137 total views, 18 views today

ذہنی معذور صلاح الدین کے مبینہ طور پر پنجاب پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کے بعد پولیس کے معذور نظامِ انصاف کے ہاتھوں دل برداشتہ عوام کا پیمانۂ صبر لبریز ہوا چاہتا ہے۔ صلاح الدین کی بینک کے اندر منھ چھڑاتے ہوئے کیمرے کی طرف دیکھنے والی تصویر جب احتجاجاً سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی، تو حضرتِ جون ایلیاؔ کا اک شعر ذہن میں گردش کرنے لگا کہ
اِک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش، اس زباں دراز کا منھ نوچ لے کوئی
شاید پنجاب کی دبنگ پولیس نے نہ صرف اپنی دہشت اور خوف کو برقرار رکھا، بلکہ حضرتِ جون ایلیا کے ساتھ مکمل طور پر اتفاق کرتے ہوئے اس نظامِ عدل و انصاف کا منھ چھڑانے والے صلاح الدین کا نہ صرف منھ نوچ لیا، بلکہ اس کی بے قرار روح کو بدن کی قید سے آزاد بھی فرما دیا اور انہیں مملکتِ خداداد کے باقی ماندہ زبان درازوں کے لیے نشانِ عبرت بناتے ہوئے بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
قارئین، اس کے بعد مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر صلاح الدین کے لیے انصاف مانگنے والے بدستور نوحہ کناں ہیں، مگر جناب عمران خان صاحب ہیں کہ “سانحۂ ساہیوال” کے بعد قوم اب تک ان کی راہ تک رہہ ہے کہ وہ کب قطر سے واپس آکر پورے پنجاب پولیس کا ڈھانچا بدلنے کی سعی فرمائیں گے؟ کب پولیس کے اندر کالی بھیڑوں سے معصوم شہریوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے؟
کاش، اگر عمران خان صاحب سانحۂ ساہیوال میں ملوث افراد کو نشانِ عبرت بناتے، تو شائد معصوم ریحان جیسے اس ظالم نظام کے ہتھے چڑھنے سے بچ سکتے تھے۔ کاش، اگر ایک غریب نوجوان کوہستانی “مسکین” کے اندوہناک قتل کا ازخود نوٹس لیا جاتا، تو شاید صلاح الدین جیسے ذہنی معذور ریاستی جبر کا نشانہ بن کر ہمارے نظامِ انصاف کا منھ نہ چِڑھا پاتے۔
پنجاب پولیس کی بے رحمی تو دیکھیں کہ معصوم اور معذور صلاح الدین پر کسی قسم کے تشدد سے صاف انکاری ہیں۔ اور مجال ہے کہ کوئی ان سے ثبوت کا پوچھ بھی سکے! حضرتِ جون ایلیا ان جیسوں کے لیے ذکر شدہ غزل میں کیا خوب فرما گئے ہیں:
ہاں ٹھیک ہے میں اپنی اَنا کا مریض ہوں
آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی
تو بھئی ہے کسی کی مجال؟
اگر صلاح الدین ذہنی مریض تھے، تو پنجاب پولیس بھی اپنی انا کی بدترین مریض ہے۔ اس لیے صاحبانِ اقتدار و اختیار ان کے مزاج میں دخل نہیں دے سکتے۔ پنجاب پولیس کے جابرانہ نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے ایوان کے اندر بھی لوگوں کی زبانوں پر قفل پڑے ہیں، جنہیں عام آدمی ہی کھول سکتا ہے، زبردست احتجاج کا راستہ اختیار کرکے۔
قارئین کرام! بحیثیتِ ایک آزاد پاکستانی شہری ہم یہ بخوبی جانتے ہیں کہ اداروں کا نظام جتنا بھی جابرانہ ہو، عوامی طاقت کے آگے سب کچھ ہیچ ہے۔ جس طرح سے ہم نے اپنی دسترس میں موجود سوشل میڈیا کا سہارا لے کر مظلوم شہریوں کے لیے آواز بلند کی، اس مہم کو اسی طرح جاری رکھیں اور حوصلے پست ہونے نہ پائیں، جب تک حکمران، پنجاب پولیس کے اس اندھیرنگری چوپٹ راج والے نظام کا قلع قمع نہ کردیں۔ تب تک سکون سے نہیں بیٹھنا چاہیے جب تک پنجاب پولیس عوام کی خادم نہ بن جائے۔ حضرتِ جون ایلیا کے اس شعر کے ساتھ اجازت ہی چاہوں گا کہ
سینہ دہک رہا ہو تو کیا چُپ رہے کوئی
کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی

………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے