680 total views, 1 views today

سرِ دست اک حدیثِ مبارکہ پڑھنے کی سعادت حاصل کریں، اس کے بعد دیگر باتیں ہوں گی:
’’محمود بن خداش بغدادی، محمد بن یزید واسطی، عاصم بن رجا بن حیوہ، حضرت قیس بن کثیر سے روایت ہے کہ مدینہ سے ایک شخص دمشق میں حضرت ابودردا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت ابودردا نے پوچھا بھائی آپ کیوں آئے؟ عرض کیا ایک حدیث سننے آیا ہوں، مجھے پتا چلا ہے کہ آپ وہ حدیث نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابودرداؓ نے پوچھا کسی ضرورت کے لیے تو نہیں آئے۔ کہا، نہیں۔ حضرت ابودرداؓ نے فرمایا تجارت کے لیے تو نہیں آئے۔ عرض کیا نہیں۔ حضرت ابودرداؓ نے فرمایا تم صرف اس حدیث کی تلاش میں آئے ہو، تو سنو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا، اگر کوئی شخص علم کا راستہ اختیار کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا ایک راستہ آسان کر دے گا اور فرشتے طالب علم کی رضا کے لیے (اس کے پاؤں کے نیچے ) اپنے پر بچھاتے ہیں۔ عالم کے لیے آسمان و زمین میں موجود ہر چیز مغفرت طلب کرتی ہے۔ یہاں تک کہ مچھلیاں پانی میں اس کے لیے استغفار کرتی ہیں۔ پھر عالم کی عابد پر اس طرح فضیلت ہے جیسے چاند کی فضیلت ستاروں پر۔ علما، انبیا کے وارث ہیں اور بے شک انبیا کی وراث درہم و دینار نہیں ہوتے بلکہ ان کی میراث علم ہے۔ پس جس نے اسے حاصل کیا اس نے انبیا کی وراثت سے بہت سارا حصہ حاصل کر لیا۔‘‘
امام ترمذی فرماتے ہیں، ہم اس حدیث کو صرف عاصم بن رجا بن حیوہ کی روایت سے جانتے ہیں۔ اور میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں۔ محمود بن خداش نے بھی یہ حدیث اسی طرح نقل کی ہے۔ پھر عاصم بن رجا حیوہ بھی داؤد بن قیس سے، وہ ابودردا سے اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں اور یہ محمود بن خداش کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ (حوالہ: جامع ترمذی، جلد دوم، حدیث نمبر 593)
قارئینِ کرام! محولہ بالا حدیث کو غور سے پڑھیں، تو اس میں ایک نکتہ کمال کا ہے: ’’علما، انبیا کے وارث ہیں۔‘‘ اس کے بعد مفتی شہاب الدین پاپولزئی صاحب کی تحقیر کو دیکھیں۔ ہم سب کو اپنا محاسبہ خود کرنا چاہیے۔ اب فتوا دینے کی تو ہماری حیثیت نہیں مگر بزبانِ شاعر اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ
مانیں نہ مانیں، آپ کو یہ اختیار ہے
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں
خاص کر اس مرتبہ مفتی صاحب کی شان میں کچھ فیس بکی بقراطوں کی حد درجہ تحقیرانہ پوسٹوں کو دیکھا، تو مجھے کرید ہوئی کہ ہو نہ ہو کچھ تو مفتی صاحب کی شخصیت میں ایسا ہے جو انہیں دیگر علما سے ممتاز بناتا ہے۔ اس حوالہ سے اپنے پشاور کے صحافی دوستوں، اپنے رشتہ داروں اور سب سے بڑھ کر یہود و نصاریٰ کی ’’سازشی مشین‘‘ گوگل سرچ سے رجوع کیا، تو ایسے ایسے حقائق سامنے آئے کہ جو مجھ جیسے بقراطوں کی بولتی بند کرنے کے لیے کافی و شافی ہیں۔ آئیے، ان حقائق کو طشت از بام کرتے ہیں، جن کی وجہ سے ممتاز عالمِ دین ’’مفتی شہاب الدین پاپولزئی صاحب‘‘ ہدفِ تنقید بنے ہوئے ہیں۔
سب سے پہلے فرمان نواز صاحب کی ایک دلچسپ تحریر کے دو تین نمونے ملاحظہ ہوں، لیکن اس سے پہلے موصوف کا تھوڑا سا تعارف رقم کرتا چلوں۔ فرمان نواز صاحب 5 مئی 1977ء کو پیداہوئے۔ وہ اسلام آباد سیکرٹریٹ میں فیڈرل ٹیکس آمبڈزمن (Fedral Tax Ombudsmen) میں میڈیا منیجر ہیں اور زرد صحافت کے اس بدترین دور میں دم توڑتی صحافت کی لاج رکھے ہوئے ہیں۔ اپنی ایک دلچسپ تحریر ’’عید کا امکان پٹھان کی شہادت کے مطابق کیوں نہیں؟‘‘ میں رقم کرتے ہیں: ’’پشاور کے مفتی شہاب الدین پاپولزئی سے مفتی منیب کے اختلاف کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مفتی صاحب کے چچا عبدالرحیم پاپولزئی انگریز کے خلاف ہر محاذ پر پیش پیش ہوتے تھے۔ بنوں اور پشاور میں انگریز کے خلاف کامیاب جلسے منعقد کرائے تھے۔ قصہ خوانی بازار میں شہادتوں کے بعد عبدالرحیم کو 9 سال قید کی سزا ہوئی جو بعد میں بڑھا کر 14 سال کر دی گئی۔ مفتی عبدالرحیم باچا خان کے دوست تھے اور تحریکِ خلافت میں بھر پور حصہ لیا تھا۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن سے دینی او ر سیاسی تعلیم پائی تھی، لیکن سوشلسٹ تحریک سے بھی وابستہ تھے او ر کمیونسٹ ملا کے نام سے مشہور تھے۔اب ایسے شخص کے بھتیجے کو پاکستان میں کیسے قبول کیا جائے گا؟‘‘
فرمان نواز صاحب اپنی اسی تحریر میں آگے رقم کرتے ہیں: ’’اسلام آباد کے ایک کالم نگار اور ٹی وی اینکرآصف محمود نے ایک بار بڑی زبر دست بات لکھی تھی۔ ایک دفعہ مفتی منیب صاحب کسی محفل میں موجود تھے کہ مذاقاً کہہ دیا کہ دوزخ میں پٹھان بہت زیادہ ہوں گے۔ کسی نے پوچھا کیوں؟ تو کہنے لگے کہ چاند کی جھوٹی شہادت کی وجہ سے۔آصف محمود صاحب لکھتے ہیں کہ مفتی صاحب مزاح میں بھی اگر اتنے تنگ نظر ہیں، تو وہ پٹھان کی گواہی کیوں لیں گے؟‘‘
موصوف کی تحریر سے ایک اور پیراگراف بھی کافی دلچسپ ہے، ملاحظہ ہو: ’’مولانا طاہر اشرفی صاحب نے ایک بار مفتی منیب صاحب سے ٹی شو کے دوران میں بڑی اچھی بات کہی تھی۔ مفتی صاحب نے کہا تھا کہ آج تو چاند نظر آنے کا امکان ہی نہیں تھا، تو پشاور والوں کو کیسے نظر آ گیا؟ مولانا صاحب نے جواباً کہا کہ مفتی صاحب جب امکان ہی نہیں تھا، تو آپ کیوں کمیٹی لے کر کراچی میں بیٹھ گئے تھے؟‘‘
قارئینِ کرام! اس حوالہ سے ڈان اخبار میں چھپنے والی ایک تحریر بھی کمال کی ہے، علی اکبر صاحب اپنی تحریر “19 0years of controversy: The Qasim Ali mosque and moon sighting elitism” میں کئی ایسی باتوں سے پردہ اٹھاتے ہیں، جو ہم بقراطی ٹائپ لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ موصوف لکھتے ہیں: ’’خیبرپختونخوا کے شعبۂ اوقاف کے ریکارڈ کے مطابق قاسم علی خان مسجد کی بنیاد 1842ء کو رکھی گئی تھی۔ مسجد کے حالیہ خطیب مفتی شہاب الدین پاپولزئی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ رمضان کا چاند دیکھنے کا یہ سلسلہ 1825ء سے شروع ہوا تھا۔‘‘
یعنی مفتی منیب صاحب کی پیدائش یا مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کی بنیاد کو رکھ چھوڑیں، ابھی ’’مملکتِ خداداد‘‘ پاکستان کا خواب تک بھی نہیں دیکھا گیا تھا، جب مسجد قاسم علی خان سے عوام الناس کو روزہ رکھنے یا عید منانے کے احکامات جاری ہوا کرتے تھے۔
مذکورہ سٹوری میں ایک جملہ میں علی اکبر رقم کرتے ہیں کہ ’’مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی شہاب الدین پاپولزئی دیو بند مکتبۂ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘
اب صورتحال اس وقت مزید دلچسپ ہوجاتی ہے، جب پتا چلتا ہے کہ مفتی منیب الرحمان صاحب بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس حوالہ سے بی بی سی اردو سروس پر ایک پرانی سٹوری (شائد 2003ء کو مذکورہ سٹوری چھپی تھی) کے دو چھوٹے اقتباسات ملاحظہ ہوں: ’’اس بار ملک بھر میں دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے علما نے سرکاری اعلان کے برعکس رمضان کا آغاز اٹھائیس اکتوبر کی بجائے ستائیس اکتوبر سے ہونے کے فتوے جاری کیے ہیں۔ ملک بھر میں دیوبندی مسلک کے مقلدین نے رمضان کا آغاز ستائیس اکتوبر کے حساب سے اعتکاف کی عبادت پندرہ نومبر سے ہی شروع کردی ہے، اور علماء کے فتوؤں کے مطابق دیوبندی مسلک کے مقلدین ایک روزہ کی قضا عید کے بعد ادا کریں گے۔ دوسری طرف بریلوی، اہلِ تشیع اور اہلِ حدیث مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد پنجاب اور سندھ میں سرکاری اعلان پر عمل کررہے ہیں اور انہوں نے اعتکاف کا آغاز سولہ نومبر سے کیا ہے۔‘‘
اب دوسرا پیراگراف ملاحظہ ہو: ’’لاہور میں دیوبندی مسلک کے بڑے مدرسے جامعہ اشرفیہ کے صدر مفتی حمیداللہ جان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ پنجاب میں دیوبندی مسلک کے مقلدین نے بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والے عالمِ دین اور مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمان کا فیصلہ اس لیے تسلیم نہیں کیا کہ رویتِ ہلال کمیٹی کے چار میں سے تین ارکان نے یعنی اکثریت نے ان کے اعلان سے اختلاف کیا اور رمضان کا چاند چھبیس اکتوبر کو نظر آنے اور یکم رمضان ستائیس اکتوبر کو ہونے کا اعلان کیا۔‘‘
جاتے جاتے اتنا ہی کہوں گا کہ روزہ رکھنے والوں کو روزہ مبارک ہو اور عید منانے والوں کو عید، مگر اس کشمکش میں علما کی تحقیر کا حق کسی کو نہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ پشتون سرزمین پر رویتِ ہلال کا سلسلہ اُس وقت شروع ہوا تھا، جب ابھی پاکستان کا خواب تک بھی نہیں دیکھا گیا تھا، تو پشتون علما کا یہ خاندان یا اس کا چشم و چراغ کیوں لوگوں کو کھٹکتا ہے؟ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم اپنے اتلان، علما اور راہ نماؤں کو پرِکاہ جتنی اہمیت نہیں دیتے۔
……………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے