502 total views, 1 views today

ایک دانشور کا قول ہے کہ حادثے کا دن معلوم ہوتا ہے اور سانحہ بھی ایک وقت پر پیش آتا ہے، لیکن زوال و انحطاط کی تاریخ معلوم نہیں کی جا سکتی۔ کیوں کہ یہ آہستہ آہستہ غیر محسوس انداز میں اپنا سفر طے کرتی ہے۔ اس کا قول ہے کہ ہم تعین نہیں کرسکتے کہ امت مسلمہ کا زوال کب شروع ہوا؟ لیکن ہم بہر حال یہ دیکھ سکتے ہیں اور محسوس کر سکتے ہیں کہ ہم زوا ل و انحطاط کے آخری اور سب سے نچلے درجے تک پہنچ چکے ہیں۔
دانشور کا قول اپنی جگہ لیکن ہم امت مسلمہ کے زوال کے شروع ہونے کا باقاعدہ تعین کر سکتے ہیں۔ اس کی رفتار اور وقتاً فوقتاً حادثات اور واقعات سے یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ زوال و انحطاط نے یہ سفر کس انداز میں طے کیا؟ اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا دورِ زوال، خلافتِ راشدہ کے ملوکیت میں تبدیل ہونے سے شروع ہوا۔ چشمِ بصیرت رکھنے والوں نے اس بنیادی تبدیلی کو محسوس کیا اور انہوں نے اس کو روکنے کی کوشش اور جدوجہد بھی کی، لیکن جان و مال کی قربانی دے کر بھی اس کو نہ روک سکے۔ شروع میں پچاس ساٹھ سال تک زوال و انحطاط کا یہ سفر غیر محسوس طریقہ سے جاری رہا۔ خلافتِ راشدہ کے اختتام سے اگرچہ دینِ اسلام کی وہ توانا و طاقتور روح نکل چکی تھی اور اسلام کا صرف جسمانی ڈھانچہ باقی رہ گیا تھا، لیکن چالیس سالہ دورِ خلافت نے جس اسلامی جسم کی تشکیل کی تھی۔ روح نکل جانے کے بعد بھی وہ اتنی توانا اور طاقتور تھی کہ طویل عرصے تک روح کے بغیر یہ ڈھانچا کھڑا رہا۔ دورِ بنو امیہ کے بعد اس زوال و انحطاط کی رفتار ذرا تیز ہوئی اور ان تقریباً سات سو سالہ دورِ بنو عباس میں یہ اپنی پوری رفتار کے ساتھ نشیب کی طر ف بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ سانحہ پیش آیا جس کو ’’سقوطِ بغداد‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاتاریوں کے ہاتھوں امتِ مسلمہ کو وہ شرمناک شکست اور ہزیمت اٹھانا پڑی جس نے اس حقیقت کو آشکار کیا کہ روح کے بغیر ڈھانچا زیادہ عرصے تک کھڑا نہیں رہ سکتا۔ تاتاریوں کے ہاتھوں شکست و ہزیمت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امت کی اصل طاقت خیال و فکر پر مشتمل مضبوط عقیدہ اور نظریہ ہوتی ہے۔ جب فکر و خیال کی پراگندگی اور ژولیدہ فکری پیدا ہوتی ہے، تو اس کے نتیجے میں عقیدہ کمزور ہوتا ہے اور نظریے میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ آخرِکار امت میں عمل و کردار کا زوال رونما ہوتا ہے۔ ’’سانحۂ بغداد‘‘ سے ہمیں یہ حقیقت بھی معلوم ہوئی کہ اگرچہ خزانے زر و جواہر سے بھرے ہوئے ہوں، فوجوں کی تعداد بے شمار ہو، اسلحہ بھی ہر قسم کا موجود ہو، لیکن ان سب کے باوجود اگر عقیدہ کمزور ہو، کردار خام ہو، فکری انتشار موجود ہو، تو نتیجے میں شکست و ہزیمت کی شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے۔
سپین اندلس میں بھی ہماری طاقت و شوکت کا بڑا دبدبہ تھا اور ہم نے اپنے دشمنوں کے درمیان ایک بظاہر مضبوط و مستحکم حکومت قائم کی تھی۔ ہماری نام نہاد تہذیب و تمدن کا بڑا چرچا تھا۔ الحمرا اور مسجدِ قرطبہ طرزِ تعمیر، تمدنی ترقی اور طرزِ بود و باش کی چمک دھمک اور علم و تعلیم کے اداروں کی موجودگی کے باوجود وہ جہادی روح عنقا تھی، جو کنجشک فرومایہ کو شاہینوں سے پنجہ آزمائی کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ بغیر بنیادوں کے ریت پر کھڑا ظاہری تہذیب و تمدن کا یہ عظیم الشان قصر بھی دھڑام سے نیچے آگرا اور ’’سقوطِ غرناطہ‘‘ کے نام سے ہماری تاریخ میں ایک اور سانحے کا اضافہ ہوا۔ امت میں چشمِ بصیرت رکھنے والوں نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا کہ ہم ایک امت نہیں رہے۔ ہم ایک نظریاتی پارٹی نہ رہے۔ ہم قوموں ، قبیلوں اور گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ ہماری پوری تاریخ ان چشم کشا واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جب ہمارے پاس عقیدے اور نظریے کے علاوہ کچھ نہ تھا، تو ہم دنیا پر چھا گئے تھے۔ ہم نے حیوانوں کو انسانیت سکھائی۔ ہم نے دنیا کو ایک انوکھا اور شان دار تہذیب و تمدن دیا۔ ہم نے عمارتیں نہیں بنائیں۔ ہم نے الحمرا اور تاج محل تعمیر نہیں کیے، لیکن ہم نے انسانیت کو تحفظ دیا۔ دنیا کو امن و آشتی سے آراستہ کیا۔ ہم نے ظالموں اور جابروں کے بازو مروڑ دیے اور ان کے ظلم و طغیان کے جبڑے توڑ دیے۔ ہم نے نظامِ حکومت تشکیل دیا۔ ہم نے ادارے بنائے۔ ہم نے عدل و انصاف اور مساوات پر مبنی نظام قائم کیا۔ ہم نے ایسا معاشرہ تشکیل دیا، جو محبت و اخوت اور ایثار و قربانی کا عملی نمونہ تھا۔ ہم نے خاندانی ، گروہی عصبیت ختم کی۔ ہم نے نسلی وقومی تفاخر کو ختم کیا اور انسانیت کو عقیدے اور نظریے کی بنیاد پر جسدِ واحد بنایا، لیکن جب عقیدہ کمزور ہوا۔ عقیدے کی کمزوری کے نتیجے میں کردار بھی نہ رہا، تو نتیجہ سامنے آیا اور زوال و انحطاط نے صدیوں کا سفر طے کرکے ہمیں قوموں کے لیے لقمۂ تر بنا دیا۔
قارئین، یہ تو معلوم تاریخ ہے۔ قبلِ مسیح اور بعد مسیح کی تاریخ نہیں کہ باوجود عقیدے اور نظریے کی کمزوری کے ہم نے صرف اسلام کے نام پر برصغیر جنوب مشرقی ایشیا کو فتح کیا۔ وسطی ایشیا کے کتنے فاتح خاندان اس خطے میں وارد ہوئے۔ بڑی بڑی جنگیں ہوئیں۔ مقامی باشندوں یعنی ہندوؤں کی کثیر تعداد فوجوں پر باہر سے آئے ہوئے کم تعداد مسلمانوں نے فتح پائی۔ یہ غوری، خلجی، تغلق، خاندانِ غلاماں اور آخر میں مغل حکمرانوں نے اس خطے کو فتح کیا۔ آٹھ سو سال یہاں حکومت کی۔ تہذیب و تمدن کی بنیادیں رکھیں۔ باغ لگائے، محل بنائے، قلع تعمیر کیے۔ تاج محل جیسا عجوبہ روزگار تعمیر کیا، لیکن اپنے خول میں بند رہے ۔ دنیا سے بے خبر رہے۔ اپنے آپ میں مگن رہے۔ کبھی جنگ و جدل اور کبھی عیش و عشرت میں زندگی گزارتے رہے۔ شہنشاہِ اکبر کے دربار میں جو ڈاکٹر آیا اور شاہی مریض کا علاج کرکے انعام و اکرام پایا۔ کسی نے معلوم نہیں کیا کہ وہ سات سمندر پار سے کس ذریعے سے آیا؟ یہ نام نہاد مسلمان جس نظریے اور عقیدے کی بنیاد پر فاتح بن کر اختیار و اقتدار کے تخت و تاج کے مالک بن گئے تھے، وہ عقیدہ و نظریہ انہوں نے فراموش کیا۔ یہ اپنے اقتدار کے استحکام و بقا کے لیے تو نت نئے منصوبے بناتے رہے۔ یہ اقتدار کے لیے تو اپنوں تک کو قتل کرتے رہے، لیکن یہ اس بات سے غافل رہے کہ دینِ اسلام کی اشاعت و فروغ کے لیے باقاعدہ اور منظم کوشش کریں۔ اگر یہ اہلِ وطن کو راہِ ہدایت ’’دینِ اسلام‘‘ کی دعوت دیتے، تو آج پورا جنوبی ایشیا مسلمان ہوتا۔ آٹھ سو سال میں انہوں نے باغات تو لگائے، مقبرے تعمیر کیے لیکن علم کے فروغ کے لیے ادارے قائم نہیں کیے۔ نہ انہوں نے باقاعدہ حکومت کے ادارے قائم کیے۔ بس قوم کو وفادار جنگجو سرداروں میں تقسیم کیا۔ کسی کو دس ہزاری کسی کو بیس ہزاری مناصب عطا کیے اور مختلف اور وسیع علاقوں پر اپنی من مرضی کی حکومتیں قائم کرنے کی اجازت دی۔ آخر یہ الل ٹپ نظام اور کتنا چل سکتا تھا؟ جب اس کی طبعی عمر پوری ہوئی اور زوال و انحطاط کی آخری گھڑی آپہنچی۔ عالمگیر اورنگ زیب جیسا فقیر منش اور دین دار بادشاہ پورے چالیس سال تک بر سرِ اقتدار رہا، لیکن اس قابل اور جفاکش بادشاہ نے بھی ایسے مستقل اور پائیدار ادارے نہیں بنائے کہ اس کی موت کے بعد افراتفری نہ مچتی اور جنگِ اقتدار کے بعد مرکزی حکومت مختلف حصوں میں تقسیم نہ ہوتی۔ اورنگ زیب عالمگیر کی آنکھیں بند ہوتے ہی پورا حکومتی ڈھانچہ دھڑام سے نیچے آگرا۔ بنگال الگ ہوا۔ حیدر آباد دکن الگ ہوا اور جس کو جہاں موقع ملا۔ اس نے اپنی الگ حکومت قائم کی۔ اس دوران میں سات سمندر پار سے آنے والے بدیسی سوداگر اپنی مضبوط و مستحکم تجارتی کوٹھیاں قائم کر چکے تھے اور مقامی مسلم و غیر مسلم کرائے کے فوجوں کو بھرتی کر لیا تھا۔ ان کے پاس جدید اسلحہ بھی تھا۔ تنظیمی صلاحیت بھی تھی۔ محنتی اور جفاکش بھی تھے۔ سیاسی جوڑ توڑ اور سازشی ریشہ دوانیوں کے ماہر بھی تھے۔ اب انہوں نے تجارت اور کاروبار چھوڑ کر باقاعدہ ہندوستان پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر لی تھی اور ان کو سات سمندر پار سے فوجیں لانے کی ضرورت بھی نہیں پڑی بلکہ ان کو مقامی طور پر ایسے مسلم اور غیر مسلم کرائے کے سپاہی مل گئے، جنہوں نے اپنے ہی ملک کو انگریزوں کے لیے فتح کیا۔ سراج الدولہ کی شکست میں میر جعفر کا کردار اور شیر میسور کی ہزیمت میں میر صادق کا کردار کوئی بھولنے والی بات ہے کہ ہم ذلت و خواری، پستی اور اخلاقی گراوٹ کے کس درجے تک پہنچ گئے تھے؟
بہادر شاہ ظفرؔ ہمارے زوال کے آخری مرحلے کا ایک ایسا کردار ہے جو حکومت و سیاست کے امور انجام دینے کے بجائے شعرو شاعری میں اپنا وقت گزار رہا تھا۔ بادشاہی بہادر شاہ کی اور حکم کمپنی بہادر کا۔ یہ آخری حکمران قلعۂ معلی تک محدود کر دیا گیااورکمپنی پورے ہندو ستان کے سیاہ و سفید کی مالک بن گئی۔ جب 1857ء میں کڑھی میں آخری اُبال آیا اور بقول انگریزوں کے ’’بغاوت برپا ہوگئی‘‘ تو وہ بھی کوئی منظم اور باقاعدہ پروگرام نہیں تھا جس کا نتیجہ شکست کی صورت میں نکلا۔ بہادر شاہ ظفرؔ کے سامنے اس کے بیٹوں کے سر خوانوں میں پیش کیے گئے اور ان کو رنگون جلاوطن کر دیا گیا۔ یوں ہندوستان دو سو سالہ انگریز غلامی کے گہرے غار میں دفن ہوا۔ ان دو سو سالہ دورِ غلامی کے نتائج اب بھی جاری ہیں اور معلوم نہیں کب ان سے چھٹکارا ملے گا؟

…………………………………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے