203 total views, 1 views today

وزیر اعظم عمران خان نیازی اقتدار میں آنے سے پہلے 22 سال تک لوگوں کو یہ بارو کراتے رہے کہ اس ملک کو برسرِ اقتدار رہنے والے ہر حکمران نے لوٹا ہے۔ جس کے سبب غریب، غریب تر اور امیر، امیر تر ہو رہا ہے۔ یہاں بڑے چور تو آزاد پھرتے ہیں لیکن چھوٹے چوروں کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ لمبے ہاتھ رکھنے والے جاگیرداروں، سرمایاداروں، کارخانہ داروں، دوستوں اور رشتہ داروں کو اربوں روپے کے قرضے معاف کیے جاتے ہیں، طبقۂ اشرافیہ اور سرمایا دار کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتا جب کہ جاگیرداروں کو ٹیکس سے چھوٹ دے دی جاتی ہے۔ حکمرانوں نے اداروں کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ ناجائز کمائی اور ٹیکس چوری کرنے والوں کے لیے ایمنسٹی سکیمیں لائی جاتی ہیں۔ حکمران پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرکے اپنی جیبیں بھرتے ہیں۔ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال اور قرض پر قرض لے کر اپنی عیاشیوں پر خرچ کرتے رہے ہیں۔
قارئین، وزیر اعظم عمران خان نیازی ہر انتخابی مہم میں یہی رونا روتے ہوئے عوام سے وعدہ کرتے رہے کہ اقتدار میں آکر وہ بڑے بڑے چوروں کو جیل میں ڈال کر ان سے قومی خزانے کی لوٹی ہوئی ایک ایک پائی وصول کریں گے۔ قرضے معاف کرانے والوں سے قرضے واپس وصول کریں گے۔ ٹیکس نیٹ ورک میں اضافہ کرکے سرمایا داروں، جاگیر داروں، کارخانہ داروں اور طبقۂ اشرافیہ سے پورا پورا ٹیکس وصول کریں گے۔ سرکاری اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرائیں گے۔ مالیاتی اداروں اور آئی ایم ایف سے قرض نہیں لیں گے۔ ایمنسٹی سکیموں کو مسترد کریں گے۔ سکیم سے فائدہ اُٹھانے والوں کی تحقیقات کریں گے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے حکمرانوں کا احتساب کریں گے۔
عوام بھی ڈُگڈُگی بجانے والے اور فصلی بیٹر نما سیاست دانوں سے تنگ آچکے تھے۔ وہ کسی نجات دہندہ کی راہ تھک رہے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان کے ماضی کو دیکھتے ہوئے ظلم کی چکی میں پسے ہوئے عوام نے ان پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے 2018ء کے قومی الیکشن میں انہیں ایوانِ اقتدار تک پہنچایا۔ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار میں دوسرے ڈھیر سارے مسائل کے علاوہ کمزور معیشت ورثے میں ملی۔ آپ معاشی استحکام کے لیے اقدامات کرتے رہے، لیکن اسے لانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ ناکامی کے بعد ہمت ہار کر وہ بھی وہی کچھ کرنے لگے جو ماضی کے حکمران کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں ماضی کے حکمرانوں کی معاشی ٹیم کو اپنی ٹیم بنا لیا۔ ناجائز دولت کمانے اور ٹیکس چوروں کے کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے ایمنسٹی سکیم پیش کی۔ اب یہ معلوم نہیں کہ سکیم سے قومی خزانے کو کتنا فائدہ پہنچا اور ناجائز کمائی کرنے والوں کو کتنا فائدہ ہوا؟
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین اور آئی ایم ایف سے سخت شرائط اور بھاری سود پر اربوں ڈالر قرضہ بھی لیا۔ وزیر اعظم عمران خان کا سب زیادہ قابلِ تنقید اقدام ٹیکس چوروں، ٹیکس نادہندگان کی 208 ارب روپے کی معافی کا ہے۔ یہ جو پاکستان کی اشرافیہ کے ایک مخصوص طبقے کو قرض معاف کیا گیا ہے، وہ کوئی غریب افراد تو ہیں نہیں۔ سب کے سب ارب پتی ہیں۔ جن کو قرضہ معاف کیا گیا ہے، ان کا تعلق پاؤر سیکٹر، سی این جی، کھاد، جنرل انڈسٹریز اور ٹیکسٹائل کی صنعت سے ہے۔ جن افراد یا کمپنیوں کو قرضہ معاف کیا گیا ہے، انہوں نے یہ 208 ارب روپے اپنے صارفین سے وصول کیے ہیں، لیکن قومی خزانے میں جمع نہیں کرائے۔ جو رقم قومی خزانے میں جمع کرانی تھی، اور وہ جمع نہیں کرائی گئی، تو ان سے وصولی کس کی ذمہ داری تھی؟ اور انہوں نے اپنی ذ مہ داری کیوں کر پوری نہیں کی؟ جن سرکاری اہلکاروں نے رقم کی وصولی میں غفلت کا مظاہرہ کیا، ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی بھی گئی یا نہیں؟
قارئین، تبدیلی سرکار نے غریب عوام سے وصول کیے گئے 208 ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کو معاف کرانے کے لیے باقاعدہ صدارتی آرڈیننس جاری کیا۔ حکومت کو قرضہ معاف کرانے کے لیے قومی اسمبلی کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ کیوں کہ ان بااثر افراد کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ وہ گذشتہ حکومتوں میں بھی قرضے معاف کرواتے رہے ہیں، اور آج بھی اپنے قرضے معاف کرواکے ہی دم لیا۔
قارئین، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نیازی کو میڈیا کے توسط سے معلوم ہوا کہ حکومت نے بااثر افراد کو اربوں روپے معاف کیے ہیں۔ عمران خان نے وزارتِ خزانہ سے تفصیلات طلب کیں۔ تفصیلات دیکھنے کے بعد انہوں نے عوام کو نوید سنائی کہ اس سلسلے میں حکومت سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ اب یہ سپریم کورٹ پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے؟ لگتا تو یہی ہے کہ قانونی پیچیدگیوں کے سبب فیصلہ حکومت کے خلاف ہی آئے گا۔ تبدیلی سرکار کو چاہیے کہ ان افراد کے نام مشتہر یا شائع کرے کہ کس نے قومی خزانے کو کتنا چونا لگایا؟
تحریک انصاف کے بعض مخلص کارکن حکومت کے قرضہ معاف کرانے کے اقدامات کی حمایت میں دور کی کوڑیاں لاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ حکومتوں نے رقم وصول کرکے انفراسٹرکچر کا کام نہیں کیا، تب موجود حکومت کو یہ اقدام اُٹھانا پڑا۔ اگر قرضہ معافہ کرانا اتنا ہی ضروری تھا، تو قومی اسمبلی میں بل پیش کرکے اولاً عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لیا جاتا، ثانیاً رقم ہڑپ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی، لیکن حکومت نے اسمبلی کو بائی پاس کرکے جلدی میں صدارتی آرڈ یننس جاری کرکے قرضے معاف کروائے۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس حوالہ سے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟؟؟

……………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے