669 total views, 2 views today

جب میں نفسیات میں گریجویشن کرنے کے بعد ایم فیل میں داخلہ لینے کے لیے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی گیا، تو میرے پاس تعلیمی نفسیات اور کلینکل نفسیات میں سے ایک کے انتخاب کا موقعہ تھا۔ چوں کہ میں پہلے سے تعلیمی نفسیات پڑھنا چاہتا تھا، اس لیے مَیں نے بغیر سوچے تعلیمی نفسیات کا انتخاب کیا۔ انٹرویو میں مجھ سے پوچھا گیا کہ ’’پاکستان میں تو زیادہ مانگ کلینکل نفسیات کی ہے، کیا وجہ ہے کہ آپ پھر بھی تعلیمی نفسیات پڑھنا چاہتے ہیں؟‘‘ مَیں نے وضاحت کے لیے ایک مثال پیش کی کہ کسی بھی میدان میں ہاتھی اور چیونٹی کا مقابلہ کرانے والوں کو بے وقوف سمجھے جائے گا۔ کیوں کہ ہاتھی اور چیونٹی میں مقابلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دونوں کی دوستی اور دشمنی کے قصے صرف لطیفوں میں اچھے لگتے ہیں، اصل زندگی میں نہیں۔ دوسری طرف ہم اپنے تعلیمی ماحول میں ایک ہی کلاس میں پڑھے والے طالب علموں میں ہاتھی اور چیونٹیوں کی جسم کی طرح ذہنی قوت رکھنے والے طالب علموں کا مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی زیادتی نے مجھے مجبور کیا کہ میں تعلیمی نفسیات پڑھوں اور پھر اِسی شعبے میں کام کروں۔
جہاں تک مجھے لگا میرے جواب نے سوال کرنے والوں کو متاثر کیا تھا۔
قارئین، آپ لوگ شائد میرے جواب سے اُلجھن کا شکار ہوگئے ہوں گے! میرے بتانے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہاتھی اور چیونٹی کی جسامت میں زمین آسمان کا فرق ہے، ٹھیک اُسی طرح انسانوں کی ذہنی قوت یا ذہانت میں بھی فرق ہوسکتا ہے۔ جس چیز کو ہم عام زبان میں ذہانت کہتے ہیں، اُس کے ماپنے کے لیے مختلف طریقے اور ٹیسٹ استعمال ہوتے ہیں اور وہ انسان کے مختلف قسم کی ذہانتوں کو ماپتے ہیں۔ کیوں کہ ذہانت ایک چیز کا نام نہیں بلکہ اس کی مختلف اقسام ہوتی ہیں، جیسے کہ تعلیمی ذہانت، موسیقی کی ذہانت، منطقی ذہانت، شخصی ذہانت، حساب کتاب کی ذہانت وعلیٰ ہذا القیاس۔ چوں کہ ہمارے تعلیمی نظام ڈھیر سارے مسائل کا شکار ہے، اور یہ مسئلہ بھی نظامِ تعلیم کی خرابی کا نتیجہ ہے، لیکن چوں کہ نظامِ تعلیم تبدیل کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ یوں اس کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے والدین کو اپنا کردار ادا کرکے اپنے بچوں کی زندگی آسان کرنا ہوگی۔
ہم لوگ عام طور پر پڑھائی میں قابل بچوں اور امتحانات میں اچھے نمبروں سے پاس ہونے والے بچوں کو ذہین کہتے ہیں، اور باقی قسموں کی ذہانت کو یا تو جانتے نہیں اور اگر جانتے بھی ہیں، تو اُس کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے، لیکن یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ یہاں مَیں جس مسئلے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اگر ہم کسی بچے کی جسمانی کمزوری کو قبول کرتے ہیں اور اُس سے اُس کی جسامت کے لائق کام لیتے ہیں، اُس سے اس کی جسامت اور طاقت کے مطابق توقعات رکھتے ہیں، تو ٹھیک اُسی طرح اُس کی ذہانت کو پیشِ نظر رکھ کر اُس سے اُسی تناسب سے توقعات رکھنے چاہئیں، اور اُتنا ہی کام لینا چاہیے۔ مثلاً اگر ہم ایک پہلوان بچے کو ایک کمزور بچے کے ساتھ پہلوانی نہیں کرنے دیتے، تو ہم کیسے ایک ذہنی پہلوان بچے کو ایک ذہنی طور پر کمزور بچے کے ساتھ پڑھائی کے میدان میں مقابلہ کرنے دیتے ہیں، اور اُس سے پہلوان سے جیتنے کی توقع بھی رکھتے ہیں!
ذہانت ماپنے کے عالمی معیار کو ’’انٹیلی جنس کوشنٹ‘‘ یا ’’آئی کیو‘‘ کہا جاتا ہے، جو انسان کی طبعی عمر اور ذہنی عمر کے حساب سے معلوم کیا جاتا ہے۔ اس کا احاطہ صفر سے لے کر 160 اور اُس سے بھی اوپر تک ہے۔ ہر بندہ اپنی ذہانت کے حساب سے چیزوں کو دیکھتا ہے، اور ذہانت ہی کے حساب سے نتائج اخذ کرتا اور دیتا ہے۔ یہی مثال تعلیمی ماحول میں بچوں کی ہے جو اپنی ذہانت اور محنت کے حساب سے پڑھائے ہوئے سبق سے استفادہ کرتے ہیں، اور مطلوبہ نتائج دیتے ہیں۔ اس لیے بچوں سے نتائج کی توقع کرتے وقت اُن کی ذہنی استعداد کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
اگر ہم ایک بچے سے اُس کی ذہنی طاقت سے زیادہ نتائج حاصل کرنے کی توقع کریں گے، تو غالب امکان ہے کہ بچہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہوگا جس کے بہت سارے نقصانات سامنے آئیں گے، جیسے کہ امتحان کا حد سے زیادہ دباؤ، پڑھائی پر حد سے زیادہ یا انتہائی کم وقت اور توانائی خرچ کرنا، اگلے امتحانات میں بہت ہی خراب نتائج، مختلف نفسیاتی مسائل، اساتذہ اور والدین سے بے رُخی اور نفرت، پڑھائی میں دلچسپی ختم ہونا، زندگی سے دلبرداشتہ ہونا، غلط لوگوں سے میل جول شروع کرنا وغیرہ۔ ایک تحقیق کے مطابق مجموعی طور پر دنیا کے 8 فی صد بچوں میں “Anxiety” پائی جاتی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ تعلیمی ماحول کا دباؤ ہے۔
اپنے بچوں کی ذہانت، صلاحیت اور طاقت کو مدِنظر رکھ کر اُن سے توقعات رکھنی چاہئیں۔ کیوں کہ ضروری نہیں کہ کسی بچے کے امتحان کا نتیجہ اُس کے مستقبل کی نشان دہی کرے۔ بہت سارے ایسے بچے جن کو ماضیِ قریب میں والدین اور اساتذہ نے کند ذہن قرار دیا تھا، آج وہ بڑے بڑے کارنامے انجام دے چکے یا دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم البرٹ آئین سٹائن کی مثال لے سکتے ہے جن کو کند ذہن قرار دے کر سکول سے نکالا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ بیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنس دان بنا اور فزکس میں نوبل انعام لینے کا حقدار ٹھہرا۔
قارئین، حاصل نشست یہی ہے کہ اگر کوئی بچہ ایک قسم کی ذہانت نہیں رکھتا، تو غالب امکان ہے کہ وہ دوسری طرح کی ذہانت کا حامل ہو اور وہ اُسی میدان میں کامیابی حاصل کرسکتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اُسے اُس طرف متوجہ کیا جائے، اور اُسی میدان میں اُس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس لیے تمام والدین سے گذارش ہے کہ اپنے بچوں کی کمزوریوں اور صلاحیتوں کی اچھی طرح نشان دہی کریں، اور پھر کمزوریوں پر محنت کرتے ہوئے دور یا کم کرنے کی کوشش کریں۔ ساتھ ساتھ ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اُنہیں ایک کامیاب فرد بنا کر معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے تیار کرنا چاہیے۔

…………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے