867 total views, 1 views today

صبح ہم جلدی اٹھے۔ کیوں کہ ہمیں اٹلانٹا میں اہم مقامات دیکھنا تھے۔ خاص کر مجھے مارٹن لودر کنگ جونیئر کے میوزیم جانا تھا اور ساتھ ہی ’’سی این این‘‘ (CNN) کے ہیڈ کوارٹر کا بھی مختصر دورہ کرنا تھا۔ اسے لیے ہم جلدی تیار ہوئے، ناشتہ کیا اور شہر کی طرف روانہ ہوئے۔ ہم سیدھا میوزیم کی طرف گئے، جہاں پہلے ہی سے کافی لوگ موجود تھے، جن میں زیا دہ تر سیاہ فام لوگ ہی تھے۔ یہاں آئے ہوئے لوگوں کے چہروں پر تعظیم کے آثار نمایاں تھے۔ میوزیم میں مارٹن لودر کنگ جونیئر کی بچپن سے لے کر موت تک کی تاریخی تصاویر کے لیے الگ الگ گیلریاں بنائی گئی ہیں، جب کہ اس کی تحریک کے دوران میں بنائی گئیں ویڈیوز بھی چلائی جا تی ہیں جن میں اس کی شہرہ آفاق تقاریر کی ویڈیوز اور آڈیوز کو لوگ بڑی دلچسپی سے دیکھتے اور سنتے ہیں۔ مَیں نے خاص کر ان کی تقریر”I have a dream” جو انہوں نے واشنگٹن کی طرف مارچ کرتے ہوئے 28 اگست 1963ء کو کی تھی، سنی۔ اس تقریر کا ہر لفظ میرے دل میں اُتر رہا تھا۔ تقریر میں مارٹن لودر کنگ جونیئر نے جس جذباتی انداز سے سول و معاشی حقوق کے ساتھ ساتھ نسل پرستی کے خاتمے کے لیے آواز اٹھا ئی ہے، وہ یقینا بڑے بڑے فرعونوں کا دل د ہلانے کے لیے کافی ہے۔ سیاہ فاموں کو غلامی سے آزادی کے لیے جو خواب انہوں نے دیکھا تھا، وہ انہوں نے اس تقریر میں بیان کیا ہے۔ مَیں جب ان کی جذباتی تقریر سن رہا تھا، تو مجھے لگ رہا تھا کہ میں ان کے سامنے لاکھوں سیاہ فام لوگوں کے بیچ کھڑا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ بو ل رہا ہوں کہ”I have a dream that my four little children will one day live in a nation where they will not be judged by the color of their skin but by the content of their character.”
مَیں تصور میں 28 اگست 1963ء کو مارٹن لودر کنگ جونیئر کے اس تاریخی مارچ میں واشنگٹن کی طرف بڑھ رہا تھا کہ نینسی نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر آگے جانے کو کہا۔ ہم آگے بڑھے۔ مَیں اس عظیم شخص کی تصاویر دیکھتا گیا اور اس کے اقوال پڑھتا گیا، جب کہ جا بہ جا تصاویر بھی بناتا گیا۔ خاص کر اس کا یہ قول کہ ـ”A nation that continues year after year to spend more money on military defense than on programs of social uplift is approaching spiritual death.”




مارٹن لودر کنگ جونیئر اور ان کی اہلیہ کوریٹا سکاٹ کنگ کی قبریں۔ (فوٹو: فضل خالق)

جب مَیں نے محولہ بالا قول پڑھا، تو دفعتاًاپنے ملک کا خیال آیا، جہاں اب بھی فوجی دفاع کی خاطر سماجی ترقی و بہتری کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ رقم خرچ ہو رہی ہے اور یک دم محسوس کیا کہ اسی لیے تو ہمارے ملک میں ہر طرف روحانی اموات نظر آ رہی ہیں۔ اسی لیے تو ہم دنیا میں ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ اقوام سے صدیوں پیچھے کھڑے ہیں۔
چوں کہ کافی وقت ہم نے یہاں گزارا، تو فیصلہ کیا گیا کہ کہیں باہر جایا جائے۔ یوں ہم مارٹن لودر کنگ جونیئر اور اس کی اہلیہ ’’کوریٹا سکاٹ کنگ‘‘ کی قبروں کی طرف گئے، جو ایک چھوٹے سے تالاب کے درمیان ہیں۔ اس تالاب میں پانی جس انداز سے بہتا ہے، بہت ہی پُرسکون اور خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ ہم یہاں سے نکلے، تو مارٹن لودر کنگ جونیئر پارک میں تھوڑا وقت گزارا جس کے بعد سی این این ہیڈ کوارٹر آئے۔ راستے میں ایک بہت بڑی اور چوڑی دیوار آبشار آتی ہے، جس کا پانی نیچے ایک مستطیل نما تالاب میں گرتا ہے۔ سیاح اس خوبصورت آبشار کے ساتھ تصویریں بناتے ہیں۔ ہم جب وہاں سے گزررہے تھے، تو ایک سیاہ فام لڑکی جس کے گنگریالے بال اس کے سر پر کسی بڑے فٹ بال کی طرح سجے تھے، نے مجھ سے درخواست کی کہ آبشار کے ساتھ اس کی تصویر بنائی جائے۔ مَیں نے ایسا ہی کیا، لیکن اس کے بعد اس نے میرے ساتھ سیلفی بنانے کی درخواست بھی کی۔ مجبوراً اس کے ساتھ ایک عدد سیلفی بھی بنائی۔ جس کے بعد ہم وہاں سے سی این این کی طرف چلے دیے۔ یہاں مجھے سی این این کی شرٹ اور ٹوپی ملی اور ہم مختلف حصو ں میں گھو م پھر کر ہی باہر نکلے۔ ہمارا پورا دن اٹلانٹا شہر میں گزرا۔ مَیں خوش تھا کہ مجھے یہاں آنے کا موقع ملا۔ ہم دونوں جب تھک چکے، تو فیصلہ کیا کہ کہیں ڈنر کھائیں اور پھر واپس گھر جا کر آرام کریں۔ اس لیے کھانا کھا یا اور واپس نینسی کے گھر چلے گئے۔ تھکاوٹ کی وجہ سے بستر پر دراز ہوتے ہی میری آنکھ لگ گئی۔

لکھاری دیوار آبشار کے ساتھ خوشگوار میں موڈ میں بیٹھے ہیں۔ (فوٹو: نینسی)

آنکھ کھلی، تو صبح ہو چکی تھی۔ میں تیار ہوا۔ باہر نینسی نے ناشتہ میز پر لگایا تھا۔ ناشتہ کرنے کے بعد وہ مجھے ائیرپورٹ لے گئی اور زیادہ دیر تک نہیں رکی۔ کیو ں کہ اسے ایک میٹنگ کے لیے جانا تھا۔ اس لیے مَیں نے ان سے اجازت لی اور اندر جا کر فلائٹ کا انتظار کرنے لگا۔
مَیں جب فلوریڈا سے آرہا تھا، تو باب نے مجھے بتا یا کہ ’’فلوریڈا ٹوڈے‘‘ میں کام کرنے والے جیفری میسی اپنی فیملی کے ساتھ اسی رات ’’اورلینڈو ائرپورٹ‘‘ سے آئیں گے۔ لہٰذا وہ مجھے اپنے ساتھ ملبورن لے آئیں گے۔ مجھے رات کو نو بجے مذکورہ ائرپورٹ پہنچنا تھا، مگر موسم کی خرابی کی وجہ سے میری فلائٹ دو گھنٹے تاخیر سے روانہ ہوئی جب کہ جیفری آٹھ بجے ہی اورلینڈو پہنچ گئے تھے اور میرا نتظار کررہے تھے۔ جب مَیں پہنچا، تو رات کا ایک بج چکا تھا۔ میرا خیال تھا کہ جیفری چلا گیا ہوگا، مگر میری حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ وہ اپنی فیملی سمیت پانچ گھنٹے سے ائرپورٹ پر میرا انتظار کر رہا تھا۔ جوں ہی میں جہاز سے اترا، تو اس کی کال آئی کہ وہ ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔ مَیں سیدھا ائرپورٹ سے نکلا۔ وہ باہر اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔ مجھے دیکھ کر جیفری باہر نکلا اور مجھ سے سامان لے کر پیچھے ڈگی میں رکھا، ساتھ ہی مجھے گاڑی میں بیٹھنے کو کہا۔ جب میں گاڑی میں بیٹھا، تو اندر اس کی بیوی جے نفر اور اس کی بیٹی نے مجھے سلام کیا۔ تھکاوٹ ان کے چہروں پر صاف نظر آ رہی تھی، جس پر مَیں بہت نادم بھی ہوا۔ سوچا کہ ان اَنجان لوگوں نے رات کو ایک بجے تک میرا انتظار کیا، ایسا شاید ہی کوئی کرے۔ دراصل جیفری اور جے نفر دونوں میاں بیوی ’’فلوریڈا ٹوڈے‘‘ میں کام کرتے ہیں۔ آفس میں دونوں کی شرافت کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ آدھے راستے میں گاڑی نے ہلکا سے ہچکولا کھایا، تو میں نے جیفری کی طرف دیکھا۔ اونگھتے اونگھتے اس کے سر نے ہلکا سا جھٹکا کھایا۔پیچھے دیکھا، تو جے نفر اور اس کی بیٹی دونوں گھوڑے بیچ کر سو رہے تھے۔ اسی عالم میں ہم رات کے ڈھائی بجے ہوٹل پہنچے۔ مَیں نے جیفری کا بطورِ خاص شکریہ ادا کیا اور لمبے لمبے ڈَگ بھرتا ہوٹل کے اندر چلا گیا۔ (جاری ہے)

………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔




تبصرہ کیجئے