60 total views, 2 views today

15 مارچ 2019ء کو نیوزی لینڈ کے شہر ’’کرائسٹ چرچ‘‘ میں مساجد پر حملے ہوئے۔ ان دو دہشت گرد حملوں میں 49 افراد ہلاک اور 20سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے۔حملے کے ایک ہی دن بعد وزیراعظم ’’جاسنڈا آرڈرن‘‘ نے کہا کہ ’’اسلحہ سے متعلق ہمارا قانون تبدیل کیا جائے گا۔‘‘ اس کو بعد میں ایک ترمیم کے ساتھ تبدیل بھی کیا گیا۔
یہ ہے ایک زندہ قوم کی زندہ مثال۔
اسی طرح دنیا کے ہر کونے میں مختلف واقعات ہوتے ہیں اور قومیں ان واقعات کو اپنے قانون اور دستور کے ماتحت حل کرنے کی ہمت بھی رکھتی ہیں۔ اس حوالہ سے کبھی قانون میں سختی لائی جاتی ہے، تو کبھی پرانی پالیسیوں میں ترمیم کی صورت میں اس کو حل کرنے کی پوری پوری کوشش کی جاتی ہے، یعنی مہذب اقوام کسی بھی ناخوش گوار واقعہ کے ردعمل میں سنجیدگی سے کام لیتی ہیں۔
قارئین، مگر وطنِ عزیز کی تاریخ دنیا کی دیگر اقوام سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں پر کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے، تو ایک عجیب سا سماں بندھتا ہے۔ حکمرانوں کی طرف سے فوراً مذمتیں آنا شروع ہوجاتی ہیں، جب کہ کچھ لوگوں کی طرف سے ان واقعات پر فلمیں اور نغمے بنانے کا کام شروع ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف عوام الناس کا یہ حال ہے کہ وہ اُن نغموں پر اگلا واقعہ ہونے تک سر دھننے کو ترجیح دیتے ہیں۔شائد یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس کے تمام ملی نغمے کسی نا کسی ناخوش گوار واقعے سے جڑے ہیں۔
یہاں حملے میں ایک ہی سکول کے 200 سے زائد طالب علموں کو لقمۂ اجل بنتے دیکھ کر حکومت نے ایسے کیا اقدامات اُٹھائے جس سے اِن جیسے واقعات کو روکا جاسکے؟
قارئین، یا تو ہم اِن واقعات کے عادی ہوچکے ہیں، یا ہم میں اِن کی روک تھام کی اہلیت ہی نہیں۔
کشمیر کا مسئلہ اور حالیہ بھارتی اقدام تو سب کے سامنے ہے۔ جب پوری قوم کی کشمیر کے ساتھ یکجہتی دکھانے تک نوبت آگئی، تو اُس کے لیے بھی ایک عدد ’’نغمے‘‘ ہی کا سہارا لیا گیا، جس کو کشمیریوں سمیت تمام تر پاکستانوں نے جوش و خروش کے ساتھ سنا اور پڑھا۔ آگ میں جلتے کشمیری تو اس کشمکش میں ہیں کہ ان پر اب تک تیار ہونے والے نغموں کے ثمرات اُن کو کب ملیں گے؟

…………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے