2,128 total views, 2 views today

اپنی مادری زبان پشتو (پختو) پر کچھ رقم کرنے سے پہلے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسے نظرانداز کرنے اور اس سے بخوبی واقفیت نہ رکھنے والے مجرموں کی صف میں سب سے پہلے میں خود کھڑا ہوں۔

تمہید کیا باندھوں! مادری زبان پشتو کا لفظ ہی اتنا میٹھا ہے کہ جس کا حرف حرف مٹھاس سے لبریز ہے اور جس کا ایک ایک لفظ شیریں ہے۔ اس کا اندازہ آپ کو تب ہوگا جب آپ کسی ایسی جگہ مقیم ہوں جہاں مختلف زبانیں بولی جاتی ہوں، وہاں کوئی دور سے بھی پشتو میں بات کرے، تو کیسی اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ تب آپ کی سماعت کو معمول میں بولی جانے والی پشتو کا ایک ایک لفظ ایسا بھاتا ہے، جسے الفاظ میں بیان کرنا کم از کم میرے لیے ناممکن ہے۔ لیکن حقیقت ذرا تلخ کچھ اس لحاظ سے ہے کہ ہماری پشتو دراصل پشتو ہے ہی نہیں۔ یہ تو اردو زبان کی طرح مختلف زبانوں کا چربہ ہے، جس میں انگریزی اور اردو الفاظ عموماً سننے کو ملتے ہیں۔ مجھ سمیت کئی ایسے بدبخت پختون ہیں جو اپنی ہی مادری زبان کو صحیح طرح نہیں بول پاتے۔ یہ پشتو زبان کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ پشتو میں اگر انگریزی اور اردو کا استعمال کرنا ہی ہے، تو اسے پشتو قرار دینا کم از کم مادری زبان کی حق تلفی ہے۔

حقیقت ذرا تلخ کچھ اس لحاظ سے ہے کہ ہماری پشتو دراصل پشتو ہے ہی نہیں۔ یہ تو اردو زبان کی طرح مختلف زبانوں کا چربہ ہے، جس میں انگریزی اور اردو الفاظ عموماً سننے کو ملتے ہیں۔ مجھ سمیت کئی ایسے بدبخت پختون ہیں جو اپنی ہی مادری زبان کو صحیح طرح نہیں بول پاتے۔ یہ پشتو زبان کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔

حقیقت ذرا تلخ کچھ اس لحاظ سے ہے کہ ہماری پشتو دراصل پشتو ہے ہی نہیں۔ یہ تو اردو زبان کی طرح مختلف زبانوں کا چربہ ہے، جس میں انگریزی اور اردو الفاظ عموماً سننے کو ملتے ہیں۔ مجھ سمیت کئی ایسے ہیں جو اپنی ہی مادری زبان کو صحیح طرح نہیں بول پاتے۔ یہ پشتو زبان کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔

قصور کس کا ہے؟ ہمارے نصاب کا، ہمارے بزرگوں کا یا پھر اس مروجہ سسٹم کا؟ آج پختونخوا میں رہنے والا تقریباً ہر پختون جانے انجانے میں ایک دوسری زبان بول کر اسے پشتو سمجھتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو انگریزی الفاظ کا رٹا لگواکر اسے قابلِ فخر کارنامہ گردانتے ہیں۔ سٹیٹس برقرار رکھنے کے لیے ہر کوئی روزمرہ کی بات چیت میں انگریزی الفاظ کا تڑکا ضرور لگاتا ہے۔ ورنہ تجربے کے طور پر کسی محفل میں خالص پشتو کے دوبول بول کر دیکھیں، لوگ خود یا ان کی تضحیک آمیز نظریں آپ کو اپنا تمسخر اڑاتی محسوس ہوں گی۔




مجھے تو نصابی کتابوں اور نمبرات کی دوڑ میں اس قدر الجھایا گیا کہ پشتو کے حروف تہجی تک کو پہچان نہ پاتا۔ البتہ مدرسے میں ایک آدھ سال دل کھول کر پشتو قاعدے کا رٹا لگایا۔سکول میں پابندی سے اردو یا انگریزی بولنے کی تاکید کی جاتی تھی۔ بسا اوقات تو پشتو بولنے پر چھوٹا موٹا جرمانہ ادا کرنے کا خوف لاحق ہوتا۔ شاید ہماری تعلیمی درسگاہیں بھی ’’ڈیمانڈ اینڈ سپلائی‘‘سے مجبور ہوکر قصور وار نہیں ہیں۔

مجھے تو نصابی کتابوں اور نمبرات کی دوڑ میں اس قدر الجھایا گیا کہ پشتو کے حروف تہجی تک کو پہچان نہ پاتا۔ البتہ مدرسے میں ایک آدھ سال دل کھول کر پشتو قاعدے کا رٹا لگایا۔سکول میں پابندی سے اردو یا انگریزی بولنے کی تاکید کی جاتی تھی۔ بسا اوقات تو پشتو بولنے پر چھوٹا موٹا جرمانہ ادا کرنے کا خوف لاحق ہوتا۔ شاید ہماری تعلیمی درسگاہیں بھی ’’ڈیمانڈ اینڈ سپلائی‘‘سے مجبور ہوکر قصور وار نہیں ہیں۔

ذاتی طور پر میں خود پشتو لکھنا تو درکنار، باآسانی اسے پڑھنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرتا ہوں۔ دسویں جماعت تک نصابی کتابوں کے سرورق پر لفظ ’’پشتو ‘‘دیکھنے کو آنکھیں ترس گئیں۔ نرسری سے لے کر دسویں تک کسی استاد کو خالص پشتو کہتے ہوئے سننا تک نصیب نہیں ہوا۔ کتابوں سے اگرچہ شروع ہی سے دوستی رہی لیکن جہاں گیا، وہاں چند دینی اور نماز یا کلموں کی کتابوں کے علاوہ پشتو کتابیں آٹے میں نمک کے برابر دکھائی دیں۔ ہوتیں بھی تو کیسے پڑھتا؟ مجھے تو نصابی کتابوں اور نمبرات کی دوڑ میں اس قدر الجھایا گیا کہ پشتو کے حروف تہجی تک کو پہچان نہ پاتا۔ البتہ مدرسے میں ایک آدھ سال دل کھول کر پشتو قاعدے کا رٹا لگایا۔سکول میں پابندی سے اردو یا انگریزی بولنے کی تاکید کی جاتی تھی۔ بسا اوقات تو پشتو بولنے پر چھوٹا موٹا جرمانہ ادا کرنے کا خوف لاحق ہوتا۔ شاید ہماری تعلیمی درسگاہیں بھی ’’ڈیمانڈ اینڈ سپلائی‘‘سے مجبور ہوکر قصور وار نہیں ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں پشتو نصاب کا حصہ تو ہے، لیکن اس سے بھی پشتو کی ترویج میں تاحال کوئی خاطر خواہ پیشرفت دیکھنے کو نہیں ملی۔ پشتو زبان کی لڑکھڑاتی عمارت کو اگرچہ پشتو مشاعروں اور چھوٹی بڑی شعری تصانیف نے کچھ سہارا دیا ہے، لیکن بعض نئے شاعر اب اپنے اشعار میں دوسری زبان کے استعمال کا اشتیاق رکھتے ہیں۔ جہانزیب کالج جیسے ادارے میں پشتو خود کو فقط ثانوی مضمون کی حیثیت دلانے میں کامیاب ہے،یا پھر مشاعروں تک ہی محدود ہے۔
اس تمام تر صوتحال میں تسلی بخش بات یہ ہے کہ کچھ کچھ تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہونے لگا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے وہ پشتو جو کبھی دینی کتابوں تک محدود رہتی تھی، کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔ یہاں اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ پشتو زبان میں کافی کتابیں لکھی جاچکی ہیں،لیکن ایک عام قاری کے طور پر میرا یہ مشاہدہ رہا ہے کہ لائبریری یا کتابوں کے کسی سٹال میں معتبر پشتو کتابوں کی بجائے پشتو میں لکھی گئی دینی کتابیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ جہانزیب کالج میں بھی پروفیسر عطاء الرحمان عطا ؔصاحب( یقینا اس میں ان کے ساتھیوں کی کوشش بھی کار فرما ہوگی) کی کوششوں سے امسال بی ایس پشتو کا آغاز ہوچکا ہے۔ عنقریب کلاسز کا آغاز بھی ہوگا جوکہ ایک نیک شگون ہے۔ پشتو ویب سائٹ خپل وطن ڈاٹ کام اور سوات کے دیگر مشران پشتو کا حق ادا کرنے میں جھتے ہوئے ہیں۔ پشتو کی کتاب ’’چیندرو‘‘ خپل وطن ڈاٹ کام کے توسط سے پڑھنے والوں کے ہاتھوں تک پہنچی۔ ان کی مہربانی سے مذکورہ کتاب راقم کے پاس بھی پہنچی۔ سوشل میڈیا پر اپنے مشران کے خیالات جو پشتو میں لکھے ہوتے ہیں، بارہا پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک گلہ یہ بھی ہے کہ جب کوئی پشتو بولنے یا لکھنے کی کوشش کرتا ہے، تو ہمارے کچھ دوست غلطی ہونے پر ایسی کلاس لیتے ہیں کہ دوبارہ غلطی کے ڈر سے پشتو لکھنے سے راہِ فرار اختیار کرنا پڑتی ہے۔

جہانزیب کالج میں بھی پروفیسر عطاء الرحمان عطا ؔصاحب( یقینا اس میں ان کے ساتھیوں کی کوشش بھی کار فرما ہوگی) کی کوششوں سے امسال بی ایس پشتو کا آغاز ہوچکا ہے۔ عنقریب کلاسز کا آغاز بھی ہوگا جوکہ ایک نیک شگون ہے۔

جہانزیب کالج میں بھی پروفیسر عطاء الرحمان عطا ؔصاحب( یقینا اس میں ان کے ساتھیوں کی کوشش بھی کار فرما ہوگی) کی کوششوں سے امسال بی ایس پشتو کا آغاز ہوچکا ہے۔ عنقریب کلاسز کا آغاز بھی ہوگا جوکہ ایک نیک شگون ہے

ہونا تو یہ چاہیے کہ اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ درست پشتو بولنے والے آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ اس لیے جب بھی کوئی پشتو لکھے، تو غلطی پر اس کی تصحیح اور دادرسی کرنا چاہیے، تاکہ اس کی ہمت بندھے اور وہ اگلی مرتبہ مادری زبان کی محبت سے سرشار بہتر سے بہترین کوشش کرے۔ یہ نہیں کہ اس کیلئے سخت الفاظ استعمال کیے جائیں اور اسے ڈانٹا جائے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہماری پشتو زبان تو پہلے سے ہی خراب کی جاچکی ہے یا خراب ہے۔ ہمارے ہاں آج کل کتنے لوگ ہوں گے جو خالص پشتو بولتے ہونگے؟ امید کرتا ہوں کہ ہماری آئندہ نسلیں اپنی معمول کی زندگی میں مکمل طور پر خالص پشتو رائج کریں گی۔




تبصرہ کیجئے