا تو تجربہ ہوتا ہے۔ حکومت تشکیل دینے کے لیے جوڑ توڑ اور ارکان کی خرید وفروخت کے تو یہ ماہر ہوتے ہیں۔ اقتدار کے حصول کے لیے جھوٹے پروپیگنڈے اور عوام کو دھوکا اور فریب دینے کے لیے بلند بانگ دعوے کرنے میں ان کو خصوصی ملکہ حاصل ہوتا ہے۔ لیکن آئین اور دستور کیا کہتا ہے، ملکی بقا اور سالمیت کے تقاضے کیا ہیں، اندرونی اور بیرونی خطرات کیسے اور کتنے ہیں، معیشت کی بحالی کے لیے کیا اقدامات ہونے ضروری ہیں، ملک میں امن و امان، تعلیم و صحت اور روز مرہ کے مسائل کیا ہیں؟ ان سے ان نام نہاد سیاست دانوں کا نہ کوئی تعلق ہوتا ہے، اور نہ ان مسائل کے حل کی اہلیت و صلاحیت ہی ہوتی ہے۔
سالانہ بجٹ ہر سطح پر بیوروکریسی بناتی ہے۔ صرف ایک وزیرِ خزانہ یا وزیرِ مملکت اس کو اسمبلی میں پڑھ کر سناتا ہے۔ معاشی اعداد و شمار سٹیٹ بینک پیش کرتی ہے۔ تجارتی امور اور بیرونی ملکوں کے ساتھ درآمد برآمد کا کام بھی وزارتِ خزانہ کے منشی کرتے ہیں۔ بیرونی سفارت کاری اور تعلقات کا پورا شعبہ بھی سیکرٹری وزارتِ خارجہ کا دردِ سر ہے۔ وزیرِ خارجہ کا کام محض رونمائی، فوٹو سیشن اور سیرو تفریح پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں گڈ گورننس کیسے قائم ہوگی؟ مسائل کیسے حل ہوں گے؟
آج کل صورت حال یہ ہے کہ ہر ادارہ جو عوام کو کوئی بھی سروس مہیا کرتا ہے، بجائے محکمہ کے ایک گینگ اور مافیا بنا ہوا ہے۔ ہر ادارے کے ملازمین نے اپنے تحفظ اور جرائم کی سزا سے محفوظ رہنے کے لیے ایسوسی ایشنز اور یونینز بنا رکھی ہیں۔ اول تو آپ کے پاس ان کو قابو کرنے، اپنی حد میں رکھنے، اپنے فرائض انجام دینے کے لیے کوئی مشینری ہی نہیں۔ اینٹی کرپشن کا ادارہ خود کرپشن اور بد عنوانی کا شکار ہو چکا ہے۔ ایف آئی اے قوم کے مسائل کے لیے نہیں اپنے مسائل حل کرنے کا ادارہ ہے۔ پولیس کے بارے میں اگر یہ کہا جائے، کہ یہ ادارہ تقریباً ساٹھ فیصد مسائل اور مشکلات کا باعث ہے، تو غلط نہیں ہوگا۔ ان تک عوام کی رسائی مشکل نہیں بلکہ ناممکن بنا کر رکھ دی گئی ہے۔ اپنے تھانوں اور دفاتر کو انہوں نے محفوظ قلعوں میں تبدیل کیا ہے۔
اگر یہ صورت حال ہے، تو تحریکِ انصاف کی عمرانی حکومت کتنے دن چلے گی؟ کیا مقتدر حلقے اس صورت حال سے بے نیاز اور اپنے حال میں مست ہیں؟
کیا اکتوبر یا نومبر میں جے یو آئی کا آزادی مارچ کچھ نتائج مرتب کرے گا؟
قوم اپنے متعصب ہندو ہمسائے کے جارحانہ انداز، ایک کروڑ کشمیریوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک، افغانستان، ایران اور خلیجی صورت حال کے نتیجے میں انتہائی خطرات سے دوچار ہے۔ کیا ایسے میں عمران خان کا جارحانہ انداز، قوم کی تفریق و تقسیم اور اندرونی خلفشار ہمارے لیے مناسب اور موزوں ہے؟
کیا ان حالات میں اتحاد و اتفاق اور قومی یک جہتی کے فروغ کے لیے پوری قوم کو ایک پیج پر ہونا ضروری نہیں۔

………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے