90 total views, 1 views today

موسمِ گرما کے آغاز اور خاص کر عید قریب آنے کے ساتھ ہی پشاوری چپل کی تیاری اور خریداری میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ سوات سمیت صوبہ کے بیشتر علاقوں میں پشاوری چپل بڑی تعداد میں تیار کی جاتی ہے۔ اس حوالہ سے ایک دکان دار امجد علی کے مطابق موسمِ گرما میں وہ عام دنوں میں ہر ہفتہ دو سو تا تین سو جوڑے چپل تیار کرتے ہیں۔ جب عید موسمِ گرما میں ہوتی ہے، تو پھر وہ ہفتہ وار 600 تا 700 جوڑے تیار کرتے ہیں۔
پشاوری چپل پشتونوں کی روایتی اور ثقافتی چپل مانی جاتی ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ موسمِ گرما میں اسے خریدتے اور پہنتے ہیں۔ اس وقت مارکیٹ میں پشاوری چپل کو مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے جن میں کوئٹہ والی گل دار چپل کی قیمت 4 ہزار روپے، بٹ والی پنجہ دار چپل 3 ہزار، بند چپل اعلیٰ کوالٹی 5 ہزار، کپتان چپل 3 ہزار، کوئٹہ والی بند چپل 3 ہزار 500، بٹ صابر والی چپل 3 ہزار روپے، چارسدہ والی چپل 15 سو اور پشاوری چپل 7 سو سے 15 سو روپے تک باآسانی فروخت ہوتی ہے۔




مینگورہ شہر کے وہ دکان جہاں پشاوری چپل تیار کیے جاتے ہیں اور بیچے جاتے ہیں۔ (فوٹو: سعید اقبال)

ڈالر کی قدر میں اضافہ کی وجہ سے جہاں دیگر چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، وہاں چمڑے سے بننے والی پشاوری چپل کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ اس حوالہ سے ایک دکان دار رسول خان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں اضافہ کی وجہ سے چمڑے، کیل، دھاگے اور کرایوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اس سال چپل کی قیمتوں میں ہوش رُبار اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ’’پہلے پشاوری چپل مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کی جاتی تھی۔ اب جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اس کی سلائی اور کٹائی مشینوں کے ذریعے کی جاتی ہے، لیکن باقی چپل ہاتھ ہی سے تیار کی جاتی ہے۔‘‘
اس وقت بازار میں پشاور ی چپل خریدنے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عید قریب آتے ہی چپل کی خریداری عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ ایک دکان میں پشاوری چپل خریدنے والے سلمان خان کا کہنا تھا کہ پشاوری چپل خالص چمڑے سے تیار کی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ چپل پیروں کو ٹھنڈا رکھتی ہے۔ ہلکا ہونے کی وجہ سے اس کا وزن بھی کم ہوتا ہے۔اس کو با آسانی اُتارا اور پہنا جاسکتا ہے۔ پشاوری چپل دو سے تین سال تک خراب نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے موسمِ گرما میں زیادہ تر لوگ اسے ہی خرید تے ہیں۔

………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے