155 total views, 1 views today

18 جولائی 2018ء کوباب ہمارے پاس آیا اور کہا کہ آج ’’فلوریڈا ٹوڈے‘‘ کے ایک سٹوڈیو میں پام بے کاؤ نسل کے لیے الیکشن لڑنے والے امیدوارں سے ان کے منشور کے بارے میں انٹرویو لیا جائے گا۔ وہ ہمیں متعلقہ سٹوڈیو لے گیا جہاں پروگرام کو فیس بک پر لائیو چلانے کے لیے تکنیکی کام جاری تھا۔ ہم ایک طرف بیٹھ گئے۔ پروگرام کی ہوسٹ ’’ایزوڈورا‘‘ تھی۔ جب انتظامات مکمل ہوئے، تو انٹرویو شروع کیا گیا، جسے فیس بک پر لائیو نشر کیا جا رہا تھا۔ پام بے کاؤنسل سیٹ چار کے لیے تین مد مقابل امیدواروں کو بلایا گیا تھا جنہوں نے کئی سوالات کے جوابات دیے اور اپنا منشور واضح کیا۔ یہ فورم حالاں کہ فیس بک پر تھا، مگر بہت ہی شائستہ اور مہذب طریقے سے پایۂ تکمیل تک پہنچا۔ اس میں تلخ کلامی ہوئی، نہ ایک دوسرے کو گالی دی گئی اور نہ کسی نے فیس بک پر اخلاق سے گرے سوالات یا کمنٹس ہی کیے۔ مَیں نے سوچا کہ اگر یہ ہمارا ملک ہوتا، تو نہ صرف تینوں امیدوار ایک دوسرے سے لڑتے اور برا بھلا کہتے، بلکہ فیس بک پر تو گالم گلوچ، ذاتی حملوں اور منفی کمنٹس کا بھر مار لگا رہتا۔
اشیائے خور و نوش کی فروخت کے انوکھے طریقے(بیئر دوڑ):۔ یہاں امریکہ میں اشیائے خور و نوش کو فروخت کرنے کے لیے کئی حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ کسی بھی پراڈکٹ چاہے وہ خوراکی ہو یا غیر خوراکی، کو فروخت کرنے کے لیے ایک ایونٹ کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس کے لیے فیس بک یا مقامی میڈیا کے ذریعے اشتہار چلایا جاتا ہے۔ مثلاً ہمیں آفس کے ہی ایک بندے نے بتایا کہ 17 جولائی کو بیئر دوڑ منعقد کیا جا ر ہا ہے، جس میں ارد گرد علاقوں کے لوگ جمع ہوں گے اور ایک مخصوص روٹ پر دوڑ کا مقابلہ کریں گے۔ جب کہ اختتام پر لوگ ریسٹورنٹ میں جمع ہوکر بیئر پئیں گے۔ تجسس کی خاطر میں بھی گیا، جہاں مقررہ وقت پر کافی سارے لوگ جمع تھے، جن میں ہر عمر اور جنس کے لوگ تھے۔ ایک خاتون نے اعلان کرتے ہوئے سب کو جمع کیا اور دورڑ کا راستہ دکھایا۔ وقتِ مقررہ پر دوڑ شروع ہوئی جس میں سب بڑے شوق سے حصہ لے رہے تھے۔ مقر ر کردہ فاصلہ طے کرنے کے بعد دوڑ واپس بار کے سامنے آکر ختم ہوئی جس کے بعد سب لوگ بارپر جمع ہوگئے اور بیئر پینے کا دور شروع ہوا۔ اس شام کو لوگوں نے مل کر گپ شپ لگائی، بیئر کے دور چلے اورآخر میں اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔

اشیائے خور و نوش کی فروخت کے لیے اختیار کیا جانے والا انوکھا طریقہ “بیئر دوڑ” ملاحظہ ہو۔ (فوٹو: فضل خالق)

اس طرح ایک دن آفس ہی میں ہمیں پتا چلا کہ ایک بار میں بیئر کوئز نامی پروگرام منعقد ہو رہا ہے جس میں لوگوں سے سوالات پوچھے جائیں گے، اور جس کسی نے زیادہ ٹھیک جوابات دیے تو اس کی تواضع مفت بیئر سے کی جائے گی۔ فاطمہ کے اصرار پر مَیں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا۔ ہمیں ایمری اور کیرولائن ساتھ لے گئے۔ جہاں پہلے ہی سے کافی لوگ جمع تھے۔ اس لیے ہمیں دروازے کے ساتھ ہی میز دی گئی۔ میرے علاوہ ان تینو ں نے اپنے لیے بیئر کا آرڈر دیا جب کہ میں اردگرد ماحول کا مطالعہ کرنے لگا۔ بار میں کئی نوجوان جوڑوں کے علاوہ بڑی عمر کے مرد اور خواتین بھی موجود تھیں، جو ہلکی موسیقی میں بیئر پی رہے تھے اور گپ شپ میں مصروف تھے۔ کچھ دیر بعد سوالات کے حوالے سے باقاعدہ اعلان ہوا اور پھرسامنے سکرین پر سوالات نمودار ہوتے گئے۔ مجمع میں لوگ اپنا اپنا جواب لکھتے اور جمع کرتے۔ یو ں یہ سلسلہ چلتا گیا۔ لوگ بیئر پیتے گئے اور جوابات دیتے گئے۔ اس طرح تمام لوگ اپنے معمول سے کافی زیادہ بیئر پی گئے۔ بیئر دوڑ ہو یا بیئر کوئز دونو ں میں ہی فائیدہ بیئر فروخت کرنے والوں کو ملتا ہے۔ کیوں کہ ایسے مواقع پر دو تین بندوں کو ہی انعام کے طور پر مفت شراب ملتی ہے مگر باقی لوگ تو معمول سے زیادہ پیتے ہیں، اس لیے رقم خود ادا کرتے ہیں۔ تاہم ایسے مواقع پر دوست احباب ملتے ہیں اور خوب گپ شپ لگاتے ہیں۔
جب کافی دیر ہوگئی، تو ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔ کیوں کہ فاطمہ کو اپنے جسم پر ایک ٹیٹو بھی بنانا تھا۔ ہم سب ٹیٹو بنانے والے کے پاس گئے، جہاں فاطمہ نے ٹیٹو پسند کیا اور اپنے کندھے سے تھوڑا نیچے کی جگہ منتخب کی۔ ویسے ٹیٹوز کراچی میں بھی بنائے جاتے ہیں، مگر فاطمہ کو پاکستان کے کاریگروں پر یقین نہیں تھا۔ ویسے بھی اسے پاکستان کی کوئی چیز پسند نہیں تھی، اور پاکستان سے بیزار لگتی تھی۔ جسم پر ٹیٹو بنانا آسان کا م نہیں ہے۔ ہلکی سی سوئیوں سے بدن کو چھیدا جاتا ہے اور ایک خاص قسم کا رنگ لگایا جاتا ہے۔ ٹیٹو بناتے وقت بہت درد بھی ہوتا ہے۔ اکثر لوگ درد کی وجہ سے غشی میں بھی چلے جاتے ہیں۔ پہلے تو فاطمہ خوش تھی، مگر کچھ ہی لمحوں میں اس کے تیوری پر بل پڑگئے۔ چہرے کی خوش گواری، نا خوش گواری میں تبدیل ہوگئی۔ جوں ہی کاریگر سوئی والی مشین اس کے بدن پر رکھتا فاطمہ کا منھ سکڑ جاتا اور وہ آنکھیں بند کرلیتی۔ ایک لمحہ تو ایسا آیا کہ کاریگر نے کچھ دیر کے للیے کام بند کیا، کیوں کہ فاطمہ کی طبیعت خراب ہوگئی، جس پر ایمری دوڑتے ہوئے ساتھ والے سٹور سے پانی اور چاکلیٹ لے آیا۔ فاطمہ چاکلیٹ کھانے اور پانی پینے کے بعد تھوڑی ریلیکس ہوئی اور ٹیٹو پر کام دوبارہ شرو ع ہوا۔ یوں تقریباً دو گھنٹوں کے بعد ٹیٹو بن گیا اور فاطمہ کی دلی خواہش پوری ہوگئی۔
٭ جشنِ اپالو 2018ء:۔ کینیڈی خلائی مرکز میں تاریخی اپالو گیارہ کا چاند پر اترنے کے پچاس سال پورے ہونے کے حوالہ سے جشن کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں درجنوں خلا بازوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ مزے کی بات یہ تھی کہ تقریب میں جانے کے لیے باقاعدہ ٹکٹ مقرر تھا، جس کی قیمت ایک ہزار ڈالر جب کہ وی آئی پی ٹکٹ کی قیمت دو ہزار پانچ سو ڈالر تھی۔ چوں کہ ’’فلوریڈا ٹوڈے‘‘ اس تقریب کا میڈیا سپانسر تھا، اس لیے اسے آٹھ وی آئی پی ٹکٹ ملے۔ بوب نے اس میں ہمیں بھی دیے۔




اپالو گیارہ کا چاند پر اترنے کے پچاس سال پورے ہونے کے وقت تقریب میں شریک ہونے والے خلاباز۔ (فوٹو: فضل خالق)

ہم ڈھائی بجے ہلٹن ہوٹل پہنچے، جہاں ہماری رجسٹریشن ہوئی اور پاس دیے گئے۔ ساڑھے چار بجے ہم بسوں میں بیٹھ کر کینیڈ سپیس سنٹر کے ویزیٹر کمپلیکس روانہ ہوئے، اور مقررہ وقت پر پہنچے۔ تقریب کا انعقاد ’’اپالو سیترون وی راکٹ‘‘ کے نیچے کیا گیا تھا۔ یہاں امریکہ کی ہائی کلاس سوسائٹی بیٹھی ہوئی تھی۔ ان میں ہرمکتبہ فکر کے لوگ تھے۔ مجھے کئی خلابازوں سے ملنے اور بات کرنے کا موقعہ ملا۔ تقریب میں ’’اپالو سوین‘‘ سے لے کر ’’اپالو فورٹین‘‘ تک کے سفر پر بات چیت ہوئی۔ تاریخ دہرائی گئی۔ تمام خلا بازوں کے نام لیے گئے اور ان کی تعظیم کی گئی۔ خلا بازوں نے اپنے قصے سنائے اور چاند پر قدم رکھنے کی روداد سنائی۔ یہ ایک طرح کی علمی تقریب تھی جس میں سائنس اور خلا کی دنیا میں ہونے والے حیران کن تجربات کا انکشاف ہورہا تھا۔ اس تقریب میں خلا بازی کے علاوہ بہت سار ی دوسری سرگرمیاں بھی تھیں، یعنی اس میں خلائی تحقیق کے سکول کے لیے فنڈ ریزنگ بھی کی گئی۔

اپالو گیارہ کا چاند پر اترنے کے پچاس سال پورے ہونے کے حوالہ سے جشن کی تقریب کا نظارہ۔ (فوٹو: فضل خالق)

فلوریڈا میں چھوٹے پچوں کے لیے ایسے سکول بنائے گئے تھے، جن میں بچوں کو خلائی تحقیق، خلائی راکٹ اور دوسری ٹیکنالوجی کا علم عملی طور پر سکھا یا جاتا تھا، جس کے لیے سکول میں بڑے بڑے ہال بنائے گئے تھے اور باقاعدہ طور پر چھوٹے راکٹس اڑائے جاتے تھے۔ یہاں بچوں کو خلائی راکٹس کے تصور سے لے کر بناؤٹ تک عملی طور پر سکھایا جاتا تھا۔ مَیں نے سوچا کہ اتنی کم عمر سے ہی اگر یہ بچے خلائی تحقیق، راکٹس اور خلائی ٹیکنالوجی سے واقف ہوں گے، تو بڑے ہوکر یہ اسی فیلڈ میں کارنامے انجام نہ دیں گے، تو کیا کریں گے۔ فنڈ ریزنگ کا طریقۂ کار بھی انوکھا تھا، جس میں دنیا کے مختلف ممالک کو سیر و تفریح کے پیکیج، خلابازوں کے استعمال کی چیزوں وغیر ہ کی بولی لگائی گئی، جس میں آئے ہوئے مہمانوں نے بھر پور شرکت کی۔ تقریب میں مشہور خلا باز جو ’’اپالو سیونٹین‘‘ مشن میں چاند پر گیا، اور قدم رکھا، اس نے مہمانوں کی طرف گیند پھینکے۔ خوش قسمتی سے ایک تیزر فتار گیند جو ہماری طرف آرہی تھی، مَیں نے پکڑلی جس پر لوگوں نے مجھے داد بھی دی۔ گرے رنگ کی اس گیند پر ’’ہیرشن شمٹ‘‘ کا نام اور دستخط بھی تھا۔ مَیں نے گیند کو محفوظ کیا اور اپنے ساتھ پاکستان لے آیا۔

تقریب میں ہاتھ آنے والی گیند جسے راقم اپنے ساتھ پاکستان لے آیا۔ (فوٹو: فضل خالق)

تقریب میں وقفے وقفے سے لائیو میوزک کا اہتمام کیا گیا تھا، جس سے آئے ہوئے مہمان لطف اندوز ہوئے۔ ساتھ ساتھ ڈنر بھی چل رہا تھا۔ آخر میں خلا بازوں کو اعزازات سے نوازا گیا۔ یوں آدھی رات کو تقریب ختم ہوئی اور ہمیں واپس بسوں میں ہلٹن ہوٹل لایا گیا، جہاں سے ہم باب کی گاڑی میں بیٹھ کر اپنے ہوٹل آئے۔(جاری ہے)

……………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے