382 total views, 1 views today

15 جنوری 2009ء کو امریکی ایئرویز کی فلائٹ 1549 معمول کے مطابق ’’لاگارڈیا ایئرپورٹ نیویارک‘‘ سے ’’شارلٹ ڈگلس ایئرپورٹ‘‘ شمالی کیرولائنا اڑنے کے لیے تیار تھا۔ ایئربس A 320 کا کپتان 57 سالہ ’’چالسی سولن برگر‘‘ عرف ’’سولی‘‘ ایوی ایشن سیفٹی کا ماہر اور سابق گلائیڈر پائلٹ تھا۔ سولن برگر 1980ء میں سول ایوی ایشن جوائن کرنے سے پہلے فائٹر پائلٹ کے طور پر امریکی ایئر فورس میں خدمات انجام دے چکا تھا۔ فلائٹ 1549 تک سولن برگر اپنی زندگی کے 19663 گھنٹے جہاز اڑانے میں صرف کرچکا تھا، جس کے 4765 گھنٹے تو اسی ایئر بس A 320 پر مشتمل تھے۔ جہاز کا فرسٹ آفیسر 49 سالہ ’’جفری بی سکائلس‘‘ تھا۔ اس نے بھی اپنی زندگی کے 15643 گھنٹے جہاز اڑانے میں گزارے تھے، لیکن ایئربس A320 پر اس کا یہ پہلا سفر تھا۔ ان دو پائلٹس کے علاوہ اس جہاز پر 150 مسافر اور 3 عملے کے ارکان بھی سوار تھے۔ یہ سفر چونکا دینے والا اس وقت بنا جب انہیں زندگی ختم ہونے جیسی کیفیت کا سامنا ہوا۔ لمحہ بھر پہلے جہاز میں ایندھن بھر کر پائلٹس نے اڑان بھری، لیکن ٹھیک دو منٹ کے بعد اس وقت جہاز میں بیٹھنے والوں پر قیامت صغریٰ برپا ہوی ہے جب جہاز کے دونوں انجن اپنی طاقت کھو بیٹھے اور جہاز آسمان سے گرنے لگا۔
عزیزانِ من، سہ پہر 3بج کر 24 منٹ پر پائلٹ تیار تھے۔ لاگارڈیا ایئرپورٹ کنٹرول ٹاؤر نے بھی جہاز کو اڑانے کے لیے کلیئر قرار دے دیا ۔ جہاز اڑنے کے بعد ساری چیزیں ٹھیک کام کررہی تھیں۔ موسم بھی کافی اچھا تھا جس کی وجہ سے پائلٹ کے سامنے 10 میل پر پھیلے ’’دریائے ہڈسن‘‘ کا خوبصورت منظر اور بھی دلکش نظر آ رہا تھا، لیکن انہیں ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ چند لمحے بعد دریائے ہڈسن ہی ان کے لیے زندگی کی آخری امید بننے والا ہے۔ بہرحال پرواز بالکل اس طرح تھی جیسے کپتان سولن برگر اپنے 40 سالہ کریئر میں لیا کرتا تھا، یعنی حسبِ معمول اڑان کے پہلے 100 سیکنڈز میں پائلٹس نے معین سمت حاصل کی اور پرواز کے لیے ضروری کام یکے بعد دیگرے نمٹا دیے، لیکن سہ پہر 3 بج کر 27 منٹ پر جب جہاز 316 فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا، اچانک سولن برگر نے کینیڈین راج ہنس دیکھے جو جہاز کے آگے سے ٹکراگئے۔ جہاز 2800 فٹ بلندی پر ایسی تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا تھا کہ پائلٹ اسے تصادم سے نہیں بچا سکے۔ وہ بے بسی کے عالم میں ان بڑے پرندوں کو اپنے راستے میں آتے اور جہاز کے انجن سے ٹکراتے ہوئے دیکھتے رہے۔ اس ناگہانی اور دھماکے دار ٹکر کی آواز سن کر طیارے میں موجود مسافروں کی چیخیں نکل گئیں، لیکن جب کھڑکیوں میں انہیں جہاز کے انجن سے آگ اور دھواں نکلتے نظر آیا، تو یک دم پورے جہاز کے اندر خاموشی کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔ ہر مسافر یہ سوچنے لگا کہ میرے ساتھ ایسا نہیں ہوسکتا۔ کاش، میں اس وقت اس جہاز میں نہ ہوتا۔ ان کے لیے ہوش سنبھالنا مشکل ہورہا تھا، لیکن کپتان سولن برگر یہ جانتے ہوئے کہ جہاز کے دونوں انجن بند ہوگئے ہیں، پھر بھی اپنے ہوش کو قابو میں کیے ہوئے تھا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے پاس اب دوبارہ بحفاظت لینڈ کرنے کا کوئی چانس نہیں ہے۔ پھر بھی وہ حوصلہ رکھے ہوئے تھا۔ اس تصادم کے چند سیکنڈ کے بعد کپتان نے انجنوں کو دوبارہ سٹارٹ کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ کیوں کہ دونوں انجن جواب دے چکے تھے۔
انجنوں کے شٹ ڈاؤن ہونے کے کچھ 20 سیکنڈ بعد سولن برگر کنٹرول ٹاؤر کو ایک ایمرجنسی کال دیتے ہیں کہ ایئر بس A320 کے انجن پرندے لگنے سے تباہ ہوچکے ہیں، جس پر ایئر پورٹ کنٹرول ٹاؤر کے آفیسر ’’پیٹرک ہارٹن‘‘ اسے لاگارڈیا واپس لینڈ کرنے کو کہتے ہیں۔ ہارٹن لاگارڈیا کی ساری روانگیاں مؤخر کردینے کے بعد سولن برگر کو رن وے 13 پر لینڈ کرنے کا بھی حکم دیتے ہیں، لیکن کپتان سولن برگر جواب میں صرف ایک ہی جملہ کہتے ہیں کہ ’’ہم اس قابل نہیں۔‘‘ اس نے ہارٹن کو بتایا کہ ہم دریائے ہڈسن میں لینڈ کرسکتے ہیں، لیکن ایئر ٹریفک کنٹرولر اس کی بات کا یقین نہیں کر رہا تھا اور بار بار رن وے 13 پر لینڈ کرنے کی تجویز دے رہا تھا۔ اگرچہ سولن برگر اس سے پہلے اس قسم کے امتحان سے نہیں گذرا تھا، لیکن پھر بھی اس نے قوتِ فیصلہ کا بروقت اور صحیح استعمال کیا۔ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ ہر صورت میں جہاز کو ہڈسن ریور میں ہی لینڈ کرنا ہوگا جس کے لیے اس نے خود کو تیار کرلیا۔ دریائے ہڈسن پر لینڈ کرنے کے لیے ایک جگہ کا انتخاب کرنے کے بعد سولن برگر اگلے 3 سیکنڈ کے لیے مسافروں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا "This is your captain, brace for impact.” کپتان کی طرف سے اعلان، ’’شدید جھٹکے کے لیے تیار رہیں۔‘‘
عزیزانِ من! 2800 فٹ بلندی سے نیچے کی طرف آتے ہوئے جب ’’جارج واشنگٹن بریج‘‘ تک جہاز پہنچا، تو صرف 900 فٹ کی بلندی پر تھا۔ بلآخر 3 بج کر 31 منٹ پر ایک زوردار دھماکے کی آواز کے ساتھ جہاز پانی میں اتر گیا۔ جیسے ہی جہاز رُکا، کپتان فوراً باہر آیا اور لوگوں کو جہاز سے نکلنے کا حکم دیا۔ جہاز کے تو دو ٹکڑے ہو چکے تھے لیکن معجزانہ طور پر سارے مسافر بچ گئے تھے۔ کسی کو کوئی شدید چوٹ نہیں آئی تھی اور تقریباً 4 منٹ کے اندر ریسکیو ٹیمیں بھی پہنچ چکی تھیں۔ یوں سارے مسافر بحفاظت دریائے ہڈسن سے نکال لیے گئے۔
عزیزانِ من، بجائے اس کے کہ میں اس واقعے کے مزید پہلوؤں کو اجاگر کروں اور اس پر طویل بحث کروں۔ کیوں نہ جو اس کا حاصل ہے، اسی پر کلام کرکے اس تحریر کو سمیٹ لوں۔ وہ یہ کہ اس واقعے کو پڑھنے سے ہمیں دو سبق ملتے ہیں جس کی ہمیں اس وقت بہت زیادہ ضرورت ہے۔پہلا سبق، بروقت صحیح فیصلہ لینا۔دوسرا، اس فیصلے کے لیے قربانی دینا۔
اگر سولن برگر، ہارٹن کے حکم کے مطابق واپس لاگارڈیا ایئرپورٹ لینڈ کرتا، تو شاید وہ ایئرپورٹ پہنچنے سے پہلے ہی کریش کرجاتا، جہاز اور مسافروں کے علاوہ شاید کچھ اور چیزیں بھی تباہ کردیتا۔ سولن برگر نے بروقت صحیح فیصلہ یہ لیا کہ میں جہاز کی قربانی دے کر مسافروں کو بچاؤں گا۔
آج ہمارے ملک پاکستان کی سیاسی صورتحال نا گفتہ بہ ہے۔ ملک تاریخ کے خوفناک ترین معاشی دور سے گذر رہا ہے۔ اگر خارجہ پالیسی کا جائزہ لیا جائے، تو ہمارے پڑوس میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جو ہمارے لیے نیک خواہشات رکھتا ہو۔ اندرونِ ملک اداروں کا ایک دوسرے پر اعتماد ختم ہورہا ہے۔ بقول ہمارے واجب الاحترام چیف جسٹس کے ’’ملک کے کسی ادارے سے بھی اچھی خبریں نہیں آرہیں، سوائے عدلیہ کے۔‘‘
چیف جسٹس صاحب کے علاوہ مفتی منیب الرحمان صاحب جیسی شخصیت کو بھی اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لیے آئے دن بیانات دینے پڑرہے ہیں۔ سوالیہ نشان تو آج کل میڈیا کی آزادی پر کچھ زیادہ ہی ’’بڑا‘‘ لگا ہوا ہے۔ بہرحال میری رائے یہ ہے کہ اگر ان جیسے سارے مسائل کا حل چاہتے ہیں، تو میرے کپتان کو بھی ان دو اسباق پر عمل کرنا ہوگا، یعنی بروقت صحیح فیصلہ لینا ہوگا اور اس فیصلے کے لیے ہر قسم کی قربانی دینا ہوگی۔
صحیح فیصلہ یہ ہے کہ اس ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ ہمیں بندوق کی بجائے جمہوریت سے فیصلے کرنا ہوں گے۔ ہمیں سیاسی استحکام کے لیے پارلیمنٹ کو بحال اور بالا دست رکھنا ہوگا۔ یہ صحیح فیصلے کرنے کے لیے اگر میرے کپتان کو ’’آئی ایم ایف نہیں جاؤں گا‘‘، ’’قرضہ نہیں لوں گا‘‘ جیسے چند اور یو ٹرنز لینے کی قربانی دینا پڑے، تو انہیں دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ اس ملک کا سوال ہے اور کوئی بھی ملک سیاسی استحکام کے بغیر نہیں چل سکتا۔
اگر وزیراعظم صاحب کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ’’نیب‘‘ تک کے قانون میں اصلاحات کا کہا جائے، تو ازراہِ کرم اس ملک میں سیاسی استحکام برقرار رکھنے کے لیے اس سے بھی منھ مت موڑیں۔ ایسا نہ ہو کہ آج آپ جو بے روزگاری اور ٹیکسوں میں اضافے کا سبب بنے ہیں، اور یہ مہنگائی کا جو طوفان آپ کی عنایت سے برپا ہوا ہے، اسی پر اپوزیشن جماعتیں اور عوام بروقت صحیح فیصلہ لے لیں، آپ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں اور آپ کی حکومت کے ساتھ اس ملک کا سیاسی استحکام ایک مرتبہ پھر ’’کسی‘‘ کے ہاتھوں پامال ہوجائے۔

…………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے