268 total views, 1 views today

صوبہ خیبر پختونخوا کے مشہور شاعر، مصنف، محقق اور صحافی سعداللہ جان برقؔ پشتونوں کی تاریخ پر مبنی اپنی سہ جلدی تصنیف ’’د پختنو اصل نسل‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اولین انسان کے جنت سے نکالے جانے کے تصور کے حوالے سے میرا خیال ہے کہ پہلے پہل انسان پہاڑوں کا باسی تھا۔ پہاڑوں میں کھانے پینے کی اشیا کی کوئی کمی نہ تھی۔ یہی پہاڑ انسان کی جنت تھے۔ پھر جب اشیائے خور و نوش میں کمی واقع ہونے لگی، تو انسان پہاڑوں سے نیچے زمین پر بسیرا کرنے لگا اور اپنی جنت سے نکل آیا۔
مَیں جب بھی پہاڑوں کی سیر کے لیے نکلتا ہوں، کسی نئی آبشار یا جھیل کا نظارہ کرتا ہوں، تو پتا نہیں کیوں میرے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ جیسے صدیوں پہلے میری روح اس جھیل یا آبشار کو دیکھ چکی ہے اور اسے اپنے اندر جذب کرچکی ہے۔
زیرِ نظر تحریر کے ذریعے ایک ایسی ہی جھیل کی سیر کرانا مقصود ہے، جس کے بارے میں باقی ماندہ پاکستان کے باسی تو دُور کی بات، اپنی وادی ’’اتروڑ‘‘ کے باسی بھی کم ہی جانتے ہیں۔ آپ اسے بجا طور پر ’’اَن دیکھا پاکستان‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ آئیے، سب سے پہلے وادئی اتروڑ کا مختصر تعارف آپ سے کرواتے ہیں۔
وادئی اُتروڑ:۔ اُتروڑ کو اگر جھیلوں کی وادی کہا جائے، تو یہی بہتر ہوگا۔ وہ اس لیے کہ دیومالائی کہانیوں کے لیے مشہور جھیل ’’کنڈول‘‘ ہو، سحر انگیز جھیل ’’سپین خوڑ‘‘ ہو، پریوں کا مسکن ’’پری جھیل‘‘ ہو یا پھر تاحدِ نگاہ پھیلے سرسبز مرغزاروں اور سبزہ زاروں کا لُطف دوبالا کرنے والی جھیل ’’ازمس‘‘ ہو، ان تمام جھیلوں کی سیر کے لیے ضرور بالضرور اس چھوٹی سی وادی کا رُخ کرنا ہوگا۔ اُتروڑ میں ’’لدو بانڈہ‘‘ مذکورہ تمام جھیلوں کے لیے ایک طرح سے بیس کیمپ کا کردار ادا کرتا ہے۔ لدو کا اپنا حسن اتنا ہے کہ ایک بار یہاں قدم رنجہ فرمانے والا تادمِ آخر اس کے سحر سے خود کو نکال نہیں پاتا، اور اسی وادیِ اُتروڑ کا دیسان بانڈہ تو نہ صرف سوات بلکہ پورے ملک میں اپنی ایک خاص پہچان رکھتا ہے۔

خوبصورت سوات کی جنت نظیر وادئی اُتروڑ کا لدو بانڈہ۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

آغازِ سفر:۔ وادئی اُتروڑ تک پہنچنے کے لیے سفر کا آغاز سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے کرنا پڑتا ہے۔ مینگورہ سے بحرین تک کا راستہ پکی سڑک پر مشتمل ہے جو 57 تا 58 کلومیٹر بنتا ہے۔ ڈیڑھ گھنٹے میں باآسانی یہ راستہ طے کیا جاسکتا ہے۔ صبح 7 بجے اگر سفر شروع کیا جائے، اور بحرین کے مقام پر ہی ناشتہ کیا جائے، تو اس سے بہتر بات کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ بحرین بازار ہوٹلوں اور ریسٹورینٹ کے حوالے سے پورے سوات میں مشہور ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ قیمتیں بھی مناسب ہیں۔ بحرین کے آگے اُتروڑ تک راستہ کچا اور پُرخطر ہے۔ گو کہ موجودہ حکومت اس حوالے سے اول اول کافی سرگرم دکھائی دے رہی تھی، مگر جیسے ہی وقت گزرتا جا رہا ہے، ان کی سرگرمی بھی کم ہوتی جارہی ہے۔ ناشتہ بحرین میں کرنے کے بعد دوپہر کا کھانا باآسانی کالام بازار میں تناول کیا جاسکتا ہے، جہاں مختلف ریسٹورینٹس پر من پسند مقامی و غیر مقامی کھانے مل جاتے ہیں۔ زیادہ تر ریسٹورینٹ لاہور و ملتان وغیرہ کے مالکان اور خانساماؤں کے ہیں۔ کالام بازار کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں روزمرہ کی ضروریاتِ زندگی کی ہر چیز مل سکتی ہے۔ کالام سے آگے گھنے جنگل میں ایک دوراہا آتا ہے، جہاں سے ایک راستہ مٹلتان، مہوڈنڈ، جھیل سیف اللہ اور ڈونچار آبشار کی طرف نکلتا ہے جب کہ دوسرا وادئی اُتروڑ، گبرال، شاہی باغ، گوجر گبرال اور خرخڑے جھیل کی طرف نکلتا ہے۔ مذکورہ دونوں راستوں پر فور بائے فور گاڑی کے ذریعے ہی سفر طے کیا جاسکتا ہے۔ مینگورہ شہر سے وادئی اتروڑ تک کا فاصلہ 110.6 کلومیٹر ہے جسے ٹھیک 5 یا ساڑھے 5 گھنٹوں میں طے کیا جاسکتا ہے، بشرط یہ کہ روڈ پر تعمیراتی کام یا عید اور دیگر چھٹیوں کے موقع پر بمپر ٹو بمپر ٹریفک والی صورتحال نہ ہو۔ اُتروڑ کی مین روڈ سے ایک راستہ دریا کی طرف مڑتا ہے، جہاں آدھے گھنٹے کے فاصلے پر لدو بانڈہ کی حد شروع ہوتی ہے۔ لدو میں کیمپنگ کے لیے بڑے بڑے میدان ہیں، جہاں باآسانی خیمے لگا کر رات گزاری جاسکتی ہے۔ صبح تازہ دم وادئی اُتروڑ کی مذکورہ جھیلوں میں سے کسی ایک کا قصدِ سفر کیا جاسکتا ہے۔ لدو سے باآسانی گائیڈ مل سکتا ہے، جو بخوشی 2 سے 5 ہزار روپے تک کی فیس لے کر 8 سے 10 افراد پر مشتمل ٹیم کو کسی بھی جھیل یا جنت نظیر بانڈوں میں سے ایک کی سیر کرواتا ہے۔




اُتروڑ کی سب سے خوبصورت وادی “دیسان” کا دلفریب منظر۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

اِزمِس جھیل کی وجۂ تسمیہ:۔ جھیل کی وجۂ تسمیہ کے حوالے سے چند روایات مشہور ہیں۔ ہمارے 25 سالہ نوجوان گائیڈ قاسم خان پختون کے بقول، ’’ازمس ہماری مادری زبان میں زمین کے ایک ایسے ٹکڑے کو کہتے ہیں، جس پر سبزہ ہی سبزہ ہو۔‘‘ دوسری روایت وادئی اتروڑ کے 50 سالہ شخص (جس کا نام اس وقت میرے ذہن سے نکل چکا ہے) کے مطابق، ’’ازمس ہماری زبان میں غار کو کہتے ہیں، چوں کہ جھیل کے راستے پر یا اس کے آس پاس بڑے بڑے پتھر ایک دوسرے کے ساتھ کچھ اس انداز سے ملتے ہیں کہ غار نما مقامات نظر آنے لگتے ہیں۔‘‘
دونوں روایات اپنی اپنی جگہ درست ہوں گی، مگر جہاں تک میرا مشاہدہ ہے اِزمِس میں بڑی بڑی چراہ گاہیں بھی ہیں اور غار نما جگہیں بھی وافر مقدار میں ملتی ہیں۔ سبزہ زاروں میں چرتے مال مویشی ازمس بانڈہ کی خوبصورتی ہیں اور غار نما جگہیں ہم جیسوں کے لیے بارش اور تیز آندھی میں نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔

اِزمِس جھیل کے کنارے دو دوست بیٹھے محو گفتگو ہیں۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

ازمس جھیل:۔ ازمس وادئی اتروڑ کی شمال مشرقی حصے میں سطح سمندر سے تقریباً 11 ہزار 230 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ جھیل کو 3 اطراف سے فلک بوس پہاڑ گھیرے ہوئے ہیں، جن کی چوٹیوں پر سارا سال پڑی رہنے والی برف جھیل کو وافر مقدار میں پانی مہیا کرتی رہتی ہے۔
جھیل تک رسائی کے 2 طریقے ہیں۔
پہلا، پا پیادہ لدو سے جھیل تک مسافت طے کی جاسکتی ہے۔ یہ صبر آزما مرحلہ تقریباً 6 سے 7 گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
دوسرا، چینیٹی شی بانڈہ تک جیپ ایبل ٹریک پر فور بائے فور گاڑی کے ذریعے مسافت طے کی جاسکتی ہے۔ یوں پھر جھیل تک ساڑھے 4 یا 5 گھنٹے میں رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ چینیٹی شی بانڈہ سے آگے 2 گھنٹے کی مسافت قدرے مشکل ہے، مگر بانڈہ کے ارد گرد جب فلک بوس پہاڑوں اور برف کی سفید چادر سر پر تانے چوٹیوں پر نظر پڑتی ہے، تو تھکاوٹ کا احساس زائل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

چینیٹی شی بانڈہ میں سیاح تصویر کشی میں مصروف ہیں۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

چینیٹی شی بانڈہ وہ آخری مقام ہے جہاں ٹری بیلٹ (درخت پٹی) ختم ہوجاتی ہے، اور الپائن زون شروع ہوجاتا ہے۔ دو گھنٹے کی مسافت ختم ہوتی ہے، تو شمال مشرق کی جانب فلک بوس پہاڑ نظر آتے ہیں جو سر تا پا برف پوش دکھائی دیتے ہیں۔ مذکورہ پہاڑوں کے چرنوں پڑی اِزمِس جھیل پر پہلی نظر پڑتی ہے، تو بے اختیار منھ سے یہ شعر نکل پڑتا ہے
میں داسی ہوں توری سئیاں
چرن پڑی کی تھام لے بئیاں
جھیل تک رسائی کا آخری گھنٹا کافی صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے، جس میں بڑے بڑے پتھروں کے درمیان راستہ تلاشنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے، مگر جھیل پر پہنچتے ہی آدمی اپنی تمام تر تکالیف بھول سا جاتا ہے۔

…………………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے