242 total views, 1 views today

نوبل انعام یافتہ سائنس دان البرٹ آئین سٹائن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کند ذہن بچہ تھا، لیکن اُس کی ماں نے اُسے نوبل انعام کا حق دار اور بیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنس دان بنا دیا۔
قارئین! اِس بات کے پیچھے ایک کہانی ہے۔ وہ کہانی کچھ یوں ہے کہ بچپن میں البرٹ آئن سٹائن کو اُستاد نے سکول میں ایک خط دے کر اُسے اپنی ماں کو دینے کا کہا۔ خط میں لکھا گیا تھا کہ البرٹ ایک کند ذہن اور شیطان بچہ ہے، اور ہم اُسے اپنے سکول میں مزید نہیں رکھ سکتے۔ خط پڑھ کر اُس کی ماں رو پڑی۔ البرٹ کے پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ اُستاد کہہ رہے ہیں کہ آپ کا بیٹا انتہائی لائق ہے، اور ہمارے سکول میں پڑھنے کے بجائے اِسے کسی اور اچھے سکول میں بھیجا جائے۔ سکول تبدیل کیا گیا اور کئی ناکامیوں کے بعد البرٹ بڑا سائنس دان بن کر فزکس نوبل انعام جیتنے میں کامیاب ہوا۔
اگر البرٹ کی ماں بھی ہمارے معاشرے کے اکثر والدین کی طرح ہوتی، تو خط پڑھنے کے بعد اپنے بیٹے پر برس پڑتی کہ نالائق آپ کی وجہ سے ہمیں یہ باتیں سننے کو مل رہی ہیں، اور آپ کی نالائقی کی وجہ سے آپ کو سکول سے نکال دیا گیا، لیکن البرٹ کی ماں نے بیٹے کو سچ بتا کر اُس کا حوصلہ توڑنے نہیں دیا، بلکہ اُلٹا جھوٹ بول کر اُس کا حوصلہ اور بھی بلند کردیا جس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ لگ بھگ 135 سال پُرانی اِس کہانی میں رد و بدل ضرور کی گئی ہوگی، لیکن اِس میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق موجود ہے کہ اگر بچہ کند ذہن ہے، اور سکول کا روائتی سبق سیکھنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا، تو اِس میں بچے کی کوئی غلطی نہیں۔ کیوں کہ کسی کی روائتی ذہانت میں اُس شخص کا کوئی کمال نہیں ہوتا، بلکہ قدرتی طور پر اُس کی جینز میں یہ خصوصیت اُس کو ملتی ہے۔ اس لیے کسی بھی شخص اور خصوصاً بچے کو اُس کی قدرتی کمزوری پر قصوروار یا سزاوار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔
کہانی میں ہمارے لیے دوسرا سبق یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی صورت میں اپنے بچے کا حوصلہ توڑنے نہیں دینا چاہیے۔ اگر بچہ کسی ایک میدان میں ناکام ہوجائے، تو اِس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ زندگی کے ہر میدان میں ناکام ہوگا۔ ہمیں ہر قیمت پر اپنے بچوں کو حوصلہ دینا چاہیے اور اُس کی کامیابی کے سفر میں اُس کے مددگار کی حیثیت سے کام کرنا چاہیے۔
ہمارے ہاں ایک اور عام رجحان یہ بھی ہے کہ ناکامی کو ایک بہت بڑا داغ تصور کیا جاتا ہے، اور کسی کی ناکامی پر اُس کو بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی بھی کسی بھی کام میں ناکامی سے دوچار نہیں ہونا چاہتا، بلکہ اُسے مختلف عوامل کی وجہ سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ناکامی کی صورت میں ناکامی کے عوامل پر ضرور غور کرنا چاہیے، تاکہ اگلی دفعہ اُس کو دور کرنے کی کوشش کرکے مطلوبہ کامیابی حاصل کی جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ناکامی، کامیابی کی طرف پہلی سیڑھی کا کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کوئی بچہ گرے بغیر چلنا نہیں سیکھ سکتا، تو وہ ناکام ہوئے بغیر زندگی میں کامیاب کیسے ہوسکتا ہے؟ بچہ عموماً پانچ سے چھے گھنٹے سکول میں گزارتا ہے اور باقی ماندہ وقت سکول کے باہر یعنی گھر اور گلی محلے میں گزارتا ہے، لیکن پھر بھی اکثر بچے کی ناکامی کا ذمہ سارا سکول اور تعلیمی ماحول کو گردانا جاتا ہے۔ ظاہری بات ہے کہ تعلیمی ماحول بچے کی ناکامی اور کامیابی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن سکول سے باہر خصوصاً گھر کے ماحول کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کیوں کہ یہ بھی بچے کی کامیابی اور ناکامی میں بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ اگر تعلیمی ماحول اچھا نہیں اور یا بچہ کمزور ہے، تو پڑھے لکھے والدین دونوں کمیوں کا اچھے طریقے سے اِزالہ کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ والدین ہی بچے کے پہلے اور آخری استاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بچے کے ساتھ زیادہ وقت والدین کا ہی گزرتا ہے۔ اگر گھر کا ماحول خراب ہے، تو ذہانت کے باوجود بچہ ناکامیوں سے دوچار ہوسکتا ہے، اور اگر گھر کا ماحول اچھا ہو، تو تمام کمزوریوں کے باوجود بچہ اچھے نتائج دینے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ ذیل میں بچے کی اچھی تربیت اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے کچھ طریقے بیان کیے گئے ہیں، ملاحظہ ہوں:
٭ کسی بھی کام کرنے سے پہلے بندہ اُس کے مقصد اور اہمیت پر غور کرتا ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ سب سے پہلے اپنے بچے کو تعلیم کا مقصد اور اہمیت سمجھائے۔ کیوں کہ تعلیم کا مقصد سمجھے بغیر بچے کو تعلیم کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوگا اور نتیجتاً اُس کا تعلیم حاصل کرنے کا شوق اور حوصلہ کم ہوگا۔ اگر بچہ اتنا سمجھ دار نہیں کہ یہ پیچیدہ باتیں سمجھ لے، تو والدین کو چاہیے کہ تعلیم کی موضوع پر بچے کے ساتھ کوئی بھی بات کریں، جس سے بچے کو کچھ نہ کچھ تعلیم کی اہمیت اور مقصد کا اندازہ ہو۔ بچے کو تعلیم کے فائدوں اور جہالت کے نقصانات سے بھی آگاہ کرنا چاہیے۔
٭ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچے کے اساتذہ کے ساتھ ملا کریں، تاکہ والدین کو اپنے بچے، اُس کے اساتذہ اور سکول کے ماحول کے بارے میں پتا چلے اور بچے کی کارکردگی کا اچھی طرح جائزہ لیا جا سکے۔ اس سے یہ فائدہ بھی ہوگا، کہ اساتذہ کو بھی بچے کے بارے میں پورا پتا چلے گا، جو کہ بچے کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ کسی بھی ایسی تقریب میں جانے کا موقعہ ضائع نہ کریں جہاں والدین کو بلایا گیا ہو۔ کیوں کہ اِس سے ایک تو بچے کو حوصلہ افزائی ملتی ہے اور دوسرا والدین کو اپنے اور دوسرے بچوں کے بارے میں بھی پتا چل جاتا ہے۔
٭ بچوں کے سیکھنے کے عمل میں بہت ساری مخصوص نفسیاتی بیماریاں یا کمزوریاں حائل ہو سکتی ہیں جن کو نفسیات کی زبان میں سیکھنے کی بیماریاں یا لرننگ ڈیس ایبیلیٹیز کہا جاتا ہے۔ اگر والدین کو پتا چلے کہ بچے میں کوئی جسمانی، ذہنی کمزوری یا بیماری ہے اور اس لیے وہ مطلوبہ نتائج نہیں دے پا رہا، تو سب سے پہلے اُس کمزوری یا بیماری کا علاج کرنا چاہیے، یا اُس بیماری کو مدِنظر رکھ کر بچے سے توقعات رکھنی چاہئیں ۔
٭ والدین کو چاہیے کہ بچے کے ہوم ورک یعنی گھر میں کیے جانے والے سکول کے کام کے متعلق پوچھیں اور سکول کا کام کرنے میں بچے کی مدد کریں۔ اگر بچے کا کوئی ٹیسٹ آرہا ہو، تو اُس کی تیاری میں بھی بچے کی مدد کریں۔ اس سے بچے کے ذہن پر سے دباؤ کم ہوگا اور وہ آسانی سے تیاری کرسکے گا۔
٭ والدین کو چاہیے کہ بچے کے موبائل، کمپیوٹر اور گیمز وغیرہ پر نظر رکھیں، تاکہ ایسا نہ ہو کہ بچہ یا تو حد سے زیادہ وقت اِن چیزوں کے استعمال پر صرف کرتا ہو، اور یا ایسے مواد کا سامنا کر رہا ہو، جو اُس کی عمر کے حساب سے مناسب نہ ہو۔ کیوں کہ ایسی صورتوں میں بچے کے ذہن پر خطرناک اثرات پڑ سکتے ہیں۔
٭ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچے کی ہر اچھے کام میں حوصلہ افزائی کریں، اور اسے اچھے کام کرنے کی ترغیب دیں، جیسے کہ کتابیں پڑھنا، لائبریری جانا، بڑوں کے ساتھ مختلف موضوعات پر بات کرنا، اپنے کام خود کرنا، نئی چیزوں بارے جاننا، مختلف تجربے کرنا وغیرہ۔
٭ بچوں میں موجود کسی ایک کمزوری کے مقابلہ میں اُس میں کئی اور خوبیاں موجود ہوتی ہیں۔ اوپر بیان کیے گئے طریقوں سمیت ایسے بہت سارے طریقے استعمال کرکے والدین اپنے بچوں کو معاشرے کا ایک مفید اور کامیاب فرد بنا سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ بچے کی کسی کمزوری کو اُس کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہ سمجھا جائے، اور بچے کی ساری ذمہ داریاں صرف اساتذہ اور سکول پر نہ ڈالی جائیں ۔

………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے