226 total views, 1 views today

پاکستانی سیاست میں سیاست دانوں کا ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنا اور ایک دوسرے کو چور ڈاکو کہنا کوئی نئی بات نہیں۔ یہ سب کچھ پہلے بھی جلسے جلوسوں میں کہا جاتا رہا ہے، لیکن اب پاکستانیوں سمیت پوری دنیا یہ آوازیں پارلیمنٹ کے فلور پر اُن افراد کی زبانی سن رہی ہے، جو وہاں عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ افسوس کہ انہیں عوام کا دکھ درد تو کوئی نہیں، البتہ وہ اپنے لیڈر کو خوش رکھنا اور احتساب سے بچانا چاہتے ہیں۔ چاہے ملک و قوم کو اس کی کچھ بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔ ارکانِ اسمبلی نئے سال کے مالیاتی بجٹ سیشن میں عوام کے حق میں بولنے کی بجائے اپنے ہی لیڈروں کا دفاع کرتے ہوئے نظر آئے اور حکومتی پارٹی کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتے رہے۔ دوسری طرف حکومتی ارکان اپنے لیڈروں کا دفاع کرتے رہے۔ جب اسپیکر نے اپوزیشن کے گرفتار ارکان کو اسمبلی میں لانے کے لیے “پروڈکشن آرڈرز” جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی، تو ہی اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شور شرابا ختم کیا۔ اگلے دن کے بجٹ سیشن سے پاکستان پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا: “پاکستان ہے تو ہم ہیں، حساب کتاب اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بند کیا جائے، آگے کی بات کی جائے، جو طاقتیں حکومت کو لے کر آئی ہیں، انہیں بھی سوچنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سیاسی قوتوں کے ہاتھوں سے معاملات نکل جائیں۔”
دراصل آصف علی زرداری یہ چاہتے ہیں کہ ان سے ملک و قوم کی لوٹی ہوئی دولت و وسائل کا کوئی حساب کتاب لیا جائے اور نہ کوئی سوال جواب ہی کیا جائے۔ اور اگر آئندہ بھی وہ لوٹ مار کریں گے، تو بھی کوئی نہ پوچھے۔
اس صورتحال میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے حکومت کو میثاقِ معیشت کی پیشکش کی۔ ان کا بھی مطلب یہی ہے کہ ہم سے بھی حساب کتاب نہ کیا جائے۔ ان کے ٹاپ لیڈروں پر مقدمات چل رہے ہیں۔ دونوں اپوزیشن لیڈروں کے خطاب سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں پارٹیاں اشاروں، کنایوں میں این آر اُو کی بات کر رہی ہیں۔ پاکستانی سیاست میں این آر اُو کی باتیں نئی تو نہیں۔ اس سے پہلے سابق صدر جنرل مشرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے دونوں جماعتوں سے این آر اُو کر چکے ہیں، جس کے تحت ان کے تمام مقدمات ختم کیے جا چکے تھے۔ اس کے باوجود کہ دونوں کے خلاف ثبوت کتنے ہی مضبوط کیوں نہ تھے۔ آصف علی زرداری اس بار بھی مچھلی کی طرح ہاتھ سے پھسل گئے۔ زرداری کئی سال جیل میں رہے، لیکن انہیں سزا نہیں ہوئی۔ البتہ اصل طاقتیں انہیں بے نظیر کو بلیک میل کرنے کے لیے بطورِ لیور استعمال ضرور کرتی رہیں۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد حالات بدل گئے اور آصف علی زرداری اس پوزیشن میں تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کو بلیک میل کر کے اپنے لیے جگہ بنائیں۔ تب زردای کے جرائم کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں راستہ دیا گیا، تاکہ وہ صدر بن کر ملک چلائیں۔ آصف علی زرداری یہ گُر اچھی طرح جانتے ہیں کہ قانون کے ساتھ کیسے نمٹا جاتا ہے اور قانونی سسٹم کو کیسے بے توقیر کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے زرداری نے ارادہ کیا کہ کسی مجاز عدالت سے کلین چٹ حاصل کیا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک طرف اس نے قابل وکلا کی معاونت حاصل کی، جب کہ دوسری طرف سفارت کار واجدالحسن اور حسین حقانی کو غیر قانونی طور پر استعمال کیا۔ ان دونوں کے ذریعے اپنے خلاف اصل دستاویزات اور ثبوتوں کو ضائع کیا اور جو فوٹو کاپیاں موجود تھیں ان میں تبدیلیاں کی گئیں۔ ججوں میں بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ مضبوط حکمران مافیا کے خلاف اقدامات کر سکیں۔ لہٰذا وہ کمپرومائز کر بیٹھے۔ آصف علی زرداری کے مقدمات کا خاتمہ میرٹ اور ثبوتوں کی عدم موجودگی پر نہیں بلکہ ٹیکنیکل وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا۔
اس کے بعد بے نام اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے معاملات سامنے آئے، جن میں فرنٹ مین، رکشہ ڈرائیور، فالودہ فروشوں اور دیگر کے ناموں پر اکاؤنٹس کھلوائے گئے تھے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی جے آئی ٹی نے بے نام اکاؤنٹس، ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ کو رقم کی منتقلی، ووچرز اور زرداری کے جعلی انڈسڑی یونٹس کو دی گئی مراعات کا پتا لگایا گیا۔ یہ سیکم چار، پانچ سال میں عالمی نیٹ ورک تک پھیل گیا، جس کے ذریعے سرکاری خزانہ اور ترقیاتی فنڈز کو بے دردی سے لوٹنے کے شواہد ملے۔ اس کے بعد پتا چلا کہ کیسے چھوٹے چھوٹے پراجیکٹس کو ہائی جیک کرکے بہت بڑے میگا پراجیکٹ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض کو کراچی میں ہزاروں ایکڑ اراضی تحفے میں دے دی گئی، جس کے بدلے میں ملک ریاض بھی پیپلز پارٹی کو بہت کچھ دیتا رہا، جو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی زینت بن چکا ہے۔
ایک اور بڑی مچھلی میاں محمد نواز شریف کو تو جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ان کے دیگر حواریوں پر نیب عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں۔ جب بے نام اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے سبب حالات سنگین ہوگئے، تو زرداری پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا جس کا بہت عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا، تاکہ مقدمات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ آصف علی زرداری کے کچھ ساتھیوں کو پہلے سے مقدمات کا سامنا ہے اور بعض جیل میں ہیں، جن میں فریال تالپور، عزیر بلوچ، حسین لوائی، انور مجید اور ان کا خاندان، سرجیل میمن، آغا سراج درانی اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ سائیں سرکار قابل ذکر ہیں۔ سرکار نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کے نام ای سی ایل لسٹ میں ڈال دیے ہیں اور زرداری اور فریال تالپور نیب کے ہاتھوں گرفتار ہیں۔ آصف علی زرداری کو علم ہو چکا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایٹم بم پھٹے والا ہے۔ آصف علی زرداری نے وکلا سے کہا کہ جلد بازی سے کام نہ لیں، انہیں ضرور کوئی نہ کوئی موقع مل جائے گا۔ اب انہوں نے پارٹی لیڈروں کو میدان میں اتار دیا ہے جو حکومت کے خلاف بیان بازی اور احتجاج میں لگے ہوئے ہیں۔
قارئین، میرے تجربہ کے مطابق شائد اس بار ایسا ہو جیسے زردای چاہتے ہیں۔ اگر خدا نخواستہ ایسا ہوگیا، تو یہ پاکستان اور پاکستانی قوم کی بدقسمتی ہوگی اور آئندہ کسی کا بھی احتساب نہیں ہوسکے گا۔ ہمارا المیہ ہے کہ ہم تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتے۔ ہم صرف دولت کے پجاری ہیں اور دولت سمیٹنے میں لگے رہتے ہیں۔ بغداد پر ہلاکو خان کے قبضہ کے بعد خلیفہ معتصم باللہ کے سامنے برتنوں میں سونا، چاندی اور ہیرے جواہرات رکھ دیے گئے جو ہلاکو خان نے معتصم باللہ کے محلات سے اتارے تھے۔ ہلاکو خان نے معتصم باللہ سے کہا کہ جناب عالی، اسے تناول فرمائیں۔ معتصم باللہ نے تعجب سے ہلاکو خان کی طرف دیکھ کر کہا کہ بھلا میں یہ کیسے کھا سکتا ہوں، یہ کوئی کھانے کی چیز ہیں؟ ہلاکو خان نے جواباً کہا کہ پھر آپ نے اسے اتنی حفاظت کے ساتھ کیوں کر رکھا ہے؟ ہلاکو خان نے سونا، چاندی اور ہیرے جواہرات سے بھرے فولادی صندوقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ان صندوقوں کے فولاد سے اپنی افواج کے لیے تیر اور تلواریں بناتے اور ان ہیرے جواہرات کو اپنی سپاہ اور عوام پر خرچ کرتے، تو آج میرے سپاہی اتنی آسانی سے تمہارے محل کی چوبیں نہ اُکھاڑتے۔ ایسے حکمرانوں کی قسمت میں شکست اور غلامی ہوتی ہے اور وہ اپنے ساتھ اپنی قوم کو بھی ڈبو لیتے ہیں۔

…………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے