110 total views, 2 views today

سکول کے دنوں میں ہم 14 اگست کے لیے اپنا کمرۂ جماعت سجاتے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب اس تاریخ کو ہر کمرے کا معائنہ کرتے، اور جو کمرہ سجاوٹ میں پہلے نمبر پر آتا، اس کو انعام ملتا۔ یہ سجاوٹ طلبہ اپنی جیب خرچ سے کیا کرتے۔ مزہ آتا کہ ہمیں پاکستان کی تاریخ کی خبر تھی اور نہ اس کے بن جانے کے بعد کے مسئلوں سے ہی ہم آشنا تھے۔ استاد مطالعۂ پاکستان پڑھاتے، اور ہم سعادت مند بچے اس پر عمل کرتے۔ کسی بھی وردی والے کا خوف نہ ہوتا۔ سکول یا کالج کا اپنا یونیفارم ہمیں سب وردیوں سے اچھا اور معتبر لگتا۔ خاکی یونیفارم کو تو بس خال خال ہی دیکھتے۔ سردیوں میں جب ماموں کے ہاں نوشہرہ جاتے، تو باغوں میں گھومتے گھومتے کسی فوجی بیرک کے آنگن سے گزرنا پڑتا۔ فوجی جوان ہمیں کچھ نہیں کہتا۔ ہاں، کبھی کبھی وہاں چائے ضرور پلاتا۔ ہم اسے دیکھ کر میجر عزیز بھٹی شہید کو دعائیں دیتے۔ کیوں کہ اس وردی میں ہم نے اس سے پہلے صرف عزیز بھٹی شہید ہی کی تصویر کتابوں میں دیکھی تھی۔
ان دنوں ہماری تاریخ گھر سے شروع ہوتی، اور سکول کے کمرے میں ختم ہوجاتی۔ زندگی بے خبر خوشی خوشی گزرتی۔ سب سے بڑے مسئلوں میں ہوم ورک اور استاد صاحب کی لاٹھی ہوا کرتی تھی۔ بیچ میں پھٹے کپڑوں اور پلاسٹک کے جوتوں کی چِنتا اکثر رہتی۔ اس سے آگے ہماری سوچ پہنچتی اور نہ ہی کوئی استاد اس سوچ کو آگے بڑھنے دیتا۔
گھر میں نانی؍ دادی اس دن (14 اگست) کو اپنی زبان میں تاج پوشی کا دن کہتیں۔ کہیں کہیں جناح صاحب کی کوئی کہانی سناتیں کہ میری نانی نوشہرہ میں رہتی تھیں اور اس بارے میں کچھ آنکھوں دیکھا حال بھی حافظہ میں محفوظ تھا۔ وہ اپنے پڑوس میں ہندوؤں کی کہانیاں ستانیں۔ ان کہانیوں میں ان کا پڑوسی ہندو ہمیشہ ایک ہیرو ہی ہوتا۔ کبھی کبھی رو رو کر تقسیم یا آزادی کے وقت کی دکھ بھری کہانیاں بھی سناتیں۔ ان کہانیوں میں اس پڑوسی ہندو کی کہانی شامل ہوتی جس کو لوٹا گیا تھا یا اس کے خاندان کے بندوں کو مارا گیا تھا۔ نانی کو خبر تک نہیں تھی کہ ہندو کے ساتھ یا اس کے برتن میں کھانا جائز نہیں۔ اس بات کا ان کو پتا 1946ء کے آس پاس لگا، جب پہلی بار مجلسِ احرار کے کسی رہنما نے تقریر کی، اور نانی نے سن لی۔ پھر جب آزادی نصیب ہوئی، تو نانی وہ کہانی سناتی تھیں کہ کس طرح اس کے ایک ہندو پڑوسی نے اپنا سارا زیور اور دوسری اشیا ان کے گھر امانت چھوڑ کر ہندوستان چلا گیا۔ بڑی نانی نے ان بوریوں کو گھر میں سنبھال کر رکھا۔ پھر کچھ مہینوں بعد ایک گروہ آیا۔ اس نے بڑی نانی سے وہ ساری بوریاں اور دیگر سامان یہ کہہ کر لیا کہ حکومت نے ان کو بھیجا ہے۔ اس کے بعد اس سامان کی کوئی خبر ملی اور نہ اس پڑوسی ہندو کی جس نے یہ سامان یہاں رکھا تھا۔ جب نانی اس ہندو پڑوسی بارے اچھی کہانی سناتیں، تو ہمیں برا لگتا اور ہم کہتے کہ نانی ہندو کی تعریف نہیں کرتے۔ نانی خاموش ہوجاتی اور ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوتا۔
پاکستان بنتے چالیس سال ہوگئے تھے۔ بچپن کے بعد جب سے اخبارات، رسائل اور کتابیں پڑھنا شروع کیں، تو پریشانیاں بڑھنے لگیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہماری بے چینی بھی بڑھنے لگی۔ پاکستان سے محبت کسی قدر کم نہیں ہوئی، لیکن اس کے ساتھ جو ہوتا رہا، اسے گویا اپنے محبوب کے ساتھ بدفعلی سمجھتے رہے۔ آزادی کے معنی ہمارے لیے بدلتے گئے۔ وہ ساری وردیاں ایک وردی کے سامنے ناقص لگنے لگیں۔ ذہین سوالات سے بھر گئے، مگر ان کا اظہار نہ کرسکے۔ اگر کہیں کیا بھی، تو معتوب ہی ٹھہرے۔ لکھنا شروع کیا کہ اس سے کچھ اِفاقہ ہوجائے۔ لکھنے کے لیے پڑھنا ضروری ہوتا ہے، تو ساتھ ساتھ کچھ پڑھنا بھی جاری رہا۔ پھر کیا تھا۔ ہماری بے چینی مزید بڑھنے لگی۔ اس کا مداوا کبھی اسلامی نظام کی خواہش میں ڈھونڈا، تو کبھی اشتراکیت میں۔ کبھی کسی تحریکی مولوی کے پیچھے ہولیے، تو کبھی کسی کونے میں بیٹھ کر مساوات و معاشی اشتراک کے خوابوں کو دیکھنے لگے۔ آگے جاکر اس اسلامی نظام کی خواہش کے پیچھے اصل محرک کا پتا چل گیا، تو سینہ کوبی شروع کی۔ اشتراکیت کی خام خیالی سے نکل کر روش خیالی کی طرف مڑگئے۔ روشن خیالی میں پناہ لی، مگر بے چینی کم نہ ہوئی۔ تلاش جاری رہا اور علم کے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں سے تحیر میں مزید اضافہ ہوا۔ ہر شعبے میں مغز مارنے اور گھسنے کی کوشش شروع کی۔ کوئی بھی نظریہ اٹل نہیں لگا، اور خود کو معلق ہی پایا۔ ایسے میں ایک چھوٹے علاقے کے لوگوں کی فلاح و ترقی کے لیے اپنے طور پر کوشش شروع کی۔ اس میں تھوڑا سا سکون آیا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ کوشش وسیع ہوتی گئی اور یوں محسوس ہوا کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔ اب حالت یہ ہے کہ زندگی کے اختصار کا خوف ایک طرف، علم کی تلاش دوسری طرف، فکر معاش تیسری طرف اور کم مایہ اور حاشیوں پر پڑے نوجوانوں اور لوگوں کا غم چوتھی طرف کھائے جا رہا ہے۔
چہار سو ان مشکلات کا مقابلہ اپنی جگہ کہ یہ ایک نہ ختم ہونے والی جدوجہد ہے، اور ہمیں اب نتیجے سے زیادہ لائحہ عمل اور پروسس میں مزا آنے لگا ہے، مگر کیا کریں اس بڑے زِنداں کا جس میں خود کو مقید محسوس کرتا ہوں۔ ایک خوف ہے کہ جان نہیں چھوڑتا۔ زبان کھول سکتے ہیں اور نہ قلم آزادانہ لکھ ہی سکتا ہے۔ اگر کچھ ہٹ کر لکھا بھی جائے، تو اسے چھاپنے نہیں دیا جاتا۔ اور اگر کچھ چھپ بھی گیا، تو دروازے تک لوگ آکر پوچھ گچھ شروع کر دیتے ہیں۔ اب ہم خود کو بھی مشکوک و مطلوب سا دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں جو بچے اب جدید طرز پر گانے یا ملی نغمے لگا کر آزادی آزادی کرتے ہیں، تو ان پر رشک آتا ہے اور اپنے بچپن کے دن یاد آجاتے ہیں۔ خدا کرے کہ ان کوہماری سوچ نہ لگے، اور نہ وہ کسی فکری سانحے سے ہی گزریں۔ بس امیرِ شہر جو کہے اس پر سر دھنتے رہیں۔
ہم اور ہمارے پیشرو تو اس دن کو کوئی نام بھی نہیں دے سکے۔ کسی نے جشنِ آزادی کہا، تو کسی نے ’’داغ داغ اُجالا‘‘ گایا۔ کسی کے نزدیک یہ آزادی کا دن ٹھہرا، تو کسی نے اسے بٹوارے یا تقسیم کے نام سے یاد کیا۔ ہمارے اور ہمارے آج کل کے بچوں کے لیے یہ اب ’’14 اگست‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اسے تہوار کریں، عید کریں کہ کوئی جشن و میلہ؟ اب تک یہ گتھی سلجھ نہ پائی۔
آج اپنے 4 سالہ بچے سے پوچھا کہ پاکستان کیا ہے؟ تو اس نے جھنڈا دِکھایا۔ پھر پوچھا، پاکستان کدھر ہے؟ تو اس نے کہا: ’’دُکان میں۔‘‘ وہ جھنڈے کو ہی پاکستان سمجھتا ہے کہ بچے علامات ہی سے سیکھتے ہیں۔ لیکن مجھے پاکستان ایک دُکان لگتا ہے جہاں دُکان دارصرف اپنی مرضی کی چیزیں بیچتا ہے۔ جہاں رہنما بھی تجارت کرتا ہے اور محافظ بھی۔ ہر کوئی اپنا اپنا چورن بیچتا ہے اور غریب گاہک کے پاس اور کوئی راستہ نہیں سوائے دُکان دار کی شان میں قصیدے پڑھنے کے۔ بس میرا محبوب تو سلامت رہے!

……………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے