123 total views, 1 views today

جن دوستوں نے کسوٹی پروگرام دیکھا ہے اور اس کے طریقۂ کار سے آگاہ ہیں، اُنہیں اس بے چین روح کو کھوجنے میں بالکل وقت نہیں لگے گا جس کے نام آج کی یہ نشست ہے۔
بقول احمد فرازؔ
میں تیرا نام نہ لوں پھر بھی لوگ پہچانیں
کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے
کافی سوچ بچار کے بعد کچھ ’’کلوز‘‘ (Clues) حاضر خدمت ہیں۔ سب سے پہلا ’’کلو‘‘ یہ ہے کہ اس بے چین روح کا قد میانہ، رنگت گندمی اور آنکھیں روشن ہیں۔ تقریباً ’’فارغ البال‘‘ ہیں مگر رہے سہے جتنے دکھائی دیتے ہیں، ان میں چاندی اتری ہوئی ہے۔
دوسراکلو، گاؤں کوکاریٔ کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔
تیسرا، سوات کے چوٹی کے کالم نگاروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔
چوتھا، اپنے ہر عمل پر خدا کو گواہ رکھتے ہیں۔
پانچواں، وہ سوات کے مشتاق احمد یوسفی کہلاتے ہیں۔
چھٹا اور آخری ’’کلو‘‘ ایک شعر کی صورت میں حاضر خدمت ہے:
وہ ہنس پڑے، تو کئی درد ٹال دیتا ہے
کسی کسی کو خدا یہ کمال دیتا ہے
قارئین کرام! جو پہچان گئے ہیں، وہ اپنے تک محدود رکھیں، اور جن کے پلے کچھ نہیں پڑا، وہ میرے ساتھ رہیے۔ نشست کے آخر میں اس بے چین روح کے نام کا ذکر ہوگا۔ کیوں کہ
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اُس روز عثمان اولس یار کے حجرے میں عظیم مادرِ علمی جہانزیب کالج کے حوالہ سے ایک اہم اجلاس بلوائی گئی تھی۔صدرِ محفل جہانزیب کالج کے شعبۂ تاریخ کے ہردلعزیز “پروفیسر خورشید صاحب” تھے۔ اجلاس میں لائحہ عمل طے کیا جا رہا تھا کہ کس طرح اہلِ سوات میں جہانزیب کالج کی شاندار عمارت کے حوالہ سے آگاہی مہم چلائی جائے۔ جب محفل برخاست ہوئی اور شرکا ایک دوسرے سے اجازت طلب کرنے لگے، تو افضل شاہ صاحب نے راقم اور فضل خالق صاحب سے اجازت لیتے سمے اس بے چین روح کے حوالے سے ایک ایسی خبر دی کہ میرے تو ذہن پر ہتھوڑے برسنے لگے۔ اولس یار صاحب کے گھر کے مقابل آثارِ قدیمہ کے گرد ایک جنگلا لگا ہے، میں نے اس کا سہارا لیا اور شاہ صاحب سے بطورِ تصدیق صرف ایک ہی لفظ پوچھ پایا کہ “کینسر……!” شاہ صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور ساتھ ہی مجھے تلقین کی: “دیکھو سحابؔ، میرے اور اُن کے علاوہ اس بری خبر سے کوئی آگاہ نہیں ہے۔ حتی کہ اُن کی شریکِ حیات اور بیٹے تک کو علم نہیں کہ وہ آج کل کس آزمائش سے گزر رہے ہیں۔”
قارئین کرام! اس کے بعد دو طرفہ اداکاری کا سلسلہ شروع ہوا۔ دو طرفہ یوں کہ وہ (بے چین روح) اپنی بیماری مجھ سے چھپانے میں مہارت سے کام لیتی اور میں ہر وقت رابطہ بحال ہوتے ہی کمال اداکاری کا مظاہرہ کرکے ایک ہی سوال پوچھتا کہ یہ کون سی بیماری ہے جس نے آپ جیسے باہمت شخص کو بستر سے لگا دیا ہے۔ جواباً وہ بے چین روح اپنے مخصوص انداز سے ہنستی اور کہتی کہ اگر زندگی رہی، تو اس پر ضرور روشنی ڈالیں گے۔ میں بھی “یک سر ہزار سودا” کے مصداق درس و تدریس اور اخباری جھمیلوں میں اتنا مصروف ہو جاتا کہ سر کھجانے کی بھی فرصت نہ ملتی اور جب آٹھ دس روز بعد ایک بار پھر رابطہ بحال ہوجاتا، تو دو طرفہ اداکاری کا سلسلہ نئے سرے شروع ہو جاتا۔ شکر ہے کہ آج وہ روح صحت مند ہے اور اسی طرح بے چین بھٹکتی پھرتی ہے۔ میں اُسے عرصہ آٹھ سال سے جانتا ہوں۔ اس سے پہلے جب سوات میں مملکت خداداد کے “عظیم تر مفاد” میں چوہے بلی کا کھیل شروع کیا گیا، اور اہلِ سوات کو ہجرت تک پر مجبور کیا گیا، تو اس وقت چند بے چین روحیں اجتماعی چین و سکون کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھٹکتی رہیں۔ جب راقم سمیت بیشتر اہلِ سوات راشن کارڈ، زکوٰۃ، اے ٹی ایم کارڈ، نان فوڈ آئٹمز اور دیگر چھوٹے موٹے ذاتی مفادات کے حصول کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے تھے، اس وقت وہ چند بے چین روحیں ملکی و غیر ملکی نشریاتی اداروں کو یہ باور کرانے کے لیے بھٹکتی پھر رہی تھیں کہ طالب طالب کھیلنے والوں پر زور ڈال دیا جائے اور اہلِ سوات کو واپس اپنی جنت جانے کا پروانہ جاری کیا جائے۔ اس کا تمام تر کریڈٹ اُن بے چین روحوں کو جاتا ہے کہ آج ہم جیسے بھی ہیں کم از کم اپنے علاقہ میں تو موجود ہیں۔ باجوڑ اور وزیرستان جیسے علاقوں کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ہمارے وہ بھائی اس لیے زیادہ مشکل میں تھے یا اب تک ہیں کہ وہاں ذکر شدہ بے چین روحوں جیسا کوئی نہیں تھا۔ پھر جب اہلِ سوات کی کوششیں رنگ لائیں اور محض تین مہینوں کے اندر حکومتی رٹ بحال ہوا، تو تمام بے چین روحیں بالعموم اور “وہ روح” بطورِ خاص، شورش میں تباہ ہونے والے سوات کے بنیادی ڈھانچہ کو بحال کرنے کے لیے ایک بار پھر اِدھر اُدھر بھٹکنے لگی۔ “وہ” کبھی سوات روٹری کلب کے پلیٹ فارم سے سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی، تو کبھی مینگورہ روٹری کلب کے پلیٹ فارم سے۔ کبھی گلوبل پیس کونسل جیسے غیر حکومتی ادارے کے پرچم تلے امن کے لیے آواز اٹھاتی، تو کبھی اسلام پور کاٹیج انڈسٹری کا علم بلند کرکے مزدوروں کے حق کا پوچھنے لگتی، مگر عجیب روح تھی کہ قرار لینے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ جب ایک اکیلا آدمی اتنے غم سینے میں پالے گا، تو اس کا سینہ داغدار ہونا کوئی انہونی نہیں۔ نجانے کب داغ اولاً زخم اور ثانیاً ناسور کی شکل اختیار کرگئے اور انہیں بستر سے لگا لیا۔
جو محض چند “کُلوز” کی بدولت اس بے چین روح کو پہچان گئے ہیں، وہ یقینا رشتہ دار،دوست احباب یا پھر ان کو پڑھنے والے ہوں گے۔ اور جن کے پلے کچھ نہیں پڑا، اُن کے لیے عرض ہے کہ وہ بے چین روح کسی اور کی نہیں فضل مولا زاہدؔ المعروف “خان جی” کی ہے۔ آپ صرف وادئی سوات میں ہی نہیں بلکہ پورے ملاکنڈ ڈویژن میں اپنے طرز کے منفرد کالم نگار و انشائیہ نگار ہیں۔ آپ کے کالموں پر مبنی کتاب “خدا گواہ” کوئی دو یا تین مہینے پہلے زیورِ طبع سے آراستہ ہوکر ہاتھوں ہاتھ لی جا چکی ہے جب کہ دوسری اشاعت جلد متوقع ہے۔
بقولِ اباسین یوسف زیٔ
کہ زما د شخصیت حدونہ گورے
زما فن، زما د فکر ترجمان دے




یہ ہیں وہ بے چین روح “فضل مولا زاہدؔ” جن کی خدمات کے اعتراف میں تحریر پیش خدمت ہے۔

محولہ بالا شعر فضل مولا صاحب کی شخصیت پر پورا اترتا ہے۔ سرطان جیسے موذی مرض کو شکست دینے کے بعد اب ایک بار پھر وہ بے چین روح بن گئے ہیں۔ ایک بار پھر کبھی مینگورہ روٹری کلب، کبھی اسلام پور کاٹیج انڈسٹری، تو کبھی قلم اٹھا کر اہلِ وطن کی خیر کے لیے کچھ نہ کچھ سعی فرماتے رہتے ہیں۔
آفاق را گردیدہ ام، مہر بتاں ورزیدہ ام
بسیار خوباں دیدہ ام، اما تو چیزے دیگری

(نوٹ: یہ تحریر تقریباً تین سال پرانی ہے، راقم)
………………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے