333 total views, 9 views today

میرا دوست فواد جو کہ دو مرتبہ ایٹا کے میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ میں ناکامی کا سامنا کرچکا ہے، اپنی کہانی بتاتا ہے کہ جب وہ دوسری مرتبہ ٹیسٹ میں ناکام ہوا، تو اپنے ایک رشتہ دار ڈاکٹر ذاکر کے ہاں خیبر میڈیکل کالج کے ہاسٹل سینا ہال گیا۔ فواد وہاں ڈاکٹر ذاکر کے ساتھ اپنے مستقبل کے بارے میں بحث کر رہا تھا کہ اِسی دوران میں ایک اور ڈاکٹر وہاں آکر بحث میں شامل ہوگیا۔ ڈاکٹر ذاکر نے اپنے ساتھی ڈاکٹر سے پوچھا کہ اگر ایک طالب علم دو مرتبہ میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ میں ناکام ہوجائے، تو اُس کو کیا کرنا چاہیے؟ اُس نوجوان ڈاکٹر نے دھڑلے سے جواب دیا کہ ’’خود کُشی۔‘‘
قارئین، ایک ڈاکٹر کی جانب سے وقتی طور پر ناکام طالب علم کو خود کشی کی ترغیب دینا انتہائی خطرناک بات ہے، لیکن میں اِس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا کہ ایک مسیحا کے ذہن میں کسی انسان کی جان اِتنی بے قیمت کیوں ہے؟ کیوں کہ میں اِس موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹری کا شعبہ کیوں اور کیسے اِتنا ’’گلورِفائی‘‘ ہوگیا ہے کہ ایک مسیحا اس میں داخلے کی ناکامی کا حل خودکشی بتاتا ہے؟ مَیں اِس موضوع پر بھی بات کرنا چاہوں گا کہ ہمیں اِس کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
کچھ دِن پہلے رواں سال کی ڈاکٹری کے لیے داخلے کا امتحان ہوا۔ مجموعی طور پر 43830 طلبہ نے امتحان میں حصہ لیا جو کہ خود ڈاکٹری کی طرف لوگوں کے رُجحان کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ 43830 میں سے صرف 17 فی صد طلبہ امتحان میں کامیابی کے لیے مطلوبہ نمبرات حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جس میں صرف 1028 یعنی 2.34 طلبہ ڈاکٹری میں داخلہ لینے کے مستحق ہوں گے۔ سننے میں آیا ہے کہ کئی طلبہ نے امتحان میں ناکامی پر خودکشی کی کوششیں بھی کی جس میں کچھ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بھی چکے ہیں۔ زندگی سے ہاتھ دھونے والے طلبہ بھی شاید اُسی ڈاکٹر کی طرح سوچ رکھتے تھے، یا شاید اُسی طرح کے کسی شخص سے صحبت رکھنے والے تھے اور یا اُن پر معاشرے اور والدین کی توقعات کا بوجھ حد سے زیادہ تھا۔ کیا اُس ڈاکٹر کی سوچ کے مطابق دوسری مرتبہ ناکام ہونے والے طلبہ کو خودکشی کرنی چاہیے؟ کیا ایک امتحان میں ناکامی کے دُکھ کے سامنے کسی کی جان بے قیمت ہوجاتی ہے؟
قارئین، خودکشی کا مسئلہ صرف ڈاکٹری کے امتحان تک محدود نہیں، بلکہ دوسرے امتحانات کے نتائج بھی اکثر طلبہ کو اس طرف راغب کرتے ہیں۔ گذشتہ سال انٹرمیڈیٹ کے نتائج کے بعد صرف چترال میں 4 طلبہ نے خودکشی کی تھی۔ ان چار طلبہ میں ایک طالب علم نے 81 فی صد نمبرات حاصل کیے تھے، لیکن زیادہ توقعات اور دباؤ کی وجہ سے وہ بھی اپنی زندگی کا چراغ گُل کر بیٹھا ۔
کراچی کے مختلف سکولوں کے طلبہ پر کی گئی آغا خان یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق نویں کلاس سے بارویں کلاس کے طلبہ و طالبات میں سے 58.54 فی صد طالب علموں میں خودکشی کے رجحانات پائے جاتے ہیں، جو کہ بہت خطرناک بات ہے۔
خودکشیوں کا رجحان نہ صرف ہمارے طلبہ پر دباؤ ظاہر کرتا ہے بلکہ دوسری طرف اِس سے طلبہ کی نفسیاتی صحت اور تعلیمی مقصد کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے۔ امتحان میں ناکامی پر خودکشی کا مطلب یہ ہے کہ طلبہ کا مقصد سیکھنا نہیں بلکہ معاشرے کے طے شدہ چند معیار اور مقاصد حاصل کرنا ہے۔
میرے خیال میں ڈاکٹری کی اتنی گلورِفائی ہونے کی تین وجوہات یعنی عزت، شہرت اور دولت ہے، جو کہ ہمارے معاشرے کی اہم ضروریات میں سے ہیں۔ ڈاکٹری کے شعبہ میں چوں کہ آمدن زیادہ ہوتی ہے، اور ڈاکٹری معاشرے میں عزت و شہرت کا سبب بھی بنتی ہے، اس لیے اس طرف لوگوں کا رجحان حد سے زیادہ ہوگیا ہے۔ اکثر والدین کی اولین خواہش ہوتی ہے کہ اُن کا بیٹا یا بیٹی ڈاکٹر بنے۔ والدین اور معاشرے کی توقعات کا بوجھ اِتنا زیادہ ہوتا ہے کہ اکثر طلبہ ناکامی کی صورت میں تعلیم اور حتیٰ کہ زندگی جیسی عظیم نعمت سے بھی دلبرداشتہ ہوجاتے ہیں۔
تفصیل میں جائے بغیر تمام لوگوں اور خاص کر والدین سے گذارش ہے کہ اپنے بچوں کو اِس پریشر کوکر میں ڈالنے کے بجائے اُن کی اچھی طرح تربیت کرکے سمجھانا چاہیے کہ کسی ایک امتحان میں ناکامی کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ ایک ناکام انسان ہے۔ کامیابی کا دار و مدار کسی ایک امتحان یا شعبے میں داخلے پر نہیں۔ اگر کسی کے والدین کا مقصد اپنے بچے کے لیے عزت، شہرت اور دولت حاصل کرنا ہے، تو اس کے لیے سیکڑوں اور شعبے اور طریقے ہیں، اس لیے اپنے بچوں اور رشتہ داروں سمیت اِرد گرد کے بچوں پر توقعات کا اِتنا بوجھ نہیں ڈالیں کہ وہ اپنی زندگی کی قیمت کو ایک امتحان کے ساتھ ترازو میں تولیں۔ ڈاکٹری کے علاوہ بھی شعبے ہیں اس دنیا میں اور ڈاکٹروں کے علاوہ بھی لوگ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔




تبصرہ کیجئے