133 total views, 1 views today

اپوزیشن تو انتخابی نتائج آنے کے بعد ہی اسی کوشش میں لگی رہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو حکومت بنانے کا موقع ہی نہ ملے۔ چوں کہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے مفادات الگ الگ ہیں۔ اس لیے وہ، تحریک انصاف کو حکومت بنانے سے نہ روک سکی۔ رمضان المبارک میں بلاؤل زرداری کی افطار پارٹی پر اپوزیشن نے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر شور شرابا شروع ہوا کہ عیدالفطر کے بعد اپوزیشن کی طرف سے ایسا احتجاج اور دمادم مست قلندر ہوگا کہ حکومت کے لیے اپوزیشن کا احتجاج روکنا ناممکن ہوگا۔
بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ عید کے بعد ہوگا کچھ نہیں، کیوں کہ احتجاج کے لیے جو وقت مقرر کیا گیا ہے، وہ مناسب نہیں۔ موسم شدید گرم ہوگا اور اس غضب کی گرمی میں عوام سڑکوں پر نہیں آئیں گے۔ اس سے بہتر ہے کہ اپوزیشن ایوان کے اندر تبدیلی لانے کی کوشش کرے۔ شائد کہ اس طرح کامیابی حاصل ہو۔ کیوں کہ ایوان میں اپوزیشن اور حکومتی ووٹوں میں اندازاً چھے ووٹوں کا فرق ہے اور اس کمی کو پورا کرنا اپوزیشن کے لیے ممکن نظر نہیں آ رہا، لیکن اپوزیشن پھر بھی اپنی کوششوں میں لگی رہی۔ دو سابق الیکٹڈ حکمرانوں نے ایک نان الیکٹڈ اور بے روزگار کو اپنا قائدِ تحریک سلیکٹ کیا۔ دونوں جماعتوں کی پرانی اور نئی قیادت مولانا فضل الرحمان کے دائیں بائیں بیٹھ کر آئیں بائیں شائیں کرتی رہی۔ اقتدار کے بغیر ماہیِ بے آب کی طرح تڑپنے والے مولانا فضل الرحمان نے وقت ضائع کیے بغیر 26 جون کو آل پارٹیز کانفرنس طلب کی۔ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس کے التوا کے لیے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا، تو مولانا نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ دعوت نامے لوگوں کو مل چکے ہیں۔ اب اے پی سی کا التوا ممکن نہیں۔ اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہ آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کے حق میں نہیں تھے۔ بلاؤل زرداری اپنی دوسری لائن کی قیادت کو آل پارٹیز کانفرنس میں بھیجنا چاہتے تھے، لیکن مولانا کی ناراضی پر بلاؤل کو مجبوراً وہاں جانا پڑا۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف بھی خود جانا نہیں چاہتے تھے، لیکن مریم نواز کی شرکت کے اعلان کے بعد میاں شہباز شریف کو بھی مجبوراً کانفرنس میں خود جانا پڑا۔ اپوزیشن کی دو بڑی پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت ایک بار پھرنان الیکٹڈ مولانا فضل الرحمان کے دائیں بائیں بیٹھ کر ہوں ہاں کرتی رہی۔
قارئین، آل پارٹیز کانفرنس میں تقریروں میں تو بہت کچھ کہا گیا، لیکن اعلامیہ میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی۔ نہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان ہوا، نہ لانگ مارچ کا فیصلہ ہی ہوا، لاک ڈاؤن کی خواہش بھی دل میں ہی رہ گئی۔ نہ نئے مالیاتی سال کے بجٹ کو روکنے کا کوئی طریقہ کار ہی طے کیا گیا۔ البتہ 25 جولائی کو “بلیک ڈے” منانے اور چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد لانے کا فیصلہ ضرور ہوا۔ چیئرمین صادق سنجرانی کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں، اور نہ اس کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہونے پر حکومت پر کوئی اثر پڑے گا۔ چیئرمین سینٹ کو ہٹانا کوئی معمولی بات نہیں۔
دونوں پارٹیاں پاکستان مسلم نون اور پاکستان پیپلز پارٹی اپنا اپنا امیدوار نامزد کرے گی۔ ایسی صورت حال میں دونوں پارٹیوں میں اختلافات کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ سکتے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کے لیڈرز کو آل پارٹیز کانفرنس میں عوام دشمن بجٹ پاس نہ ہونے کا دعویٰ کرتے دیکھا گیا۔ یہ سربراہ اور پارٹی ارکان، اسمبلی میں سلیکٹڈ سلیکٹڈ کی گردان کرتے رہے اور وزیر اعظم عمران خان سب کو آمریت کی نرسری کی پیداوار اور این آر او زدہ قرار دیتے رہے۔ اس شور شرابے میں بجٹ پاس بھی ہوا، اور اپوزیشن کو پتا بھی نہ چل سکا۔ بجٹ پاس ہونے کے بعد اپوزشن قائدین اگلے دن حیران ہوکر پوچھتے رہے کہ کیا بجٹ پاس ہوگیا؟ جو عوام کے زخموں پر نمک پاشی سے کم نہیں ہے۔ البتہ اپوزیشن نے عوام کے سامنے آل پارٹیز کانفرنس کا ڈرامہ خوب رچایا۔
اس حوالہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاؤل زرادری نے حکومت پر الزام لگایا کہ بجٹ کو دھاندلی کے ذریعے پاس کرایا گیا ہے۔ ہم اس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو سرِ دست اپوزیشن سے کوئی خطرہ اس لیے نہیں ہے کہ اپوزیشن اب بھی متحد نہیں ہے۔ مسلم لیگ نون میں اندرونی اختلافات ہیں۔ ان میں سے بعض احتجاج کے حق میں جب کہ بعض احتجاجی سیاست کے خلاف ہیں۔ مسلم لیگ نون کے صدر میاں شہباز شریف اور ان کی بھتیجی مریم نواز کے بیانیہ میں تضاد پایا جاتا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد پاکستان مسلم لیگ نون کے بعض ایم این ایز اور ایم پی ایز نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اور ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ نون میں فاروڈ بلاک یا نظریاتی گروپ بننے جا رہا ہے، یا مذکورہ بالا ایم این ایز اور ایم پی ایز پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے ہیں۔ جو آنے والے دنوں میں مسلم لیگ نون کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہو کہ مسلم لیگ نون کے عوامی نمائندے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے ہیں، تو اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان بھی اپنے پیش رو حکمرانوں کے نقشِ قدم پر چلنے لگے ہیں، جن پر عمران خان تنقید کیا کرتے تھے۔ اگر اپوزیشن حکومت کے لیے خطرہ نہیں، تو حکومت خود بھی آئے روز اپنی غیر سیاسی حرکتوں اور خیالی منصوبوں سے عوام میں غم و غصہ بڑھانے پر عوام کو اُکسا رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ایسے اتحادیوں کی بیساکھی کے سہارے قائم ہے،جو ماضی میں وزیر اعظم عمران خان کے نزدیک ناقابلِ اعتماد اور گردن زنی کے لائق تھے۔
وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں ایسے وزرا بھی ہیں جن پر کرپشن کا الزام ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ عوام کا اب پاکستان تحریک انصاف اور وزیر اعظم عمران خان پر اعتماد باقی نہیں رہا۔ عوام کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے وزرا اس سے پہلے بھی اپوزیشن جماعتوں کی حکومتوں میں انہی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ اگر وہ عوام کے مفاد میں اُس وقت اقدامات نہ کرسکے تھے، تو اب وہ کیا کرلیں گے؟ بس ایک الگ طریقے سے اپنی بدعنوانی میں لگے رہیں گے۔

……………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے