78 total views, 1 views today

تحریر: عدنان باچہ
(کارسپانڈنٹ ڈی ڈبیلو)

خیبرپختونخواہ سمیت ملک بھر میں صحافیوں کو تحفظ دینے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ صحافیوں کے اغوا، قتل، انہیں دھمکانے اور تشدد کے واقعات معمول بن گئے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات نہ ہونے سے صحافی غیر محفوظ اور خطرات سے دوچار ہیں۔
پاکستان خطرناک کیوں؟
پاکستان کا شمار صحافیوں کے لیے خطرناک ملکوں میں ہوتا ہے، جہاں پر صحافیوں کو فرائض کی انجام دہی میں لاتعداد مسائل اور خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان پریس فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ پانچ سالوں میں 27 صحافیوں کا قتل ہوا جن میں 7 صحافی صوبہ خیبر پختونخواہ میں قتل کیے گئے۔ 2002ء سے لے کر اب تک ملک بھر میں 73 صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ انٹر میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 2000ء سے اب تک خیبرپختونخواہ اور فاٹا میں 42 صحافی قتل ہوئے۔ ان صحافیوں میں چار صحافی سوات کے بھی ہیں جنہیں کشیدگی کے دوران میں قتل کیا گیا۔ سوات کے ایک صحافی عبدالعزیز شاہین کو طالبان نے اغوا کیا جو سیکورٹی فورسز کی جانب سے فضائی حملے میں جاں بحق ہوا۔
عبدالعزیز شاہین کا اغواء اور شہادت:
عبدالعزیز شاہین سوات کی تحصیل مٹہ جو طالبان کا گڑھ تھا، میں روزنامہ آزادی اور خبرکار کے ساتھ منسلک تھا۔ 2008ء میں شدت پسندی بڑھی، تو اس کا اثر صحافیوں پر بھی ہونے لگا۔ طالبان کے خلاف خبریں چلتیں، تو صحافیوں پر پابندیاں لگا دی جاتیں۔ انہیں اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتیں، دہشت گردوں کے اس ظالمانہ رویے کا شکار صحافی عبدالعزیز شاہین بھی ہوا۔ شاہین کے قریبی ساتھی اور تحصیل مٹہ میں روزنامہ آزادی کے بیورو چیف خائستہ باچا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہین ایک بہادر اور نڈر صحافی تھا۔ طالبان کے بار بار دھمکانے کے باوجود وہ حق اور سچ لکھنے سے نہیں کتراتا تھا۔ اگست 2008ء میں اُن کے گھر پر طالبان نے حملہ کیا، اور اُن کی گاڑی نذرِ آتش کر دی۔ شدت پسندوں کے خوف کا یہ عالم تھا کہ پولیس میں رپورٹ درج کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہوتا تھا۔
خائستہ باچا مزید کہتے ہیں کہ عبدالعزیز شاہین 27 اگست 2008ء کو چپریال کے علاقے میں شدت پسندوں کے ہاتھوں اغوا ہوا اور طالبان کے ہیڈکوارٹر علاقہ گٹ پیوچار میں قید کرلیا گیا۔ سیکورٹی ذرائع اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق 29 اگست 2008ء کو علاقہ گٹ پیوچار میں شدت پسندوں کے اُسی ٹھکانے پر فضائی حملہ ہوا، جہاں پر عبدالعزیز شاہین قید تھا۔ اِس حملے میں دیگر بیس افراد سمیت عبدالعزیز شاہین کی بھی موت واقع ہوئی۔
ایف آئی آر درج ہوئی نا ہی تحقیقات ہو پائی:
سوات میں جاری کشیدگی کے دوران میں حکومتی عملداری مکمل طور پر ختم ہوچکی تھی۔ سرکاری عمارات پر بھی شدت پسندوں کا قبضہ تھا جب کہ پولیس اسٹیشن کو طالبان اسٹیشن کا نام دے دیا گیا تھا۔ ایسے حالات میں طالبان کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا یا ان کے خلاف بات کرنا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف تھا۔ یہی وہ اسباب تھے جن کے باعث صحافی عبدالعزیز پر ہوئے حملے اور ان کے اغوا کی نہ تحقیقات ہو پائی اور نا ہی کسی نے رپورٹ درج کی۔ اس حوالے سے مٹہ پولیس اسٹیشن کے ایک پولیس آفیسر نے بتایا کہ 2008ء میں علاقہ مکمل طور پر طالبان کے کنڑول میں تھا۔ حکومتی مشینری ٹھپ ہو کر رہ گئی تھی۔ ادارے مفلوج تھے اور زیادہ تر پولیس اہلکار طالبان کے ڈرسے مستعفی ہو رہے تھے۔
عبدالعزیز شاہین کے بڑے بھائی جبار خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت ہر طرف طالبان کا راج تھا۔ پولیس اسٹیشن بھی ان کے قبضے میں تھا اور حکومتی اداروں کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ ہم چاہ کر بھی شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائی کے متحمل نہ تھے۔ “نہ تو اغوا اور حملے کی ایف آئی آر درج ہوئی اور نہ بعد میں کسی نے تحقیقات کرنے کی زحمت ہی کی۔  ہمیں علم تھا کہ کوئی سراغ نہیں ملنے والا۔ اس لیے ہم نے چھپ رہنا ہی بہتر سمجھا۔”
جبار خان نے مزید کہا کہ امن کی بحالی اور متاثرین کی سوات واپسی کے بعد بھی شاہین کے کیس میں کوئی پیش رفت ہوئی اور نا ہی کسی نے تحقیقات آگے بڑھائیں۔ “ہمارے اپنے گھر میں فوجی چوکی بن گئی تھی جس کو کشیدگی کے دوران میں کافی نقصان پہنچا تھا۔ سیکورٹی اداروں اور حکومت نے ہمارے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن کوئی شنوائی نہ ہو سکی۔” انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی طرف سے تین لاکھ روپے معاوضہ دیا گیا جبکہ کراچی میں منظور شدہ پلاٹ کا ابھی تک کچھ پتا نہ چل سکا ۔
سابق ایڈوکیٹ جنرل اور پشاور ہائی کورٹ کے سینئر وکیل صابر شاہ کہتے ہیں کہ فوجداری مقدمات ایف آئی آر سے شروع ہوتے ہیں۔ مقدمات میں مدعی کسی کے خلاف رپورٹ درج کرتا ہے۔ “جب ملزم کا کسی کو علم نہ ہو اور وہ نامعلوم ہو ، گواہان بھی موجود نہ ہوں، تو پولیس پھر اپنے طریقے سے تفتیش کرتی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ملنے والے یا جائے وقوعہ سے حاصل کردہ شواہد کی بنائپر ہی تحقیقات کی جاتی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایسے کیسز خود بخود ختم ہوجاتے ہیں جس میں کسی کو نامزد نا کیا گیا ہو۔
عبدالعزیز شاہین کے کیس کے حوالے سے سابق ایڈوکیٹ جنرل صابر شاہ نے کہا کہ شاہین پر حملے اور اُن کے اغوا کی ایف آئی آر درج ہونی چاہیے تھی۔ “کچھ ایسے کیسز ہیں جن کی ایف آر حکومتی عمل داری بحال ہونے کے بعد درج ہوئی۔ عبدالعزیز کی موت حالتِ جنگ میں فضائی حملے میں ہوئی تھی۔ اب حکومت یا اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا یا ان کو ملزم نامزد کرنا نا ممکن ہے۔
عبدالعزیز شاہین کی شہادت کے بعد سوات سمیت ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں منعقد کی گئیں۔ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے مطالبات ہوئے۔ پی ایف یو جے کی جانب سے بھی سیکورٹی فورسز سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ صحافیوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس حوالہ سے صحافی رفیع اللہ خان کہتے ہیں کہ حکومت یا دیگر سیکورٹی اداروں کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کے صرف اعلانات کیے گئے۔ تحفظ اس وقت بھی نہیں ملا اور آج بھی صحافی غیر محفوظ ہیں۔
میرے بھائی کی جان “صحافت”  نے لی:
عبدالعزیز شاہین کا تعلق ایک متوسط اور کاروباری گھرانے سے تھا۔ شعبۂ صحافت کے ساتھ اُن کا دلی لگاؤ تھا۔ شاہین کے بڑے بھائی جبار خان کہتے ہیں کہ بار بار اپنے بھائی کو صحافت چھوڑنے کا کہا لیکن وہ نہیں مانا۔ “شدت پسندوں کی بار بار دھمکیوں کے باجود وہ اپنے کام میں مگن رہا، حتیٰ کہ اپنی جان دے دی۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ صحافت ہی کی وجہ سے میرے بھائی کی جان گئی۔
مجھے بھی بابا کی طرح “صحافی” بننا ہے:
عبدالعزیز شاہین کی شہادت کے کئی سال بعد اس کی بیوہ نے دوسری شادی کرلی۔ شاہین کے تین بیٹے اور ایک بیٹی اپنی ماں کے پاس ہی ہیں۔ شاہین کے بڑے بیٹے اٹھارہ سالہ عنایت اللہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد کے بعد ہمیں لاتعداد مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ “مَیں جتنا بھی اپنے والد کے بارے سنتا آرہا ہوں، تو یہی جانا ہے کہ وہ ایک بہادر اور نڈر انسان تھا۔ مَیں بھی اپنے والد کی طرح بہادر صحافی بن کر ملک و قوم کی خدمت کروں گا اور اپنے والد کے ہی نقش و قدم پر چل کر سچائی کا ہمیشہ ساتھ دوں گا۔”
صحافی آج بھی غیرمحفوظ:
سوات کے کشیدہ حالات میں شاہین کی طرح دیگر صحافیوں کو بھی کئی بار اغوا کیا گیا اور وہ تشدد کا نشانہ بنے۔ صحافی نیاز احمد خان جو اُس وقت خیبر نیوز کے ساتھ منسلک تھے، کہتے ہیں کہ شدت پسندوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کے پہلے آپریشن کے دوران میں انہیں جاسوس کا نام دے کر طالبان نے اغوا کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ “کئی گھنٹوں بعد صحافیوں کے احتجاج اور ادارے کی مداخلت پر مجھے رہائی ملی۔  وہ وقت بہت کٹھن اور تکلیف دہ تھا، تاہم آج بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتی ہیں اور صحافیوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔ صحافی آج بھی مختلف اداروں اور سیاسی تنظیموں کی جانب سے دباؤ کا شکار ہیں۔”
سیاسی دہشت گردی بڑا خطرہ:
سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ میں بااثر اور سیاسی افراد کی جانب سے صحافیوں کو خطرات لاحق رہتے ہیں۔ صحافی رفیع اللہ خان بھی سیاسی دہشت گردی کا شکار رہ چکے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی خان کے بھتیجے نے دن دہاڑے بھرے بازار میں انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی اور ان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ “سیٹزن پورٹل میں ان کے خلاف کسی نے شکایت کی، تو الزام مجھ پر لگایا گیا۔ 28 دسمبر2018ء کو میرے اوپر اپنی گاڑی چڑھا دی اور اغوا کرنے کی کوشش کی۔” انہوں نے مزید کہا کہ میرے کپڑے پھاڑ دیے اور مجھ پر تشدد کیا۔ پولیس اسٹیشن میں ان کی رپورٹ درج کروانے کے لیے کوئی تیار نہیں تھا۔ چھے گھنٹے کی مسلسل کوششوں کے بعد ہی ایف آئی آر درج ہوئی۔ “میڈیا اداروں اور صحافتی تنظیموں نے بھرپور ساتھ دیا۔ بعدازاں علاقے کے مشران اور جرگہ کے دباؤ کی وجہ سے راضی نامہ کرنا پڑا۔”
صحافیوں کا تحفظ اور حکومتی اقدامات:
سوات سمیت ملک بھر میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے ابھی تک ٹھوس قانون سازی نہیں کی جا سکی۔ 2014ء میں سوات کی خاتون ایم این اے عائشہ سید نے دیگر تین ارکانِ اسمبلی کے ہمراہ قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا، جسے “دی پروٹیکشن آف جرنلسٹ ایکٹ 2014” کا نام دیا گیا تھا۔ بل پیش ہونے کے بعد حکومتی ارکان اسمبلی اور اپوزیشن نے اِسے متفقہ طور پر منظور بھی کیا جب کہ بعد میں بل کو سٹینڈنگ کمیٹی کو بھجوا دیا۔ پروٹیکشن آف جرنلسٹ ایکٹ کے اہم نِکات میں صحافیوں کی آزادیِ اظہارِ رائے اور تحفظ کو ابتدا میں شامل کیا گیا تھا جب کہ دیگر اہم نِکات یہ تھے: “صحافیوں سے اُن کے سورسز (ذرائع) معلوم کرنے کے لیے دباؤ نہ ڈالا جائے گا۔ علاقے کا ایس ایچ او صحافی کے مطالبے پر فوری سیکورٹی فراہم کرے گا۔ جن صحافیوں کا قتل ہوا یا اُن پر تشدد ہوا ان کے مقدمات خصوصی عدالت میں چلائے جائیں گے اور ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری یقینی بنائی جائے گی۔”
عائشہ سید نے ایکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بل کو اُسی نے ہی اسمبلی میں پیش کیا، تاہم اسمبلی سے بل پاس ہونے کے بعد سٹینڈنگ کمیٹی نے اس کو فعال بنانے یا آئین میں شامل کرنے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی، جس کے بعد وہ ایکٹ سرد خانے کی نذر ہوگیا۔
جرنلسٹ پروٹیکشن ایکٹ کی طرح دیگر ایسے کئی بِل اسمبلی سے پاس ہوئے، میڈیا تنظیموں کے سامنے رکھے گئے مگر اس میں بھی کوئی خاص پیش رفت نہ ہوسکی جس کی وجہ سے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔
صحافیوں کے تحفظ کے لیے حکومت سمیت میڈیا اداروں، متعلقہ حکومتی اداروں اور میڈیا تنظیموں کو مل کر کوئی ٹھوس حل نکالنا ہوگا اور اقدامات کرنے ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک صحافیوں کا تحفظ ممکن نہیں بنایا جاتا، مؤثر قانونی سازی نہیں ہوتی، تب تک صحافی خطرات سے دوچار رہیں گے۔

……………………………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے