420 total views, 1 views today

تھانہ اور تحصیل دونوں ریاست کی عمل داری کی علامات میں سے ہیں۔ دونوں اپنے لحاظ سے بڑے اہم بھی ہیں۔ دونوں کی سیاسی، رواجی اور روایتی پہلو بہت اہم ہیں۔
تھانہ و تحصیل یا اس طرح کے دوسرے ادارے ہمارے ہاں ریاستی قیام سے آئے ہیں۔ جن علاقوں میں ریاست کے یہ ادارے نہیں ہوتے تھے، ان کو یاغستان کہا جاتا تھا۔ حالاں کہ وہاں دوسرے ادارے اسی طرح کے ہوتے تھے مگر ان کو درخورِاعتنا نہیں سمجھا جاتا تھا۔
بنیادی طور پر تھانہ و تحصیل کا مقصد ریاست کے قانون کی عملداری ہوتا ہے۔ ریاست چاہے جیسی بھی ہوتی، یا اس کے قوانین جس طرح کے بھی ہوتے، تھانہ و تحصیل کو مقامی سطح پر ان پر عملدرآمد کروانا ہوتا تھا۔
ریاست کے قیام اور انصرام میں دو چیزوں کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ حکمرانوں کے خلاف کسی بھی بغاوت کو کچل دینا، اور حکمرانی کے لیے معیشت کا اہتمام کرنا، یعنی لوگوں سے ٹیکس، عشر، جزیہ وغیرہ وصول کرکے ریاست کی حکمرانی میں آسانی پیدا کرنا۔
ریاست میں شہریت، شہری کے حقوق جیسے معاملات بعد میں شامل ہوئے ہیں اور ان کے لیے دنیا کئی انقلابات سے گزری ہے۔ اس سے پہلے حکمران اور رعایا ہوا کرتے تھے۔ کوئی شہریت یا شہری حقوق کا تصور نہیں تھا۔
ریاست نے ہمیشہ ایسی روایات کو دوام بخشا جو انسانوں میں تفریق، سماجی اونچ نیچ اور سماجی ڈھانچے میں تفاوت کو نہ صرف برقرار رکھے، بلکہ کئی صورتوں میں اسے مزید پروان چڑھائے۔ یوں یہ ادارے ریاستی طاقت کے مراکز گردانے گئے، اور ان کے اہلکاروں کی عزت معاشرے میں پختہ ہوگئی۔ سماج کا جو بندہ ان اہلکاروں کے قریب رہا، اس سے لوگوں کی توقعات ذیادہ ہوگئے اور وہ معتبر ٹھہرا۔
دوردراز علاقوں اور قدیم روایات میں بندھے معاشروں میں تھانہ تحصیل سماجی استعارے بن گئے۔ جن لوگوں کو ان سے قربت رہی وی سیاست کرتے رہے۔ یہ سلسلہ برطانوی دور میں بہت آگے بڑھا۔ متحدہ ہندوستان میں جن لوگوں کو انگریز سے قربت تھی، وہ ہمیشہ معتبر ٹھہرے۔ یہی معتبر لوگ بعد میں جاکر سرحد کے دونوں طرف نوزائدہ ریاستوں میں حکمران بن گئے، جن سے ابھی تک دونوں ممالک پاکستان و ہندوستان چھٹکارا نہیں پا سکے۔ ان لوگوں میں سیاست دان، فوجی و سول افسرشاہی اور ریاست کے پروردہ دانشور و مولوی نمایاں رہے۔
ہمارے ہاں توروال میں ریاستِ سوات اپنے قیام کے سات سال بعد یعنی 1922ء میں آئی۔ اس سے پہلے یہاں کے لوگ اپنے مقامی سیاسی نظام کے تحت معاملات چلا رہے تھے، جہاں ناانصافی، جرائم یا ظلم اپنے طور پر موجود تھا۔ ریاست کے بعد بھی یہ روایات اپنی جگہ رہیں۔ البتہ جب کسی مقامی فرد نے ریاست کی خلاف ورزی کی، تو اسے راستے سے ہٹایا گیا۔ مقامی لوگوں کو تقسیم کرنے کا سلسلہ برقرار رہا، تاکہ ان کو قابو میں رکھا جاسکے۔ یہاں ریاست کی ان علامات کو قلعوں کی شکل دے کر مضبوط کیا گیا۔ تحصیل دار یا حکیم، مقامی بادشاہ ہوتا تھا اور ان سے جن لوگوں کا تعلق ہوتا وہ مقامی لیڈر بن جاتا۔ کئی دہائیوں بعد اس سلسلے میں ٹھہراؤ سا آگیا۔ یہ سلسلسہ جاری رہا کہ 1969ء میں ریاست کا ادغام پاکستان کے ساتھ ہوگیا۔ اسی کے ساتھ ہی نئے جھمیلے شروع ہوگئے۔ مرکزی ریاستی اداروں کا عمل دخل شروع ہوا۔ یہاں انتخابی سیاست شروع ہوگئی۔ اس میں مرکزی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے لیے نمائندوں کا انتخاب لازمی ہوگیا، مگر ان انتخابات میں وہی روایات نمایاں رہیں جن کو ریاست سوات نے پروان چڑھایا تھا۔ یعنی سیاست کسی ترقی، تعلیم یا صحت کی سہولیات کے لیے نہیں بلکہ تھانہ تحصیل کے گرد گھومتی رہی۔ لوگوں کے ووٹ کو وہی شخص جیت سکتا جو لوگوں کی خدمت تھانہ تحصیل میں کرسکتا تھا، یعنی وہ اپنی مقامی، نسلی یا علاقائی غیرت کی وجہ سے کوئی جرم کرے۔ بات تھانہ و تحصیل تک پہنچ جائے اور ان کا نمائندہ انہیں وہاں سے رعایت دلاسکے۔ روایات میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ 1980ء کے بعد ایک نئی لہر آئی جس نے لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر سیاست پر اکسایا۔ لوگوں کو شریعت کے نام پر سہانے خواب دکھائے جاتے اور وہ ان رہنماؤں کو ووٹ ڈالتے رہتے۔ لوگ سمجھ رہے تھے کہ وہ خالص دین کی خدمت کر رہے ہیں، لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اصل میں ایک خاص بین الاقوامی منصوبے اور ان کے مقامی کارندوں کی خاطر وہ ایسا کر رہے ہیں۔ بعد میں تھانہ تحصیل والے مقصد کے ساتھ ایک اور مقصد شامل ہوگیا، یعنی ووٹ اسی کو دینا ہے جو کسی کی فوتگی میں جاکر فاتحہ خوانی کرے۔ یہ عمل حالیہ وقتوں میں اس قدر بڑھ گیا کہ سیاسی عزائم رکھنے والے افراد دن رات فوتگیوں کی فاتحہ خوانی میں سرگرم رہتے۔ ایسے میں مسائل کا ادراک کسی کو نہ رہا اور نہ کسی نے مسائل کے حل کے لیے کسی کو ووٹ ہی دیا۔
تھانہ تحصیل کے اس کلچر اور اس سے جڑی طاقت نے اس قدر جڑیں پکڑی ہیں کہ بہت سارے مقامی رہنما کسی افسر کے ساتھ فوٹو کھینچوانا اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ اس پر حیرانی ہوتی ہے لیکن جب اپنی دیہات میں لوگوں کی سوچ کو جانچیں، تو پتا لگے گا کہ ہمارے یہ مقامی رہنما ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ دیہات میں اب بھی لوگ اس شخص کو بڑا معتبر سمجھ رہے ہیں جس کا تعلق تھانہ تحصیل والے کسی اہلکار سے ہوتا ہے۔ اس کی ایک خاص وجہ ہے۔ ہماری نظر اپنی دہلیز سے پرے دیکھ نہیں سکتی۔ ہم گاؤں کی سطح پر کسی نامعلوم غیرت کی وجہ سے اپنے پڑوسی سے ہمیشہ پختو یعنی تعلقات کشیدہ رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے جھگڑے کرتے ہیں۔ حد درجہ قانون و عدالت سے اور اپنے شہری حقوق سے ناواقف ہیں، اس لیے ہمیشہ ایسے مقامی رہنماؤں کے کاسہ لیس رہتے ہیں۔ کبھی سوچتے نہیں کہ پڑوسی سے آخر جھگڑا کیا ہے، اور اس کا کوئی متبادل حل موجود ہے کہ نہیں؟
ملکی سطح پر جب تھانہ تحصیل اور شریعت کے نعروں میں جان نہ رہی، تو ایک اور نعرے کو ’’تبدیلی‘‘ کا نام دے کر تیار کیا گیا۔ پہلے مخالفین کے خلاف اسلام دشمن، لادین، سیکورٹی رسک جیسے نعرے استعمال ہوتے تھے۔ اب کی بار تبدیلی کے بینر تلے کرپٹ، چور، ڈاکو، غدار، دیسی لبرل اور ملک دشمن جیسے نعرے گھڑے گئے۔ پہلے سے ستائے لوگوں کو باور کرایا گیا کہ اب کی بار بس ان کی قسمت چمکی۔ ذیادہ تر توجہ اس پود پر دی گئی کہ جن کی عمر کم ہے اور ان کو تاریخ کا کوئی مشاہدہ نہیں، اور نہ وہ ایک خاص نظریاتی زاویے سے پرے دیکھ ہی سکتے ہیں۔ اسی طرح ان کو ماضی کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ وہ کرکٹ کی دلداہ تھی۔ اسی لیے ان کے مرغوب میدان سے ایک بت کو تراش کر میڈیا کے ذریعے ایسا پیش کیا گیا، گویا کوئی نیلسن مینڈیلا، چی گویرا یا لنکن پاکستان میں نازل ہوا ہے۔ اس بت کو اقتدار میں لایا گیا۔ اس پود کو مسلسل نئے میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا کے سحر میں گرفتار رکھا گیا، تاکہ وہ شورشرابا کرسکے اور سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھال سکے۔ ان کے ہاتھ ٹھپوں کی صورت میں ایسے استرے دیے گئے کہ وہ اس سے اپنے باپ کی بھی حجامت کرسکے۔ عوام کی حجامت اب ان کے ذمے ہے، جب کہ ملک میں میڈیا، سیاست دانوں اور صحافیوں کی حجامت کسی اور کے ذمے ہے۔ سلسلہ جاری ہے۔ تماشا کیجیے اور تالیاں بجاتے رہیں، تاوقت یہ کہ آپ کی عمر پک جائے، اور آپ کی سوچ میں ٹھہراؤ اور پختگی آجائے۔
"تبدیلی” جس کے لیے ہم سرگرداں ہیں، ایک بہت بڑے سماجی عمل کا نام ہے۔ اس میں مقامی و ملکی سطح پر معاشروں کا جدید ہونا ہے اور دنیا کی اور اقوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہے۔ اس سے مراد دنیا کی تہذیب، سائنس و علوم میں اپنا بھرپور کردار ڈالنا ہے۔ تبدیلی وہی ہوتی ہے جب ہمارے رویے تبدیل ہوں اورروایات میں سے غیر انسانی عناصر نکل جائیں۔ تبدیلی وہی مثبت ہوتی ہے جہاں لوگوں کی تخلیقی صلاحیت بڑھے، فکر آزاد ہوں اور سوچ پر قدغن نہ ہو۔ مرکز و مضافات میں ترقیاتی تفاوت نہ رہے۔ قانون و آئین شہریوں کے تحفظ کے لیے ہو، نہ کہ شہری ان کے تحفظ کے لیے۔
خوف کو ’’تبدیلی‘‘ نہیں کہا جاسکتا۔
جبر سے تبدیلی نہیں آسکتی اور نہ ہی آوازوں کو بند کرنے سے تبدیلی آتی ہے۔ گندگی کے ڈھیر پر چاہے جتنے چادر چڑھائے جائیں، خوشبو نہیں آئے گی۔
یاد رہے، اگر ریاست ہمیشہ درست ہوتی، تو آج نیلسن مینڈیلا، چی گویرا، لینن، لنکن، بھگت سنگھ، علی شریعتی، مرسی وغیرہ ہیرو نہیں ویلین ہوتے۔

…………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے