376 total views, 1 views today

آج سے تقریباً 125 سال پہلے جاپان کے شہر “واکایاما” کے ایک لینڈ لارڈ کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا، جس کا نام “کنوسکے” (Konosuke) رکھا گیا۔ اس بچے کا باپ لوکل اسمبلی کا ممبر بھی تھا اور ایک عرصے سے گاؤں کے سرکاری دفتر میں ملازم بھی۔ بچے کا ابتدائی بچپن خوشیوں سے بھرا ہوا تھا، لیکن 1899ء میں یہ گھرانا بڑے کرائسس کا شکار ہوا۔ جس سے ان کی خوشحالی، تنگدستی میں بدل گئی۔ اس کے والد نے اب چاول کے بزنس میں سرمایہ کاری شروع کی، لیکن یہ بھی ان کے لیے مفید ثابت نہیں ہوئی۔ گھر کی تمام اشیا بک چکی تھیں، اور یہ گھرانا فاقوں پر آگیا تھا۔ اس کا والد اپنی فیملی کو لے کر ایک چھوٹے سے مکان میں رہنے لگا۔ خوراک جب عدم دستیاب ہو، تو انسانی جسم پر بیماری حملہ آور ہوجاتی ہے۔ بدقسمتی سے ان کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ بیماریوں نے اس گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے علاج معالجہ مشکل تھا، جس کی وجہ سے اس کے تین بھائی مختلف بیماریوں سے انتقال کرگئے۔ اس مشکل حالات میں اس بچے کو 9 سال کی عمر میں اپنی پڑھائی چھوڑنا پڑی۔ باپ نے اس بچے کو “اوساکا” شہر بھیج دیا، جہاں وہ انگیٹھیاں بنانے والی ایک دکان میں کام کرنے لگا۔ ابھی سال بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ دکان بھی بند ہوگئی۔ اس کے بعد وہ بچہ سائیکل بیچنے والی دکان میں کام کرنے لگ گیا۔ اس زمانے میں سائیکل ایک لگژری آئٹم مانی جاتی تھی، جو “برطانوی عظمیٰ” سے امپورٹ کی جاتی تھی۔ اس دکان پر کچھ میٹل ورک کا کام بھی ہوتا تھا۔ لگ بھگ پانچ سال وہاں کام کرکے اس نے نئے ٹیکنیکل ٹولز کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ اب وہ 15 سال کا ہوچکا تھا، اور وہ کچھ نیا کرنا چاہتا تھا۔ اس زمانے میں بجلی کا کام جاپان میں بتدریج بڑھ رہا تھا۔ اس لڑکے نے اس شعبے میں جانے کا ارادہ باندھا اور بالآخر اسے “اوساکا الیکٹرک کمپنی” میں جاب مل گئی۔ بطورِ وائرنگ اسسٹنٹ وہ دل جمعی اور محنت سے کام کرنے لگا۔ چند سال بعد کمپنی میں مختلف پوزیشنوں پر کام کرنے کے بعد 22 سال کی عمر میں وہ الیکٹریکل انسپکٹر بن گیا۔ اسی دوران میں اس کی شادی بھی ہوچکی تھی، جس سے گھر کا بار بھی اس کے کاندھوں پر آپڑا، لیکن اب اس عہدے پر اسے اچھی تنخواہ ملنے لگی تھی، جس سے گھر میں خوشحالی دوبارہ لوٹ آئی تھی۔ یہ عہدہ دوسرے لوگوں کے لیے قابلِ رشک تھا۔ کیوں کہ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھا، بس اسے اپنے کام میں مہارت تھی۔ اس دوران میں وہ ایک نیا “لائٹ ساکٹ” بنانے میں کامیاب ہوا جو اس کی زندگی میں اہم موڑ ثابت ہوا۔ وہ بہت خوش ہوا اور جاکے اپنے باس کو اس نئے لائٹ ساکٹ کے بارے میں بتایا، مگر اس کے باس کو وہ اچھا نہیں لگا۔ باس نے کہا کہ ایسا پراڈکٹ مارکیٹ میں نہیں چلے گا۔ لیکن اسے اپنے پراڈکٹ پر یقین تھا، اور اب وہ اپنی کمپنی کھولنے کے بارے میں سوچنے لگا۔ دوستوں نے اسے کمپنی چھوڑنے سے منع کیا، لیکن اس نے کہا کہ “مَیں اپنا کیرئیر داؤ پر نہیں لگانا چاہتا۔” یوں اس نے اپنی راہیں جدا کرلیں۔ وہ 1917ء ہی میں جب 22 سال کا تھا۔ اوساکا کمپنی چھوڑ کر اپنی کمپنی کی بنیاد رکھنا چاہتا تھا، لیکن اس کے پاس سرمایہ اور تعلیم دونوں چیزیں نہیں تھیں، جو کسی بھی بزنس کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ اس کے پاس تجربہ تھا، جسے وہ ایک قیمتی سرمایہ سمجھتا تھا۔ اس نے اپنے گھر کے فلور پر ایک ورکشاپ کھول لیا، اور اسی پروڈکٹ کے “سیمپل” بنا کر ہول سیلرز اور دکان داروں کے پاس لے کر جاتا، لیکن کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہو رہی تھی۔ ہر کوئی اس کا پراڈکٹ لینے سے انکار کرتا تھا۔ کافی مہینے گزر گئے اور اس کا ایک بھی پراڈکٹ نہیں بِکا۔ گھر اور ورکشاپ چلانے کے لیے اس نے گھر کا سامان بیچا، اور لوگوں سے ادھار بھی لیا، تاکہ ورکشاپ مزید کچھ دنوں تک چل سکے۔ کئی مرتبہ اسے خیال آیا کہ یہ سب چھوڑ کر پھر سے جاب کرنے لگ جائے، لیکن جب صبح ہوتی، تو وہ پھر سے نکل کر ایک اور دن آرڈر لانے کی کوشش میں صرف کرتا۔ یہاں تک کہ وہ کنگال ہوا، اور وہ وقت بھی آگیا کہ ورکشاپ بند کرنے لگا۔ اچانک اس کی محنت رنگ لے آئی، اور اسے اپنی زندگی کا پہلا بڑا آرڈر ملا۔ وہ بھی 1000 لائٹ ساکٹس کا۔ پھر اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، اور آرڈر پر آرڈر لیتا چلا گیا، جس سے اس کا ورکشاپ ایک کمپنی میں بدل گیا۔ پھر رفتہ رفتہ وہ نئی نئی پراڈکٹس مارکیٹ میں لانچ کرنے لگا، جو ہاتھوں ہاتھ بکنے لگیں۔ وہ اپنے تجربے سے نئی نئی چیزیں بناتا تھا، اور اس کی کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ وہ عوام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے چیز مینوفیکچر کرتا تھا، جس سے اس کی پراڈکٹس کی مقبولیت دن بہ دن بڑھتی تھی۔ آج اس کی بنائی ہوئی کمپنی کو 100 سال پورے ہوچکے ہیں، اور آج جاپان سے لے کر امریکہ تک دنیا کی ہر چھوٹی بڑی مارکیٹ میں آپ کو اس کی کمپنی کی بنائی ہوئی پراڈکٹس ضرور ملیں گی۔

عزیزانِ من، جس نے اکیلے اپنے گھر کے فلور پر ایک کمپنی کی بنیاد رکھی تھی اس شخصیت کا نام “کنوسکے مٹسوشیتا”  (Konosuke Matsushita) ہے، اور اس کی بنائی ہوئی کمپنی کا نام “Panasonic” ہے۔ مٹسوشیتا جس نے اکیلے ایک کمپنی بنائی تھی، آج تقریباً ڈھائی لاکھ لوگ اس کے ملازم ہیں اور اس کی سالانہ سیل 70 بلین ڈالر ہے۔ جاپان کے لوگ “کنوسکے مٹسوشیتا” کو “دی گاڈ آف مینجمینٹ” کہتے ہیں۔

عزیزانِ من، میری آپ سب سے گذارش ہے کہ کنوسکے مٹسوشیتا پر لکھی گئی کتاب “Not for bread only” کا مطالعہ ضرور کرلیں۔ تاکہ آپ یہ جان سکیں کہ کس طرح مٹسوشیتا نے جاپان کی انڈسٹری بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

عزیزانِ من، اس بات پر صرف رونا نہیں بلکہ ماتم کرنا چاہیے کہ ہمارے ملک میں مٹسوشیتا جیسے بزنس مین اور صنعتکار کیوں پیدا نہیں ہو رہے؟ اگر ہمارے ملک میں ڈاکٹر عبد القدیر خان پیدا ہوسکتا ہے، تو کوئی بل گیٹس اور سٹیو جابز کیوں نہیں پییدا ہوتا؟ آج ایجادات کی اس دوڑ میں کیا آپ کوئی ایک چیز ایسی بتاسکتے ہیں، جسے ہم نے ایجاد کیا ہو؟ سوائے اسلحہ اور ایٹمی ہتھیار بنانے کے۔ ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے ہم 70 سال برسرِ پیکار ہیں۔ کیا 70 سال لڑنے کے بعد ہمیں اور بھی 70 سال لڑنا ہوگا؟ کیا ہم صرف لڑنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں؟ اسلحہ سازی میں ترقی اور دیگر صنعتوں میں تنزلی کی بنیادی وجہ وہ تربیت ہے جو ہمیں بچپن سے دی جاتی ہے۔ بچپن ہی سے ہمیں تعلیم میں 65ء کی جنگ کی کہانی پڑھائی جاتی ہے۔ بچپن ہی سے ہمیں میجر عزیز بھٹی، راشد منہاس اور کرنل شیر خان شہید کی داستانیں سنا کر موٹیویٹ کیا جاتا ہے۔ آپ پہلی جماعت سے لے کر آٹھویں جماعت تک کے طلبہ سے پوچھیں تو 70 فی صد بچے کہیں گے کہ ہم فوجی بننا چاہتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نصاب میں کسی بھی قابلِ ذکر بزنس مین یا صنعتکار پر لکھا ہوا مضمون ہے ہی نہیں، جسے پڑھ کر بچے اسے اپنا آئیڈیل بنالیں۔ بچے جب ملی نغمے ٹی وی پر دیکھتے ہیں، تو اس میں انہیں ٹینک، بکتر بند، جیٹ طیارے اور میزائل دکھائے جاتے ہیں۔ اگر بچے پی ٹی وی پر کوئی سیریل دیکھتے ہیں، تو درمیان کے وقفوں میں کشمیریوں پر جاری مظالم دکھائے جاتے ہیں، جسے دیکھ دیکھ کر بچے بڑے ہو جاتے ہیں۔ اور یوں بڑی آسانی سے 22 کروڑ آرمی ذہنیت والی قوم تیار ہوجاتی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہماری اکثریت آج بھی ایوب خان کے دور کو پاکستان کا سنہرا دور سمجھتی ہے۔ اس جنگی ذہنیت کی بدولت آج بھی ہم ضیاء الحق جیسے ڈکٹیٹر کو امیر المومنین کہتے ہیں۔ ہماری معیشت کمزور اسی وجہ سے ہے کہ ہم اپنے بچوں کی سوچ جمہوری سانچوں میں ڈھال نہیں رہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو جمہوریت، پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی کی تعلیم دینا ہوگی۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ باور کرانا ہوگا کہ پاکستان کو آزاد کرانے والے قائد اعظم محمد علی جناح سیاست دان تھے۔ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والے لیاقت علی خان سیاست دان تھے۔ پاکستان کا آئین بنانے والا ذوالفقار علی بھٹو سیاست دان تھا۔ پاکستان میں سڑکیں بنانے والا، سی پیک لانے والا اور ملکی صنعت کو فروغ دینے والا محمد نواز شریف بھی سیاست دان تھا۔ ورنہ یہاں بھی بیانیہ کچھ اس طرح بنا دیا گیا ہے کہ قائد اعظم نے آئی ایس آئی کا ادارہ بنایا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹم بم کی بنیاد رکھی تھی،  اور اس ایٹم بم کے دھماکے کرنے والا نواز شریف تھا۔ اس بیانیہ کا مقصد یہ ہے کہ ان کی دیگر سیاسی خدمات کو نظر انداز کر دیا جائے۔ اس ملک کی سیاسی قوتوں سے میری گذارش ہے کہ قوموں کی تربیت تعلیم کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ تو ازراہِ کرم، بچوں کے تعلیمی نصاب میں زیادہ سے زیادہ سیاسی شخصیات کے مضامین شامل کرنے پر غور کریں، تاکہ آئندہ جمہوری ذہنیت کی حامل نسل پروان چڑھے۔ اور انڈسٹریل زون کو بہتر بنانے کے لیے کنوسکے مٹسوشیتا جیسے لوگوں کی جدوجہد پر مبنی مضامین داخل نصاب کریں، تاکہ اس ملک میں سٹیو جابز اور بل گیٹس پیدا ہوں، جو اس ملک کی ڈوبتی معیشت کو سہارا دے سکیں۔

………………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے